Soz o Nala a Gabriel

Back to Kuliyat e Gabriel

سوز و نالہء جبریل

(1)
روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں
کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں
غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں
فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں
تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے
قبر جھنجھوڑ کے مردوں کو اٹھانے کے لئے
(2)
درد اس ملتِ بے غم کا سناؤں گا تمھیں
خود بھی رؤوں گا یہاں اور رلاؤں گا تمھیں
جامِ غم اشکِ گہرگوں کا پلاؤں گا تمھیں
چیر کر اپنا کلیجہ بھی دکھاؤں گا تمھیں
غم میں ڈوبی ہوئی آواز ہے ہر بات میری
ہے جو مومن تو وہ سمجھے گا محاکات میری
(3)
دل میں تابانی ءِ کوکبِ ایماں بھی نہ رہی
گل میں شادانی ءِ رحمتِ باراں بھی نہ رہی
فلمِ نورانی ءِ کشورِ عرفاں بھی نہ رہی
حِلمِ انسانی و رافتِ انساں بھی نہ رہی
آدم اس دور میں ھیہات کہ مظلوم ہوا
نورِ عرفاں کی تسلی سے جو محروم ہوا

(4)
آدمی جادوئے افرنگ کی زنجیروں میں
جھوٹے دانش آموزی و فرھنگ کی زنجیروں میں
میٹھے الحاد کی اس بھنگ کی زنجیروں میں
جھوٹے فردوس کے نیرنگ کی زنجیروں میں
کھچے جاتے ہیں بیابانِ ھلاکت کی طرف
ورطہء ذلت و تذلیل و فلاکت کی طرف
(5)
خلق فرحاں جو ہوئی خاک کے کاشانے میں
عقل ناداں جو ہوئی خاک کے فرزانے میں
فکر شاداں جو ہوئی خاک کے پروانے میں
روح حیراں بھی ہوئی قلب کے ویرانے میں
دل کی شمع جو بجھی عشق گیا خیر گئی
چاہِ تیرہ میں نگوں عقلِ غلط سیر گئی
(6)
مسلم اس دور کا دردا کہ مسلماں بھی نہیں
اور اس رنگ کا مخلوق میں حیواں بھی نہیں
مردِ دانا بھی نہیں ابلہہِ ناداں بھی نہیں
اور اس حال پہ بدبخت پشیماں بھی نہیں
لب پہ اس دور کے مسلم کا جو نام آتا ہے
سر ندامت کا بھی افسوس سے جھک جاتا ہے

(7)
دہر ہمہ دہر ہے اس دور میں صیہونی ہے
دہر ہمہ دہر ہے اس دور میں افزونی ہے
دہر ہمہ دہر ہے اس دور میں افسونی ہے
دہر ہمہ دہر ہے اس دور میں مجنونی ہے
دیکھ اندھیر کی دنیا میں یہ طغیانی دیکھ
سودا بازی کی یہ ظلمات میں جولانی دیکھ
(8)
خلق عیار کے دھوکے میں گرفتار ہوئی
جھوٹے مکار کے جادو میں نگونسار ہوئی
سحرِ کذاب کی تاثیر میں کفتار ہوئی
نشہء حرص کی شدت میں ہوسکار ہوئی
بانورے گرگ ہیں دیوانے ہوئے پھرتے ہیں
لئے کفگیر دہاں تانے ہوئے پھرتے ہیں
(9)
یہ گلستانی ءِ بے نگہتِ ایمانی دیکھ
یہ مسلمانی ءِ بے دینی و ایقانی دیکھ
یہ خدا دانی ءِ بے دانشِ قرانی دیکھ
یہ پریشانی ءِ افکار کی ارزانی دیکھ
مردہ چشمانِ غضبناک ہوئے پھرتے ہیں
آدمی روبہء چالاک ہوئے پھرتے ہیں

(10)
دور فنکار ہوا مائلِ عریانی ہے
دور بیدار ہوا مائلِ آسانی ہے
دور نادار ہوا مائلِ ارزانی ہے
دور ھشیار ہوا مائلِ نادانی ہے
عجب انداز ہیں اس دور کے ھنگاموں کے
کیا ہی آغآز ہیں اس دور کے انجاموں کے
(11)
پردہء رقصِ تمدن میں ھوسکاری دیکھ
اے ھوسکار زمانے کی یہ عیاری دیکھ
رنگِ تہذیب کے پردوں میں یہ مے خواری دیکھ
دیکھ اس دور کے دجال کی ھشیاری دیکھ
نام ہر عیب کا اس دور میں تہذیبی ہے
کیا ہی انداز یہ اس دور کا تشبی بی ہے
(12)
عقلِ چالاک نے انسان کا سر گھیر لیا
علمِ خاشاک نے نادان کا گھر گھیر لیا
فکرِ خوراک نے دوران کا در گھیر لیا
دردِ غمناک نے درمان کا بر گھیر لیا
اے شرر پارہء ادراک و خرد سوز مدد!
مدد اے تیرِ الم سوز جگر دوز مدد!َََ

(13)
دورِ سائنس میں کہیں قلب کی تسکیں نہ رہی
چشمِ خودبیں میں کہیں نگہہء خدا بیں نہ رہی
دورِ بے دیں میں کہیں صبر کی تلقیں نہ رہی
دورِ غمگیں میں جبیں حیف کہ بے چیں نہ رہی
دودِ افکار دھواں دھار ہوا سینے میں
لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزا جینے میں
(14)
بات جبریل کی افلاک و سماوا بھی سنیں
ٹھہر جاتے ہیں سسکتے ہوئے دریا بھی سنیں
گلِ رعنا بھی سنیں نرگسِ شہلا بھی سنیں
دشت و کہسار سنیں وادی و صحرا بھی سنیں
پر موثر جو نہیں لفظ تو انسانوں پر
دشت انگشتِ بدنداں ہیں مسلمانوں پر
(15)
سگِ نفسانیاں ! مردار طلبی افسوس
وائے نادانیاں ! داء الکلبی افسوس
ہائے زندانیاں ! جاں بہ لبی افسوس
وائے طغیانیاں ! تشنہ لبی افسوس
سلسبیلوں میں تری تشنہ لبی افسوس
چلتے نیلوں میں تری جاں بہ لبی افسوس

(16)
بے خبر کون زمانے کی فراوانی سے
نابلد کون ابادانی و عمرانی سے
ناسمجھ کون مشینوں کی ہے آسانی سے
باخبر ہے بھی کوئی کلفتِ روحانی سے
روح برباد ہوئی قلب جو ویرانہ ہوا
دل کی تسکیں نہ رہی درد جو درماں نہ ہواَ ََََََِِ (17 )
نشہء بھنگ میں رقصاں ہے زمانہ تیرا
ضربِ بے ننگ پہ رقصاں ہے زمانہ تیرا
سازِ افرنگ پہ رقصاں ہے زمانہ تیرا
نرمی ءِ سنگ پہ رقصاں ہے زمانہ تیرا
دشت رقصاں ہیں بیابان و کَلب رقصاں ہیں
غوث رقصاں ہیں زمانے کے قطب رقصاں ہیں
(18)
اہلِ تثلیث نے بھی افسوس کہ شرم چھوڑ دیا
ھندو جاتی نے بھی افسوس کہ دھرم چھوڑ دیا
قومِ مسلم نے بھی افسوس دلِ گرم چھوڑ دیا
بدھ والوں نے بھی افسوس دلِ نرم چھوڑ دیا
ایشور اللہ بھگوان کا کہیں نام نہیں
دورِ دجال ہے ایمان کا کہیں نام نہیں

(19)
اہلِ تثلیث میں افسوس کہ عرفاں نہ رہا
ھندو جاتی میں بھی افسوس کہ دھرماں نہ رہا
قومِ مسلم میں بھی افسوس کہ ایماں نہ رہا
بدھ والوں میں بھی افسوس کہ نرواں نہ رہا
قلبِ آدم سے وہ انوارِ الہی بھی گئے
گنگ و بطحا و کلیسا کے وہ راہی بھی گئے
(20)
اہلِ تثلیث نے افسوس کہ شرماں چھوڑا
ھندو جاتی نے بھی افسوس کہ دھرماں چھوڑا
قومِ مسلم نے بھی افسوس کہ ارماں چھوڑا
بدھ والوں نے بھی افسوس کہ نرماں چھوڑا
دورِ دجال میں اب بندہ ءِ دجالی ہیں
بندہء دور ہیں ایماں سے فقط خالی ہیں
(21)
دوشِ ھندو سے لچکتے ہوئے زنار گئے
قلبِ مسلم سے مہکتے ہوئے انوار گئے
قومِ عیسیٰ سے دہکتے ہوئے آثار گئے
بدھ والوں کے لہکتے ہوئے اطوار گئے
ہر کوئی لعنتِ دجال میں سرشار ہوا
ٹائی اس دور میں ٹائی کا پرستار ہوا

(22)
اہلِ تثلیث موالات سے بیزار ہوئے
اہلِ توحید بھی فرعوں کے پرستار ہوئے
برھمن لعنتِ مایا میں گرفتار ہوئے
آتما چھوڑ کے کلجگ کے طلبگار ہوئے
یہ جہاں غرق ہوا غرقِ مکافات ہوا
آدم ھیہات کہ اس دور میں آ مات ہوا
(23)
داستاں ہائے المناکِ جہاں سنتے ہیں
آہ سنتے ہیں زمانے کی فغاں سنتے ہیں
شورِ بے کار میں خاموش بیاں سنتے ہیں
اور جبریل یہ اندازِ نہاں سنتے ہیں
ہر طرف شور ہے آشوب ہے ھنگامہ ہے
شور جانکاہِ جہاں کوب ہے ھنگامہ ہے
(24)
کیوں مقفل ہوئے عرفاں کے میخانے آج
کیوں مکدر ہوئے ایماں کے پیمانے آج
بے تاثر ہوئے اسلاف کے افسانے آج
مٹ گئے دہر سے ایقاں کے پروانے آج
ماتمی دور ہے آدم کی پریشانی دیکھ
ماتمی دور میں ماتم کی فراوانی دیکھ

(25)
پردہء فلم پہ آ جادوئے ھاروتی دیکھ
چہرہء دور پہ انوار کی ماروتی دیکھ
نورِ آفاق میں ظلمات یہ لاہوتی دیکھ
اے پری چہرہء فرتوت کی فرتوتی دیکھ
نارِ بے نور کی اس دور میں مستوری دیکھ
نگہہِ بے نور کی اس طَور یہ بے نوری دیکھ
(26)
عجب اس دورِ عجب کار کی تہذیب عجیب
عجب اس دور کے عشاق کی تشبیب عجیب
عجب اس دورِ سہمناک کی ترھیب عجیب
عجب اس دورِ جگر چاک کی ترغیب عجیب
اوجِ ہر عیب کی رفعت پہ یہ سرشار بھی دیکھ
اور ہر عیب کی تاویل میں ھشیار بھی دیکھ
(27)
دائیں اس دور کی ہر شان میں آنکھ اندھی ہے
روح میں قلب میں اوسان میں آنکھ اندھی ہے
فکر میں ذکر میں عرفان میں آنکھ اندھی ہے
ذوق میں شوق میں ارمان میں آنکھ اندھی ہے
آتشِ عشق میں ایماں کی تگ و تاز ہے یہ
تو ہے مومن تو ترے قلب کی آواز ہے یہ

(28)
ہائے اس دور میں اسلام کی عظمت نہ رہی
مرگِ جبریل کہ اس نام کی عظمت نہ رہی
اک قیامت ہے کہ پیغام کی عظمت نہ رہی
گردنِ کفر پہ صمصام کی عظمت نہ رہی
کھو گئے حرصِ ہوس کار میں انوار سبھی
ہوگئے علمِ زمیں کار میں سرشار سبھی
(29)
علم اس دورِ عجب کار کا لاثانی ہے
یہ نہ سِری ہے نہ قلبی ہے نہ روحانی ہے
یہ الہی ہے فلاحی ہے نہ یزدانی ہے
یہ زمینی ہے زمانی ہے یہ طوفانی ہے
چشمِ شیطاں سے جو یزداں کا نظارہ یہ کرے
ذرہء خاک کو حیرت ہے کہ پارہ یہ کرے
(30)
جگمگاتا ہے جہاں برق کے فانوس جلیں
دل دھواں دھار کہیں گھاس کہیں پھونس جلیں
فکرِ افکارِ جہاں سوزی ءِ محسوس جلیں
دودِ بے نور کی تلخی میں یہ معکوس جلیں
ماہ و ماھتاب کے گردوں پہ جو صد راہ پا لیں
کاش سینے میں وہ تاریکی ءِ دلکاہ پا لیں

(31)
آ گئی غیرتِ قہار جو جنبش میں کبھی
آ گئی صبر کی تلوار جو جنبش میں کبھی
آ گئی قدرتِ صبار جو جنبش میں کبھی
آ گئی عرش کی سرکار جو جنبش میں کبھی
آ گئی صبر کی تلوار گر جنبش میں
گردنیں ہوں گی جنبش میں نہ سر جنبش میں
(32)
بے خبر سن ! کہ زمانے میں اذاں ہوتی ہے
سن کہ آفاق کے گنبد میں رواں ہوتی ہے
ارضِ بے نور یہ انوارِ جناں ہوتی ہے
دور مومن کی زمانوں کی تکاں ہوتی ہے
اوڑھ رکھے ہیں یہ غفلت کے لبادے کیسے
تم کو رحمت کے خزانوں سے خدا دے کیسے
(33)
دورِ تعمیر غلط گیر غلط میر یہ ہے
دامِ تذویر زمیں گیر قریں گیر یہ ہے
عقلِ بے پیرِ ثری گیر کی تذویر یہ ہے
قلبہء مادہ پرستار کی تصویر یہ ہے
دیکھ قراں میں کہ کس دور کی تفسیر یہ ہے
یا کہ اس مردکِ افرنگ کی تدبیر یہ ہے

(34)
دور ہے مادی ترقی کا مشیں سازی کا
دھرِ نابود میں سلطانی و ایازی کا
ملکِ موجود میں اسرار کی غمازی کا
عاقبت سوزی و روزی کا جہاں سازی کا
اور اسلامی ممالک میں تو اک کاں بھی نہیں
فتنۂ حاضر و موجود کا ساماں بھی نہیں
(35)
مردِ مومن ہے تو سمجھے گا وہ آواز مری
دل کی آواز میں پائے گا تگ و تاز مری
گفتِ دلسوزِ جگر دوزِ رواں ساز مری
کوئی سمجھے گا محاکات یہ ہمراز مری
ھیں جو انوار یہاں چشمِ خدا بیں کے لئے
صوتِ جبریل میں شعلے ہیں شیاطیں کے لئے
(36)
آتشِ درد نے جبریل کو جولانی دی
قلبِ سوزاں میں نئی آگ یہ طولانی دی
دورِ اغراض میں ہمدردی ءِ انسانی دی
نوعِ انساں کے لئے الفتِ لافانی دی
سجدہء شکر میں جبریل کا سر جھکتا ہے
اور سائے کی مثل شام و سحر جھکتا ہے

(37)
تو نے سمجھا ہے کہ مقصود یہی دنیا ہے
اصلِ کل حاضر و موجود یہی دنیا ہے
شاھدِ عقل کی مشہود یہی دنیا ہے
اور انساں کی بھی معبود یہی دنیا ہے
دھر موجود ہے نابود زمانے والو
کل ہے نابود یہ مشہود زمانے والو
(38)
بندہ اس دور میں سرکش ہوا بے باک ہوا
آسمانوں میں خداوند غضبناک ہوا
فتنہء دورِ زمیں چسپ طربناک ہوا
فہم و ادراک سے بالا ہوا چالاک ہوا
کشتی عصیاں سے جو لبریز ہوئی غرق ہوئی
تھی کبھی ابر وہ رحمت کا پہ اب برق ہوئی
(39)
ھجرِ محبوب میں جبریل کا دل خوں جو ہوا
زلفِ محبوبِ حجازی پہ وہ مفتوں جو ہوا
لیلی ءِ شہرِ مدینہ کا وہ مجنوں جو ہوا
عشقِ صحراء عرب میں وہ جگر خوں جو ہوا
مسجدِ وادی ءِ بطحا میں اذاں اس کی ہے
گنبدِ روضہء خضرا میں جِناں اس کی ہے

(40)
ہر طرف وادی ءِ بطحا میں اذاں اس کی ہے
گنبدِ روضہء خضرا میں جِناں اس کی ہے
ریگِ صحرا ءِ عرب میں جو رواں اس کی ہے
اپنے محبوب کی دنیا میں فغاں اس کی ہے
روحِ مجنوں کو بھی حیرت ہے یہاں کون ہے یہ
ھجرِ محبوب میں آتش بہ رواں کون ہے یہ
(41)
میں نے جانا ہے کہ سنسار میں آرام نہیں
اور دنیا میں کہیں صبح نہیں شام نہیں
تلخی و درد سے خالی بھی کوئی جام نہیں
پہ فراست میں مسلماں کی نگاہ خام نہیں
دل کا خوں پی کے جو ہوں رقص مَیں انگاروں پہ
مسکراتا ہوں دلِ دوست میں آزاروں پہ
(42)
آگ سائنس نے زمانے میں لگا ڈالی ہے
دل کی تسکیں بھی زمانے میں بجھا ڈالی ہے
گللخنِ حرص میں مخلوقِ خدا ڈالی ہے
اے جلا ڈالی ہے خدائی یہ جلا ڈالی ہے
کون اس آتشِ نمرود کو پھر سرد کرے
اشکِ خونیں سے نئی آگ کو پھر برد کرے

(43)
لگ گئی آگ زمانے میں لگائی کس نے
جھونک دی آگ میں مولا کی خدائی کس نے
جل اٹھے نفس و آفاق جلائی کس نے
اے دہائی ہے دہائی یہ مچائی کس نے
چھا گئی آگ زمانے کی گذرگاہوں تک
چلمنوں معبدوں افسانہ گھروں آہوں تک
(44)
چھا گئیں غم کی گھٹائیں جو شبستانوں میں
دورِ تاریکِ سیاہ کار کے ویرانوں میں
قلبِ انساں کے یہ اجڑے ہوئے افسانوں میں
نوعِ انساں کے یہ ببجھتے ہوئے ارمانوں میں
دہر تاریک کی الحادی و زندیقی میں
تیرگی چھا جو گئی دور کی تاریکی میں
(4 5)
چھا گئیں غم کی گھٹائیں جو شبستانوں میں
دورِ تاریکِ سیاہ کار کے ویرانوں میں
قلبِ انساں کے یہ اجڑے ہوئے افسانوں میں
نوعِ انساں کے یہ ببجھتے ہوئے ارمانوں میں
تیرگی چھا جو گئی دور کی تاریکی میں
کفر و الحاد کی بیدادی و زندیقی میں

(46)
اشک تھمتے ہی نہیں درد ہے انسانوں کا
عہدِ ماضی کے اجڑتے ہوئے افسانوں کا
اپنے اس دور کے بکھرے ہوئے ویرانوں کا
شمعِ انوار پہ مٹتے ہوئے پروانوں کا
غم ابلتا ہے جو سینے میں فزوں ہوتا ہے
قلبِ فولاد پگلتا ہے تو خوں ہوتا ہے
(47)
کار لیتے ہیں کہ بے کار ہیں بدنام بہت
کار والوں کو ہیں اس عصر میں آرام بہت
کار لیتے ہیں کہ بے کار ہیں بدنام بہت
عہدِ حاضر میں ہیں بندوں کے مگر کام بہت
کار والوں کو ہیں اس عصر میں آرام بہت
نوٹ سستے ہیں نہیں کار کے کچھ دام بہت
(48)
کار لیتے ہیں کہ بے کار ہیں بدنام بہت
کار والوں کو ہیں اس عصر میں آرام بہت
کار لیتے ہیں کہ بے کار ہیں بدنام بہت
عہدِ حاضر میں ہیں بندوں کے مگر کام بہت
ہاں غزالہ کو ذرا اور سنبھل جانے دے
اور دیوالہ جو نکلے تو نکل جانے دے

(49)
دور ! تعمیرِ بھیانک ہیں ادائیں تیری
دور ! تدبیرِ بھیانک ہیں ھوائیں تیری
دور ! تقصیرِ بھیانک ہیں بلائیں تیری
دور ! تذویرِ بھیانک ہیں ندائیں تیری
بین کرتی ہیں چڑیلیں جو سیاہ راتوں میں
ماتمی رات ہے ماتم کی محاکاتوں میں
(50)
خاک ریزی میں ہے گرفتار زمانہ سارا
خاک خیزی میں ہے سرشار زمانہ سارا
خاک بیزی میں ہے نگوں سار زمانہ سارا
کاک بیزی میں ہے پُرکار زمانہ سارا
آدمی خاک ہوا خاک میں غمناک ہوا
عرشِ اعلیٰ پہ فرشتوں کا جگر چاک ہوا
(51)
بھوکی آنکھوں میں جو آثارِ جنوں آئے ہیں
کس کی راہوں سے یہاں تجھ سے کہوں آئے ہیں
اے عجب سوزِ بروں فکرِ دروں آئے ہیں
بن کے نقال کے جادو سے فنوں آئے ہیں
دامِ تذویر میں بے چارہ ہوئی پھرتی ہیں
باغی و بدظن و آوارہ ہوئی پھرتی ہیںَََََِِِِِ

(52)
آہِ افلاک میں سوزاں ہے زمانہ سارا
نارِ ادراک میں سوزاں ہے زمانہ سارا
دل کے پییچاک میں سوزاں ہے زمانہ سارا
خاک و خاشاک میں سوزاں ہے زمانہ سارا
قبل از روزِ جزا دیکھ جزا ملتی ہے
یعنی اثباتِ قیامت میں سزا ملتی ہے
(53)
مادہ و مادہ پرستی کی یہ مدہوشی میں
روح و عرفان و قیامت کی فراموشی میں
عہدِ حاضر کے یہ ابلیس کی سرگوشی میں
خاک نوشی میں دخاں پوشی و سر جوشی میں
گر کے گلشن سے پڑے گلخن جَِناتی میں
اے زبر اس کو بدل گلشن جَنَاتی میں
(54)
دورِ تعمیر ! بھیانک ہے یہ تصویر تری
دورِ تذویر ! بھیانک ہے یہ تدبیر تری
دورِ تقدیر ! بھیانک ہے یہ تقصیر تری
وائے تنویر ! یہ تنویر یہ تنویر تری
دل بھی سینے میں دھواں دھار سے گھبراتا ہے
یعنی بے نوری ءِ افکار سے گھبراتا ہے

(55)
رقصِ طاؤس میں کوئل کی پکاریں بھی وہی
دہرِ دلشاد کی سرمست بہاریں بھی وہی
سازِ ہستی کی دل افروز ستاریں بھی وہی
ابرِ سرمستِ بہاراں کی قطاریں بھی وہی
تو ہی بدلا ہے کچھ اس طور کہ دنیا بدلی
قیس بدلا ہے کچھ اس طور کہ لیلی بدلی
(56)
باغِ دنیا میں پپہیے کی پکاریں بھی وہی
نقش بستی میں بِین کی سدامست بہاریں بھی وہی
سازِ ہستی میں ترنم کی ستاریں بھی وہی
ابرِ سرمستِ بہاراں کی قطاریں بھی وہی
تو ہی بدلا ہے کچھ اس طَور کہ دنیا بدلی
قیس بدلا ہے کچھ اس طَور کہ لیلی بدلی
(57)
سرو ءِ آزاد کی برمست بہاریں بھی وہی
دہرِ دلشاد کی سرمست بہاریں بھی وہی
قیس و فرہاد کی پیوست بہاریں بھی وہی
عشق و بیداد کی دلبست بہاریں بھی وہی
تیری تقدیر کا افسوس پلٹنا وائے
دل کی تعبیر کا افسوس الٹنا وائے

(58)
صیدِ دجال جو افرنگِ غلط کار ہوا
عارضہء مادہ پرستی میں گرفتار ہوا
نارِ فنکاری ءِ خاشاک میں ہشیار ہوا
نورِ عرفاں میں مگر اعور و ناچار ہوا
خاک نوشی میں یہ بدمستی و سرشاری ہے
خاک بیں آنکھ کی زرمستی و ھشیاری ہے
(59)
دیوِ سائنس کی زمانے میں جو تسخیر کریں
طوق گردن میں کریں دست بہ زنجیر کریں
ارضِ مولا کی سنابرق سے تنویر کریں
ضوئے قراں سے خلاصی کی وہ تدبیر کریں
تھے جو تسخیر کے خواہاں سو وہ تسخیر ہوئے
اپنے ہی جال میں تن تن کے وہ نخچیر ہوئے
(60)
دور بے دادی ءِ قزاق کا فریادی ہے
شعلہِ خنجرِ براق کا فریادی ہے
گرمی ءِ شعلہ ءِ چقماق کا فریادی ہے
اور بیدادی ءِ رزاق کا فریادی ہے
دور قزاق ہے تہذیب کی اقداروں میں
چوس لیتے ہیں وہ خوں بانٹ کے ناداروں میں

(61)
دور تعمیر و ترقی کی جواں سالی میں
فارغ البالی و ذو البالی و ذوبالی میں
فرط و افراط میں زرخیزی و خوشحالی میں
گنجِ خوشحالی و گنجینہء دجالی میں
اصلیت دور کی قندیل نے اپنا لی ہے
ہے تو ظلمات یہ پانی سے مگر خالی ہے
(62)
دور تعمیر و ترقی کی جواں سالی میں
فارغ البالی و ذو البالی و ذو بالی میں
فرط و افراط میں زرخیزی و خوشحالی میں
گنجِ خوشحالی و گنجینہء دجالی میں
چشمہء خضر کی ھیہات یہ نقالی ہے
ہے تو ظلمات یہ پانی سے مگر خالی ہے
(63)
عصرِ ایماں کے مہکتے ہوئے گلزار کہاں
قصرِ عرفاں کے جھلکتے ہوئے اسرار کہاں
عصرِ ایقاں کے لہکتے ہوئے انور کہاں
اور ہاماں کے بہکتے ہوئے اطوار کہاں
دورِ بے آب لپکتے ہوئے شراروں میں
دورِ بے تاب دھکتے ہوئے انگاروں میں

(64)
دہرِ دلشاد کی برمست بہاریں بھی وہی
سرو آزاد کی برمست بہاریں بھی وہی
قیس و فرہاد کی پیوست بہاریں بھی وہی
عشق و بیداد کی دلبست بہاریں بھی وہی
تیری تقدیر کا افسوس پلٹنا وائے
دل کی تعبیر کا افسوس الٹنا وائے
(65)
چشمِ ناداں نے جو فردوسِ جِناں سمجھا ہے
عقلِ دوناں نے جو گلشن کا سماں سمجھا ہے
قلبِ دوراں نے جو فردوسِ رواں سمجھا ہے
دورِ پراں نے جو گلزارِ دواں سمجھا ہے
وہ جہنم ہے جو افرنگ نے بھڑکایا ہے
چشمِ ساحر کے وہ نیرنگ نے بھڑکایا ہے
(66)
یار لوگوں نے جسے نارِ تپاں سمجھا ہے
درکِ اسفل کا جہنم میں مکاں سمجھا ہے
پائے دجال میں دوزخ جو رواں سمجھا ہے
ظلِ فردوس کو دوزخ کا دھواں سمجھا ہے
وہ تو اس دور میں جنت ہے خدادانوں کی
چشمِ دجال میں معتوب مسلمانوں کی

(67)
عہدِ حاضر کے یہ الحاد کے طوفانوں میں
عصرِ موجود کے پولاد کے میخانوں میں
دورِ پُر دودِ مشیں زاد کی ھذیانوں میں
دورِ نابودِ مبیناد کے عصرانوں میں
ایک دنیا ہے زبانوں کی کہ کُرلاتی ہے
سُر و سُر لاد و سُر لاد میں سُر لاتی ہے
(68)
عہدِ حاضر کے یہ الحاد کے طوفانوں میں
عصرِ موجود زمین یاد کے میخانوں میں
دورِ نابودِ مبیناد کے عصرانوں میں
دورِ پُر دودِ مشیں زاد کی ھذیانوں میں
ایک دنیا ہے زبانوں کی کہ کرلاتی ہے
اٹھ کے افلاک کی وسعت میں وہ سرلاتی ہے
(69)
سرد و خاموش ہوئی خاک جو انسانوں کی
برد و بے جوش و المناک و تہی جانوں کی
غارِ ویرانی ءِ مدہوش کے سنسانوں کی
ہائے ویرانی ءِ خاموش کے ویرانوں کی
قبرِ خاموش کی غاروں کی وہ خاموشی میں
سردی و زردی و بے دردی و مدہوشی میں

(70)
آج انسان کا زمانے میں جہاں روٹی ہے
روح روٹی ہے جسد روٹی ہے تو جاں روٹی ہے
دیں ایماں نماز روزہ اذاں روٹی ہے
لا مکاں آج کے دور کا روٹی ہے مکاں روٹی ہے
غم ہے روٹی تو زمانے کی خوشی روٹی ہے
تو یہ کہتا ہے تحّیر میں کہاں روٹی ہے
(71)
شورِ فریادِ فلک دوز یہ کیا اٹھا ہے
رنجِ بیدادِ جگر سوز یہ کیا اٹھا ہے
جورِ بربادی ءِ بد روز یہ کیا اٹھا ہے
دیکھ ہنگامہء فیروز یہ کیا اٹھا ہے
اک قیامت ہے کہ آتی ہے پہ آتی بھی نہیں
موت کی نیند زمانے کو سلاتی بھی نہیں
(72)
آہِ شبگیر ہے نَے نالہء سحر گاہی ہے
مستیء عشق ہے نَے دل کی شہنشاہی ہے
نَے خود آگاہِ خدابیں کی یدِ اللہی ہے
فکرِ دوراں ہے غمِ رزق ہے جانکاہی ہے
جلوہء طور پہ موسیٰ کی کلیمی بھی گئی
دورِ باطل میں رہ و رسمِ قدیمی بھی گئی

(73)
اشک اس درد میں تھم تھم کے ٹپک پڑتے ہیں
دامنِ خاک پہ چھم چھم یہ ٹپک پڑتے ہیں
لے کے تقدیر کے صد غم یہ ٹپک پڑتے ہیں
سوزِ دلسوز پہ پیہم یہ ٹپک پڑتے ہیں
یاد گذر ے ہوئے ایام جو آ جاتے ہیں
قلبِ غمگیں کو شبِ غم میں رلا جاتے ہیں
(74)
اشک اس درد میں تھم تھم کے ٹپک پڑتا ہے
دامنِ خاک پہ چھم چھم یہ ٹپک پڑتا ہے
لے کے تقدیر کے صد غم یہ ٹپک پڑتا ہے
سوزِ دلسوز یہ پیہم یہ ٹپک پڑتا ہے
اشکِ خاموش میں دوزخ جو گرا سرد ہوا
نارِ نمرود کا دوزخ بھی جو برد ہوا
(75)
شورِ فریادِ فلک دوز یہ کیا اٹھا ہے
رنجِ بے دادِ جگر سوز یہ کیا اٹھا ہے
ظلمِ بربادی ءِ بدروز یہ کیا اٹھا ہے
سن کہ آوازہء دلدوز یہ کیا اٹھا ہے
اک قیامت ہے کہ آتی ہے یہ آتی بھی نہیں
موت کی نیند زمانے کو سلاتی بھی نہیں

(76)
آنکھ روتی ہے مگر دل میں خموشی کیوں ہے
قطعِ امید پہ یہ قلب فروشی کیوں ہے
نطقِ بے ہوش میں ادراک بجوشی کیوں ہے
روحِ مدہوش میں یہ بے نطق سروشی کیوں ہے
نگہہِ خامش سے گریں اشک جگر کیا معنی
آنکھ ہوتی ہے یہاں رشکِ سحر کیا معنی
(77)
دیکھ طوفانِ جہاں گرد یہ کیا اٹھا ہے
قلبِ تاریک و رخِ زرد یہ کیا اٹھا ہے
دیدہء گرم و دل سرد یہ کیا اٹھا ہے
دورِ ہمدردی ءِ بے درد یہ کیا اٹھا ہے
مکر دوں کارِ فسوں ساز کی جولانی میں
الحاد آتا ہے نئے دور کی طغیانی میں
(78)
دیکھ طوفانِ جہاں گرد یہ کیا اٹھا ہے
قلبِ تاریک و رخِ زرد یہ کیا اٹھا ہے
چشمِ بے جان و دلِ سرد یہ کیا اٹھا ہے
دورِ ہمدردی ءِ بے درد یہ کیا اٹھا ہے
مکر دوں کارِ فسوں گرد کی جولانی میں
الحاد آتا ہے نئے درد کی طغیانی میں

(79)
آہ انساں کے بھی اس دور میں پَر نکلے ہیں
سوئے افلاک وہ کرنے کو سفر نکلے ہیں
شوخ و بیباک بہ تسخیرِ قمر نکلے ہیں
ڈھونڈھنے چاند کی آغوش میں زر نکلے ہیں
انجن اس دور میں کیا سینہ سپر نکلے ہیں
مرحبا حضرتِ دجال کے خر نکلے ہیں
(80)
آہ انساں کے بھی اس دور میں پر نکلے ہیں
سوئے افلاک وہ کرنے کو سفر نکلے ہیں
شوخ و بیباک بہ تسخیرِ قمر نکلے ہیں
ڈھونڈھنے چاند کی آغوش میں زر نکلے ہیں
ان کے باطن میں کوئی کرم ہوس جاگا ہے
آسمانوں کی حفاظت کا عسس جاگا ہے
(81)
آتشیں دور ہے گلخن کی فراوانی ہے
نارِ نمرود سے دنیا کی ابادانی ہے
اک دھواں دھار ہے گلنار کی جولانی ہے
نارِ تاریک کے پردوں میں شکم بانی ہے
خاکی انساں کا نئے دور میں ناری ہونا
دل کی تسکیں سے پروبال سے عاری ہونا

(82)
آتشیں دور ہے گلخن کی فراوانی ہے
نارِ نمرود سے دنیا کی ابادانی ہے
اک دھواں دھار ہے گلنار کی جولانی ہے
نارِ بے نور کے پردوں میں شکم بانی ہے
خاکی انساں کا نئے دور میں ناری ہونا
ریش و تسکین و پروبال سے عاری ہونا
(83)
خاکی آدمی کا نئے دور میں بادی ہونا
دیکھ انساں کی طبیعت کا رمادی ہونا
فکرِ دوران و غمِ دور میں عادی ہونا
قلبِ مغموم و پریشاں کا فسادی ہونا
دورِ پرواز ہے آدم کے بھی پر نکلے ہیں
مرحبا ! حضرتِِِ دجال کے خر نکلے ہیں
(84)
خاکی انساں کا نئے دور میں بادی ہونا
قلبِ مغموم و پریشاں کا فسادی ہونا
فکرِ دوران و غم دور کا عادی ہونا
دیکھ انساں کی طبیعت کا رمادی ہونا
دورِ پرواز ہے آدم کے بھی پر نکلے ہیں
مرحبا ! حضرتِِِ دجال کے خر نکلے ہیں

(85)
گوش نکلے ہیں قدم نکلے ہیں سَرنکلے ہیں
انجن اس دور میں کیا سینہ سپر نکلے ہیں
کرنے اس دور میں دجال سفر نکلے ہیں
دورِ پرواز ہے انسان کے بھی پر نکلے ہیں
اور سنتے ہیں کہ پر مور و ملخ کے نکلیں
موت آتی ہے اگر مور و ملخ کے نکلیں
(86)
آہ انساں کے بھی اس دور میں پر نکلے ہیں
سوئے افلاک وہ کرنے کو سفر نکلے ہیں
شوخ و بیباک بہ تسخیرِ قمر نکلے ہیں
ڈھونڈھنے چاند کی آغوش میں زر نکلے ہیں
ور سنتے ہیں اگر مور و ملخ کے نکلیں
موت آتی ہے جو پرَ مور و ملخ کے نکلیں
(87)
سوئے افلاک جو پرواز ہے انسانوں کی
شامت آئی ہے نئے دور کے نادانوں کی
شمع بے نور کے ان من چلے پروانوں کی
اب کہاں خیر ہے اس دور کے ویرانوں کی
ان کے باطن میں کوئی کرم ہوس جاگ اٹھے
آسمانوں کی حفاظت کا عسس جاگ اٹھے

(88)
قلبِ جبریل جو اس دور میں مغموم ہوا
نورِ ایمان جو اس دور میں معدوم ہوا
دینِ اسلام جو اس دور میں مظلوم ہوا
دورِ دجالی ء دجال میں محروم ہوا
ہے تو مغموم مگر اصل سے نومید نہیں
مرد مومن ہے فراست ہے وہ بے دید نہیں
(89)
یہ گلستانی ءِ بے نگہتِ ایمانی دیکھ
یہ مسلمانی ءِ بے دینی و ایقانی دیکھ
یہ خدا دانی ءِ بے دانشِ قرانی دیکھ
یہ پریشانی ءِ افکار کی ارزانی دیکھ
مردہ چشمانِ غضبناک کی بے باکی دیکھ
روبہء دور جہاں گرد کی چالاکی دیکھ
(90)
پردہء رقصِ تمدن میں ھوسکاری دیکھ
اے ہوسکار زمانے کی یہ عیاری دیکھ
رنگِ تہذیب کے پردوں میں یہ مے خواری دیکھ
دیکھ اس دور کے دجال کی ہشیاری دیکھ
نام ہر عیب کا اس دور میں تہذیبی دیکھ
کیا ہی انداز ہیں اس دور کے تشبی بی دیکھ

(91)
پردہء فلم پہ آ ! جادوئے ہاروتی دیکھ
چہرہء دور پہ انوار کی ماروتی دیکھ
نور آفاق میں ظلمات یہ لاہوتی دیکھ
اے پری چہرہء فرتوت کی فرتوتی دیکھ
نارِ بے نور کی اس دور میں مستوری دیکھ
نگہہ بے نور کی اس دور میں بے نوری دیکھ
(92)
نگہہء قراں کا وہ مقصود سمجھ بیٹھے ہیں
اگلی دنیا کو وہ نابود سمجھ بیٹھے ہیں
مال و دولت کو وہ معبود سمجھ بیٹھے ہیں
حرص دنیا کو وہ بہبود سمجھ بیٹھے ہیں
دین و ملت کو وہ بے سود سمجھ بیٹھے ہیں
نگہہ باطن کو وہ مردود سمجھ بیٹھے ہیں
(93)
علم و حکمت کی شعاؤں میں یہ انوار بھی دیکھ
بندے اس دور کے اخلاق سے بیزار بھی دیکھ
علم تعمیر کے نشے میں یہ سرشار بھی دیکھ
اور تخریب کے رازوں میں یہ پرکار بھی دیکھ
گنگا جمنی کا زمانے میں نظارہ دیکھیں
قلب دیندار کو دنیا میں دوپارہ دیکھیں

(94)
دیکھ اقرار کے پہلو میں یہ انکار بھی دیکھ
دیکھ انکار کے پہلو میں یہ اقرار بھی دیکھ
عصر حاضر کی یہ تخلیق یہ شاہکار بھی دیکھ
دیں کے اقرار کے پردوں میں یہ بیزار بھی دیکھ
قلبِ تذویر کو اس دور میں خنداں دیکھیں
اور ابلیس کو انگشت بدنداں دیکھیں
(95)
عشقِ بے نار کی سرمستی ء بے کیف بھی دیکھ
نارِ بے سوز کی شرمستی ء بے کیف بھی دیکھ
سوزِ بے نور کی زرمستی ء بے کیف بھی دیکھ
دورِ پردود کی خرمستی ء بے کیف بھی دیکھ
دیکھ اس دور کے بندوں کے کمالات بھی دیکھ
عشق بے نار نرالی ہے یہ کیا بات بھی دیکھ
(96)
مارِ سیمابی ء مسحور یہ بل کھاتے ہیں
نگہہ مفتوں میں لچکتے ہیں یہ بل کھاتے ہیں
پیچ کھاتے ہیں سمٹتے ہیں وہ بل کھاتے ہیں
دل کی مسحور نگاہوں میں یہ لہراتے ہیں
سیمیا گر کی نگاہوں کی یہ نیرنگی دیکھ
چشم بندی کی طلسمات یہ افرنگی دیکھ

(97)
مارِ سیمابیء مسحور یہ بل کھاتے ہیں
تلملاتے ہیں لچکتے ہیں وہ اتراتے ہیں
پیچ کھاتے ہیں سمٹتے ہیں یہ سہلاتے ہیں
دل کی مسحور نگاہوں میں یہ لہراتے ہیں
سیمیا گر کی نگاہوں کی یہ نیرنگی دیکھ
چشم بندی کی طلسمات یہ افرنگی دیکھ
(98)
ہیں تو بدکار زمانے کے مگر ہونے دو
تند گفتار زمانے کے مگر ہونے دو
ننگ و بے عار زمانے کے مگر ہونے دو
بد ہیں کردار زمانے کے مگر ہونے دو
وقت آنے پہ یہ دیوانے سنبھل جائیں گے
ہیں تو پروانے تجلی پہ یہ جل جائیں گے
(99)
ِذوق عرفاں کی زمانے کو فراوانی دے
جانثارانِ محمد ﷺ کو جہاں بانی دے
بے نوایانِ خدا دوست کو سلطانی دے
اپنی رحمت سے ہمیں ثروتِ ایمانی دے
بول اس دور میں اسلام کا بالا کر دے
نور قراں سے زمانے میں اجالا کر دے

(100)
ذوقِ عرفاں کی زمانے کو فراوانی دے
جانثارانِ محمد ﷺ کو جہاں بانی دے
بے نوایانِ خدا دوست کو سلطانی دے
اور اقبالؒ کو عالم کی حدی خوانی دے
اپنی بخشش سے ہمیں خلعتِ انسانی دے
اپنی رحمت سے ہمیں ثروتِ انسانی دے
َ ََََََِِِِِ (101)
دستِ غیبی سے میرے قلب پہ مرقوم ہوا
نام الحاد کا نئے دور میں معدوم ہوا
محو اس دور سے الحاد کا جو مفہوم ہوا
آشیاں زاغ کا اب مسکن صد بوم ہوا
عشق و عرفاں کی زمانے میں فراوانی ہو
اور شاہیں کی سموات میں سلطانی ہو
(102)
وائے دوزخ کی شعاؤں میں جہاں رقصاں ہے
ہائے بدبخت یہ کیا نوحہ کناں رقصاں ہے
خورد رقصاں ہے زمانے کا کلاں رقصاں ہے
شور محشر کی فضاؤں میں رواں رقصاں ہے
رقصِ تہذیب جنوں خیز کی خوں جوشی میں
مضطرب دانت لپکتے ہوئے مدہوشی میں

َ ََََََِِِِِ َ ََََََِِِ َ َََََِِِِِ (103)
ہائے گذرے ہوئے ایام جو پھر یاد آئے
چشم غمگین میں دو صد اشک بہ فریاد آئے
رو دیئے اشک میری آنکھ میں ناشاد آئے
منظر ان اپنی بہاروں کے بھی برباد آئے
محفلیں ہائے وہ یاران کہن کی نہ رہیں
اے بہاریں وہ کہیں اپنے چمن کی نہ رہیں
(104)
حق گوئی میں ہو کیوں تلخ نوائی کا گلہ
عشق صادق میں ہو کیوں رنجِ جدائی کا گلہ
سر عارف کو ہو کیوں دل کی صفائی کا گلہ
کورِ باطن کو ہو کیوں سرِ خدائی کا گلہ
گلِہ جبریل کا مشعل سے بھی واجب تو نہیں
گلِہ قندیل کا محفل سے بھی واجب تو نہیں
(106)
تو مسلماں ہے یہ اندازِ مسلمانی ہے؟
کچھ تجھے اپنی ذلالت سے پشیمانی ہے؟
تو تو انساں بھی نہیں غولِ بیابانی ہے؟
تجھ سے بہتر تو کہیں سنگِ بدخشانی ہے؟
حیف تجھ پہ ہے تیرے حال پہ انداز پہ ہے
اے دریفا یہ تیری حالتِ ناساز پہ ہے

(106)
خیبر اس دور کا سر ہو تو ید الہیٰ سے
خاک ہو دور بسر آہِ سحر گاہی سے
فتنہ نابود ہو مومن کی جگر کاہی سے
پھر ہو تنویر محمد ﷺ کی شہنشاہی سے
مومن اس دور کے پروانے جو بن بن کے جلیں
دیپک آفاق میں تب جا کے کہیں من کے جلیں
(107)
وہ جو اس دور میں اسلام کے دیوانے ہیں
اپنے مولا کے جو پیغام کے دیوانے ہیں
اصلِ ایماں کے جو انجام کے دیوانے ہیں
جو شہادت کے حسیں جام کے دیوانے ہیں
میری آنکھوں کا وہی نور ہیں مسرور ہوں میں
جن کی آہوں سے نہیں دور نہیں دور ہوں میں
(108)
تو نے اے دوست جو الفت کو بھلا ڈالا ہے
چشمِ مغموم کو سینے میں سلا ڈالا ہے
یادِ خاموش میں کیا درد پلا ڈالا ہے
چشمِ مایوس کو غربت میں رلا ڈالا ہے
نا وفادار ! تمھیں یاد کبھی آئیں گے
بن کے سو درد تیرے دل میں اتر جائیں گے

(109)
دورِ افکار میں عرفاں کی بہاریں بھی گئیں
گلشنِ دہر سے کوئل کی پکاریں بھی گئیں
صبحِ نوروز سے سرسبز پھواریں بھی گئیں
نورِ مہتاب کی خاموش وہ تاریں بھی گئیں
سر پریشاں ہیں جو افکار کی تاریکی میں
نغمے بلبل کے ہیں تبدیل فقط کی کی میں
(110)
سر عرفانی و نے عارف حقانی ہے
دور مادی ہے خس و خاک کا زندانی ہے
قیرواں گوں ہے جہاں فکر کی طغیانی ہے
ہائے دنیا میں جو فقدان ہے روحانی ہے
ہو نہ روحانی تو مادی کا ہے چلنا مشکل
ایک پیہئے میں ہے گاڑی کا سنبھلنا مشکل
(111)
سر عرفانی و نے عارف حقانی ہے
دور مادی ہے خس و خاک کا زندانی ہے
قیرواں گوں ہے جہاں فکر کی طغیانی ہے
ہائے دنیا میں جو فقدان ہے روحانی ہے
جسد بے روح کا زمانے میں ہے چلنا مشکل
ایک پیہئے میں ہے گاڑی کا سنبھلنا مشکل

(112)
وعظ و تقریر و صلاح دور میں بے کار ہوئی
دورِ دجال کے جالوں میں گرفتار ہوئی
فتنہء حرص کے طوفاں میں نگونسار ہوئی
گوشِ مخلوق کے پردوں میں گرانبار ہوئی
سعی واعظ کی نئے دور میں مشکور نہیں
پندِ دیں قلب میں ناسور تو ہے صور نہیں
(113)
جب تک ھنگامہء الحاد کی تباہی نہ ہوئی
آندھی اس فکرِ خرد سوز کی راہی نہ ہوئی
دور چہروں سے جنوں خیز سیاہی نہ ہوئی
آتش اس فتنہء دلسوز کی ماہی نہ ہوئی
وعظ و تقریر و صلاح کار ہیں بے کار سبھی
اے صلاح کار تو ہی خفتہ و بیدار سبھیَََََََََََََََِ
(114)
تم کبھی یاد کرو گے کوئی جبریل بھی تھا
نورِ عرفانی ء اسلام کی ترسیل بھی تھا
فیلِ ابرہ کے لئے طیراََ ابابیل بھی تھا
سرِ حقانیء افلاک کی زنبیل بھی تھا
ہم سے کہتا تھا مسلمان کا عدو، الحاد ہے
اپنے پینے کو یہ قران کا لہو، الحاد ہے

ََََََََََََََََََِِِِِِِ َ ََََََََََََََََََِِِِِِِ َ ََََََََََََََََََِِِِِِِ (115)
تم کبھی یاد کرو گے کوئی جبریل بھی تھا
نورِ عرفانی ء اسلام کی قندیل بھی تھا
دشمنِ دورِ جہاں گرد عزازیل بھی تھا
سرِ حقانیء افلاک کی زنبیل بھی تھا
ہم سے کہتا تھا مسلمان کا عدو، الحاد ہے
اپنے پینے کو یہ قران کا لہو، الحاد ہے
(116)
وہ جو تصویر محمد ﷺ کی بنانا چاہیں
فرق اسلام کا دنیا میں مٹانا چاہیں
سطحِ الحاد پہ توحید کو لانا چاہیں
نوکِ پنسل سے وہ کہسار کو ڈھانا چاہیں
جنگِ دجال وہ مسیحا کی یہ باریکی دیکھ
پردہ ء وصف میں معصوم یہ تاریکی دیکھ
(117)
غورِ آیات کے پردوں میں شکم بانی دیکھ
دیکھ یک چشمی ء دوراں کی یہ نادانی دیکھ
نگہہء قراں کے پلٹنے میں یہ آسانی دیکھ
فرط و افراط میں اب بھوک کی ارزانی دیکھ
توڑ کر کشتیء آیات کا لنگر ناداں
ہوئے طوفانِ بلا خیز میں ششدر ناداں

(118)
بندے اس دورِ ہوسکار کے یہ فنکار بھی دیکھ
بندے اس دورِ جہاں بیں کے یہ فنکار بھی دیکھ
بے مروت ہیں وفادار نہیں یار بھی دیکھ
گرگِ سفاک بھی ہیں گربہء خونخوار بھی دیکھ
ابنِ آدم کی یہ ابلیسی و خناسی دیکھ
مکرِ پیہم کی یہ پالیسی و نسناسی دیکھ
(119)
نشہء جادوئے دجال میں سرشاری دیکھ
کھو گئے جادہء دجال میں نر ناری دیکھ
ہو گئے غمزہء دجال کے زناری دیکھ
بو گئے مستی ء دجال میں بدکاری دیکھ
دیکھ افرنگ کی ہر چال پہ مفتونی دیکھ
دیکھ دجال کے اس جال میں مجنونی دیکھ
(120)
صوتِ افرنگ کے مشرق میں سپیکر دیکھیں
مئے حقیقت میں کبھی غرب کی پی کر دیکھیں
گھڑی غرب کی مانند وہ جی کر دیکھیں
اے رفو سینہء عرفاں کے بھی سی کر دیکھیں
صوتِ افرنگ کے مشرق میں سپیکر دیکھیں
گلشنِ غرب میں مشرق کے یہ کیکر دیکھیں

(121)
عہدِ حاضر کے مداری کا تماشائی بن
چشمِ سالوس جہاں گرد کی بینائی بن
دستِ شاطر کے کمالات کا شیدائی بن
دورِ محرومی ء محروم کا سودائی بن
یہ مداری ہے کہ ہر چار چوالیس کرے
خاکِ عارف کو یہ بے گرد سوالیس کرے
(122)
پیکرِ حسن ہیں بت خانہء سائنس کے نگار
قلب اس دور کے بندوں کا ہے ان پہ جو نثار
اے پہ ان خاکی نژادوں کی نگاہوں کا خمار
ہائے ان ارضی نہادوں کے تبسم کی بہار
خاک ہے خاک سے اٹھتی ہے یہ خاک ہونے کو
غار ہے غار سے اٹھتی ہے مغاک ہونے کو
(123)
پیکرِ حسن ہیں بت خانہء سائنس کے نگار
قلب اس دور کے بندوں کا ہے ان پہ جو نثار
اے پہ ان خاکی نژادوں کی نگاہوں کا خمار
ہائے ان ارضی نہادوں کے تبسم کی بہار
خاک ہے خاک سے اٹھتی ہے یہ خاک ہونے کو
غار بے یار ہے اٹھتی ہے مغاک ہونے کو

(124)
ہائے افسوس کہ اس دور میں غم غم بھی نہیں
ارض و آفاق میں ایک دیدہء پرنم بھی نہیں
دیدہء دہر میں اک اشک کا انجم بھی نہیں
دردِ ہجراں میں کہیں گریہء پیہم بھی نہیں
فکرِ جانسوز کی جو ہمدرد پریشانی ہے
غم ہے نہ اس دور کی آنکھوں میں نہ شادانی ہے
(125)
غم ہے نہ اس دور میں غم اور نہ شادی شادی
ترشی اس دور میں ترشی ہے نہ بادی بادی
عرفی اس دور میں عرفی ہے نہ سعدی سعدی
مادی اس دور کا انداز ہے مادی مادی
ارض و آفاق و اقالیم و منادر مادی
مادی عینک کے نظاروں میں نوادر مادی
(126)
کاغذی دور ہے کاغذ کی فراوانی ہے
دورِ کاغذ میں جہاں عارض سیلانی ہے
کاغذی عشق ہے عشاق کو آسانی ہے
کاغذی نفس ہے ہر بات کی آسانی ہے
کاغذی دام تو ہیں کاغذی بادام نہیں
کاغذی کام تو ہیں کاغذی انجام نہیں

(127)
اس نئے دور کے سب کام جو فولادی ہیں
مئے بھی فولاد کی ہے جام جو فولادی ہیں
دل بھی فولاد ہیں آلام جو فولادی ہیں
دورِ فولاد کے انجام جو فولادی ہیں
آج ہم دیدہء پرنم سے انہیں یاد کریں
نگہہ انساں کو وہ ایماں سے جو فولاد کریں
(128)
اس نئے دور کے سب کام جو فولادی ہیں
مئے بھی فولاد کی ہے جام جو فولادی ہیں
دل بھی آہن کے ہیں آلام جو فولادی ہیں
دورِ فولاد کے انجام جو فولادی ہیں
آج ہم دیدہء پرنم سے انہیں یاد کریں
نگہہ ایماں سے بصیرت کو جو فولاد کریں
(129)
عہدِ حاضر میں کہیں درد و غم و سوز بھی ہے؟
اشک لرزاں ہے کہیں؟ آہِ جگر دوز بھی ہے؟
چشمِ پرنم ہے کہیں؟ نالہء دلسوز بھی ہے؟
شبِ دیجور کی ظلمت میں کہیں روز بھی ہے؟
جوں اس درد و غمِ دل نے بدل ڈالی ہے
فکر و افکار میں اس گل نے بدل ڈالی ہے

(130)
عہدِ حاضر میں کہیں درد و غم و سوز بھی ہے؟
اشک لرزاں ہے کہیں؟ آہِ جگر دوز بھی ہے؟
چشمِ پرنم ہے کہیں؟ نالہء فیروز بھی ہے؟
قلبِ بے نور کی ظلمت میں کہیں روز بھی ہے؟
جوں اس درد و غمِ دل نے بدل ڈالی ہے
فکر و افکار میں اس گل نے بدل ڈالی ہےَََََََِِِِِ
(131)
تھا وہ کیا دور وہی دور جو اسلامی تھا
نغمہ خواں جس کی بہاروں میں لبِ جامی تھا
قلب بطحا کی خلاؤں میں لہو شامی تھا
صبحِ فاراں میں جہاں رومی و بسطامی تھا
تھا مدینے کی ہواؤں میں جہاں مولا کا
نور افشاں تھا فضاؤں میں سماں مولا کا
(132)
رنگِ اسلام کی دنیا کا جو بطحائی تھا
روپِ فاراں کی تجلی کا جو طوبائی تھا
آسماں مدینہء گل رنگ کا شیدائی تھا
جو بھی مسلم تھا اسلام کا شیدائی تھا
تیرے گلشن میں مدینے سے نسیم آتی تھی
گلشن کوئے محمد ﷺ سے شمیم آتی تھی

(133)
جھلملاتے ہوئے عرفاں کے وہ انوار کہاں؟
جھلملاتے ہوئے تنویر میں کہسار کہاں؟
جھلملاتے ہوئے قراں کے وہ تذکار کہاں؟
کوئی کہدو کہ ہے ایماں کا وہ سنسار کہاں؟
ہائے گیتی میں ہے اک آگ کہ بھڑکائی ہے
روئے گیتی پہ بلند آگ کی شہنائی ہے
(134)
جھلملاتے ہوئے عرفاں کے وہ انوار گئے
جھلملاتے ہوئے سرسبز وہ کہسار گئے
جھلملاتے ہوئے ایماں کے وہ تذکار گئے
کوئی کہدو وہ کہاں عرش کے گلزار گئے
کس نے گیتی میں دھواں دھار یہ بھڑکائی ہے
روحِ گیتی پہ بلند آگ کی شہنائی ہے
(135)
دورِ اسلام کے منظر وہ سہانے ہیں کہاں؟
نورِ مشکاۃِ الہیٰ کے ٹکانے ہیں کہاں؟
رحمتِ ربِ سماوا کے بہانے ہیں کہاں؟
قلبِ سرسبز میں عرفاں کے ترانے ہیں کہاں؟
آج سرسبز وہ اسلام کی تہذیب کہاں ؟
جھلملاتے وہ زمرد کے سراندیب کہاں ؟

(136)
ہائے دورِ اسلام کے منظر وہ سہانے ہیں کہاں؟
نورِ مشکاۃِ الہی کے ٹکانے ہیں کہاں؟
رحمتِ ربِ سموا کے بہانے ہیں کہاں؟
قلبِ سرسبز میں خاموش ترانے ہیں کہاں؟
آج سرسبز وہ اسلام کی تہذیب کہاں؟
جھلملاتے وہ زمرد کے سراندیب کہاں؟ََََََََََََََََََِِِِِِِ
(137)
تیری دنیا سے وہ عرفاں کی بہاریں بھی گئیں
باغِ باطن سے وہ کوئل کی پکاریں بھی گئیں
قلبِ انساں سے تحیل کی ستاریں بھی گئیں
سازِ ہستی سے تصور کی وہ تاریں بھی گئیں
آدمی عقل فسوں سوز کا پروانہ ہوا
باطن اس قلب غلط سوز کا ویرانہ ہوا
(138)
آج دنیا میں کوئی عشق کا پروانہ ہے
اور عرفاں کا زمانے میں نہ فرزانہ ہے
ہر طرف فکرِ زمیں گیر کا افسانہ ہے
ہر کوئی علمِ شکم خیز کا دیوانہ ہے
پیٹ پوچا کے تقاضے ہیں ہوسکاری ہے
بندہ اس دور میں بس حرص کا زناری ہے

(139)
زخم معدوم ہے اس دور میں مرہم جو نہیں
روز شادی بھی ہے معدوم شب غم جو نہیں
صبح رونق سے بھی محروم ہے شبنم جو نہیں
کیف عرفاں سے ہے محروم کہ بے کم جو نہیں
ہائے افکار کا اس دور میں مادی ہونا
فکر و آلام کی ہیئت کا رمادی ہونا
(140)
الحاد اس دور کا مذہب کو جنوں کہتا ہے
ہائے فریاد ہے کیا تجھ سے کہوں کہتا ہے
وہم باطل کے تحیل کا فسوں کہتا ہے
رنگ سالوسی ء اسرارِ زبوں کہتا ہے
چشم روحانی عدم کور کا بے نور جو ہے
حصن گلی میں یہ زندانیء مجبور جو ہے
(141)
آدم اس دور میں خود مست و شکم مست ہوا
عشق حقانیء بے غم میں نہ غم مست ہوا
ہائے زنجیری تن ! من میں نہ رم مست ہوا
زیرِ مستی کے ترنم میں نہ بم مست ہوا
کھو گیا دور قریں یاد ازم مستی میں
سو گیا دور مشیں زاد شزم مستی میں

(142)
آدمیت بھی گئی دورِ سقنقوری میں
نیک نیت بھی گئی قلب کی مغروری میں
وہ وصیت بھی گئی عشق سے مہجوری میں
اک اذیت ہے فقط ذہن کی تنوری میں
نہ رہا ذوقِ سخن ذوقِ مقالی بھی گیا
فکرِ عالی بھی گیا سوزِ بلالی بھی گیا
(143)
سر عرفانی و نے عارف حقانی ہے
دور مادی ہے جہاں عقل کا زندانی ہے
قیروانی ہے جہاں فکر کی طغیانی ہے
اور فقداں ہے دنیا میں تو روحانی ہے
جسد بے روح کا زمانے میں ہے چلنا مشکل
ایک پیہئے میں ہے گاڑی کا سنبھلنا مشکل
(144)
اس کو سمجھے تو کوئی صاحبِ عرفاں سمجھے
اس کو سمجھے تو کوئی صاحبِ ایماں سمجھے
اس کو سمجھے تو کوئی عارفِ قراں سمجھے
یا کوئی محرم اسرارِ جہاناں سمجھے
عقل معذور ہے اس مرد کی چالاکی میں
مکر و تذویر جہاں گرد کی چالاکی میں

(145)
دورِ حاضر کے مسلمان کی دونوں اندھی
غافلِ سنت و قران کی ہیں دونوں اندھی
غافل حکمت و عرفان کی ہیں دونوں اندھی
غافلِ رازِ نہاں کی ہیں دونوں اندھی
دین و دنیا کی دو آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
دہر و عقبی کی دو آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
(146)
دین و دنیا کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
دہر و عقبی کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
روح و مادہ کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
جسم و ارواح کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
دین و دنیا میں یہ مقہور ہوا پھرتا ہے
اپنے مولا سے بہت دور ہوا پھرتا ہے
(147)
دین و دنیا کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
دہر و عقبی کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
روح و مادہ کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
جسم و ارواح کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
نشہ ء فخر میں کیا مخمور ہوا پھرتا ہے
اپنے مولا سے بہت دور ہوا پھرتا ہے

(148)
بجھ گئے دورِ خرافات میں عرفاں کے چراغ
بجھ گئے دل کے مکافات میں چشموں کے ایاغ
کھو گئے عالم اموات میں ہستی کے سراغ
سو گئے دل کی خرافات میں گیتی کے دماغ
اک اندھیر ہے قیامت کا کہ بے خوابی ہے
تیرگی مرگِ خیالی ہے کہ اعصابی ہے
(149)
آج اس دور میں بلبل کے ترانے بھی عجب
چشم شاعر میں مناظر یہ سہانے بھی عجب
ساز دنیا میں پپیہے کے فسانے بھی عجب
اے فلم ساز یہ دکھ درد کے گانے بھی عجب
سینہء ارض سے اٹھتا ہے یہ کہرام سنیں
گوش باطن میں سسکتا ہوا پیغام سنیں
(150)
مارِ سیمابی ء مسحور ہیں بل کھاتے ہیں
نگہہ مفتوں میں لچکتے ہیں یہ لہراتے ہیں
پیچ کھاتے ہیں سمٹتے ہیں وہ تھراتے ہیں
دل کی مسحور نگاہوں کو وہ سہلاتے ہیں
سیمیا گر کی نگاہوں کی یہ نیرنگی ہے
چشم بندی کی طلسمات یہ افرنگی ہے

َ ََََََِِِِِ (151)
اے خدا بھیج وہ اس دور میں بندے اپنے
کاٹ دیں زورِ کرامات سے جو پھندے اپنے
کر سکیں پاک وہ برکات سے دھندے اپنے
پھیر دیں زورِ کرامات سے وہ مندے اپنے
توڑ اس فتنہء نابود کو غرقاب کریں
تیری دنیا کو ترے نام سے شاداب کرََََََِِِِیں َ َََََََِِِِِ ََََََِِِِِ
(152)
دورِ فریاد ہے فریاد کی جولانی ہے
قصہ اس دور کی فریاد کا طولانی ہے
شورسِ فکر میں طوفانِ پریشانی ہے
فانی دنیا کی یہ فریاد مگر فانی ہے
اپنے مولا سے تو فریاد کی اب رسم گئی
گوشہء مسجد و روداد کی اب رسم گئی
(153)
تپِ ہذیانی ءِ سرسام ہے بے چینی ہے
نسخہء عقل بھی ناکام ہے بے چینی ہے
تلخیء زہر سیاہ فام ہے بے چینی ہے
سامنے موت کا پیغام ہے بے چینی ہے
دورِ مادی کا یہ سرسام دماغی افسوس
قلبِ ناساز میں افکار یہ باغی افسوس

(154)
تپِ ہذیانی ءِ سرسام ہے بے چینی ہے
نسخہء عقل بھی ناکام ہے بے چینی ہے
تلخیء زہر سیاہ فام ہے بے چینی ہے
سامنے موت کا پیغام ہے بے چینی ہے
دورِ مادی کا یہ سرسام دماغی افسوس
فکرِ سوزاں میں یہ افکارِ دماغی افسوس
(155)
آج اس دور میں بلبل کے فسانے بھی عجب
چشمِ شاعر میں ہیں منظر یہ سہانے بھی عجب
سازِ امروز میں کوئل کے ترانے بھی عجب
اے فلم ساز یہ دکھ درد کے گانے بھی عجب
سینہء ارض سے اٹھتا ہے یہ کہرام سنیں
گوشِ باطن میں سسکتا ہوا پیغام سنیں
(156)
دورِ مادی میں یہ مادے کی جنوں خیزی میں
علمِ دجالی ء اعور کی فسوں خیزی میں
فکرِ سوزاں مشیں ہا کی فنوں خیزی میں
عقل پامال خرد سوز کی خوں ریزی میں
دور روشن ہے جہنم کی ضیا پاشی میں
فکر رقصاں ہے نئی نار کی فخاشی میں

(157)
دورِ مادی کے تصور کی جنوں خیزی میں
علمِ دجالی ء اعور کی فسوں خیزی میں
فکرِ سوزاں فسوں گرد کی فنوں خیزی میں
عقل پامال جہاں گرد کی خوں ریزی میں
دہر روشن ہے جہنم کی ضیا پاشی میں
فکر رقصاں ہے نئی طرز کی فخاشی میں
(158)
اے پرستار زمانے کے ذرا ہوش میں آ
ایک لمحے کے لئے ہستیء خاموش میں آ
چھوڑ دے رنگ محل قبر کے سرپوش میں آ
جاگ اس نیند سے اب موت کی آغوش میں آ
گورِ تیرہ میں وہ خارا کے سرہانے کو نہ بھول
روزِ محْشر کے المناک فسانے کو نہ بھول
(159)
تیرے اس دور کی قندیل ہوں جھوٹوں سے نہیں
سرِ اسرار کی ترتیل ہوں جھوٹوں سے نہیں
صفحہء حق کی تفصیل ہوں جھوٹوں سے نہیں
صادق القول ہوں جبریل ہوں جھوٹوں سے نہیں
میرے مولا ہو عطا حق کی توفیق ہمیں
اے خداوندا بنا سچ کے صنادیق ہمیں

(160)
چشمِ جبریل میں اب سہل و ادق روشن ہیں
نورِ تنزیل سے اب چودہ طبق روشن ہیں
افق تکوین کے روشن ہیں شفق روشن ہیں
رنج اس دور کے روشن ہیں قلق روشن ہیں
سرِ اسرار سے آحمد ﷺ جسے دو چار کریں
اک تجلی میں اسے محرمِِ اسرار کریں
(161)
بسکہ مجبور زمانے میں ہیں بندے تیرے
بسکہ معذور زمانے میں ہیں بندے تیرے
بسکہ منفور زمانے میں ہیں بندے تیرے
بسکہ مدحور زمانے میں ہیں بندے تیرے
بول اسلام کا اس دور میں بالا کر دے
نورِ قراں سے زمانے میں اجالا کر دے
(162)
واعظا پند ہے اس دور میں بیکار تری
کند ہے سینہء دجال پہ تلوار تری
دستِ بے کار میں ہے تیغ گراں بار تری
وائے افسوس عبث آج ہے پیکار تری
نشہء جادوئے افرنگ میں سرشار ہوئی
تو بھی نادار تری قوم بھی نادار ہوئی

(163)
واعظا ! پند ہے اس عصر میں بیکار تری
کند اس دور کے سینے پہ ہے تلوار تری
ناتواں ہاتھوں میں ہے شمشیرِ گراں بار تری
عبرت اس دورِ جنوں سرد میں پیکار تری
نشہء جادوئے دجال میں سرشار ہوئی
تو بھی نادار تری قوم بھی نادار ہوئی
(164)
دورِ ازکار یہ منبر پہ تری باتیں ہیں
دن بھی خاموش ہیں خاموش تیری راتیں ہیں
وادی ءِ رزق میں محدود تیری گھاتیں ہیں
تیری دنیا میں فقط فرقے فقط ذاتیں ہیں
تو نے دیکھا ہی نہیں دور کا دجال ابھی
تو نے آنکھوں سے اٹھایا ہی نہیں جال ابھی
(165)
دیکھ دجال کے اطوار کو پیشانی میں
دیکھ اس مردکِ مولا کو جہاں بانی میں
دیکھ عیاری و چالاکی و نادانی میں
دیکھ مردود کو حکمت سے فراوانی میں
تو نے سالوس کی سمجھی ہی نہیں چال ابھی
تو نے آنکھوں سے اٹھایا ہی نہیں جال ابھی

(166)
دیکھ دنیا میں بڑائی ہے تو دجال کی ہے
دیکھ دنیا میں برائی ہے تو دجال کی ہے
دیکھ دنیا میں خدائی ہے تو دجال کی ہے
دیکھ دنیا میں دہائی ہے تو دجال کی ہے
دندناتا ہوا دراتا ہوا پھرتا ہے
اور واعظ ہے کہ کتراتا ہوا پھرتا ہے
(167)
چشمِ شیطاں سے وہ یزداں کا نظارہ جو کریں
عکسِ ایماں کو وہ تحقیق سے خارا جو کریں
روحِ ایماں کو وہ ایمان سے پارہ جو کریں
قلبِ انسان کو وہ تعلیم سے تاراج کریں
یہی بدبخت ہیں دجال کے مارے ہیں یہی
مہہ تاریک ہیں بے نور ستارے ہیں یہی
(168)
علمِ خاشاک کی دنیا میں فراوانی ہے
جادہء حرص پہ اس دور کی جولانی ہے
بندہء عصرِ رواں طالبِ شادانی ہے
فکرِ آزاد ہے افکار کی ارزانی ہے
نشہء علم میں مخمور ہوئے پھرتے ہیں
بادہ ءِ عشق سے منفور ہوئے پھرتے ہیں

(169)
دورِ تیرہ میں کہیں رسمِ صفا بھی نہ رہی
فقر و درویشی و عرفان کی غنا بھی نہ رہی
راہِ الفت نہ رہی رسمِ وفا بھی نہ رہی
دردِ انساں کی زمانے میں دوا بھی نہ رہی
آدمی مادہ پرستار ہوئے پھرتے ہیں
تپِ دوراں میں وہ بیزار ہوئے پھرتے ہیں
(170)
آج دنیا نے جو دولت کو خدا مان لیا
اپنے ہر عقدہء مشکل کا کشا مان لیا
یعنی ہر درد کا درمان و دوا مان لیا
اے تعزُ و تزلُ من تشاء مان لیا
دیکھ دجال کی دنیا میں کراماتیں دیکھ
مذہب دورِ مشیں گر میں دو ذاتیں دیکھ
(171)
گرچہ ہر دور میں آدم کی یہ محبوب رہی
گرچہ ہر دور میں آدم کی یہ مطلوب رہی
گرچہ ہر دور میں آدم کو یہ مرغوب رہی
پر یہ در پردہ دلِ انس میں معتوب رہی
مل گیا آج پہ دولت کو خدائی کا مقام
دست دولت میں رہی آج خدائی کی زمام

(172)
دیویئے ! تیری خدائی کا جو پرچار ہوا
ہر کوئی تیری پرستش کا طلبگار ہوا
دہردوں تیری خدائی کا پرستار ہوا
اور بھگوان کی ہستی کا تو انکار ہوا
لکشمی دیویئے ! دنیا میں خدائی تیری
جے ہو جے دیویئے ! آج بڑائی تیری
(173)
دیکھ دوزخ کے شراروں میں جہاں رقصاں ہے
کیسے انداز میں کیا قلب تپاں رقصاں ہے
خورد رقصاں ہے زمانے کا کلاں رقصاں ہے
شور دوزخ کی شعاعوں میں رواں رقصاں ہے
رقصِ تہذیب جنوں خیز کی خوں نوشی میں
مضطرب دانت لپکتے ہوئے مدہوشی میں
(174)
دورِ حاضر کی ترقی پہ زمیں روتی ہے
آدمیت بھی کہیں چیں بہ جبیں روتی ہے
قلبِ خونبار کے پردے میں حزیں روتی ہے
سن کہیں دور کہیں دور کہیں روتی ہے
تو بھی سنتا ہے یہ کہرامِ جگر دوز کہیں؟
ارضِ بیمار کا افسانہء دل سوز کہیں؟

(175)
دیکھ دوزخ کے انگاروں میں جہاں رقصاں ہے
کیسے انداز میں کیا نوحہ کناں رقصاں ہے
خورد رقصاں ہے زمانے کا کلاں رقصاں ہے
شور دوزخ کی نداؤں میں نوحہ کناں رقصاں ہے
رقصِ تہذیب جنوں خیز کی خوں جوشی میں
مضطرب دانت لپکتے ہوئے مدہوشی میں
(176)
تو نہ سمجھے گا اگر عشق کا نخچیر نہیں
نور عرفاں سے تیرے قلب میں تنویر نہیں
اصلِ انساں کی تیری آنکھ میں تصویر نہیں
دارِ عقبیٰ کی تیرے دل میں جو توقیر نہیں
یہ سعادت ہے کہ منت کش تقدیر ہے یہ
لطفِ ربی ہے فقط کسب نہ تدبیر ہے یہ
(177)
جھوٹ ہی جھوٹ کا پرچار نئے دور میں ہے
جھوٹ کابل میں ہے فاراب میں ہے غور میں ہے
جھوٹ لندن میں ہے برلن میں کلانور میں ہے
جھوٹ دلی میں بخارا میں ہے بجنور میں ہے
جھوٹی دنیا کی نگاہوں میں قبا جھوٹ کی ہے
جھوٹے اس دور کی آہوں میں ہوا جھوٹ کی ہے

(178)
علم و دانش کی زمانے میں فراوانی ہے
دانش اس دور میں دانش نہیں نادانی ہے
آدمی عقل غلط کار کا زندانی ہے
عقلِ دوار ہے دنیا ہے شکم بانی ہے
چند اوراقِ پریشاں میں پریشاں ہونا
بسکہ آساں ہے نئے دور میں انساں ہونا
(179)
دورِ حاضر کی ترقی پہ زمیں روتی ہے
آدمیت بھی کہیں چین بہ جبیں روتی ہے
قلبِ خونباب کے پردوں میں حزیں روتی ہے
سن کہیں دور کہیں دور کہیں روتی ہے
تو بھی سنتا ہے یہ کہرامِ جگر دوز کہیں؟
آہِ دلسوز و جگر دوز و جہاں سوز کہیں؟
(180)
علم و دانش کی زمانے میں فراوانی ہے
دانش اس دور میں دانش نہیں نادانی ہے
فکرِ ناقص میں جہنم کی شکم بانی ہے
عقل دوار ہے دنیا ہے شکم بانی ہے
چند اوراقِ پریشاں میں پریشاں ہونا
بسکہ آساں ہے نئے دور میں انساں ہونا

(181)
موت توڑے گی نئے دور کی مستی کے ایاغ
موت توڑے گی نئی مادہ پرستی کے ایاغ
موت توڑے گی نئے دور کی ہستی کے ایاغ
موت توڑے گی نئے دور کی بستی کے ایاغ
موت اترے گی بغاوت پہ تو دہر اٹھے گا
دورِ الحاد کی تباہی پہ یہ قہر اٹھے گا
(182)
بجھ گئے دل کے اندھیرے میں یہ دنیا کے دماغ
گل ہوئے دل کے اندھیرے میں یہ بجلی کے چراغ
دب گئے خاک میں اس دور کی مستی کے ایاغ
کھو گئے دیدہء باطن میں حقیقت کے سراغ
آخر اس دور فسوں ساز نے دم توڑ دیا
دستِ قدرت نے یہ افسونِ عدم توڑ دیا
(183)
دورِ گل خوار کی قسمت میں پشیمانی ہے
بے قراری ہے تفکر ہے پریشانی ہے
مختصر دور کی روداد پہ طولانی ہے
پردہء عقل فسوں کار ہے نادانی ہے
روح لاغر جو تن و نوش میں مصلوب ہوئی
عقل اس دانشِ مدہوش میں مغلوب ہوئی

(184)
عشق و ایماں کی زمانے میں نہ سرشاری ہے
لطفِ یزداں کی زمانے میں نہ گلکاری ہے
ہر کوئی عقلِ شکم کیش کا زناری ہے
دورِ شاطر میں ہوسکار کی عیاری ہے
بے عناں ہو کے رواں ہو کے کماں ہوتے ہیں
فکرِ دنیا میں عیاں ہو کے نہاں ہوتے ہیں
(185)
دورِ اسلام کی شادانی و فرحانی ہے
ذوقِ انجام کی تنویر خدا دانی ہے
یادِ ایام کی خاموش سماں خوانی ہے
عمرِ دوام کے رہوار کی جولانی ہے
منظرِ طور ہے نے جلوہ یزدانی ہے
مرگ دوام کی ظلمت ہے پشیمانی ہے
(186)
منظرِ طور ہے نے جلوہء یزدانی ہے
قلبِ مستور ہے نے قلبہء نورانی ہے
جانِ مسرور ہے نے جذبہء شادانی ہے
سوزِ پر نور ہے نے غلبہء روحانی ہے
رنج ہے فکر و پریشانی و مظلومی ہے
سوزشِ فکر میں اب غم سے بھی محرومی ہے

(187)
دین و دنیا کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
دہر و عقبی کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
روح و مادہ کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
جسم و ارواح کی آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
فیلِ عالم کا یہ شبکور مہاوت وائے
دورِ ظالم میں یہ اندھے کی شقاوت وائے
(188)
اپنے معبود کی محبوبی و سرشاری میں
اے وفادار تیرے حسنِ وفاداری میں
تیرے اس حُسنِ فسوں ساز کی دلداری میں
تیرے اس حُسن کی ہر غفلت و بیداری میں
میں نے پایا ہے وہ محبوب جسے کھو نہ سکوں
اور کھو دوں تو دمِ ہجر اسے رو نہ سکوں
(189)
میں نے پایا ہے وہ محبوب جسے کھو نہ سکوں
جس کی الفت میں شب و روز کبھی سو نہ سکوں
شکوہء ہجر میں مغموم کبھی ہو نہ سکوں
اشکِ خوں بار سے اب داغِِِ جگر دھو نہ سکوں
میرے آنسو جو تیری آنکھ میں بھر آئیں گے
تیرے نالے ہیں جو اس دل میں اتر آئیں گے

(190)
اے مگر تجھ کو میرے دوست بھلا بھی نہ سکوں
اشکِ خونبار سے عالم کو رلا بھی نہ سکوں
آتشِ درد و الم دل میں سلا بھی نہ سکوں
طورِ باطن میں دئیے غم کے جلا بھی نہ سکوں
اے ہمہ اوست ہمہ اوست ہمہ اوست کَرَم

اے میرے دوست میرے دوست میرے دوست کرم
(191)
لعلِ گوں اشکِ شعاع تاب کی عکاسی میں
ذوفنوں عکسِ جگر آب کی عکاسی میں
گرم خوں لعلِ مئے ناب کی عکاسی میں
قیرگوں ظلمتِ بے خواب کی عکاسی میں
کھو گئی شاعرِ مظلوم کی تنہائی بھی
چھن گئی لذتِ موہوم کی نارائی بھی
(192)
چھن گئی دل کی خوشی رنجِ مکافات میں کیوں
گِھر گئی دل کی خوشی فکرِ سوالات میں کیوں
اٹھ گئی دل کی خوشی امرِِِ محالات میں کیوں
بجھ گئی دل کی خوشی شورِ مقالات میں کیوں
بارقہء حسنِ تبسم کی ریا کاری میں
فکر رقصاں ہے نئے حُسن کی ناداری میں

(193)
تیرہ قلبی میں غم و رنج کی ارزانی ہے
حرصِ دنیا میں غمِ گنج کی ارزانی ہے
دردِ بے سوزِ جگر سنج کی ارزانی ہے
فرق افکار پہ بس گنج کی ارزانی ہے
فکر و افکار تڑپتے ہیں جو بیتابی میں
قلبِ رقصاں ہے یہ بے تار کی مِضرابی میں
(194)
غم بھی اس دور میں ہم غم سے غَلَط کر نہ سکیں
مرنا چاہیں تو بھی افکار میں ہم مر نہ سکیں
کھول اس قلبہء پُردود کا ہم در نہ سکیں
جام ایک زہرِ ہلال کا بھی ہم بھر نہ سکیں
دل کی وادی کا جو گھیرا ہے تو افکار میں ہے
رنج و شادی کا بسیرا ہے تو افکار میں ہے
(195)
گنبدِ دور یہ پُر خاک جو غربال ہوا
دہر اس دور کی گردش میں تباہ حال ہوا
دور اس دورِ غبارات میں پامال ہوا
دہر پُر دود و جہاں خاک کا جنجال ہوا
دورِ نادارِ تباہ حال ہوس زاد میں کیوں
ہیں زیاں کار و زبوں کاوشِ برباد میں کیوں

(196)
ہمتیں پست ہیں اس دور کے انسانوں کی
خاکبیں آنکھ ہے اس دور کے فرزانوں کی
شمع بے نور ہے اس دور کے پروانوں کی
خاک ہے حدِ قریں اس دور کے پیمانوں کی
اوجِ ہمت ہے نئے دور کی افلاک تلک
گو نکلتی ہے نگاہ خاک سے خاشاک تلک
(197)
غمِ الفت کا زمانے میں نشاں باقی ہے
نہ وہ صحرا میں کہیں دل کی فغاں باقی ہے
قلبِ سوزاں میں کہیں سوزِ نہاں باقی ہے
سوزِ ارماں نہ کہیں نہ قلبِ طپاں باقی ہے
ایک کہرام سا ہے قلب میں افکاروں کا
مشغلہ خوب ہے اس دور کے بیکاروں کا
(198)
دورِ الحاد نے جو دانش سے جنوں بیچا ہے
عیش و عشرت کا حقیقت میں فسوں بیچا ہے
سودِ افکار میں باطن کا سکوں بیچا ہے
فکرِ بے سوز میں خورشیدِ دروں بیچا ہے
دورہء عقلِ فسوں ساز کی دوں کاری میں
دور مبہوت ہے دانش کی جنوں کاری میں

(199)
سرگرانی ہے زبوں حالی و دوں کاری ہے
ظلم ہے جور ہے بیداد و جفا کاری ہے
جب سے اس نگہہء خدا دوست میں سرشاری ہے
مجھ کو اس دورِ کمیں کار سے بیزاری ہے
ڈھونڈ پایا ہے جو محبوبِ وفادار آخر
مل گیا مجھ کو محبت کا خریدار آخر
(200)
ہائے اس دورِ عجب کار سے پالا پڑنا
نطقِ دانش کے لبِ زار پہ تالا پڑنا
جیدِ الحاد میں افکار کی مالا پڑنا
چشمِ ابلیس میں انوار کا ہالہ پڑنا
ترس آتا ہے جو جبریل کی مظلومی پہ
وائے اس دورِ فسوں خوار کی محرومی پہ
(201)
کچھ بھی اب سوزِ غمِ دل کے سوا یاد نہیں
درد بھولا ہے کچھ ایسا کہ دوا یاد نہیں
گلہء جور ہے ایسا کہ جفا یاد نہیں
جوہرِ عشق سے اب دل بھی تو آباد نہیں
کھو گئے جور میں ایسے کہ جفا بھولی ہے
یارِ گرداں نے جو گردانِ وفا بھولی ہے

(202)
حرمتِ خونِ شہیداں کی قسم کھاتا ہوں
دردِ ملت میں دلِ زار کا غم کھاتا ہوں
پیچ کھاتا ہوں غمِ دور میں خم کھاتا ہوں
تیرِ آلام و دمِ تیغِ ستم کھاتا ہوں
شاید ایک اشک سے سنسار کو بے نار کروں
بن کے قندیل تیری رات میں انوار کروں
(203)
ہوں غضبناک تیرے دورِ سیاہ کار پہ ہوں
اور حیراں ہوں رواں جادہء پر خار پہ ہوں
اور ہر گام رواں حشر کی تلوار پہ ہوں
اور ہر سانس میں لرزاں ہوں دم نار پہ ہوں
شاید اک آہ سے سنسار کو پُر نار کروں
دودِ پُر نار دمِ عشق سے انوار کروں
(204)
ہوں غضبناک تیرے دورِ سیاہ کار پہ ہوں
اور حیراں ہوں رواں جادہء پُرخار پہ ہوں
اور ہر گام رواں حشر کی تلوار پہ ہوں
اور ہر سانس میں لرزاں ہوں دمِ نار پہ ہوں
شاید اک آہ سے سنسار کو پُر نار کروں
نارِ بے نور کو اس آگ میں انوار کروں

(205)
حرمتِ خونِ شہیداں کی قسم کھاتا ہوں
عسرتِ چاکِ گریباں کی قسم کھاتا ہوں
تربتِ گورِ غریباں کی قسم کھاتا ہوں
ظلمتِ تیرہ نصیباں کی قسم کھاتا ہوں
آدمیت کی رگِ جاں پہ چھری دور کی ہے
نوحہ خواں روحِ قیامت ہے نئے طور کی ہے
(206)
آدمیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم تو ہو
دل بھی انساں کا غم و درد سے مغموم تو ہو
رسمِ شادی بھی دلِ دہر سے معدوم تو ہو
اور انداز بھی افلاک کو معلوم تو ہو
شورِ جانکاہِ جگر دوز کا کہرام تو ہو
آخرِ انساں کے لئے یاد یہ انجام تو ہو
(207)
آدمیت کا جنازہ ہے پہ کچھ دھوم نہیں
آدم اس مرگِ المناک پہ مغموم نہیں
چشمِ انساں میں کہیں درد یہ منظوم نہیں
شائید آدم کو رہِ مرگ یہ معلوم نہیں
سینہ اس مرگِ المناک پہ ہم پیٹیں گے
تادمِ زیست ندامت میں یہ غم پیٹیں گے

(208)
آدمیت کا جنازہ ہے نہ حیوانوں کا
اے غلط سیر جنازہ ہے یہ انسانوں کا
خود فراموش و نئی نار کے پروانوں کا
دورِ حاضر کے تخیل کے ہوا دانوں کا
اپنی میت کی خود انساں کو خبر تک نہ ہوئی
شام اس غفلتِ آدم کی سحر تک نہ ہوئی
(209)
پاسبانوں کے رخِ زرد کے رو غآزوں میں
کارخانوں کی طربناک سی آوازوں میں
ان دخانوں کے محلات کے دروازوں میں
خاکدانوں کی تگ و تاز کی پروازوں میں
آدمیت کا جنازہ ہے چلا جاتا ہے
چرخِ نیلی بھی تعجب ہے کہ غم کھاتا ہے
(210)
پاسبانوں کے رخِ زرد کے رو غآزوں میں
کارخانوں کی المناک سی آوازوں میں
دیدبانوں کے محلات کے دروازوں میں
خاکدانوں کی تگ و تاز کی پروازوں میں
آدمیت کا جنازہ ہے چلا جاتا ہے
چرخِ نیلی بھی تعجب ہے کہ غم کھاتا ہے

(211)
آدمیت کی رگِ جاں پہ یہ نشتر کیسے
آدمیت کے کلیجے میں یہ خنجر کیسے
رسمِ تہذیب کی آنکھوں میں یہ اخگر کیسے
نگہءِ ترغیب کے شعلوں میں یہ اژدر کیسے
بھونک ڈالے ہیں کلیجوں میں یہ خنجر کس نے
پھونک ڈالے ہیں یہ تہذیب کے پیکر کس نے
(212)
آدمیت کی رگِ جاں پہ یہ نشتر کیسے
آدمیت کے کلیجے میں یہ خنجر کیسے
آدمیت کی نگاہوں میں یہ اخگر کیسے
آدمیت کی فغانوں میں یہ اژدر کیسے
بھونک ڈالے ہیں کلیجوں میں یہ خنجر کس نے
پھونک ڈالے ہیں یہ تہذیب کے پیکر کس نے
(213)
آدمیت کے جنازے پہ وہ روتے بھی نہیں
ہار اشکوں کے وہ اس غم میں پروتے بھی نہیں
دامن اشکوں سے غم و درد میں دھوتے بھی نہیں
ہائے مغموم وہ اس مرگ پہ ہوتے بھی نہیں
فکر ان کو ہے تو اس بات کی اب دفن کریں
خاکِ مدفن سے کہیں طوقِ گلو رف نہ کریں

(214)
ہے یہاں صوتِ جگر چاک نہ مولائی کی
بانسری کی ہے آواز نہ شہنائی کی
نالہ عاشق کا نہ فریاد ہے شیدائی کی
آہِ عارف نہ نوا عُرف کے سودائی کی
قہقہے ارض و فلک پاش ہیں صفیریں ہیں
حمدِ ربی کے ترانے ہیں نہ تکبیریں ہیں
(215)
آدمیت کو وہ سمجھے ہیں کہ زنجیریں ہیں
عہدِ ماضی کے یہ انسان کی تقصیریں ہیں
خوابِ زندانی ءِ اوہام کی تعبیریں ہیں
چالِ سالوسی ءِ رہبری کی یہ تدبیریں ہیں
جادہء علم و ترقی میں یہ دیوار بھی ہیں
اور آفاق پہ انساں کی شبِ تار بھی ہیں
(216)
آدمیت کو وہ سمجھے ہیں کہ زنجیریں ہیں
عہدِ ماضی کے تخیل کی تقصیریں ہیں
خوابِ زندانی ءِِ اوہام کی تعبیریں ہیں
چالِ سالوسی ءِ رہبری کی یہ تدبیریں ہیں
جادہء علم و ترقی میں یہ دیوار بھی ہیں
اور افلاکِ ترقی پہ شبِ تار بھی ہیں

(217)
آدمیت کو وہ تقصیر سمجھ بیٹھے ہیں
پائے انساں میں وہ زنجیر سمجھ بیٹھے ہیں
حسنِ کردار میں وہ تذویر سمجھ بیٹھے ہیں
فکرِ دوں کار کی تفسیر سمجھ بیٹھے ہیں
فکرِ کردار کو اس دور میں کیا سمجھے ہیں
وہم و اوہام کی زنجیرِ بلا سمجھے ہیں
(218)
آدمیت کو وہ تقسیر سمجھ بیٹھے ہیں
پائے انساں میں وہ زنجیر سمجھ بیٹھے ہیں
حسنِ ماضی کی وہ تذویر سمجھ بیٹھے ہیں
فکرِ باطل کی وہ تفسیر سمجھ بیٹھے ہیں
آدمیت کو وہ تذویر سمجھ بیٹھے ہیں
وہم باطل کی وہ تفسیر سمجھ بیٹھے ہیں
(219)
باد شبدیز ! رسل برٹ کو پرنام کہو
جا کے اُس مردِ خود آگاہ سے اسلام کہو
ضوئے آغآز میں اس دور کا انجام کہو
پھر فلک تھام کے جبریل کا پیغام کہو
وہ جو زقوم سے خاروں کی رہائی چاہیں
دورِ الحاد میں وہ ناروں سے رہائی چاہیں

(220)
ہم نے مانا کہ قیامت کا یقیں مشکل ہے
سجدہء مرگ و اقامت کا یقیں مشکل ہے
ظلمتِ قبر میں شامت کا یقیں مشکل ہے
بکھری ہڈیوں میں سلامت کا یقیں مشکل ہے
منکر ! انکارِ قیامت میں ندامت ہو گی
ہو گیا حشر جو برپا تو قیامت ہو گی
(221)
مشرقی آج جو دنیا سے رواں ہوتے ہیں
قبر خاموش کے گوشے میں نہاں ہوتے ہیں
اے نہاں قبر کے گوشے میں کہاں ہوتے ہیں
سوئے فردوسِ جِناں کیش رواں ہوتے ہیں
جب کوئی روحِ جواں کار وداع ہوتی ہے
ارض و آفاق میں ماتم کی شعاع ہوتی ہے
(222)
دستِ تقدیر نے کیا تیرِ الم چھوڑے ہیں
دورِ تذویر نے کیا تیرِ ستم چھوڑے ہیں
مردِ تدبیر نے کیا تیرِ اٹم چھوڑے ہیں
نارِ تنویر نے کیا ہم پہ ستم توڑے ہیں
سایہء یاس ہے کیا فکر کی جولانی میں
فرق اب کر نہ سکیں غم میں نہ شادانی میں

(223)
کارواں سیلِ خرافاتی و منزل خالی
دوستاں ترکِ موالاتی و محفل خالی
قیس بے ننگ خراباتی و محمل خالی
مشکل اے مشکل و بس مشکل و مشکل حالی
قلب برباد و غم و فکر کی جولانی ہے
قوم ویران تباہ حال ہے ویرانی ہے
(224)
روح بے سوز بھی ہے قلب کفن پوش بھی ہے
فکرِ فردا کے فسانے میں غمِ دوش بھی ہے
دردِ میخانہء افرنگ و مئے ہوش بھی ہے
غمِِِِ دوراں میں مری قوم یہ مدہوش بھی ہے
فکر مرنے کی تو جینے کا ہمیں ہوش نہیں
ڈوبتے اپنے سفینے کا ہمیں ہوش نہیں
(225)
رومیؒ و سعدیؒ و قآنیؒ و عطارؒ بمرد
ہر کہ غم خوارِ جہاں بود ہماں یار بمرد
اندریں دورِ غلط بیں جفا کار بمرد
ہائے ہیہات کہ بے یار و مددگار بمرد
غرقہء حَوضَک بنزینِ جہاں سوز شدند
آہے دلدوز کشیدند و پریروز شدند

(226)
تیری دنیا سے وہ عرفاں کی بہاریں بھی گئیں
باغِ باطن سے وہ کوئل کی پکاریں بھی گئیں
سازِ ہستی سے تخیل کی وہ تاریں بھی گئیں
دل کی بستی سے تخیل کی ستاریں بھی گئیں
باطن اس دردِ غلط سوز کا ویرانہ ہوا
آدمی شمع ءِ فسوں ساز کا پروانہ ہوا
(227)
دور سالوسی ءِ تذویر کا پیچاک ہوا
وائے مجبوری ءِ مسلم پہ جگر چاک ہوا
مردِ مجبور جہاں بستہء فتراک ہوا
قصہ ہیہات کہ اس قوم کا غمناک ہوا
گِھر گئے ظلمتِ طوفانِ جہاں گرد میں ہم
کھوگئے راہِ عرب دورک بے درد میں ہم
(228)
کس کو معلوم ہے دنیا میں کہ مغموم ہیں ہم
نگہۂ دنیا میں تو ممکن ہے کہ معدوم ہیں ہم
اجڑے گلشن کی سیاہ رات میں دوں بوم ہیں ہم
ایک ہم ہیں کہ نئے دور میں مظلوم ہیں ہم
دیں میں ناکام ہیں دنیا میں بھی ناکام ہیں ہم
ارضِ مغموم پہ مغموم سی ایک شام ہیں ہم

(229)
کس کو معلوم ہے دنیا میں کہ مغموم ہیں ہم
نگہہء دنیا میں تو ممکن ہے کہ معدوم ہیں ہم
اجڑے گلشن کی سیاہ رات میں دوں بوم ہیں ہم
ایک ہم ہیں کہ نئے دور میں مظلوم ہیں ہم
دیں میں ناکام ہیں دنیا میں ناکام پھریں
ساری دنیا کے چراغاں میں تہی جام پھریں
(230)
مسجد و منبر و محراب کے انوار گئے
سعدیؒ و رومیؒ و خاقانیؒ و عطارؒ گئے
نورِ عرفاں کی تجلی کے طلب گار گئے
تھی وہ مولا کی جنہیں حسرتِ دیدار گئے
اب ستوں مسجدِ ویراں کا کھڑا روتا ہے
اور قراں کا عَلمَ دار پڑا سوتا ہے
(231)
دورِ اسلام کی سرسبز جو رنگینی تھی
خانوادوں میں مہہ و مہر کی گل چینی تھی
حسنِ ایماں کی تجلی میں خدا بینی تھی
نورِ قراں کی دلِ درد میں رنگینی تھی
میں کبھی ایسی فضاؤں میں جو کھو جاتا ہوں
لے کے حسرت کو دلِ زار میں سو جاتا ہوں

(232)
ہیچ ہے نگہہءِ خدا دوست میں دنیا تیری
زشت ہے نگہہء وفا دوست میں لیلی تیری
بسکہ بے فیض ہے بے سوز یہ مالا تیری
دیدہء کور ہے افسوس یہ شہلا تیری
تیری تقدیر پہ افسوس ہے ویرانوں کو
اے سیاہ بخت یہ روتے ہوئے ارمانوں کو
(233)
مردِ مومن کی نگاہوں میں جہاں ہیچ ہیں سب
کون و دو کون و مکاں ہیچ زماں ہیچ ہیں سب
تخت خاقانی و دیہیم کیاں ہیچ ہیں سب
سونی دنیا کے یہ دلچسپ سماں ہیچ ہیں سب
رخِ مولائے محمد ﷺکا وہ دیوانہ ہے
اپنے مولا کی تجلی کا وہ پروانہ ہے
(234)
گنجِ لافانی ءِ اسرار کی تابانی میں
بختِ روحانی ءِ بیدار کی تابانی میں
سوزِ نورانی ءِ انوار کی تابانی میں
قلبِ انسانی ءِ خونبار کی تابانی میں
دن چمکتا ہے شبِ تار میں رہنے والو
رنج ظلمت کے دلِ زار میں سہنے والو

(235)
کھو گیا تن میں تُو افسوس کہ من بھول گیا
آ کے پردیس میں تو اپنا وطن بھول گیا
فانی دنیا میں وہ تو اپنا چمن بھول گیا
اپنے اس دیس کے سب سر و سخن بھول گیا
اپنے اس باغ میں تو اپنا نشیمن بھولا
اپنی بستی میں جو تھا اپنا وہ گلشن بھولا
(236)
پی کے حقے کا دھواں قلب کی تسکیں جو کریں
کھا کے انجن کا دخاں درد کو رنگیں جو کریں
ذکرِ ایماں پہ جبیں ترش وہ پرچیں جو کریں
کالے الحاد سے سیاہ قلبہء حق بیں جو کریں
وہ زمانے میں دخاں آج مبیں دیکھ سکیں
ہائے افسوس دھواں آج کہیں دیکھ سکیں
(237)
زہرِ الحاد نے تیری روح کا قتلام کیا
دودِ الحاد نے تیرے دل کو سیاہ فام کیا
عقلِ الحاد نے تیرا مغز و جگر خام کیا
اے عجب الحادِ عاقل نے عجب کام کیا
پُر کیا زہر سے کیا روح کا ساغر تو نے
کر دیا بھوک سے کیا روح کو لاغر تو نے

(238)
بزِ بے کس کا زمانے میں جو قتلام ہوا
فتوی الحاد کا ادھر موت کا پیغام ہوا
دورِ سرسام کو الحاد کا جو سرسام ہوا
دیکھ بے کس کا المناک یہ انجام ہوا
لا کے کیا چیز وہ افرنگ سے اب پالیں گے
مدعا حضرتِ الحاد کا وہ اپنا لیں گے
(239)
کیسے انداز میں جکڑا ہے جہاں الحاد نے
کیسا بدلا ہے یہ اندازِ بتاں الحاد نے
کیسا بدلا ہے یہ مقصودِ عیاں الحاد نے
دے دیا سود کو اندازِ زیاں الحاد نے
نظمِ الحاد نے زمانے کو جو مجبور کیا
دور اس دور کو ایماں سے بہت دور کیا
(240)
دل کا ارمان بھی گیا قلب کی تسکیں بھی گئی
خوفِ یزداں بھی گیا حرمتِ مسکیں بھی گئی
نورِ عرفاں بھی گیا نگہہ خدا بیں بھی گئی
دردِ سوزاں بھی گیا فطرتِ رنگیں بھی گئی
فکر ہے فکر و پریشانی و ناداری ہے
شور مارانِ غضب مست ہے گِل خواری ہے

(241)
دور مجبور ہے چوری پہ ہوس کاری پہ
دور مجبور ہے سفاکی و ناداری پہ
دور مجبور ہے دوں کاری و غداری پہ
اور مجبور ہے چالاکی و عیاری پہ
کھچے جاتے ہیں جو اس دور کے بندھن بھائی
لوگ ہوتے ہیں جو اس آگ کا ایندھن بھائی
(242)
وعظ و تقریر ہے اس دور میں بے سود تیری
جہد و تدبیر ہے اس دور میں بے سود تیری
فکرِ تعمیر ہے اس دور میں بے سود تیری
سوز و تاثیر ہے اس دور میں بے سود تیری
شمع ایماں کی یہ افسوس بجھی جاتی ہے
زیر تذویرِ زمیں بوس بجھی جاتی ہے
(243)
دہر اس دور میں اک آگ کا تنور ہوا
دہر اس مادہ پرستی میں جو بے نور ہوا
دہر اس خاک فشاں دور میں مستور ہوا
نورِ عرفاں کی تجلی سے جو منفور ہوا
گم ہیں آفاق جو اس پیٹ کی تنوری میں
یعنی اس نگہہ شکم خیز کی مستوری میں

(244)
دور کی مادی ترقی سے ہے انکار کسے
اے اصاویلِ حقیقی سے ہے پیکار کسے
آشکار ایسی حقیقت پہ ہے تکرار کسے
اور تکذیبِ حقیقت پہ ہے اصرار کسے
اے مگر حشر کا اس دور میں سامان ہے کیا
داور اس دورِ زمین گرد کا ہامان ہے کیا
(245)
دورِ الحاد میں ترقی کی وبا عام تو ہے
حرصِ بے پیر دو صد فتنہ بہ انجام تو ہے
مرگِ دل خضر جواں مرگ کا پیغام تو ہے
عاقبت دودِ خرد سوزِ سیاہ فام تو ہے
دور تعمیر کی تعمیر پہ اترانے والو
وائے بدبختی ء تقدیر پہ اترانے والو
(246)
َََََََََََََََََََِِِِِِِفکر آزاد میں آزاد جو بے راہی ہے
عقلِ الحادِ مشین زاد جو دوں خواہی ہے
شورِ فریاد جہاں یاد ہے کوتاہی ہے
قلب برباد ہے بیداد جگر کاہی ہے
دورِ آزاد میں کِشتی تیری آزاد پھرے
بحرِ برباد میں بے لنگر و برباد پھرے

(247)
اے مشینوں کی طنینوں پہ جو اتراتے ہو
ان حسینوں کی جبینوں پہ جو اتراتے ہو
ان سفینوں کے مکینوں پہ جو اتراتے ہو
ان دفینوں کے نگینوں پہ جو اتراتے ہو
اٹھتے طوفانِ جہاں سوز کی کچھ سار بھی ہے؟
آدمی تم میں کوئی صاحبِ اسرار بھی ہے ؟
(248)
بے حیائی ہے زمانے میں وہ بے شرمی ہے
بے ایمانی ہے زمانے میں وہ بے دھرمی ہے
رنگِ انساں میں بہیمت کی وہ سرگرمی ہے
آدمیت میں وہ شیاد کی دل نرمی ہے
دیکھ کہ جس کو سموات میں نوری بندے
چاہیں اس ارضکِ دوں ذات سے دوری بندے
(249)
خاک نوشی ہے نیا دور ہے گِل خواری ہے
خاک خود خاک کی اس دور میں زناری ہے
نشۂ خاک میں خاشاک کی سرشاری ہے
وائے دوں کار زمانے کی یہ دوں کاری ہے
خاک چاٹیں گے تو کیا سانپ نہ ہونگے بندے
چشمِ اخفش میں نہ کیا نور کے ہوں گے پھندے

(250)
بطنِ راشی کی نداؤں میں یہ پھنکار ہے کیا
قلبِ راشی کی خلاؤں میں یہ پیکار ہے کیا
جوفِ راشی کی فضاؤں میں یہ للکار ہے کیا
خوفِ راشی کی بلاؤں میں یہ سنسار ہے کیا
اژدھوں کی ہے یہ کیا بطن میں پھنکار مچی
قلبِ مسکین میں ہے افسوس دھواں دھار مچی
(251)
شیرِ مادر ہے کہ رشوت کی یہ شیرینی ہے
قند و گلقند و شکر قند و شکر چینی ہے
خوشہ چینی ہے ثمر چینی ہے کہ گل چینی ہے
یہ توکل ہے تغافل ہے کہ لادینی ہے
افعی و عقرب و اغلال و سلاسل ناری
راشیا! قبر کٹھن منزل و مشکل بھاری
(252)
میں سمجھتا ہوں تمہیں بات یہ سمجھا نہ سکوں
آگ لالچ نے جو بھڑکائی ہے وہ سردا نہ سکوں
بجھ گئی آگ جو ایماں کی وہ سلگا نہ سکوں
اٹھ گئی رسمِ قناعت کو بھی بلوا نہ سکوں
اے خدا تجھ کو ہے توفیقِ ہدایت کر دے
دکھی دنیا کے تقاضوں میں رعائت کر دے

(253)
نفع اندوز قُفَل سیم کے سہلاتے ہیں
دلِ ناداں کو وہ اس طور سے بہلاتے ہیں
اسپِ قاروں کو وہ اس طور سے ٹہلاتے ہیں
سگِ مردار کو اس طور وہ نہلاتے ہیں
وقت آیا ہے دفینوں کو وہ خیرات کریں
اور اس طور ہو سرخوں کا ازم مات کریں
(254)
طاغیا! تیری زمانے میں شہنشاہی ہے
لازوال آپ کی خاقانی و جم جاہی ہے
اور مزدور کی قسمت میں جگر کاہی ہے
اے مگر دور یہ اس دور سے اب راہی ہے
بے سمجھ دور ہے الحاد کی مہربانی ہے
صدقہ الحاد کا ہے طاغی کی جو سلطانی ہے
(255)
اپنی کھیتی میں کھڑا دیکھ کساں روتا ہے
اور مزدور کی حالت پر سماں روتا ہے
مل کے دروازہء عالی پہ فغاں روتا ہے
لگ کے دیوار سے کیا نوحہ کناں روتا ہے
اور سرمائے کا ملوں میں بجٹ بڑھتا ہے
یعنی سرمائے کے بلوں میں وہ فَٹ بڑھتا ہے

(256)
لینڈ لارڈوں کو دمِ مرگ یہ تجار کہیں
اپنی بولی میں یہ زردار کو زردار کہیں
دورِ سرمایہ کے بے تاج ادھیکار کہیں
بے حجابانہ کہیں برسر بازار کہیں
کان پڑتی ہے صدا آیا خروشیو کہیں
بوئے سرمایہ پہ آتا ہے مہادیو کہیں
(257)
ابرِِِ ممسک کے دہانوں سے دہاڑ آتی ہے
مردِِِ ممسک کے خزانوں پہ اجاڑ آتی ہے
خانہء بنک سے ہاتھی کی چنگھاڑ آتی ہے
بن کے اس دور کے ممسک پہ پہاڑ آتی ہے
ابرِ ممسک کی دہاڑوں سے غریو آتی ہے
بن کے ممسک کے کواڑوں سے وہ دیو آتی ہے
(258)
ابرِِِ ممسک کے دہانوں سے دہاڑ آتی ہے
مردِِِ ممسک کے خزانوں پہ اجاڑ آتی ہے
گوشِ آفاق میں ہاتھی کی چنگھاڑ آتی ہے
بن کے اس دور کے ممسک پہ پہاڑ آتی ہے
ابرِ ممسک کے خزانوں سے غریو آتی ہے
بن کے ممسک کے ٹکانوں پہ یہ دیو آتی ہے

(259)
آج سرمائے کی دنیا میں شہنشاہی ہے
منفعت نیم شبی نفعِ سحر گاہی ہے
حاتمی جود ہے نے شوکتِ جم جاہی ہے
اور اس کشتیء زر بار میں بے راہی ہے
اور اس راہ میں شتراک کا ان ہنگ بھی ہے
اور مزدور جو اس دور میں دل تنگ بھی ہے
(260)
آج مایا کو خسارے کی بھی امید نہیں
دکھی دنیا کو سہارے کی بھی امید نہیں
ہائے بے چاروں کو چارے کی بھی امید نہیں
اور کشتی کو کنارے کی بھی امید نہیں
دورِ افزودی و افزودی و سودی دیکھیں
اور اس دور کے اندازِ یہودی دیکھیں
(261)
آج دنیا کی تجارت میں خسارہ نہ رہا
اور تاجر کو سوا نفع کے چارہ نہ رہا
خوفِ نقصاں سے وہ اب قلبِ دوپارہ نہ رہا
قلبِ تاجر میں وہ تخویف کا آرہ نہ رہا
فانی دنیا کی تجارت میں زیاں تک نہ رہا
اور عقبیٰ کی تجارت کا نشاں تک نہ رہا

(262)
خوں وہ مظلوم کا پی پی کے جواں ہوتے ہیں
غمزہ و ناز میں کیا رشکِ بتاں ہوتے ہیں
قصر و گلشن کے سماں رشکِ جناں ہوتے ہیں
حسنِ ظاہر کے بھی انداز نہاں ہوتے ہیں
دل میں پھٹکار برستی ہے شکم ہنستے ہیں
اژدہے جن کے دماغوں میں کئی بستے ہیں
(263)
مار بن بن کے لپٹتے ہیں خزانے تیرے
نار بن بن کے لپٹتے ہیں ترانے تیرے
ہار بن بن کے لپٹتے ہیں زبانے تیرے
یار بن بن کے لپٹتے ہیں پرانے تیرے
آبِ سوزاں کے یہ قطرے ہیں خُنک اوس نہیں
یہ جہنم کے نمونے ہیں یہ فردوس نہیں
(264)
ہار بن بن کے لپٹتے ہیں خزانوں والے
نار بن بن کے لپٹتے ہیں ترانوں والے
مار بن بن کے لپٹتے ہیں زبانوں والے
یار بن بن کے لپٹتے ہیں فسانوں والے
ناریئے مار بنیں مار کے پھر ہار بنیں
غافل اس طور زمانے میں تیرے یار بنیں

(265)
اے غریبوں کا لہو چوس کے پینے والے
نفع اندوزی و افزود پہ جینے والے
اے غریبوں کا جگر چیر کے سینے والے
اے جگر خوارِ جہاں دار خزینے والے
تجھ کو معلوم بھی ہے قہرِ الہیٰ کا نکھار
سیم و زر دار تجوری کی تباہی کا نکھار
(266)
دیکھ مخلوق یہ اس دورِ غلط کار کی دیکھ
دیکھ مخلوق یہ اس عصر کے سنسار کی دیکھ
دیکھ مخلوق یہ اس دورِ شرر بار کی دیکھ
اور مخلوق یہ اس دورکِ بیدار کی دیکھ
ارض خونخوار درندوں کی جنم بھومی ہے
اسمیں مظلوم ہے ظالم ہے نہ مظلومی ہے
(267)
پاس اپنے جو تیری مثل خزینے ہوتے
بحرِ عماں میں گہر بار سفینے ہوتے
اپنی کوٹھی میں بھی کمخواب کے زینے ہوتے
اپنی انگلی کی انگوٹھی میں نگینے ہوتے
درد جبریل کے سینے میں نہاں کب ہوتا
اور خیرات کے مسلک پہ دھیاں کب ہوتا

(268)
اے پہ بیدار تھی قسمت جو سلا کر دیکھی
میں نے تختوں کو ہے ٹھوکر بھی لگا کر دیکھی
جل جو سکتی تھی شمع اپنی بجھا کر دیکھی
سوئی تھی اپنی فقیری سو جگا کر دیکھی
تو نے جبریل کو دیکھا ہے جو ویراں ہوتے
میں نے دیکھا ہے اسے آہ سے طوفاں ہوتے
(269)
تاج و اکلیل پہ اس فقر کو قرباں نہ کروں
دردِ بے درد کو اس درد کا درماں نہ کروں
مشکل اپنی ہے کچھ ایسی کہ یہ آساں نہ کروں
کوئے محبوب میں سَو تاج کا ارماں نہ کروں
مجھ کو مولا نے وہ عرفاں کی شہنشاہی دی
نالہءِ نیم شبی آہِ سحر گاہی دی
(270)
ہائے کس منہ سے کہوں تجھ کو غریب اچھے ہیں
یعنی مزدور یہ اللہ کے حبیب اچھے ہیں
یعنی عقبی میں غریبوں کے نصیب اچھے ہیں
نہ غنی دور کے اچھے نہ غریب اچھے ہیں
بِھٹریں اس دور نے پالی ہیں یہ سب پالی ہیں
بھیڑیں اس دور کی کالی ہیں یہ سب کالی ہیں

(271)
اس سے پہلے کہ کہیں روس کا دیو آ پہنچا
تیرے کانوں کے قریب مثلِ غریو آ پہنچا
قصرِ سرمایہ پہ سرخوں کا خدیو آ پہنچا
تیرے بالوں میں خروشیو کا شیو آ پہنچا
کر دو خیرات جتنے ہیں یہ دفینے اپنے
ورنہ پیٹو گے کسی روز یہ سینے اپنے
(272)
دہر لارڈو ! نہ اگر طبع کی لارڈی چھوڑی
رسم قارون و فراعین کی نہ ہارڈی چھوڑی
راہ ہامان و قواریں کی نہ ٹارڈی چھوڑی
ربِ مطلق کی خدائی میں نہ گارڈی چھوڑی
داوری داورِ قہار کی بیدار نہ ہو
دیوِ شتراک کی صورت میں نمودار نہ ہو
(273)
قیروانوں میں جھلکتے ہوئے اسرار سنیں
قعرِ افلاک کی آغوش میں بیدار سنیں
رنگِ آفاق میں اٹھتے ہوئے اظہار سنیں
رازِ خاموشِ دلِ نرگسِ بیمار سنیں
اور جبریل کی آواز میں اسرار سنیں
قلبِ مومن میں مہکتے ہوئے انوار سنیں

(274)
وہ فراعین جو زمانے کے ادھیکار ہیں آج
وہ نمارید جو اس دور کے مختار ہیں آج
وہ شدادیدِ سخن ساز جو پُرکار ہیں آج
وہ قوارین و ہوا میں جو ثمر بار ہیں آج
ان کے سینے سے کبھی پار سناں ہونی ہے
برقِ اسلام سے برباد جناں ہونی ہے
(275)
بت سرمایہ عیش ساز کا مرہوں جو ہوا
انجنی دیو کی آواز کا مرہوں جو ہوا
دود و بنزیں تر و غاز کا مرہوں جو ہوا
اور اس الحادِ غماز کا مرہوں جو ہوا
دورِ سرمایہ یہ مٹتا ہے مشیں مٹنے سے
درد مٹتا ہے مشینوں کی طنیں مٹنے سے
(276)
دورِ دنیا سے مشینیں یہ مٹائی نہ گئیں
اور ملیں یہ زمانے سے اٹھائی نہ گئیں
اور بنکوں کی درازیں یہ لُٹائی نہ گئیں
سینہء دہر میں کانیں یہ اٹائی نہ گئیں
دیوِ شتراک کے جبڑوں میں گھسٹ جاؤ گے
دین و دنیا کی تباہی میں سمٹ جاؤ گے

(277)
تم سمجھتے ہو مگر کار یہ بس مشکل ہے
مرگِ آدم سے کہیں مرگِ ہوس مشکل ہے
ترکِ باطن سے کہیں ترکِ نفس مشکل ہے
اے حقیقت سے کہیں ترکِ قصص مشکل ہے
حسنِ ایماں کے فدائی کی خبر تم کو نہیں
خبر اس زورِ خدائی کی مگر تم کو نہیں
(278)
ساحری ساحرِ افرنگ کی تاراج ہوئی
بادشاہی بھی شہہِ دہر کی بے تاج ہوئی
ضربتِ مرد سے صد پارہء زجاج ہوئی
بسمِ ربی یہ اگر کل نہ ہوئی آج ہوئی
کل تک اس عصر میں سو زندہء انوار جو تھی
دوش دورانِ جہاں گرد پہ زنار جو تھی
(279)
غرق ہوتا ہے جہاں فتنہء دجالی میں
دور مرتا ہے نئی حرص کی بقالی میں
دہر گرتا ہے دلِ سرد کی پامالی میں
عصر ابھرتا ہے یخِ برد کی اکالی میں
ایک فتنہ ہے کہ طوفانِِ جہاں ریز ہے یہ
دورِِِ دورانِ المناک الم خیز ہے یہ

(280)
غرق ہوتا ہے جہاں فتنہء دجالی میں
دور مرتا ہے نئی حرص کی بقالی میں
دہر گرتا ہے دلِ سرد کی پامالی میں
عصر ابھرتا ہے یخِ برد کی اکالی میں
مرگِ غمناکِ المناکِ الم خیز ہے یہ
ایک فتنہ ہے کہ طوفانِ جہاں ریز ہے یہ
(281)
اے مصائب کے وہ کہسار گراں ٹوٹے ہیں
کیا ہی غم ہیں کہ جو بالائے جہاں ٹوٹے ہیں
وہ دوائر کے زمانے پہ سماں ٹوٹے ہیں
کُن کی تقدیر سے عالم پہ فکاں ٹوٹے ہیں
غم زمانے نے وہ انساں پہ جو لا ڈالے ہیں
جس نے جبریل کو غم اپنے بھلا ڈالے ہیں
(282)
پھونک دے ناقورِ فلک دوزِ جہاں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ فلک دوزِ سماں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ فلک دوزِ دخاں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ عیاں لرزِ نہاں لرز کہ اب
کفرِ ویراں کے ٹکانوں میں بپا حشر کریں
دہر حیراں کے فسانوں کو ذرا نشر کریں

(283)
غرق اس فتنہء سالوسِ جہاں گرد کو کر
غرق اس خاکِ پرست اعورِ رو زرد کو کر
غرق اس علمِ جبیں سوزی دل سرد کو کر
غرق اس حلمِ مروت کش بیدرد کو کر
غرق اس الحاد موجد گرد دجال کو کر
لللہ اس دور جہاں گرد کے جنجال کو کر
(284)
آسمانوں میں سسکتی ہوئی مدہوشی سن
دوشِ افلاک سے آوازِ سبکدوشی سن
آہِ خاموش جہاں سوز کی سرگوشی سن
اور اسلام کے سینے میں یہ خاموشی سن
ہے جو اس دہر میں ہنگامہ بپا ہونے کو
کفر و باطل کا ہے گھر بار فنا ہونے کو
(285)
آج دنیا میں نہ انساں کی وہ مسکینی ہے
آج دنیا میں نہ ایماں کی وہ مسکینی ہے
آج دنیا میں نہ سلطاں کی وہ مسکینی ہے
آج دنیا میں نہ عرفاں کی وہ مسکینی ہے
آدمی عقربِ جرار ہوئے پھرتے ہیں
اپنی ہستی سے بھی بیزار ہوئے پھرتے ہیں

(286)
آج دنیا میں نہ انساں کی وہ مسکینی ہے
آج دنیا میں نہ ایماں کی وہ رنگینی ہے
آج دنیا میں نہ ایقاں کی وہ سنگینی ہے
آج دنیا میں نہ عرفاں کی وہ گل چینی ہے
آدمی عقربِ جرار ہوئے پھرتے ہیں
اپنی ہستی سے بھی بیزار ہوئے پھرتے ہیں
(287)
بندے بندے میں جو سرگرمی ءِ پیکار ہے آج
آدمی زہر میں بجھی ہوئی تلوار ہے آج
نگہء انسانِ جفا دوست یہ کیا نار ہے آج
بڑھ کے چیتے سے کہیں آدمی خونخوار ہے آج
سانپ ہیں سانپ یہ جھنجھلائے ہوئے پھرتے ہیں
تلخی زہر میں بل کھائے ہوئے پھرتے ہیں
(288)
گھر بھی اس دور میں کیا سانپ کے پٹارے ہیں
سونگھ ہر گھر میں افاعی کے یہ پھنکارے ہیں
دودِ تیرہ میں ہلاہل کے شرر پارے ہیں
زہرِ خوں سوز میں بجھے ہوئے نظارے ہیں
روزِ بے نور میں کہرامِ افاعی بھی سنیں
نطقِ رنجور میں پیغامِ دفاعی بھی سنیں

(289)
آدمیت بھی گئی دورِ سقنقوری میں
نیک نیت بھی گئی قلب کی مغروری میں
وہ وصیت بھی گئی عشق سے مہجوری میں
اک اذیت ہے فقط ذہن کی تنوری میں
نہ رہا ذوقِ سخن ذوقِ مقالی بھی گیا
فکرِ عالی بھی گیا سوزِ بلالی بھی گیا
(290)
نیلگوں ہونٹ ہیں افلاک کی پہنائیوں میں
بدشگوں راگ ہیں ادراک کی شہنائیوں میں
ذو فنوں شوق ہیں خاشاک کی آرائیوں میں
اے پہ جبریل جگر چاک کی نارائیوں میں
بدشگونی کی علامات ہیں رقصاں وائے
یعنی عقبیٰ کے خیالات ہیں رقصاں وائے
(291)
دورِ عقبیٰ کے خیالات ہیں رقصاں وائے
دورِ عقبیٰ کے مقالات ہیں رقصاں وائے
دورِ عقبیٰ کے سوالات ہیں رقصاں وائے
دورِ عقبیٰ کے محالات ہیں رقصاں وائے
اک چڑیلوں کی زبوں حال وہ شہزادی ہے
جس کے دم سے ہی تیرے دور کی آبادی ہے

(292)
جھونک دے گا یہ زمانے کو جو نیرانوں میں
مرغزاروں کو بدل دے گا جو ویرانوں میں
دہرِ معمور کو خفاش کے کاشانوں میں
خاک و خاکستر و شرار کے طوفانوں میں
تھا نہ انمول یہ الحاد کہ اجاڑی دنیا
تھا نہ مقبول یہ الحاد کہ اجاڑی دنیا
(293)
جھونک دے گا وہ زمانے کو جو نیرانوں میں
مرغزاروں کو بدل دے گا جو ویرانوں میں
دہرِ معمور فقط بوم کے کاشانوں میں
خاک و خاکستر و شرار کے طوفانوں میں
تھا نہ انمول یہ الحاد کہ اجاڑی دنیا
تھا نہ مقبول یہ الحاد یہ کہ اجاڑی دنیا
(294)
پَر پرندوں کے بھی الحاد نے جھلس ڈالے ہیں
بل بھی آفاق کے الحاد نے جو کَس ڈالے ہیں
آدمی پھونک کے درپیشِ ہوس ڈالے ہیں
روحِ انسان کے کھلانے کو بھی خَس ڈالے ہیں
دشتِ پُردود میں مرجھائے ہوئے پھرتے ہیں
پَر اُسی آگ میں جھلسائے ہوئے پھرتے ہیں

(295)
پر پرندوں کے بھی الحاد نے جھلس ڈالے ہیں
بل بھی آفاق کے الحاد نے جو کَس ڈالے ہیں
آدمی پھونک کے در پیشِ ہوس ڈالے ہیں
روحِ سوزاں کے کھلانے کو بھی خَس ڈالے ہیں
بندے اس دور میں مرجھائے ہوئے پھرتے ہیں
پَر اُ سی آگ میں جھلسائے ہوئے پھرتے ہیں
(296)
بجلیاں کوند کے افلاک میں غراتی ہیں
روحیں کفار کی ہیبت سے جو تھراتی ہیں
وہ سمٹتی ہیں وہ چھپتی ہیں وہ گھبراتی ہیں
قہرِ افلاک کے اندھیر میں چکراتی ہیں
سِر تقدیر خدائی کی یہ غماز بھی ہے
اور مومن کی تڑپتی ہوئی آواز بھی ہے
(297)
بجلیاں کوند کے افلاک میں غراتی ہیں
روحیں طاغوت کی ہیبت سے جو تھراتی ہیں
وہ سمٹتی ہیں وہ چھپتی ہیں وہ گھبراتی ہیں
قیرگوں ظلمتِ افلاک میں چکراتی ہیں
سِر تقدیر خدائی کی یہ غماز بھی ہے
اور مومن کی تڑپتی ہوئی آواز بھی ہے

(298)
اپنی آنکھوں سے علاماتِ قیامت دیکھیں
اپنی آنکھوں سے نئے دور کی شامت دیکھیں
اپنی آنکھوں سے یہ انسان کی ندامت دیکھیں
اپنی آنکھوں سے یہ محشر کی اقامت دیکھیں
کھو گئے فتنہء دجال کی دجالی میں
سو گئے ہار کے اس دور کی پامالی میں
(299)
تو نے سمجھا ہے کہ دجال ابھی آئے گا
خرِ چوپایہء یہ اسی ارض پر چھا جائے گا
معجزے اپنے زمانے کو وہ دکھلائے گا
ساری دنیا سے خدائی بھی وہ منوائے گا
اے پہ دلوائی یہودوں کو حکومت کس نے ؟
اور دلوائی یہودوں کو یہ سطوت کس نے ؟
(300)
دیکھ دنیا کی فضاؤں میں دخاں اٹھا ہے
ارض و آفاق کے پہناؤں میں طپاں اٹھا ہے
ہر طرف دودِ سیاہ نوحہ کناں اٹھا ہے
تو یہ کہتا ہے تعجب سے کہاں اٹھا ہے
چشم وا ہے تو نئے دور کی چمنی دیکھیں
اور زغالی و بنزین کی ضِمنی دیکھیں

(301)
ایک دوزخ ہے مشین زاد! جہنم کہہ لو
دیکھ الحاد کا یہ بیداد! جہنم کہہ لو
ایسی جنت سے ہے فریاد! جہنم کہہ لو
دل کی تسکین ہے جو برباد! جہنم کہہ لو
اک جہنم ہے مشینوں کا بھڑکتا دیکھیں
دل بھی اس دور کے سینے میں دھڑکتا دیکھیں
(302)
ایک دوزخ ہے مشین زاد! جہنم کہہ لو
دورِ الحاد کا یہ آزاد! جہنم کہہ لو
ایسی جنت سے ہے فریاد! جہنم کہہ لو
دل کی تسکین ہے جو برباد! جہنم کہہ لو
اک جہنم یہ مشینوں کا بھڑکتا دیکھیں
دل بھی اس دور کے سینے میں دھڑکتا دیکھیں
(303)
ایک دوزخ ہے مشین زاد جہنم کہہ لو
شورِِِ فریاد میں اس دور کا ماتم کہہ لو
پردہء شوق میں ڈوبا ہوا اک غم کہہ لو
نارِ پُردود میں اک آتشِ پُرنم کہہ لو
نارِ پُردود کہو آتشِ بے نور کہو
دودِ آتش میں جُھلستا ہوا تنور کہو

(304)
نہ کہو دوزخِِِ الحاد کو جہنم! نہ کہو
شورِ ماتم کو نئے دور میں ماتم! نہ کہو
رنجِِِ آلام و غم و حزن کو اب غم ! نہ کہو
چشمِ گریاں کو کہیں دیدہء پرنم ! نہ کہو
پردہ ہر آگ پہ اس دور نے یوں ڈالا ہے
بدل اس طور سے اندازِ دروں ڈالا ہے
(305)
ہوک جبریل کے سینے سے یہ کیوں اٹھی ہے
ہوک یژب کے مدینے سے یہ کیوں اٹھی ہے
ہوک مسلم کے سفینے سے یہ کیوں اٹھی ہے
ہوک افلاک کے زینے سے یہ کیوں اٹھی ہے
شائید اسلام کو درپیش ہے مشکل کوئی
کٹھن اسلام کو درپیش ہے منزل کوئی
(306)
شور اٹھا ہے زمانے میں قیامت آئی
ابنِ آدم کی جو اس دور میں شامت آئی
حیف اے وائے ندامت کہ ندامت آئی
اپنے اعمال کے بدلوں میں ملامت آئی
اپنی کرنی ہے کہ انساں پہ تباہی آئی
اس نے جو چیز بھی افسوس نہ چاہی آئی

(307)
اس نئے دور کے بندوں نے خدا بھولا ہے
قصہء قسمت و تقدیر و رضا بھولا ہے
کرمِ خاکی نے رہِ عرش و سما بھولا ہے
جو بھی ہے عمرِ دو روزہ کے سوا بھولا ہے
دورِ تدبیر میں الحاد کی جہاں رانی ہے
مرگِ دوام کی اس دور میں ارزانی ہے
(308)
تیرے اس دور میں افسوس کہ ایماں نہ رہا
ذوقِ فردوس میں سرشار وہ انساں نہ رہا
رسمِ عرفاں و رہِ عشق کا ارماں نہ رہا
یاد بندے کو وہ افسوس کہ پیماں نہ رہا
رہ گئی رسمِ اذاں ! روحِِ بلالی نہ رہی
بجھ گیا دل کا سماں ! شُعلہ مقالی نہ رہی
(309)
جس کو دیکھو ہے وہ تنور غضبناکی میں
ایک بھٹی ہے کہ ہے مستور ہر خاکی میں
ایک خنجر ہے جو مسرور سفاکی میں
تلخی ءِ زہر موفور ہے چالاکی میں
کٹ گیا حرفِ مدارات و مروت بھائی
اٹھ گئی دورِ مشیں زاد سے اخوت بھائی

(310)
جس کو دیکھو ہے وہ تنور ہوس رانی کا
جس کو دیکھو سو وہ ناسور ہے پیشانی کا
بغض و پندار و جہالت کا پریشانی کا
اک نمونہ ہے جہاں دوزخِ نیرانی کا
بندے اس دور کے تنور ہوئے پھرتے ہیں
آتشیں علم میں مستور ہوئے پھرتے ہیں
(311)
بندے اس دور کے دردا کہ قریں بیں جو ہوئے
صدقہ ان اپنی مشینوں کا مہیں بیں جو ہوئے
کور باطن یہ زمانے کے جبیں بیں جو ہوئے
اعلیٰ اقدار سے غافل ہیں کمیں بیں جو ہوئے
ہائے افسوس ! مکاں بیں یہ مکیں بیں نہ ہوئے
حسن بینی کے نظاروں میں حسیں بیں نہ ہوئے
(312)
بندے اس دور کے کردار کے منکر بھی نہیں
صدق گفتارِِ گہر بار کے منکر بھی نہیں
راہِ ترویج میں تلوار کے منکر بھی نہیں
ہستی ءِ داورِ قہار کے منکر بھی نہیں
پھر یہ حیرت ہے کسی چیز کے قائل بھی نہیں
ہیں تو کُفَار مگر کفر پہ مائل بھی نہیں

(313)
طبع ءِ شدادی ءِ پندار کے قائل بھی نہیں
رسمِ بیدادی ءِ دلدار کے قائل بھی نہیں
ذوقِ خونخواری ءِ خونخوار کے قائل بھی نہیں
شوقِ میخواری ءِ میخوار کے قائل بھی نہیں
کیسے انداز سے ہر عیب میں بل ڈالا ہے
نام ہر عیب کا خوبی سے بدل ڈالا ہے
(314)
رمزِ پندارِ تکبر سے شناسائی ہے
ورنہ مغرور جبلت کی ادا پائی ہے
کِبر اس دور کے بندوں کا تماشائی ہے
اصل و آثآر سے محروم ہے ہرجائی ہے
بادِ بے بادی ءِ پندار ہوئے پھرتے ہیں
بادِ برباد میں سرشار ہوئے پھرتے ہیں
(315)
عقل حیراں ہے کہ بے عشق یہ کیا جیتے ہیں
مے جو الفت کی نہیں حیف یہ کیا پیتے ہیں
ان کے دامن جو نہیں چاک یہ کیا سیتے ہیں
ان کے بے کیف یہ ایام بھی کیا بیتے ہیں
کیف و سرمستی ءِ عشاق سے عاری بندے
کس لئے دہر میں زندہ ہیں یہ ناری بندے

(316)
سرکش اس دور کے بندے ہیں یہ مغرور بھی ہیں
عجز بے لوث کی حُرمت سے بہت دور بھی ہیں
شیخی و فخر و تعلی پہ یہ مجبور بھی ہیں
نشہء نارِ تکبر میں یہ مستور بھی ہیں
ہاں مگر حسنِ تکبر سے تو محروم ہیں یہ
رمزِ پندار سے محروم نہیں مظلوم ہیں یہ
(317)
نہ بنیں اہلِ ادب آدمِ مسکیں نہ بنیں
نہ بنیں اہلِ شرف صاحبِ تمکیں نہ بنیں
نہ بنیں اہلِ خرد مردِ خدا بیں نہ بنیں
کیا بنیں اور ؟ اگر حزبِ شیاطیں نہ بنیں
خود جو افرنگ کے مکتب میں انہیں لاؤ گے
فیض اس مکتبِ افرنگ سے کیا پاؤ گے
(318)
آنکھ کا نشہ تو بُنیں مستی ءِ عرفاں نہ بُنیں
پیاس دل کی تو بُنیں درد کا درماں نہ بُنیں
دل کی مرضی تو بُنیں عشق کا ارماں نہ بُنیں
رنگِ دنیا تو بُنیں رنگتِ ایماں نہ بُنیں
پیاس دل کی جو بُنیں قلب کی تسکیں کے لئے
دشتِ بے آب میں کیا آب ہے مسکیں کے لئے

(319)
اگلے وقتوں میں تو پروانہ بنا کرتے تھے
سوزِ شمع کے وہ دیوانہ بنا کرتے تھے
مستِ صد جلوہ ءِ جانانہ بنا کرتے تھے
رندِ سرمستیءِ رندانہ بنا کرتے تھے
جُبہ و دستار گئے کرتی و چَڈی آئی
دورِ پروانہ گیا نوبتِ ٹِڈی آئی
(320)
اے سیاہ بخت وہ اس پوز پہ شیدا جو ہوئے
زلزلہء پستی ءِ دلدوز پہ شیدا جو ہوئے
جلوہء ہستی ءِ دو روز پہ شیدا جو ہوئے
ولولہء مستی ءِ بے سوز پہ شیدا جو ہوئے
آتشیں ابرِ شرر بار میں دیوانہ پھریں
شمعِ بے نور کی ظلمت میں وہ پروانہ پھریں
(321)
اے سیاہ بخت وہ اس دور میں پیدا جو ہوئے
نقشِ ہستی پہ وہ اس طور ہویدا جو ہوئے
جلوہءِ دورکِ دوں فور پہ شیدا جو ہوئے
دام نقاشِ قریں غور کے صید آج ہوئے
صبح بے نور کی ظلمات میں دیوانہ پھریں
دورِ بے طور کی اس رات میں دیوانہ پھریں

(322)
اے سیاہ بخت وہ اس دور میں پیدا جو ہوئے
نقشِ ہستی پہ وہ اس طور ہویدا جو ہوئے
جلوہءِ دورکِ دوں فور پہ شیدا جو ہوئے
دام نقاشِ قریں غور کے صید آج ہوئے
صبح بے نور کی ظلمات میں جو دیوانہ پھریں
شمع بے نور کی ظلمت میں وہ پروانہ پھریں
(323)
ہوں جو عصفور تو جمہور بھی عصفوری ہو
ہوں جو زبنبور تو جمہور بھی زنبوری ہو
ہوں سقنقور تو جمہور بھی سقنقوری ہو
ہوں جو شب کور تو جمہور بھی شب کوری ہو
آئینہ قوم کا آئینِ جماہیر جو ہے
تیری تصویر کی تصویر کی تصویر جو ہے
(324)
عشق بے سوز ہے اس دور کے انسانوں کا
درد بے سوز ہے اس دور کے دیوانوں کا
فکر بے روز ہے اس دور کے فرزانوں کا
قصہ دلدوز ہے اس دور کے پروانوں کا
دل میں خاشاک کے انبار لئے پھرتے ہیں
ساتھ ہی عشقِ شرر بار لئے پھرتے ہیں

(325)
آج دنیا میں کوئی عشق کا پروانہ ہے
اور عرفاں کا زمانے میں نہ فرزانہ ہے
ہر طرف فکرِ زمیں کار کا افسانہ ہے
ہر کوئی علمِ شکم خیز کا دیوانہ ہے
پیٹ پوچا کے تقاضوں میں ہوسکاری ہے
بندہ اس دور میں بس حرص کا زناری ہے
(326)
نشہءِ حکمتِ افرنگ میں بے ہودہ بکیں
عقلِ سالوسی ءِ افرنگ کا فرمودہ بکیں
ہائے فرمودہء افرنگ وہ فرسودہ بکیں
کم نگاہی کے یہ اندھیر میں آسودہ بکیں
حسنِ دانش پہ یہ ناداں ہوئے پھرتے ہیں
ورطہء عقل میں حیراں ہوئے پھرتے ہیں
(327)
گمرہی دورِ خرافات کی لاثانی ہے
خلق اس دورِ عبث کار کی دیوانی ہے
رنگِ یزداں میں عجب رنگتِ شیطانی ہے
عقل سمجھے ہیں جسے اصل میں نادانی ہے
خود فریبی میں تخیل کے یہ نخچیر ہوئے
صیدِ تدبیرِ زبوں راندہء تقدیر ہوئے

(328)
یہ نہ مومن ہیں نہ کافر نہ مسلمان ہیں یہ
یہ نہ مردہ ہیں نہ زندہ ہیں نہ بے جان ہیں یہ
یہ فرشتے ہیں نہ آدم ہیں نہ حیوان ہیں یہ
یا خدا کون سی اقلیم کے انسان ہیں یہ
بندے اس دور کے ترکی ہیں نہ ساسانی ہیں
دشتِ الحاد کے یہ غولانِ بیابانی ہیں
(329)
یوں تو ہندو ہیں یہ مسلم ہیں یہ عیسائی ہیں
اہلِ زنار موحد ہیں یہ سر تائی ہیں
پہ حقیقت میں یہ دجال کے لالائی ہیں
ایک ہیں ایک یہ سب ایک ہیں سب ٹائی ہیں
مذہبِ مادہ پرستی میں گرفتار ہیں سب
مادہ و مادہ پرستی کے پرستار ہیں سب
(330)
اس نئے دور کے بندوں کے خیالات عجیب
ان کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں سوالات عجیب
ان کی باتوں سے ٹپکتے ہیں مقالات عجیب
اے خیالات و سوالات و مقالات عجیب
عقل حیراں ہے کہ اس دور کا کیا نام دھریں
نطق حیران ہے کہ اس طور کا کیا نام دھریں

(331)
دورِ اسلام کے ان پڑھ بھی گراں ہوتے تھے
اہلِ دل اہلِ خرد اہلِ رواں ہوتے تھے
اہلِ شرم اہلِ شرف اہلِ سماں ہوتے تھے
وہ بڑھاپے میں بھی دانش میں جواں ہوتے تھے
اور اس دور میں پڑھتے ہیں سبکسار ہونے کو
باغی و بدظن و آوارہ و عیار ہونے کو
(332)
اس کی تقدیر پہ افلاک بھی رو دیں! رو دیں
اس کی تقصیر پہ خاشاک بھی رو دیں! رو دیں
اس کی تصویر پہ ادراک بھی رو دیں! رو دیں
اس کی تحقیر پہ فتراک بھی رو دیں! رو دیں
چاشنی لذتِ ایماں کی نہ پائی جس نے
روشنی حکمتِ عرفاں کی نہ پائی جس نے
(333)
علمِ خاشاک کی دنیا میں فراوانی ہے
جادہء حرص پہ اس دور کی جولانی ہے
بندہء عصرِ رواں طالبِ شادانی ہے
اے پہ کلفت ہے کہ افکار کی ارزانی ہے
نشہء علم میں مخمور ہوئے پھرتے ہیں
بادہ ءِ عشق سے منفور ہوئے پھرتے ہیں

(334)
آدمیت سے جہاں لوٹ کے پھر جونک ہوا
دیکھ لے سود و زیاں لوٹ کے پھر جونک ہوا
تو یہ کہتا ہے کہاں لوٹ کے پھر جونک ہوا
اے فلاں ابن فلاں لوٹ کے پھر جونک ہوا
بندے اس دور کے ہمرنگِ زمیں جونکیں ہیں
یعنی آدم کی جبلت پہ نہیں جونکیں ہیں
(335)
دہر ہے مثلِ شفق رنگِ شفق جونکیں ہیں
بندے اس دور کے اب زیرِ افق جونکیں ہیں
دیکھ جونکیں ہیں یہ سب زَلو و عَلَق جونکیں ہیں
نرم و نازک ہیں کہ بے رنج و قَلَق جونکیں ہیں
ان کی ریچینگ بھی بلیچنگ بھی یہ لیچنگ دیکھیں
اے بدوں خنجر و شمشیر یہ ریچنگ دیکھیں
(336)
بندے اس دور کے اب سیلف سفیشنٹ ہوئے
فرمِ اخوانِ شیاطیں میں وہ پیٹنٹ ہوئے
زورِ دانش کی حمایت پہ ڈیپنڈنٹ ہوئے
اے پہ گودامِ الہیٰ سے تو ایبسنٹ ہوئے
خود کفیلی کے تخیل میں جو مخمور ہوئے
جو نہ مولا سے رہی ان کو غرض دور ہوئے

(337)
جیب کتروں کی زمانے میں فراوانی ہے
جیب کتروں کی نئے دور میں سلطانی ہے
ان عزیزوں کو نئے دور میں آسانی ہے
ان کے ہاتھوں کی صفائی بھی تو لاثانی ہے
دور کَتروں کا ہے کُتروں کی فراوانی ہے
دور کا دور جو اس کار میں لاثانی ہے
(338)
لوگ اس دورِ سوالیس میں حِرماں سیکھیں
اور الحاد کی خرافات کا ساماں سیکھیں
فلسفہء دہر سے دانش کا بیاباں سیکھیں
کاش اسلام سے وہ حکمتِ ایماں سیکھیں
نورِ عرفاں میں وہ ہر درد کا درماں سیکھیں
نورِ قراں کی تجلی میں وہ عرفاں سیکھیں
(339)
نشہء جادوئے افرنگ میں سرشاری ہے
مست رو جادہء دجال پہ نرناری ہے
دہرِ دوں غمزہ ءِ دجال کا زناری ہے
دہر دوں کار ہے دجال ہے بدکاری ہے
کیا ہی افرنگ کی ہر چال پہ مفتوں یہ ہوئے
کیا ہی دجال کے اس جال پہ مجنوں یہ ہوئے

(340)
بندے اس دورِ کہن سال کے بندر جو ہوئے
گِل پامال کے اکال قلندر جو ہوئے
خس و خاشاک کے نقال سکندر جو ہوئے
نارِ بے ضو میں زبوں حال سَمَندر جو ہوئے
کیا عجب بات ہے سچار اگر خار بھی دے
نعرہء بوزنہ بن بوزنہ گر مار بھی دے
(341)
بندے اس دورِ مجازات کے بندر بھی نہیں
دامن فطرتِ جاوید کے اندر بھی نہیں
گلخنِ اصلِ جِبلِت کے سَمندر بھی نہیں
برقِ خاطف بھی نہیں جلجلِ تندر بھی نہیں
یہ نہ بندے ہیں نہ بندر نہ مہا بندر ہیں
یہ نہ مخلوق سے باہر نہ کہیں اندر ہیں
(342)
بندے اس دورِ عجب کار کے بندر بھی نہیں
آدمیت کی اقالیم کے اندر بھی نہیں
مردِ دانا بھی نہیں مَست قلندر بھی نہیں
خضرِ باطن بھی نہیں اور سکندر بھی نہیں
کچھ انوکھی سی ہے مخلوق خداوند کی یہ
یہ نہ مخلوقِ بخارا نہ سمرقند کی یہ

(343)
ہائے فقدانِ دیانت کے مناظر ہیں عجب
صبر و ایماں کے مظاہر کے مقابر ہیں عجب
بندے اس دورِ جہاں گرد کے صابر ہیں عجب
اپنی ہر خواہشِ بے تاب پہ جابر ہیں عجب
گرگ مامور ہیں بھیڑوں کی جو نگرانی پہ
چور لکھا ہے اشخاص کی پیشانی پہ
(344)
ہائے فقدانِ دیانت کے مناظر ہیں عجب
صبر و ایماں کے مظاہر کے مقابر ہیں عجب
بندے اس دورِ جہاں گرد کے صابر ہیں عجب
اپنی ہر خواہشِ بے تاب پہ جابر ہیں عجب
گرگ مامور ہیں بھیڑوں کی جو نگرانی پہ
شیخ مائل ہیں جدھر دیکھ جواں سالی پہ
(345)
دزد اس دور کے بندوں کو کہوں چور کہوں
بوم اس دور کے رندوں کو کہ شبکور کہوں
دزدِ خاموش کہوں شاطرِ منہ زور کہوں
اے کفن دزد تجھے دزدِ دروں گور کہوں
یا کسی نامِ مہذب سے تجھے یاد کروں
ہو اجازت تو نئے لفظ کی ایجاد کروں

(346)
بندے اس دور کے بے نور ہوئے جاتے ہیں
سحرِ افرنگ سے مسحور ہوئے جاتے ہیں
تلخی ءِ حرص میں رنجور ہوئے جاتے ہیں
آدمیت سے بہت دور ہوئے جاتے ہیں
آدمی مفسد و بوزینہ و ملعوں نہ ہوئے
نورِ الحاد کی تجلی پہ جو مفتوں نہ ہوئے
(347)
بندے اس دورِ جرادی کے ہراسندہ ہوئے
ٹڈی دل بن کے فضاؤں میں پراگندہ ہوئے
کھا کے اوراقِ ثمر دہر میں فرخندہ ہوئے
خرِ دورانی ءِ دجال کے خربندہ ہوئے
ڈارون آج تلک زندہ اگر رہ جاتا
ان کو بندر کی بجا آلِ ٹڈی کہہ جاتا
(348)
بندے اس دور کے اطوار بدل لیتے ہیں
ایک لمحے میں وہ سو بار بدل لیتے ہیں
اپنے اقرار سے انکار بدل لیتے ہیں
رنگِ تسبیح سے وہ زنار بدل لیتے ہیں
گویا گرگٹ ہیں کہ ہر رنگ بدل جائیں گے
رنگ بدلیں گے ادھر ڈھنگ بدل جائیں گے

(349)
بندے اس دور کے ہیں تاک جو مکاری میں
جانور ہیں پہ ہیں چالاک یہ عیاری میں
نرم و بیباک ہیں سفاک ہیں سرشاری میں
چرخِ چالاکِ طربناک ہیں خونخواری میں
گرگ میخوار ہیں بھیڑوں کی یہ پُستینوں میں
خار و خارا ہیں پہ لپٹے ہوئے پشمینوں میں
(350)
گرگ ہیں گرگ لپکتے ہیں یہ دراتے ہیں
لاشہء حرص کی آواز پہ غَراتے ہیں
دانش آموزی ءِ افرنگ میں للچاتے ہیں
آدمیت کے تقاضوں سے یہ کتراتے ہیں
ایک لشکر ہے درندوں کا کہ انسان ہیں یہ
ہیں تو اولاد یہ آدم کی پہ ہامان ہیں یہ
(351)
گرگ ہیں گرگ لپکتے ہیں یہ دراتے ہیں
لاشہء حرص کی آواز پہ غَراتے ہیں
دانش آموزی ءِ دوں کار پہ للچاتے ہیں
آدمیت کے تقاضوں سے یہ کتراتے ہیں
گرگ ہیں گرگ لپکتے یہ دراتے ہیں
لاشہء حرص کی بوباس پہ غراتے ہیں

(352)
گرگ ہیں گرگ لپکتے ہیں یہ دراتے ہیں
لاشہء حرص کی آاز پہ غراتے ہیں
دانش آموزی ءِ دوں کار پہ للچاتے ہیں
آدمیت کے تقاضوں سے یہ کتراتے ہیں
ایک لشکر ہے درندوں کا کہ انساں ہیں یہ
شکلِ آدم میں فقط غولِ بیاباں ہیں یہ
(353)
بندے ہیں اپنی غرض کے پہ یہ فنکار بھی ہیں
بے مروت ہیں وفادار نہیں یار بھی ہیں
گرگ سفاک بھی ہیں گُربہ پُرکار بھی ہیں
نرم و نازک ہیں تقاضوں میں یہ عیار بھی ہیں
ابنِ آدم کی یہ ابلیسی و نسناسی دیکھ
دیکھ مردم کی یہ پالیسی و خناسی دیکھ
(354)
بندے اس دور کے خاقان بنے پھرتے ہیں
روحِ دوراں کا یہ سوہان بنے پھرتے ہیں
پدرم آکاش کے سلطان بنے پھرتے ہیں
اندھی دنیا میں یہ ججمان بنے پھرتے ہیں
اور بے چارے نجیبوں کا عجب حال ہے کچھ
کچھ تو برباد غمِ دور ہے پامال ہے کچھ

(355)
بندے اس دور کے آرام سے سوتے بھی نہیں
اور درگاہِ خداوند میں روتے بھی نہیں
بیج کچھ اگلے ٹکانوں کا وہ بوتے بھی نہیں
دامنِ عصیاں کا کبھی اشک سے دھوتے بھی نہیں
بانورے بے سروساماں ہوئے پھرتے ہیں
فکرِ خوراک میں ہلکان ہوئے پھرتے ہیں
(356)
دیکھ اس دور کے بندوں کی نگاہ پیٹ پہ ہے
دل کے کرتوت ہیں دردا کہ گناہ پیٹ پہ ہے
چاہِ ظلماتِ ہوسکار کی راہ پیٹ پہ ہے
دورِ خاشاک کی ہر سبز و سیاہ پیٹ پہ ہے
قلبِ گریاں پہ شکم دور کا خنداں دیکھیں
دل میں ویرانہء برباد بدنداں دیکھیں
(357)
ان کی آنکھیں تو چمکدار ہیں دل اندھے ہیں
ان کے سینے تو زیاں کار ہیں دل اندھے ہیں
ان کے باطن تو سیاہ کار ہیں دل اندھے ہیں
ان کے ظاہر تو سمجھدار ہیں دل اندھے ہیں
شمع بجلی کی خلاؤں میں جلانے والو
بجھ گئی دل کی شمع حیف زمانے والو

(358)
قلبِ بے نور ابلتا ہے تو گَل جاتا ہے
کوہِ مجبور جو ٹلتا ہے تو ٹل جاتا ہے
رسم و دستور جو چلتا ہے تو چل جاتا ہے
اور تنور جو جلتا ہے تو جل جاتا ہے
تم جو اس دور میں تنور ہوئے پھرتے ہو
ایک آتش ہو کہ محصور ہوئے پھرتے ہو
(359)
تیرے بندوں کا زمانے میں ٹکانا نہ رہا
تیری دنیا میں محبت کا فسانہ نہ رہا
چشمِ لیلی میں وہ خاموش ترانہ نہ رہا
اب تو جینے کا کوئی اپنا بہانہ نہ رہا
اپنے بندوں کو تو اب پاس بلالے مولا
یا یہاں آ کے تُو رہ اپنے ہی نالے مولا
(360)
خونِ عشاق میں توقیرِ جہاں روشن ہے
سوزِ عشاق سے تنویرِ سماں روشن ہے
حرفِ عشاق میں تقدیرِ نہاں روشن ہے
آئینہ ءِ عشاق میں تصویرِ فکاں روشن ہے
مرگِ عاشق کی اداؤں میں جہاں زندہ ہے
عشقِ مولا میں کراں تا بہ کراں زندہ ہے

(361)
بندے اس دور کے سائنس کو قرآں کہتے ہیں
گویا کعبے کو نگہبانِِِ بتاں کہتے ہیں
سودِ محشر کو وہ دنیا کا زیاں کہتے ہیں
نارِ بے نور کو بے دود و دخاں کہتے ہیں
نارِ بے نور کو انوار سمجھ بیٹھے ہیں
نورِ بے نار کی تلوار سمجھ بیٹھے ہیں
(362)
ترچھی اس دورِ عجب سیر کی بَط ترچھی ہے
یہ نہ الٹی ہے نہ سیدھی ہے فقط ترچھی ہے
چال و منوال بھی ترچھی ہے نَمط ترچھی ہے
یہ سمجھتے بھی نہیں جس کو غَلط ترچھی ہے
پھر سمجھتے ہیں رواں کشتی صحیح ان کی ہے
چشمِ اعور میں صحیح ہے تو قبیح ان کی ہے
(363)
اور بندے ہیں کہ قرآں کو قرآں کہتے ہیں
فانی دنیا کو وہ جنت کی خزاں کہتے ہیں
سودِ محشر کو وہ دنیا کا زیاں کہتے ہیں
اور محشر کو وہ دنیا کا کراں کہتے ہیں
نارِ بے نور سمجھتے ہیں کہ قراں نہ بنے
الحاد اعور ہے نئے دور کا فرقاں نہ بنے

(364)
وہ جو اس دورِ خرافات کے گُن گاتے ہیں
دان اس دورِ خرافات کے پُن گاتے ہیں
بیخ اس دورِ خرافات کی بُن گاتے ہیں
جو قصیدوں کے ترنم میں بھجن گاتے ہیں
ان سے پوچھیں یہ کہ انجام کی کچھ سار بھی ہے
عادت اس دورِ غلط کار کی دوار بھی ہے
(365)
ترچھی اس دورِ عجب کار کی بَط ترچھی ہے
یہ نہ الٹی ہے نہ سیدھی ہے فقط ترچھی ہے
چال و منوال بھی ترچھی ہے نمَط ترچھی ہے
یہ سمجھتے بھی نہیں جس کو غلط ترچھی ہے
پھر سمجھتے ہیں رواں کشتی صحیح ان کی ہے
ان کی نظروں میں صحیح ہے تو قبیح ان کی ہے
(366)
دورِ پُردود مشیں زاد کہیں ڈوبے گا
بحرِ مردار میں اب لے کے مشیں ڈوبے گا
خاک زادہ ہے کہیں زیرِ زمیں ڈوبے گا
اٹھا ہے خندہ زناں چیں بہ جبیں ڈوبے گا
ڈوب جائے گا یہ ہنگامہ ءِ بے نور کبھی
چاہِ ظلمات میں ڈوبے گا یہ شبکور کبھی

(367)
تم سمجھتے ہو مگر کار یہ بس مشکل ہے
مرگِ آدم سے کہیں مرگِ ہوس مشکل ہے
ترکِ باطن سے کہیں ترکِ نفس مشکل ہے
اے حقیقت سے کہیں ترکِ قصص مشکل ہے
شاید ہاماں کی تباہی کی خبر تم کو نہیں
خبر اطوارِ الہیٰ کی مگر تم کو نہیں
(368)
طول و آثارِ فراعیں و ہوامیں وہ سبھی
مادہ و مادہ پرستی کے قوانیں وہ سبھی
اے براہین و فرامین و سلاطین وہ سبھی
کر دیئے پیس کے اک چوب سے طحین وہ سبھی
پھٹ گئے ضربِ کلیمی سے وہ احجار سبھی
ہٹ گئے بحر گِر کے سجدے میں یہ سحار سبھی
(369)
حرفِ قراں کو وہ افسوس کہ پڑھتے بھی نہیں
عشق و عرفاں کی فضاؤں میں وہ بڑھتے بھی نہیں
کفر و اسلام کی پیکار میں اڑتے بھی نہیں
بن کے منصور سرِ دار وہ چڑھتے بھی نہیں
عشقِ سائنس میں وہ پُردود ہوئے پھرتے ہیں
ورطہء حاضر و موجود ہوئے پھرتے ہیں
َ ََ (370)
کیا کہا ! حضرتِ افرنگ قراں سمجھا ہے
ہائے قراں کی حقیقت کو کہاں سمجھا ہے
صورِ محشر کو وہ سائنس کی فغاں سمجھا ہے
فانی دنیا کو وہ فردوسِ جِناں سمجھا ہے
اور سمجھا ہے تو پھر دیں سے وہ بیزار ہے کیوں
کفر و الحاد کی لعنت میں گرفتار ہے کیوں
(371)
ہم تو مانیں گے کہ مغرب نے قراں سمجھا ہے
حرفِ قراں کی حقیقت کو عیاں سمجھا ہے
قلبِ پنہانی ءِ قراں کو طپاں سمجھا ہے
جملہ قرآں کو کراں تا بہ کراں سمجھا ہے
جب وہ ایماں کی حقیقت سے شناسا ہوں گے
قائلِ دینِ نبی مائلِ عقبیٰ ہوں گے
(372)
کفر و الحاد کی مستی میں وہ سرشار ہے کیوں
کفر و الحاد کی علت میں وہ بیمار ہے کیوں
کفر و الحاد کی لعنت میں گرفتار ہے کیوں
دین و ناموسِ الہیٰ سے وہ بیزار ہے کیوں
کیوں گرفتار ہے زندیقی و لادینی میں
مست و سرشار ہے کیوں ملتِ ماشینی میں

(373)
دہریئے مادہ پرستار! یہ سب جھوٹے ہیں
نورِ عرفاں سے ہیں بیزار! یہ سب جھوٹے ہیں
مال و دولت کے ہیں طلبگار! یہ سب جھوٹے ہیں
فانی دنیا کے ہیں پرستار! یہ سب جھوٹے ہیں
خود بھی جھوٹے ہیں یہ جھوٹوں سے شناسائی ہے
دور کا دور یہ دجال کا لالائی ہے
(374)
برقی تنویر سے سائنس کا جہاں روشن ہے
آہ روشن ہے نہ سینے میں فغاں روشن ہے
سودِ ظلمات کے پردوں میں زیاں روشن ہے
تیرہ افکار میں اک قلبِ طپاں روشن ہے
برق افروز کہوں روشن و بیدار کہوں
کیونکر اس ظلمتِ ظلمات کو انوار کہوں
(375)
تیرہ قلبی میں غم و رنج کی ارزانی ہے
حرصِ دنیا میں غمِ گنج کی ارزانی ہے
دردِ بے سوزِ جگر سنج کی ارزانی ہے
فرقِ افکار پہ بس گنج کی ارزانی ہے
فکر و افکار تڑپتے ہیں جو بیتابی میں
قلب رقصاں ہے شبِ تار کی مضرابی میں

(376)
یادِ معراج میں افلاک پہ انوار بھی دیکھ
اک چراغاں ہے فلک پہ نور کے انبار بھی دیکھ
لہلہاتے ہوئے چراغوں کے چمن زار بھی دیکھ
سر مگین رنگتِ افلاک میں گلنار بھی دیکھ
اے پہ اس ارضِ حزیں شام کی تنہائی میں
آہ ریزی ہے لبِ حزن کی شہنائی میں
(377)
کوک کوئل کی یہ کُو قمری ءِ بیتاب کی سن
صوت بے تابِ جگر دوز یہ فاراب کی سن
داستاں لختِ دل و دیدہء خونناب کی سن
اور فریاد غمِِِ آہِ جگر آب کی سن
ایک دنیا ہے کہ بیتاب اسی عشق میں ہے
اک جہاں دیدہء خونناب اسی عشق میں ہےَََََََِِِِِ
َََََََِِِِِ (378)
وہ جو کہتے ہیں کہ دنیا کا سماں اچھا ہے
اور کہتے ہیں کہ موجودہ زماں اچھا ہے
عصرِ پنہاں سے کہیں عصرِ عیاں اچھا ہے
دودِ دوزخ سے یہ انجن کا دھواں اچھا ہے
علمِ حاضر میں قیامت کا جو انکار کریں
کاش نظارہ جہنم کا وہ اکبار کریں

(379)
کاسہء صبر ادھر دور کا لبریز بھی ہے
آنکھ سلطانِ جہاں دار کی خونریز بھی ہے
تیغ جلاد کے ہاتھوں میں ہے اب تیز بھی ہے
اور آمادہ بہ پیکار ہے چنگیز بھی ہے
تیور افلاک کے اے کاش کہ بندے دیکھیں
اور دنیا میں وہ اس دور کے پھندے دیکھیں
(380)
اے پہ مخلوق یہ اس دورِ غلط کار کی دیکھ
دیکھ مخلوق یہ اس عصر کے سنسار کی دیکھ
دیکھ مخلوق یہ اس دورِ شرربار کی دیکھ
اور مخلوق یہ اس دورکِ بیدار کی دیکھ
ارضِ خونخوار درندوں کی جنم بھومی دیکھ
اور اسلام کی اس دور میں مظلومی دیکھ
(381)
زلزلہء قہر میں کہسار یہ اٹھتے دیکھیں
غلغلہء قہر میں یلغار یہ اٹھتے دیکھیں
ولولہء قہر میں پیکار یہ اٹھتے دیکھیں
جلجلہء قہر میں قہار یہ اٹھتے دیکھیں
لفظ جبریل کے سینے سے ابل پڑتا ہے
قوسِ افلاک بھی کھچتی ہے کہ بل پڑتا ہے

(382)
کون سمجھے گا مری بات جو عرفانی ہے
ہر طرف عقلِ فسوس ساز کی سلطانی ہے
دل میں گردابِ جہاں گرد کی جولانی ہے
داستاں دردِ جگر سوز کی طولانی ہے
ڈھونڈھتی ہیں یہ نگاہیں کہ ہے اقبالؒ کہاں
وہ جو جبریل کے اس دل کا سنے حال کہاں
(383)
کیا غلط بات یہ جبریل نے کہہ ڈالی ہے
گو کہ دنیا میں بپا فتنہء دجالی ہے
گو کہ دنیا میں رہ و رسم کی نقالی ہے
بات جبریل کی کچھ ایسے اثر والی ہے
قلبِِ مومن ہو تو گھر قلب میں کر جاتی ہے
بے اجازت یہ تیرے دل میں اتر جاتی ہے
(384)
دور جس بات کو سمجھے ہو بہت دور نہیں
ہر زماں پردہء تقدیر میں مستور نہیں
تیغِ حق قائلِ تاخیر ہے مجبور نہیں
طاغیا ظلم کسی دور میں منصور نہیں
وقت آیا ہے کہ اب غافلِ مغرور سنیں
گونج نوبت کی جو اٹھی ہے کہیں دور سنیں

(385)
وہ جو قدرت کی مکافات و سزا سے نہ ڈریں
وہ جو دنیا میں قوانینِ خدا سے نہ ڈریں
وہ جو تقدیر کی فریادِ بکا سے نہ ڈریں
وہ جو سر پنجہ ءِ خونینِ قضا سے نہ ڈریں
مارے جائیں گے وہ تقدیر کے مارے ظالم
چرخِ الحاد کے وہ دمدار ستارے ظالم
(386)
دستِ الحاد نے جو مذہب کی کمر توڑی ہے
اک قیامت ہے کہ بالائے حَشَر توڑی ہے
تیغِ دیں توڑ کے مذہب کی سپر توڑی ہے
تو یہ کہتا ہے کہاں کیسے کدھر توڑی ہے
جھانک لے قلبِ سیاہ پوش کی پنہایوں میں
ہے کہیں نور بھی ظلمات کی گہرائیوں میں
(387)
جھلملاتی ہوئی انوار کی بے تابی میں
قلبِ مضطر کی قمر پاشی و سیمابی میں
قمقمہء برق کی تنویر کی شادابی میں
سوزِ بیکن میں رواں نغمہء فارابی میں
مارِ سیمابی ءِ بیتاب ہیں لہراتے ہیں
نیلگوں نگہہِ فسوں ساز کو سہلاتے ہیں

(388)
ََََِِجھلملاتی ہوئی انوار کی بے تابی میں
قلبِ مضطر کی قمر پاشی و سیمابی میں
قمقمہء برق کی تنویر کی گراں خوابی میں
سوزِ بیکن میں رواں نغمہ ءِ فارابی میں
مارِ سیمابی ءِ بیتاب ہیں لہراتے ہیں
نیلگوں نگہہِ فسوس ساز کو سہلاتے ہیں
(389)
دورِ چالاک کا کیا سامری چالاک ہوا
دہر گؤسالہ پرستی میں طربناک ہوا
سامری اپنے کمالات میں بے باک ہوا
جگر اس دور پہ موسیٰ کا دو صد چاک ہوا
طورِ بے نور پہ اس دور کا موسائے کلیم
حیف مصروفِ تکلم ہے بہ ابلیسِ رجیم
(390)
ہائے اس دور میں اسلام کی عظمت نہ رہی
مرگِ جبریل کہ اس نام کی عظمت نہ رہی
داورِ حشر کے پیغام کی عظمت نہ رہی
گردنِ کفر پہ صمصام کی عظمت نہ رہی
کھو گئے حرصِ ہوسکار میں انوار سبھی
ہو گئے علمِ نگوں سار میں سرشار سبھی

(391)
دردِ ہجراں میں غمِ دل کی تسلی ہی بھلی
اہلِ حرماں کے لئے فخر و تعلی ہی بھلی
مردِ ناداں کے لئے جھوٹی تسلی ہی بھلی
جھوٹے انساں سے کہیں خلی و ولی ہی بھلی
اور اس دور میں مومن کی مناجات بھلی
دورِ تاریک میں ایماں کی محاکات بھلی
(392)
دردِ ہجراں میں غمِ دل کی تسلی ہی بھلی
اہلِ حرماں کے لئے فخر و تعلی ہی بھلی
چشمِ ناداں کے لئے تیرہ تسلی ہی بھلی
جھوٹے انساں سے کہیں خلی و ولی ہی بھلی
اور اس دور میں مومن کی مناجات بھلی
دورِ بے نور میں ایماں کی محاکات بھلی
(393)
گنجِ اسرارِ حقیقت کا امیں سوتا ہے
زیرِ انوار سرِ عرشِ بریں سوتا ہے
نورِ قراں کی تجلی میں حزیں سوتا ہے
مرگِ ظلمات کے پردوں میں کہیں سوتا ہے
چشمِ افلاک سے جب اشکِ سحر گرتے ہیں
روئے بے ہوش پہ صد لعل و گہر گرتے ہیں

(394)
گنجِ اسرارِ حقیقت کا امیں سوتا ہے
زیرِ انوار سرِ عرشِ بریں سوتا ہے
نورِ قراں کی تجلی میں حزیں سوتا ہے
مرگِ ظلمات کے پردوں میں کہیں سوتا ہے
چشمِ افلاک سے جب اشکِ سحر گرتے ہیں
خورشید و قمر گرتے ہیں انوارِ گہر گرتے ہیں
(395)
سونے والوں سے کوئی جا کے یہ پیغام کہے
مرقدِ ملتِ مسلم پہ سرِ شام کہے
غم کی آوازِ المناک میں اسلام کہے
پھر جگر تھام کے افسانہء ایام کہے
اے زمانے میں کہیں یوں بھی کوئی سوتا ہے
خوابِ خرگوش میں مدہوش کوئی ہوتا ہے
(396)
خلق جاگی ہے پہ افسوس کہ تو سوتا ہے
کہفِ دوراں میں کہیں عالمِ ہُو سوتا ہے
قلبِ بے جان کے گوشوں میں لہو سوتا ہے
چادرِ دور پہ تُو مثلِ رفو سوتا ہے
اے فلاں ابنِ فلاں ابنِ فلاں جاگو گے
خفتہ بخت آج نہ جاگے تو کہاں جاگو گے

(397)
خونِ عنابی ءِ عشاق کی تنویر ہے یہ
نورِ آفاقِ شفق رنگ کی تصویر ہے یہ
خونِ رمانی ءِ پُر نورِ شفق گیر ہے یہ
شمعِ خورشید پسِ ابرکِ قوریر ہے یہ
قلبِ بے تاب میں ہجراں کی یہ بیتابی ہے
اشکِ گلگونِ شفق بیز جو عنابی ہے
(398)
خونِ مسلم کی یہ حمرت ہے کہ دوشالہ ہے
ملکہ ءِ دہر نے آفاق پہ لا ڈالا ہے
ابرِ رمانی ءِ خوں پاش ہے پرژالہ ہے
حسن اس حسنِ شفق رنگ میں دوبالا ہے
درزی ءِ دور نے تارے بھی یہ کیا ٹانکے ہیں
اشکِ مسلم کے ستارے بھی یہ کیا ٹانکے ہیں
(399)
دیکھ ادھر دیں میں ابھی جاں کی رمق باقی ہے
لاشہء دیں کے چہرے پہ قلق باقی ہے
خونِ شبیرؓ کی لالی میں شفق باقی ہے
بے خبر ہوش میں آ دہر میں حق باقی ہے
اور الحاد کے زوالوں کا یہ آغآز بھی دیکھ
حق کی آواز ہے یہ جبریل کی آواز بھی دیکھ

(400)
دیکھ ادھر دیں میں ابھی جاں کی رمق باقی ہے
لاشہء دیں کے چہرے پہ قلق باقی ہے
خونِ شبیرؓ کی لالی میں شفق باقی ہے
بیخبر ہوش میں آ دہر میں حق باقی ہے
دورِ الحاد کے زوالوں کا یہ آغاز بھی دیکھ
آسمانوں سے لپکتی ہے یہ آواز بھی دیکھ
(401)
آنکھ روتی ہے مگر دل میں خموشی کیوں ہے
قطعِ امید پہ یہ قلب فروشی کیوں ہے
نطقِ بے ہوش پہ ادراکِ بدوشی کیوں ہے
روحِ مدہوش میں بے نطق سروشی کیوں ہے
نگہہِ خامش سے گریں اشکِ جگر کیا معنی
آنکھ ہوتی ہے یہاں رشکِ سحر کیا معنی
(402)
خونِ اسلام کی موجوں میں جہاں تیرے گا
دورِ مدینہ کا پہلا وہ سماں تیرے گا
ڈوب کر دود و دخاں حقِ رواں تیرے گا
عرشہءِ نور سماواتِ عیاں تیرے گا
ڈوب جائے گا تیرا دورِ مشین زاد کہیں
چمنی ملوں کی کہیں انجنِ فولاد کہیں

(403)
خونِ اسلام کی موجوں میں کہیں ڈوبے گا
بحرِ مردار میں اب لے کے مشیں ڈوبے گا
خاک زادہ ہے کہیں زیرِ زمیں ڈوبے گا
اٹھا ہے خندہ زناں چیں بہ جبیں ڈوبے گا
ڈوب جائے گا یہ ہنگامہء بے نور کبھی
چاہِ ظلمات کے پہلو میں یہ شبکور کبھی
(404)
خونِ اسلام کی موجوں میں جہاں ڈوبے گا
اپنے انجام کی موجوں میں رواں ڈوبے گا
جھوٹے نمرود کا فردوس و جناں ڈوبے گا
فانی ارماں میں کراں تا بہ کراں ڈوبے گا
گرمئی خونِ مسلماں میں یہ جل جائیں گے
حسن اس گیسوئے شداد کے ڈھل جائیں گے
(405)
دستِ دجال میں مجبور ہے انگریز بھی ہے
مکرِ دجال ستم گر کا الم خیز بھی ہے
برلن اس آگ میں مجبور ہے تبریز بھی ہے
بیکن اس سحر کا نخچیر ہے پرویز بھی ہے
ترس آتا ہے نئے عصر کی مجبوری پہ
دہر بریاں ہے نئے دور کی تنوری پہ

(406)
مسلم اس دور میں پھرتے ہیں جو گھبرائے ہوئے
اور پھرتے ہیں یہ اسلام سے کترائے ہوئے
دورِ گردابِ مکافات میں چکرائے ہوئے
ہاتھ ہر سمت ہیں محتاج یہ پھیلائے ہوئے
دشتِ الحاد میں یہ آوارہ ہوئے پھرتے ہیں
راہِ بے آب میں بے چارہ ہوئے پھرتے ہیں
(407)
دیکھ اس دورِ یہودی کی حکومت کا قیام
اور پھر دیکھ زمانے میں یہودی یہ نظام
دیکھ پھر دستِ یہودی میں زمانے کی زمام
تو نہ سمجھے تو تیری اپنی فراست کو سلام
مادی اقدار کے انداز یہ سودی دیکھو
اور اس دور کے اندازِ یہودی دیکھو
(408)
اولیا دورہء دجال میں روپوش ہوئے
فتنہ آشوبیِ دجال میں بے ہوش ہوئے
گوشہء قبر میں اس خوف سے خاموش ہوئے
اے پہ نقارہء پیکار پہ صد گوش ہوئے
وقت آیا ہے کہ از بہر وغا اٹھیں گے
جنگِ دجال میں طوفانِ صفا اٹھیں گے

(409)
اولیا دور کی اس چال سے بیزار ہوئے
مکرِ دجالی ءِ دجال سے بیزار ہوئے
رسمِ نقالی ءِ نقال سے بیزار ہوئے
دورِ بقالی ءِ بقال سے بیزار ہوئے
کھو گئے فکرتِ خاموش کی خاموشی میں
سو گئے ذکرتِ مدہوش کی مدہوشی میں
(410)
قلبِ عاشق سے جو افلاک پہ آہ اٹھی ہے
گرمی ءِ سوز سے پُردودِ سیاہ اٹھی ہے
سینہء عرش پہ افلاکِ براہ اٹھی ہے
سرعتِ برق سے مانندِ نگاہ اٹھی ہے
مسکراتا ہے لبِ عرش کہ آہ اٹھی ہے
مسکنِ آدمِ خاکی کی پناہ اٹھی ہے
(411)
اے سیاہ بخت وہ اس دور میں پیدا جو ہوئے
ولولہء مستی ءِ بے سوز پہ شیدا جو ہوئے
نقشِ ہستی پہ وہ اس طور ہویدا جو ہوئے
دامِ نقاشِ قریں فور کے صَید آج ہوئے
صبحِ بے نور کی ظلمات میں دیوانہ پھریں
دورِ بے طور کی اس رات میں دیوانہ پھریں

(412)
اے سیاہ بخت وہ اس دور میں پیدا جو ہوئے
نقشِ ہستی پہ وہ اس طَور ہویدا جو ہوئے
جلوہء دورک دوں فور پہ شیدا جو ہوئے
دامِ تذویرِ قریں غور کے صیدا جو ہوئے
صبح بے نور کی ظلمت میں جو دیوانہ پھریں
شمع ءِ بے نور کی ظلمت میں وہ پروانہ پھریں
(413)
فقر معدوم ہوا اس دور کے رہنے والو
فقر محروم ہوا اس دور کے رہنے والو
فقر مذموم ہوا اس دور کے رہنے والو
فقر مظلوم ہوا اس دور کے رہنے والو
دورِ بے فقر میں اب فقر کی تلوار نہیں
فقر دنیا میں کہیں آج وہ پیکار نہیں
(414)
فقرُ فخری جو حدیثوں میں ہے مرغوبِ حدیث
ہر زمانے میں مسلماں کی یہ محبوبِ حدیث
سرِ اسرار حقیقت میں بہت خوبِ حدیث
اے پہ ہیہات ہوئی آج یہ محجوبِ حدیث
فقر و فخری کی حقیقت کو بھلا بیٹھے ہیں
نورِ عرفاں کو وہ ظلمت میں سلا بیٹھے ہیں

(415)
فقرُ فخری کے تقاضوں کو سمجھتے بھی نہیں
فقرِ غیور کے رازوں کو سمجھتے بھی نہیں
شاہدِ فقر کے نازوں کو سمجھتے بھی نہیں
فقرِ باطن کے نیازوں کو سمجھتے بھی نہیں
فقرِبے لوث کو وہ رسمِ گدائی سمجھے
مال و دولت کو مگر فخرِ خدائی سمجھے
(416)
فقر اک برق زمیں تابِ زیاں سوز بھی ہے
فقر اک تیغِ زمیں بوسِ فلک دوز بھی ہے
فقر اک ہیبتِ دلپاش ہے فیروز بھی ہے
فقر فرعوں کے لئے آفتِ بدروز بھی ہے
دیں کی دجال کی پیکار میں تلوار بھی ہے
دمِ عیسی ہے یہی ماحی ءِ کُفَار بھی ہے
(417)
ترکِ دنیا کی بھی اس دور میں کیا بات کہی
ہائے ہیہات یہ کیا بات یہ ہیہات کہی
اپنی ہستی سے یہ کیا ترکِ موالات کہی
فانی دو روز کی ہستی پہ یہ صَلَوات کہی
ترکِ دنیا کی حقیقت کو قلندر جانیں
گلخن مادہ پرستی کے سَمندر جانیں

(418)
غربت ہر دور میں ذلت کی علم دار رہی
غربت ہر دور کی آنکھوں میں نگوں سار رہی
ننگ و بے چارہ و ذلت کش و نادار رہی
فقر و دولت میں ہمیشہ یہ خلفشار رہی
اے پہ اس دور میں تذلیل جو افلاس کی ہے
نگہہ قراں میں ہے وہی حضرتِ خناس کی ہے
(419)
دل کا افلاس حقیقت میں ہے افلاس یہی
اصلِ افلاس حقیقت میں ہے احساس یہی
رازِ افلاس ہے کیا باطنِ پُر یاس یہی
قلبِ مفلس میں ہے شیطاں کا وسواس یہی
قلبِ مفلس کا زمانے میں جو دیوالہ ہے
رنگِ افلاس کا اس دور میں دو بالا ہے
(420)
آج دنیا میں کہیں ایک بھی درویش نہیں
ہے بھی دنیا میں کوئی مردِ صفا کیش کہیں
شکم اندیش تو ہیں عاقبت اندیش نہیں
بسکہ مجبور ہیں فارغ ز کم و بیش نہیں
کوئی اس دور میں اللہ کا متوالا ہو
جس کے لالچ کو محبت نے جلا ڈالا ہو

(421)
مدعی آج فقیری کے کئی ڈھنگی ہیں
سیمیائی ہیں فسوں کار ہیں نیرنگی ہیں
زنگی اقلیمِ فقیری کے مہا زنگی ہیں
یہ دو رنگی ہیں سہ رنگی ہیں یہ صد رنگی ہیں
مدعی آج فقیری کے نہ ڈھنگی ہوتے
کلمہ گو دورِ فلاکت کے نہ زنگی ہوتے
(422)
شمعِ لولاک کے دلچاک وہ پروانے پھر
زلفِ لولاک کے پیچاک کے دیوانے پھر
سِر لولاک کے ادراک کے فرزانے پھر
لے کے سر چشمہء لولاک کے میخانے پھر
دیکھئے موت کی غفلت سے وہ بیدار ہوئے
مدعی حقِ ولائیت کے نمودار ہوئے
ََََِِِِِ (423)
زندگی اصلِ حقیقت پہ وہ قرباں جو کریں
مشکل انساں کی مصیبت میں وہ آساں جو کریں
خوں وہ اوروں کے لئے نفس کا ارماں جو کریں
پیدا دنیا کے لئے درد کا درماں جو کریں
دیکھ اس دور میں بندے وہ کہیں آتے ہیں
شبِ تیرہ میں وہ رخشندہ جبیں آتے ہیں

(424)
پھر وہی رب کے طلب گارِ خدا دوست اٹھیں
پھر وہی رب کے وفادارِ وفا دوست اٹھیں
پھر وہی رب کے وفادارِ صفا دوست اٹھیں
پھر وہی رب کے علم دارِ بلا دوست اٹھیں
پلٹ کھاتا ہے جہاں تجھ کو خبر ہے کہ نہیں
پھر تڑپتی ہے اذاں تجھ کو خبر ہے کہ نہیں
(425)
اے خدا بھیج وہ اس دور میں بندے اپنے
کاٹ دیں زورِ کرامت سے وہ پھندے اپنے
کر سکیں پاک وہ برکات سے دھندے اپنے
پھیر دیں زورِ کرامت سے وہ مندے اپنے
توڑ کر فتنہء موجود کو غرقاب کریں
تیری دنیا کو ترے نام سے شاداب کریں
َ ََََََِِِِِ (426)
دیکھ دنیا میں وہ مردانِ خدا آتے ہیں
نورِ باطن کے دیئے صدق و صفا لاتے ہیں
فقر و درویشی و عرفاں کی غِنا لاتے ہیں
دکھی دنیا کے لئے دیکھ وہ کیا لاتے ہیں
دیکھ مدینے کی فضاؤں سے ہوا آتی ہے
دردمندوں کو مبارک ہو دوا آتی ہے

(427)
دورِ تیرہ میں وہ مردانِ خدا آتے ہیں
کفر و باطل کے مقابل پہ دعا آتے ہیں
قلبِ بے لوث و رخِ صدق و صفا آتے ہیں
گرم و سر گر م و ہ سر گرمِ و غا آ تے ہیں
گر م و سر گر م و ہ سر گرمِ و غا آ تے ہیں
کلمہ ء حق کی تنویرِ لوا آ تے ہیں
(428)
پھر ترے دور میں مردانِ حجازی آئے
لے کے قران وہ بطحا کے نمازی آئے
اے کفن باندھ کے مقتل میں یہ غازی آئے
جیتنے ملتِ مرحوم کی بازی آئے
دیکھ ہر مشکل و آساں کے خریدار آئے
جان دینے کو یہ ایماں کے خریدار آئے
(429)
شمع ءِ لولاک پہ جلتے ہوئے پروانے پھر
وہ جگر چاک تڑپتے ہوئے دیوانے پھر
سِرِ لولاک کے پہلے وہی فرزانے پھر
کھل گئے بادہ ءِ عرفاں کے میخانے پھر
آ دو سہ جام بنو شیم و خدا مست شویم
باز در مستی ءِ پارینہء ما مست شویم

(430)
دورِ تیرہ میں وہ درمان و دوا لاتے ہیں
نورِ باطن کے دیئے صدق و صفا لاتے ہیں
فقر و درویشی و عرفاں کی غنا لاتے ہیں
دکھی دنیا کے لئے دیکھ وہ کیا لاتے ہیں
دیکھ مدینے کی فضاؤں سے ہوا آتی ہے
درد مندوں کو مبارک ہو دوا آتی ہے
(431)
پھر مساجد میں وہ مردانِ جگر تاب آئیں
روحِ سرمستی و سرمستی ءِ شاداب آئیں
مست و سرمست و خدا مست وہ سیلاب آئیں
خود فراموش و خدا آگہہِ نایاب آئیں
ہیں کہیں دیکھ وہ مردانِ خدا دوست یہیں
ڈھونڈھ انہیں ڈھونڈھ زمانے میں قضا دوست کہیں
(432)
دیکھ دنیا میں وہ مردانِِِ خدا آتے ہیں
کفر و باطل کے مقابل پہ دعا آتے ہیں
قلبِ بے لوث و رخِ صدق و صفا آتے ہیں
گرم و دل نرم وہ سرگرمِ وغا آتے ہیں
بن کے یژب کی فضاؤں سے ہوا آتے ہیں
تیرے ہر درد کا درمان و دوا آتے ہیں

(433)
داستاں اپنی مصیبت کی مجھے یاد بھی ہے
ہمنوایانِ مصیب سے یہ دل شاد بھی ہے
یاد مجھ کو وہ غم و درد کی روداد بھی ہے
ہے ندیمانِ شبِ درد سے آباد بھی ہے
یاد کرتا ہوں تمھیں آہِ دل زار سے میں
یاد کرتا ہوں تمھیں اشکِ شبِ تار سے میں
َ ََِِِ (434)
حاجیا حجِ محالات سے کیا لایا ہے
مَروہ و اسود و عرفات سے کیا لایا ہے
اپنے مولا کی موالات سے کیا لایا ہے
منبع و مخرجِ برکات سے کیا لایا ہے
داغِ عصیاں کا بھی کچھ دل سے دھلا ہے کہ نہیں
باغ عرفاں کا بھی کچھ دل میں کِھلا ہے کہ نہیں
(435)
راہِ مکہ میں مسافر پہ نوازش بھی وہی
حبِ بے لوث و مدارات ہے بے غش بھی وہی
جلوہء حسنِ ضیافت کی ہے نازش بھی وہی
لفظِ شیرین و سخاوت کی ہے سازش بھی وہی
اب بھی الفت سے گلے مل کے جبیں بوس کریں
تا وہ مہجوری و غربت کا نہ افسوس کریں

(436)
دورِ مکہ میں وہ انوار کی باراں بھی وہی؟
ہے دلِ دوست میں کیا محفلِ یاراں بھی وہی؟
چاہِ زمزم بھی وہی جلوہء فاراں بھی وہی؟
عہدِ رنگینی ءِ ایماں کی بہاراں بھی وہی
ہے وہی حسرت ابھی شعبِ ابی طالب میں
ہے وہی ہیبت ابھی صوتِ علیؓ غالب میں
(437)
شوقِ دیدار میں کیا مثلِ ہوا جاتے ہیں
اڑ کے اس طیرِ سبک سیر پہ کیا جاتے ہیں
سوئے لبیک وہ مانندِ صدا جاتے ہیں
بن کے مولا کے ٹکانوں میں ہوا جاتے ہیں
حجِ بادی سے پلٹتے ہیں تو کیا ہوتی ہے
خواب ہوتی ہے خیالوں میں ہوا ہوتی ہے
(438)
گنبدِ روضہء خضرا سے شعاع اٹھی ہے
رقصِ توحید میں تنویرِ سماع اٹھی ہے
لیلتہ القدر میں جنت کی متاع اٹھی ہے
تیرگی دہر سے از بہرِ وداع اٹھی ہے
نورِ تنویرِ محمد ﷺ سے جہاں روشن ہے
کون روشن ہے زمانے میں مکاں روشن ہے

(439)
گنبدِ روضہء خضرا سے شعاع اٹھی ہے
حسنِ یزداں سے یہ تنویرِ سماع اٹھی ہے
لیلتہ القدر میں جنت کی متاع اٹھی ہے
ظلمت اس دہر سے از بہرِ وداع اٹھی ہے
نورِ تنویرِ محمد ﷺ سے جہاں روشن ہے
کون روشن ہے زمانے میں مکاں روشن ہے
(440)
قلبِ مومن میں جھلکتے ہوئے اسرار ہیں کیا
فکرِ مومن میں چمکتے ہوئے اظہار ہیں کیا
ذکرِ مومن میں مہکتے ہوئے گلزار ہیں کیا
چشمِ مومن میں لہکتے ہوئے انوار ہیں کیا
قلب مومن میں جھلکتے ہوئے اسرار سنیں
مژدہ اس دورِ زمیں گرد کے بیمار سنیں
(441)
قلبِ مومن میں جھلکتے ہوئے اسرار ہیں کیا
فکرِ مومن میں چمکتے ہوئے اظہار ہیں کیا
ذکرِ مومن میں مہکتے ہوئے گلزار ہیں کیا
چشمِ مومن میں لہکتے ہوئے انوار ہیں کیا
گفتِ جبریل دہکتا ہوا شرار بھی ہے
دستِ مومن میں لہکتی ہوئی تلوار بھی ہے

(442)
قلبِ مومن میں جھلکتے ہوئے اسرار ہیں کیا
فکرِ مومن میں چمکتے ہوئے اظہار ہیں کیا
ذکرِ مومن میں مہکتے ہوئے گلزار ہیں کیا
چشمِ مومن میں لہکتے ہوئے انوار ہیں کیا
گفتِ جبریل دہکتا ہوا شرار بھی ہے
قلبِ مومن میں مہکتا ہوا گلزار بھی ہے
(443)
سوزِ تکبیر میں مومن کی اذانیں بھی سنوں
قتلِ شبیرؓ پہ باطن کی فغانیں بھی سنوں
دستِ تقدیر میں خاموش زبانیں بھی سنوں
دامِ تذویر میں شیطاں کی ترانیں بھی سنوں
آ ادھر دل میں ذرا جھانک کے نظارہ کریں
نگہہ بے سوز کو اس آگ میں شرارہ کریں
(444)
بارقہءِ عشق نے اس دل کو نشیمن جو کیا
شعلہء عشق نے اس قلب کو گلخن جو کیا
مضطرب قلب نے اس نار کو تو سن جو کیا
خونفشاں آنکھ نے گلنار بدامن جو کیا
طورِ سینا ہے رخِ دوست ہے بیتابی ہے
نارِ نمرود میں فردوس کی شادابی ہے

(445)
جان جبریل خدا مست کی شاداں جو ہوئی
قوم جبریل کی جبریل پہ نازاں جو ہوئی
لوحِ تقدیر بھی جبریل کی خنداں جو ہوئی
جوئے فرہاد بھی جبریل پہ آساں جو ہوئی
حدیں عقبی کی جو دنیا پہ جھکا ڈالی ہیں
سات نہریں ہیں کہ جبریل نے لا ڈالی ہیں
(446)
بارقہء حسنِ جہاں سوز نے کیا کام کیا
طشت اس دورِ خرافات کا ازبام کیا
قلبہء کفرِ مشیں زاد میں قتلام کیا
حرفِ جبریل کو اس دور میں صمصام کیا
پھر وہی دورِ سلیماں کا نگیں دیکھیں گے
شعلۂ برقِ جہاں سوزِ مبیں دیکھیں گے
(447)
ڈر ہے جبریل کی قندیل سے محروم رہے
قوم جبریل کی جبریل سے محروم رہے
وادیِ نیل کہیں نیل سے محروم رہے
رازِ سربستہ نہ ترسیل سے محروم رہے
جادہءِ منزلِ اسلام کو پُرخار کہیں
مشعلِ راہِ ہدایت اسے اغیار کہیں

(448)
نگہہِ فیضانِ محمد ﷺ کی یہ تابانی ہے
طبعِ جبریل میں طوفاں کی جو جولانی ہے
ملکِ اسرار میں جبریل کی سلطانی ہے
آگ ہے عشق ہے گلخن ہے قراں خوانی ہے
کس کے پرتو کی تجلی سے وہ جمشید ہوا
ہفت افلاک و سماوا میں وہ خورشید ہوا
(449)
شوقِ پرواز میں جبریل نے پَر تول دیئے
آسمانوں کے ملائک نے بھی در کھول دیئے
تیرہ آفاق نے خورشید و قمر کھول دیئے
لیلِ دیجور نے انوارِ سحر کھول دیئے
تھم گئی دیدہء شاہیں میں خدائی ساری
سو گئی چشمِ خدا بیں میں خدائی ساری
(450)
میں نہ طوفانِ جہاں خیز نہ کوہِ ریز ہوں میں
میں نہ طوفانِ زمیں در نہ یمِ تیز ہوں میں
صاعقہءِ نار فشاں ہوں نہ شرر بیز ہوں میں
جنبشِ جوشِ زلازل ہوں نہ کاں خیز ہوں میں
ایک جھونکا ہوں میں لاہوت کی پہنائیوں میں
چھپ کے پھرتا ہوں تیرے درد کی گہرائیوں میں

(451)
اور طوفانِ جہاں ریز بھی کوہِ خیز بھی ہوں
شورِ طوفانِ جہاں لرز و یمِ تیز بھی ہوں
صاعقہء نارفشاں برقِ شرر بیز بھی ہوں
جنبشِ جوشِ زلازل بھی ہوں کاں ریز بھی ہوں
ایک طوفانِ قیامت ہوں کہ جبریل ہوں میں
اور مومن کو بشارت ہو کہ قندیل ہوں میں
(452)
زلزلہء حشر میرے دل میں اٹھایا کس نے
بیخ و بنیاد سے البرز ہلایا کس نے
پردہ اس آنکھ سے عقبی کا ہٹایا کس نے
پھونک کر سازِ سرافیل سنایا کس نے
کوند کر برق نے اس دل کو جلایا کیسے
اک سلگتے ہوئے عالم کو جگایا کیسے
(453)
خاکدانوں کا دیا علم جسے مولا نے
لامکانوں کا دیا علم جسے مولا نے
آسمانوں کا دیا علم جسے مولا نے
دو جہانوں کا دیا علم جسے مولا نے
ہے وہ جبریل کہ سر شکر سے جھک جاتا ہے
فرطِ حیرت میں کبھی سانس بھی رک جاتا ہے

(454)
نگہہِ جبریل جو پتھر سے گذر جاتی ہے
نگہہِ جبریل جو پتھر کو بھی برماتی ہے
نگہہِ جبریل جو عقبیٰ کی خبر لاتی ہے
نگہہِ جبریل جو ظلمت میں قمر لاتی ہے
نہ مدارس میں نہ کالج میں بنائی یہ گئی
مکتب خضر میں حقا کہ سدھائی یہ گئی
(455)
ہاں تو جبریل کو ہر علم سکھایا کس نے
سینہء جبریل کا انوار بنایا کس نے
پردہ جبریل کی آنکھوں سے اٹھایا کس نے
منظر افلاک و سماوا کا دکھایا کس نے
مدعی کون ہے جبریل کی استادی کا
رہنما کون ہے اس دور کے فریادی کا
ََََََََََََََََِِِِ (456)
یہ محمد ﷺ ہیں کہ اس شیر کو جبریل کریں
عصرِ موجود کے اندھیر میں قندیل کریں
گنجِ اسرار کی زنبیل کی تحویل کریں
قلبہء خام کی اس دور میں تکمیل کریں
فیضِ انوارِ محمد ﷺ کے بھی کیا کہنے ہیں
آدمیت کے لئے کیا ہی عجب گہنے ہیں

(457)
کوہِ البرز و سلیماں کا پگلنا ممکن
بحرِ اطلانطس و قیانوس کا جلنا ممکن
کوہِ بے نار سے لاوے کا ابلنا ممکن
گورِ بے لاش سے مردے کا نکلنا ممکن
پہ تعجب ہے یہ جبریل کا سخنور ہونا
جادہء عشق میں زنجیر سے اژدھا ہونا
(458)
ََََََََََََََََِِِِِوائے بیدادی و بیدادی و بیدادی ہے
ذمے شاعر کے میری قوم کی بربادی ہے
شاعری سے جو مری قوم یہ فریادی ہے
مردِ بیمار کو ہر بات کی آزادی ہے
شعر بازی تو تیری داد کا آئینہ تھی
طبعِ ملت کی وہ افتاد کا آئینہ تھی
(459)
خود گنہگار ہو شاعر کو نہ بدنام کرو
پہلے اخلاقِ رزیلہ کو تو پرنام کرو
پھر تمنا ہے تمناؤں کی تو کچھ کام کرو
دل کو خوں کرکے زمانے میں کوئی کام کرو
پھر ذرا غور سے شاعر کا بدلنا دیکھو
اشعۂ شمس میں اس ثلج کا گلنا دیکھو

(460)
اور بہتر ہے کہ جبریل کو شاعر نہ کہو
اپنے اس دور کی قندیل کو شاعر نہ کہو
سرِ اسرار کی ترتیل کو شاعر نہ کہو
صفحہء حق کی تفصیل کو شاعر نہ کہو
قلبِ جبریل میں اس درد کا موزوں ہونا
ایک طوفانِ جہاں گرد کا موزوں ہونا
(461)
لفظِ جبریل میں ہیبت ہے زمینی بھی نہیں
یہ بیانی بھی مکانی بھی مکینی بھی نہیں
حسنِ گفتار کی فرخندہ جبینی بھی نہیں
رنگِ فنکار دو صد رو کی دوبینی بھی نہیں
آسمانوں میں سسکتی ہوئی آواز ہے یہ
قعرِلاہوت کی موجوں میں تگ و تاز ہے یہ
ََََََََََََََََِِ ِ ِِِِ (462)
گفتِ جبریل پرانی ہے پرانی بھی نہیں
عہدِ بیکار کی فرسودہ کہانی بھی نہیں
دورِ ماضی کی قدامت کی نشانی بھی نہیں
وہمِ باطل میں تخیل کی روانی بھی نہیں
بات جب حد سے گذرتی ہے نئی ہوتی ہے
چرخ پر جون گذرتا ہے مئی ہوتی ہے

(463)
صوتِ جبریل پرانی ہے پرانی بھی نہیں
شوخ و رنگین یہ اندازِ بیانی بھی نہیں
رنگِ فنکار کی اژرنگی و مانی بھی نہیں
دانش آموزیء ہر ہیچ مدانی بھی نہیں
بیٹھ جاتا ہے پہ دل ہیبتِ معلوم سے کیوں
برق گرتی ہے یہ کیا ظلمتِ حلقوم سے کیوں
(464)
ََََََََََََََََِِِِِِِصوتِ جبریل سہانی ہے پرانی بھی نہیں
نغز گو شاعرِ مفلق کی روانی بھی نہیں
ساحرِ لفظ کی اعجاز بیانی بھی نہیں
نقشِ اول بھی نہیں صورتِ ثانی بھی نہیں
قلبِ مجروح کی آوازِ المناک ہے یہ
دیدہء بازِ شہیدان جگر چاک ہے یہ
(465)
نورِخورشید فلک تابِ جہاں گیر بھی ہوں
قلبہء کفرِ سیاہ کار میں شمشیر بھی ہوں
پاک بیں دیدہء عشاق کی تنویر بھی ہوں
حسنِ لولاکِ جہاں تاب کا نخچیر بھی ہوں
نور و انوار کی ہستی ہے چراغاں جس سے
ذرہء نار ہے خورشیدِ بداماں جس سے

(466)
ہوس اس کارِ سخن رانی و لسانی کی
ہوس اس کارِ سخن دانی و حسانی کی
ہوس اس کارِ سخن بانی و سحبانی کی
ہوس اس کارِ سخن خوانی و جولانی کی
دلِ جبریل میں اٹھی ہے اٹھائی نہ گئی
دلِ قندیل میں اٹھی ہے اٹھائی نہ گئی
(467)
علم و فرقاں کا جو انداز ہے سن ! مجھ کو نہ دیکھ
قلبِ قراں کا یہی راز ہے سن ! مجھ کو نہ دیکھ
طور و فاراں کی یہ آواز ہے سن ! مجھ کو نہ دیکھ
کوئے عرفاں میں تگ و تاز ہے سن ! مجھ کو نہ دیکھ
اک معمہ ہوں کوئی دہر میں سلجھا نہ سکے
اور جبریل بھی اس بات کو الجھا نہ سکے ََََََََََََََََِِِِِِِ (468)
دیدہء شوق ہوں آغشتہ بخوں باز ہوں میں
قلبِ مجروحِ المناک کی آواز ہوں میں
نطقِ تقدیر کے پردوں میں دلِ ساز ہوں میں
چشمِ گردوں کی نگاہوں کی تگ و تاز ہوں میں
بارقہء حُسنِ جہاں سوز کا اعجاز بھی ہوں
تیری دنیا کی شبِ تار میں اک راز بھی ہوں

(469) َََََََََََََََِِِِِِِ
پھونک دیتی ہے جو خاشاک ! وہ چنگاری ہوں
پھونک دیتی ہے جو افلاک ! وہ چنگاری ہوں
پھونک دیتی ہے جو ناپاک ! وہ چنگاری ہوں
پھونک دیتی ہے جو ادراک ! وہ چنگاری ہوں
خود جگر چاک ہوں اوروں کو جگر چاک کروں
آادھر عشق کی بھٹی میں تجھے پاک کروں
(470)
چشمِ جبریل میں اب سہل و ادق روشن ہیں
نورِ قندیل میں اب چودہ طبق روشن ہیں
افق تکوین کے روشن ہیں شفق روشن ہیں
رنج اس دور کے روشن ہیں قلق روشن ہیں
سرِ اسرار سے آحمد ﷺ جسے دو چار کریں
اک تجلی میں اسے محرمِ اسرار کریں
(471) ََََََََََََََََِِِِِِِ
شیر ہوں شیر بپھرتا ہوا تنویروں میں
دستِ تقدیر نے جکڑا ہے پہ زنجیروں میں
بات دانش میں نہ بنتی ہے نہ تدبیروں میں
قوم خاموش ہے ان خون کی تحریروں میں
جب غضبناکی ءِ دوراں میں بپھر جاتا ہوں
اژدھاؤں کے کلیجے میں اتر جاتا ہوں

(472) َ ََََِِِِِِِ درگہہِ ذاتِ الہی میں ہے فریاد مری
دیکھ اس دور میں یوں حالتِ برباد مری
کون سنتا ہے کہ روداد ہے ناشاد مری
بے زبانی کی نگہباں ہے یہ روداد مری
حالتِ مسلمِ برباد پہ خوں روتا ہوں
ہائے بربادی ءِ ناداں پہ نگوں روتا ہوں
ََََََََََََََََِِِِِِِ (473)
آسماں ٹھہر کے سنتا ہے عجب راز ہے کیا
نعرہء مرد مجاہد کی یہ آواز ہے کیا
آ گئی مردِ مسلمان کو بھی پرواز ہے کیا
دورِ باطل کی قیامت کا یہ آغاز ہے کیا
آہ جبریل جگر دوز جگر چیر گئی
سینہء افلاک کا ہنگام سحر چیر گئی
(474)
عشقِ انوارِ الہی میں تونگر جبریل
آسمانوں میں لپکتا ہوا اژدر جبریل
عشقِ سرکارِ مدینہ میں بِدوں سر جبریل
اور اسلام کی حالت پہ ہے ششدر جبریل
اشکِ خونینِ دلِ ہجر پرستاں جبریل
دردِ خوں سوزِ جگر خواری ءِ مستاں جبریل

(475)
جنگ ہفتاد و دو ملت ہے میرے سینے میں
خاک و آتش کی ہے پیکار میرے جینے میں
آگ روشن ہے کلیجے کا لہو پینے میں
صَرف ہے چاکِ جگر چاکِ جگر سینے میں
اپنا سینہ ہے کہ میدانِ قیامت جبریل
خار زاروں میں ہے گلزارِ ندامت جبریل
(476)
اہلِ دل تیری محاکات پہ رویا بھی کریں
داغ دل کے وہ غم و درد میں دھویا بھی کریں
ہار اشکوں کے شبِ غم میں پرویا بھی کریں
گوہر اشک دلِ درد میں بویا بھی کریں
کون سمجھے گا تیرے غم کی نہائت جبریل
کون جانے گا تیرے درد کی غائت جبریل
ََََََََََََََََِِِِِِِ (477)
ہے جو اقبالؒ سو وہ محرمِ اسرار مرا
جادہء عشقِ جگر پاش میں ہے یار مرا
وہ سمجھتا ہے رہِ عشق میں آزار مرا
جس کے باطن میں ہے باطن یہ شرربار مرا
پرتوِ حسنِ محمد ﷺ کے یہ دیوانے ہیں
ایک ہی شمع ءِ جگر تاب کے پروانے ہیں

(478)
لمحہ فکر و نزاکت کو سمجھنے والا
میرے اس غم کی صداقت کو سمجھنے والا
حرفِ جبریل کی طاقت کو سمجھنے والا
اور وہ حقِ رفاقت کو سمجھنے والا
میرا اقبالؒ وہ دنیا سے نرالا اقبالؒ
دورِ تاریک مسلماں میں اجالا اقبالؒ
(479)
آج اقبالؒ جو ہوتا تو محاکات میری
دردِ بے لوث میں ڈوبی ہوئی ہر بات میری
قلب برباد سے اٹھی ہوئی ہیہات میری
درگہہِ ذاتِ الہیٰ میں مناجات میری
مجھ کو پاتا وہ غم و درد کی تصویروں میں
دل کی آہوں میں کہیں اشک کی زنجیروں میں
ََََََََََََََََِِِِِِِ (480)
آج اقبالؒ جو ہوتا تو محاکات میری
دردِ بے لوث میں ڈوبی ہوئی ہر بات میری
قلبِ برباد سے اٹھی ہوئی ہیہات میری
درگہۂ ذاتِ الہی میں مناجات میری
ہار کرتا وہ غم و درد کی تصویروں میں
دل کی آہوں میں کہیں اشک کی زنجیروں میں

(481)
قلبِ گردوں میں تڑپتی ہے اذاں سنتا ہوں
ایک طوفاں ہے تموج میں طپاں سنتا ہوں
شورِ خاموش کے پردوں میں فغاں سنتا ہوں
دیکھ انوار کی دنیا میں کہاں سنتا ہوں
یہ نہ بس حسنِ تخیل کی فسوں کاری ہے
اک حقیقت ہے پسِ قلب یقیں جاری ہے
(482)
سوزِ تکبیر میں مومن کی اذانیں بھی سنوں
غمِ شبیر علیہ السلام میں باطن کی فغانیں بھی سنوں
نطقِ تقدیر میں خاموش زبانیں بھی سنوں
دامِ تذویر میں شیطان کے ترانیں بھی سنوں
آ میرے دل میں ذرا جھانک کے نظارہ کریں
نگہہِ بے سوز کو اس آگ میں شرارہ کریں
(483)
سوزِ تکبیر نے قنبرؓ کا جگر پھونک دیا
آتشِ عشق میں صدیقؓ نے گھر پھونک دیا
سوزِ توحید نے عمارؓ و عمرؓ پھونک دیا
سوزِ قراں نے جو جبریل کا پَر پھونک دیا
مر کے پائی ہے میرے دوست اگر پائی ہے
جل کے پروانہء عاشق نے سحر پائی ہے

(484)
گفتِ جبریل اگر جفت بہ تقدیر نہ گشت
سوزِ جبریل اگر پیکرِ تنویر نہ گشت
دردِ جبریل اگر مائلِ تاثیر نہ گشت
آہِ جبریل اگر سوئے فلک تیر نہ گشت
شعلہء نُطق اگر تِیرے جگر دوزے نیست
حیف آں حرف کہ از دردِ جگر سوزے نیست
(485)
تیغِ قراں سے نیا فلسفہ تاراج کروں
میرے مولا دے تُو توفیق اسے آج کروں
دینِ بے ظلمتِ اسلام کو سرتاج کروں
فرقِ بیچارہ مسلماں پہ پھر تاج کروں
دیکھ لوں شوکتِ اسلام کی تصویر یہیں
دیکھ لوں کفر کے انجام کی تصویر یہیں
(486)
لاشہء دینِ محمد ﷺ پہ فلک روتے ہیں
تھام کر عرش کے پردوں کو ملک روتے ہیں
چشمِ ارماں کی نگاہوں میں قلق روتے ہیں
شامِ غمگیں کے گریباں میں شفق روتے ہیں
اور ابلیس کی آنکھوں میں تبسم کی بہار
جھلملاتی ہے لئے حسنِ شرارت کا نکھار

(487)
آج ملت میں کوئی زمزمہ پرداز نہیں
نارِ عشاق جگر خستہ غماز نہیں
عشقِ خوں سوزِ جگر گیر کی آواز نہیں
کوئی اس دور میں جبریل کا ہمراز نہیں
کس کے جلتے ہوئے سینے سے یہ بو اٹھی ہے
کون جانے گا شب نار میں ضو اٹھی ہے
(488)
آج ملت میں کہیں زمزمہ پرداز نہیں
بارقہء نارِ جہاں سوز کا غماز نہیں
عشقِ خوں سوز جگر گیر کی آواز نہیں
کوئی اس دور میں جبریل کا ہمراز نہیں
کس کے جلتے ہوئے سینے سے یہ بو اٹھی ہے
کون جانے گا شبِ تار میں ضو اٹھی ہے
(489)
قلبہء کفر سے شمشیرِ قراں پار کروں
دورِ بیکن کی شبِ تار میں انوار کروں
آئینہءِ عکسِِِ دروں فقر کو تلوار کروں
اے جنوں کار تجھے صاحبِ اسرار کروں
تیغِ قراں سے زمانے میں اجالا کر دوں
بول اسلام کا اس دور میں بالا کردوں

(490)
پھر کہیں کوئے محمد ﷺ میں بسیرا کر لوں
اپنے گرد آز کی دنیا سے اندھیرا کر لوں
کوئے محبوب کے گوشے میں سویرا کر لوں
شہرِ مدینہ کی کسی راہ پر ڈیرا کرلوں
کوئے محبوب میں بس دیدِ دوامی کافی
کوئے مدینہ میں محمد ﷺ کی غلامی کافی
(491)
میں نہ بیکن کی منازل سے گزر جاؤں گا
میں اسی راہ کی تقدیر میں مر جاؤں گا
جنگِ دجال میں بے خوف اتر جاؤں گا
کرکے سینے کو مقابل میں سپر جاؤں گا
گھاؤ پر گھاؤ رہِ حق میں یہاں کھاؤں گا
لعل عرفاں کے تری گود میں برساؤں گا
(492)
ڈارون کو جو کروں برد تو قراں سے کروں
خرِ آہن کو کروں سرد جو قراں سے کروں
باغِ الحاد کو کروں زرد جو قراں سے کروں
مردِ مومن کو کروں فرد جو قراں سے کروں
حشر اس فتنہءِ دانا میں جو برپا کر دوں
وا کو کہرام کی راہوں سے جو ویلا کر دوں

(493)
عرش و افلاک گلِ تر سے بہت دور بھی ہے
روضہء پاک میرے گھر سے بہت دور بھی ہے
حسنِ لولاک میرے بَر سے بہت دور بھی ہے
طورِ ادراک میرے سر سے بہت دور بھی ہے
دیدہء دل میں محمد ﷺ کو سما لیتا ہوں
سرِ اسرار کو اس دل میں چھپا لیتا ہوں
(494)
عشقِ صادق ہے تو تعذیر بدل ڈالوں گا
تیرِ افلاک کی تاثیر بدل ڈالوں گا
اس تیرے دور کی تصویر بدل ڈالوں گا
مردِ مومن ہوں تو تقدیر بدل ڈالوں گا
فرشِ ذلت سے تجھے عرش پہ لا ڈالوں گا
مئے تجھے عشقِ محمد ﷺ کی پلا ڈالوں گا
(495)
صوتِ جبریل پہ اک مردہ جہاں اٹھے گا
قبرِ خاموش سے کیا نوحہ کناں اٹھے گا
مرگِ بے سوز سے کیا قلبِ طپاں اٹھے گا
امرِ ربی سے وہ کیا مثلِ فکاں اٹھے گا
سوز بن بن کے تیرے دل میں جو چھا جاؤں گا
دیا اس دور سے الحاد کا بجھا جاؤں گا

(496)
شبِ ظلمات میں خاموش و نگوں روتا ہے
سینہ جبریل کا پھٹتا ہے تو خوں روتا ہے
منع کرتے ہیں جو رونے سے فزوں روتا ہے
دیکھ اس مرد کی حالت پہ جنوں روتا ہے
صبح ہوتی ہے تو ہر اشک میں خوں ہوتا ہے
آہِِِ دلدوز میں اندازِ فسوں روتا ہے
(497)
غم ہے جبریل کو دنیا کے مسلمانوں کا
غم ہے قندیل کو گذرے ہوئے پروانوں کا
غم ہے جبریل کو اجڑے ہوئے کاشانوں کا
دورِ اسلام کے بِسرے ہوئے افسانوں کا
یاد آتے ہیں جو گزرے ہوئے ایام اسے
بادہء نور میں ڈوبے ہوئے صد جام اسے
(498)
گنبدِ روضہء خضرا میں جِناں اس کی ہے
مسجدِ وادی ءِ بطحا میں اذاں اس کی ہے
ریگِ صحرائے عرب میں جو رواں اس کی ہے
اپنے محبوب کے صحرا میں فغاں اس کی ہے
روحِ مجنوں بھی ہے حیراں کہ یہاں کون ہے
یہ ہجر ِ محبوب میں آتش بہ رواں کون ہے یہ

(499)
آہ جبریل کی مائل بہ اثر ہوتی ہے
جاگ اے مسلمِ خفتہ کہ سحر ہوتی ہے
رات صدیوں کی جو آئی تھی بسر ہوتی ہے
سرمئی چادر مستورِ قمر ہوتی ہے
نور ہے نورٍ علیٰ نور خدائی ساری
نورِ ربی میں ہے مستور خدائی ساری
(500)
اشکِ جبریل جو آغشتہ بخوں ہوتا ہے
قلبِ جبریل میں گلزارِ جنوں ہوتا ہے
خالِ مشکیں میں قیامت کا فسوں ہوتا ہے
اشک آنکھوں میں نہ اے دوست نہ خوں ہوتا ہے
چہرہءِ دوست نگاہوں میں سماں ہوتا ہے
دہر ہوتا ہے نہ دنیا نہ جہاں ہوتا ہے
(501)
مجھ سے انوارِ فضیلت کی توقع بھی غلط
حسنِ پندارِ فضیلت کی توقع بھی غلط
شوقِ بیمارِ فضیلت کی توقع بھی غلط
برقِ دستارِ فضیلت کی توقع بھی غلط
خاک و خوں کی جو میرے جسم سے بو آتی ہے
چہرہءِ عشق پہ تنویر کی ضو آتی ہے

(502)
قلبِ جبریل سے جاہی کی توقع نہ کریں
تاج و اکلیل و کلاہی کی توقع نہ کریں
ملکِ پندار میں شاہی کی توقع نہ کریں
گلخن فقر میں ماہی کی توقع نہ کریں
ہوں مگر برق تباہ کار تکبّر کے لئے
ظلِ فردوس بھی ہوں عجز و تشکر کے لئے
َََََََِِِِِ (503)
تاج و اکلیل پہ اس فقر کو قرباں نہ کروں
دردِ بے فیض کو اس درد کا درماں نہ کروں
کوئے محبوب میں دیہیم کا ارماں نہ کروں
مشکل اپنی ہے کچھ ایسی کہ یہ آساں نہ کروں
مجھ کو مولا نے وہ عرفاں کی شہنشاہی دی
نالہء نیم شبی آہِ سحرگاہی دی
(504)
آسمانوں میں لپکتا ہوا شہباز ہوں میں
اور تقدیرِ جہاں گیر ہوں اک راز ہوں میں
عصرِ موجود کی تسخیر کا آغآز ہوں میں
حالیا ہوش کہ افلاک کی آواز ہوں میں
پھونک دوں آگ میں اس دورِ خرافات کو میں
لاؤں اس دور میں پھر رسمِ مکافات کو میں

(505)
قلبِ مومن ہے تو سمجھے گا یہ آواز مری
دل کی آواز میں پائے گا تگ و تاز میری
گفتِ دلسوز جگر دوز رواں ساز میری
کوئی سمجھے گا محاکات یہ ہمراز میری
ہیں جو انوار یہاں چشمِِ خدا بیں کے لئے
صوتِ جبریل میں شعلے ہیں شیاطیں کے لئے
(506)
آتشِ عشق نے جبریل کو جولانی دی
قلبِ سوزاں کو نئی آتشِ طولانی دی
دورِ اغراض میں ہمدردی ءِ انسانی دی
نوعِ انساں کے لئے الفتِ لا فانی دی
سجدہء شکر میں جبریل کا سر جھکتا ہے
اور سائے کی مثل شام و سحر جھکتا ہے
(507)
مشعلیں نور کی جلتی ہیں جو ویرانوں میں
شمعیں کافور کی جلتی ہیں جو ویرانوں میں
مشعلیں طور کی جلتی ہیں جو ویرانوں میں
مشعلیں دور کی جلتی ہیں جو ویرانوں میں
دمِ عارف کی جلائی ہوئی قندیلیں ہیں
عرشِ ربی سے بلائی ہوئی قندیلیں ہیں

(508)
تیری دنیا نے حقارت سے جو ٹھکرایا تھا
دہر دوناں نے جسے مست و غنی پایا تھا
قلبِ بے لوثِ خدا دوست کو برمایا تھا
قلبہء مومنِ معصوم کو دردایا تھا
یہ وہی راندہء درگاہِ زماں سازی ہے
آج مولا کی کرامت سے وہی غازی ہے
(509)
آسمانوں میں لپکتے ہوئے شہباز کہاں
سرِ تقدیرِ جہاں گیرِ دروں راز کہاں
دورِ موجودِ دروں سرد کے غماز کہاں
ہوں جو اس عصر کی تسخیر کا آغآز کہاں
نورِ عرفاں کو زمانے میں جو قندیل کریں
فیلِ باطل پہ وہ پروازِ ابابیل کریں
(510)
اٹھ گئی میرے خدا ملتِ اسلام سے کیوں
اٹھ گئی میرے خدا بزمِ تہی جام سے کیوں
اٹھ گئی میرے خدا تشنہ ءِ ناکام سے کیوں
اٹھ گئی میرے خدا طلعتِ بے شام سے کیوں
رسمِ پیمان و رہِ صدقِ مقالی یا رب
حبِ سلمان و رہ و رسمِ بلالی یا رب

(511)
دورِ صیہونی ءِ دوں کار کا دشمن جبریل
دورِ افزونی ءِ عیار کا دشمن جبریل
دورِ افسونی ءِ بیمار کا دشمن جبریل
کر گیا دورِ فسوں کار کو قدغن جبریل
یاد آئے گی سیاہ رات یہ انسانوں کو
یاد آئے گی کبھی بات یہ نادانوں کو
(512)
برق زاروں میں سرِ برق پہ جا وار کروں
آشیانے میں اسے برقِ بِدوں نار کروں
پھر اسے الفتِ اسلام میں سرشار کروں
دورِ باطل کے کلیجے سے اسے پار کروں
جراتِ مومن خود دار کے کیا کہنے ہیں
بجلیاں جس کی نگاہوں میں فقط گہنے ہیں
(513)
عرش اس چشمِ گلِ تر سے بہت دور بھی ہے
روضہء پاک میرے گھر سے بہت دور بھی ہے
حسنِ لولاک میرے بَر سے بہت دور بھی ہے
طورِ ادراک میرے سر سے بہت دور بھی ہے
دیدہء دل میں محمد ﷺ کو سما لیتا ہوں
سرِ اسرار کو اس دل میں چھپا لیتا ہوں

(514)
تو نے اے دوست جو الفت کو بھلا ڈالا ہے
قلب مغموم کو سینے میں سلا ڈالا ہے
یادِ خاموش میں کیا درد پلا ڈالا ہے
چشمِ مایوس کو غربت میں رلا ڈالا ہے
ناوفادار ! تمھیں یاد کبھی آئیں گے
بن کے سو درد تیرے قلب کو برمائیں گے
(515)
جام ذلت کے وہ پی پی کے شرابور بھی ہیں
وہ جو غیرت کے تقاضوں سے بہت دور بھی ہیں
کتنی صدیوں سے اسی آگ میں مستور بھی ہیں
عاقبت گلخن ذلت کے شقنقور بھی ہیں
ان کو مجبور و تباہ حال و پریشاں کہہ لو
یعنی تقدیر کے ماروں کو مسلماں کہہ لو
(516)
جن کو شیرازہء اسلام کا احساس نہیں
جن کو اخوت کے تقاضوں کا بھی کچھ پاس نہیں
جن کی تنظیم کی درزوں میں یہ الماس نہیں
حصنِ ایمان کا یہ سینے میں جو رہتاس نہیں
وہ اگر حرفِ صحیح ہیں تو بھی مٹ جائیں گے
وہ نئے دور کی اس دوڑ میںِ پٹ جائیں گے

(517)
مسلم اس دور کے طوفاں میں دھکیلے بھی گئے
ساتھ دنیا کے گئے اور اکیلے بھی گئے
غارِ غارت کے دہانوں میں یہ ریلے بھی گئے
آدمیت سے مشینوں میں یہ بیلے بھی گئے
آنکھ روتی ہے کہ اس دور کے مجبور ہیں ہم
بادہ گیری کے شکنجوں میں جو انگور ہیں ہم
(518)
آنکھ روتی ہے کہ اس دور کے مجبور ہیں ہم
بادہ گیری کے شگنجوں میں جو انگور ہیں ہم
اور اس دورِ مجانین کے جو لنگور ہیں ہم
پھر بھی اس حالِ تباہ حال پہ مسرور ہیں ہم
حسنِ افرنگ پہ دیوانہ ہوئے پھرتے ہیں
شمعِ افرنگ کا پروانہ ہوئے پھرتے ہیں
(519)
آنکھ روتی ہے کہ اس دور کے مجبور ہیں ہم
بادہ گیری کے شکنجوں میں جو انگور ہیں ہم
عہدِ حاضر کی شریعت کے جو منصور ہیں ہم
اپنی میّت کے اٹھانے پہ جو مامور ہیں ہم
اپنی مّیت کے یہ سائے ہیں دواں دور میں ہیں
اپنی مّیت کو اٹھائے ہیں رواں دور میں ہیں

(520)
کھچ گئے دور کی اس دارِ شریعت پہ غریب
ہو گئے جرم میں ماخوذ یہ نیت پہ غریب
کر گئے صبر و قناعت یہ اذیت پہ غریب
کھا گئے فن کا فسوں عدم و دیعت پہ غریب
کھچ گئے دار پہ بے ضرب انا الحق مومن
ہو گیا فرطِ تعجب میں قمر شق مومن
(521)
دورِ الحاد کے طفیلی ہیں قلندر تو نہیں
یہ پجاری ہیں سَمنَدر کے سَمنَدر تو نہیں
یہ تماشائی تماشے کے مچھندر تو نہیں
یہ قفائی ہیں عساکر کے سکندر تو نہیں
متنبی کے طفیلی ہیں جو ہمراہی میں
دعوتیں موت کی ہیں قصرِ شہنشاہی میں
(522)
سادگی ملتِ مسلم کا وطیرہ جو رہی
آنکھ چالاکی ءِ عیار کی خیرہ جو رہی
تیرگی دیدہ ءِ طرار کی تیرہ جو رہی
مدتوں ملتِ مُسلم کی یہی راہ جو رہی
علمِ حاضر نے مسلماں کو بھی چالاک کیا
سادہ لوح مسلم بدبخت کو بے باک کیا

(523)
آج دنیا میں جو قِلت ہے تو انسان کی ہے
آج دنیا میں جو ذلت ہے تو انسان کی ہے
آج مردار جَبِلت ہے تو انسان کی ہے
خوار دنیا میں جو ملت ہے تو انسان کی ہے
شرف انسان کی نگاہوں میں جو ناپید ہوا
جانور رنگتِ انساں میں فقط قید ہوا
(524)
علمِ خاشاک کی دنیا میں فراوانی ہے
جادہ ءِ حرص پہ اس دور کی جولانی ہے
بندہ عصر رواں طالبِ شادانی ہے
اے پہ افکار کی دولت ہے کہ ارزانی ہے
نشہء علم میں مخمور ہوئے پھرتے ہیں
بادہ ءِ عشق سے منفور ہوئے پھرتے ہیں
(525)
علم تلوار ہے تلوار کی مانند ہے یہ
علم ہتھیار ہے ہتھیار کی مانند ہے یہ
دستِ اغیار میں اغیار کی مانند ہے یہ
دستِ کفار میں کفار کی مانند ہے یہ
ہے یہ الحاد تو یہ ابلیس کی چالاکی ہے
ہے یہ ایمان تو پیغمبر کی یہ لولاکی ہے

(526)
خونِ مفسد کو بڑھانے سے فساد اور بڑھے
مردِ ممسک کے خزانے میں مواد اور بڑھے
زورِ مبحث کو بڑھانے میں تضاد اور بڑھے
آگ بھٹی میں جلانے سے رِاد اور بڑھے
فکرِ تعمیر سے اولیٰ ہے کہ تطہیر کریں
قلبہء تار میں صد صدق سے تنویر کریں
(527)
خونِ مفسد کو بڑھانے سے فساد اور بڑھے
مردِ ممسک کے خزانے میں مواد اور بڑھے
زورِ مبحث کو بڑھانے میں تضاد اور بڑھے
آگ بھٹی میں جلانے سے رِاد اور بڑھے
فکرِ تعمیر سے اولیٰ ہے کہ تطہیر کریں
ظلمتِِِ قیر میں اولیٰ ہے کہ تنویر کریں
(528)
غرق اس فتنہء سالوس جہاں گرد کو کر
غرق اس خاک پرست اعورِ رو زرد کو کر
غرق اس علمِ جبیں سوزی ءِ دل سرد کو کر
غرق اس حلمِ مروت کش بیدرد کو کر
غرق اس الحاد موجدِ گر دجال کو کر
لللہ اس دورکِ تلبیس کے جنجال کو کر

(529)
غم ہے جبریل کو دنیا کے مسلمانوں کا
غم ہے قندیل کو گذرے ہوئے پروانوں کا
غم ہے جبریل کو اجڑے ہوئے کاشانوں کا
دورِ اسلام کے بِسرے ہوئے افسانوں کا
شب ظلمات میں خاموش و نگوں روتا ہے
سینہ جبریل کا پھٹتا ہے تو خوں ہوتا ہے
(530)
نورِ خورشیدِ فلک تابِ جہاں گیر نہیں
قلبہء کفر سیاہ کار میں شمشیر نہیں
پاک بیں دیدہء عشاق کی تنویر نہیں
حسنِ لولاکِ جہاں تاب کا نخچیر نہیں
نور و انوار کی ہستی ہے چراغاں جس سے
ذرہ تار ہے خورشیدِ بداماں جس سے
(531)
لعنت اس مادی ترقی پہ ہے تعمیر پہ ہے
لعنت اس خوابِ پریشاں پہ ہے تعبیر پہ ہے
لعنت اس دورِ غلط نقش کی تصویر پہ ہے
لعنت اس دور میں اُس قوم کی تدبیر پہ ہے
وہ جو پیتل کو زر و سیم سمجھ بیٹھے ہیں
آتشیں دور کو دیہیم سمجھ بیٹھے ہیں

(532)
جب نئے دور کی لعنت کی وبا عام نہ تھی
جب یہ تعلیم زبوں قاتلِ اسلام نہ تھی
جب مسلماں کی طبیعت کی ہوا خام نہ تھی
اور اسلامی شریعت سے تہی جام نہ تھی
ان پڑھ اسلام کے دل پاک شہر پاک بھی تھے
پابند اسلامی صفائی کے یہ خاشاک بھی تھے
(533)
جب سے اسلام میں تعلیمِ فرنگی آئی
جب سے اس جام میں اقلیمِ فرنگی آئی
جب سے اس نام میں ترمیمِ فرنگی آئی
جب سے احکام میں تنظیمِ فرنگی آئی
دل بھی ناپاک ہوئے درد بھی ناپاک ہوئے
منظر اسلام کی دنیا میں المناک ہوئے
(534)
کیک و بسکٹ کی تمنا میں گئی دال گئی
زاغِ ناداں کی حماقت میں گئی چال گئی
دل کی دنیا سے گئی حرمتِ نقال گئی
نو عروسوں کی تمنا میں کہن سال گئی
ہنڈیا حیف کہ اس روڈ پہ اپنی پھوٹی
قسمت اس کیف کے اس موڈ پہ اپنی پھوٹی

(535)
کتے گلیوں میں جو سڑتے ہیں تو سڑ جاتے ہیں
بن کے نشہ وہ سر و مغز میں چڑھ جاتے ہیں
کیسے انداز میں ہر راہ پہ پڑ جاتے ہیں
کیا ہی نگہت میں یہ فردوس سے بڑھ جاتے ہیں
وائے فردوس میں حوروں کو نہ چاہنے والے
اور جنت کے قصوروں کو نہ چاہنے والے
ََََََََََََََََ (536)
جام ذلت کے وہ پی پی کے شرابور ہوئے
وہ جو غیرت کے تقاضوں سے بہت دور ہوئے
برقِ ذلت کی تسلی میں وہ مسرور ہوئے
عاقبت گلخنِ ذلت میں سقنقور ہوئے
ان کو مجبور و تباہ حال و پریشاں کہہ لو
یعنی تقدیر کے ماروں کو مسلماں کہہ لو
(537)
یہ نہ ہندو ہیں نہ مسلم ہیں نہ عیسائی ہیں
یہ جنونی ہیں فسونی ہیں یہ سودائی ہیں
چرخ ہیں چرخ زمانے کے یہ ہرجائی ہیں
دورِ حاضر کے پریشاں یہ تماشائی ہیں
نام لیوا نہ محمد ﷺ کے ستمگر ہوتے
جھوٹ کیا ہے کہ یہ کُفتار سے بدتر ہوتے

(538)
یہ ضلالت کے قرینے ہیں مسلمان ہیں کب
یہ جہالت کے دفینے ہیں مسلمان ہیں کب
یہ رزالت کے خزینے ہیں مسلمان ہیں کب
یہ خزالت کے نگینے ہیں مسلمان ہیں کب
یہ مسلماں ہیں تو اسلام کے کیا کہنے ہیں
کیا ہی وہ لفظ ہے جس لفظ کے یہ معنے ہیں
(539)
یہ جہنم کا نمونہ ہیں مسلماں ہیں یہ؟
ہائے افسوس اگر صاحبِ ایماں ہیں یہ؟
ربِ کعبہ کی قسم کذب کے طوفاں ہیں یہ؟
بڑھ کے حاسد ہیں مگر دشمنِ شیطان ہیں یہ؟
یہ مسلمان ہیں جو اسلام کو بدنام کریں
ہائے ھیہات یہ دنیا میں عجب کام کریں
(540)
ذلتِ دینِ محمد ﷺ ہیں مسلماں بھی یہی
ہمتِ بازوء شیطاں کا ہیں ساماں بھی یہی
زلِ ارماں بھی یہی ذلتِ پیماں بھی یہی
ننگِ دنیا بھی یہی تہمتِ دوراں بھی یہی
تاج و اکلیل زمانے میں جو تذلیل کا ہو
ایک مٹکا ہو سیاہی کا تو ایک نیل کا ہو

(541)
ان میں غیرت بھی جمیعت بھی صداقت بھی نہیں
ان میں عزت بھی شرافت بھی رفاقت بھی نہیں
ان میں شفقت بھی شجاعت بھی لیاقت بھی نہیں
ان میں سچ بات کے کہنے کی تو طاقت بھی نہیں
جھوٹ ہیں جھوٹ میں پلتے ہیں یہ مر جاتے ہیں
عمر بھر مکر بدلتے ہیں یہ مر جاتے ہیں
(542)
یہ مسلماں ہیں میرے دوست کہ جرارہ ہیں
تلخی ءِ زہرِ ھلاھل کا یہ فوارہ ہیں
آتشِ بغض و حسد کا یہ شرر پارہ ہیں
بلکہ دوزخ سے چرایا ہوا شرارہ ہیں
کیا ہی اس دور کے مسلم نے ادا پائی ہے
گرگِ ظالم نے ہوا سانپ کی اپنائی ہے
(543)
ان کے باطن میں کوئی مقصدِ عالی بھی نہیں
ان کی باتوں میں کہیں شعلہ مقالی بھی نہیں
ان کی آنکھوں میں کہیں رنگِ جلالی بھی نہیں
ان کے سینے میں کہیں سوزِ بلالی بھی نہیں
ان کے ظاہر میں متاع مکر کی ہے جھوٹ کی ہے
ان کے باطن میں متاع فخر کی ہے لوٹ کی ہے

(544)
دین و دنیا کی دو آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
دہر و عقبی کی دو آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
روح و مادہ کی دو آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
جسم و ارواح کی دو آنکھیں ہیں سو دونوں اندھی
دونوں آنکھوں سے دین و دنیا میں مقہور ہوا پھرتا ہے
دین و دنیا سے بہت دور ہوا پھرتا ہے
(545)
دین و دنیا میں یہ مقہور ہوا پھرتا ہے
اپنے مولا سے بہت دور ہوا پھرتا ہے
نشہء فخر میں مخمور ہوا پھرتا ہے
صدمہء حرص میں رنجور ہوا پھرتا ہے
فیلِ عالم کا یہ شبکور مہاوت وائے
دورِ شاطر میں یہ اندھے کی شقاوت وائے
(546)
اور بے چارے مسلماں کی ہیں آنکھیں دونوں اندھی
غافلِ سنت و قراں کی ہیں آنکھیں دونوں اندھی
غافل حکمت و ایمان کی ہیں آنکھیں دونوں اندھی
غافلِ سائنس و عرفاں کی ہیں آنکھیں دونوں اندھی
دین و دنیا میں یہ مقہور ہوا پھرتا ہے
اپنے مولا سے بہت دور ہوا پھرتا ہے

(547)
لوگ کہتے ہیں جو سفاک ہمیں کیوں نہ کہیں
لوگ کہتے ہیں جو چالاک ہمیں کیوں نہ کہیں
لوگ کہتے ہیں جو بے باک ہمیں کیوں نہ کہیں
لوگ کہتے ہیں جو ناپاک ہمیں کیوں نہ کہیں
پڑھ کے جس قوم نے اسلام بھلا ڈالا ہو
فانی دنیا کے عوض بیچ خدا ڈالا ہو
(548)
کام اچھا ہو تو نزدیک نہ ہم جائیں گے
کارِ شر ہو تو پرے باندھ کے جم جائیں گے
کیا غرض رب سے ہے در پیشِ صنم جائیں گے
قربِ شیطاں ہو تو بے رنج و الم جائیں گے
خیرِ یزداں میں ہے کیا ابلہی نادانی ہے
شرِ شیطاں میں دو صد لطف ہے شادانی ہے
(549)
حسد اس قومِ زبوں حال کو ارزانی ہے
حسد اس ملتِ پامال کو ارزانی ہے
حسد اس ذلتِ فعال کو ارزانی ہے
حسد اس ننگِ کہن سال کو ارزانی ہے
حسد اس قوم کے ہر فرد کا لاثانی ہے
حسد اس ملتِ بے درد کا لافانی ہے

(550)
عجب ایمان ہے دوراں کے مسلمانوں کا
شمعِ ایمان کے ان دل جلے پروانوں کا
شمعِ عرفان کے ان من چلے فرزانوں کا
اصلِ ایقان کے ان دل جلے دیوانوں کا
دعوے ان کے ہیں بہت دُور مگر پاس نہیں
ان میں الفت نہیں اخوت نہیں اخلاص نہیں
(551)
ان کے چہروں پہ وہ پہلی سی بشاشت بھی نہیں
ان کے سینوں میں وہ پہلی سی ہشاشت بھی نہیں
ان کی باتوں میں وہ پہلی سی رشاشت بھی نہیں
ان کی آنکھوں میں وہ ایمان کی دَہشت بھی نہیں
چھن گئی قلب کی تسکین جو گِل خواروں کی
بجھ گئی قلب کی قندیل جو بے چاروں کی
(552)
بوئے اخلاق ہے ناپید مسلمانوں میں
مومنوں جنتِ فردوس کے مہمانوں میں
شمعِ توحید کے ان دل جلے پروانوں میں
مشعلِ نور ہدائت کے قراں خوانوں میں
پھر بھی حیرت ہے مسلمان یہ کہلاتے ہیں
داغ ہیں چہرہء اسلام کو گہناتے ہیں

(553)
بوئے اخلاق ہے ناپید مسلمانوں میں
مومنوں جنت فردوس کے مہمانوں میں
شمعِ توحید کے ان دل جلے پروانوں میں
دشتِ فاراں کے جگر چاک حدی خوانوں میں
پھر بھی حیرت ہے مسلمان یہ کہلاتے ہیں
داغ ہیں چہرہء اسلام کو گہناتے ہیں
(554)
تم کو اسلاف کی ہر بات سے بو آتی ہے
چادرِ دور پہ مانندِ رفو آتی ہے
دشتِ بربادی ءِ اسلام میں ھو آتی ہے
اور دجال کی ہر چال میں ضو آتی ہے
تم میں غیرت ہو تو اس شرم میں بس ڈوب مرو
اپنے اس فخرکے پھندے میں ہی مصلوب مرو
(555)
مائلِ دورِ نگوں سار تو ہیں ہیں بھی نہیں
قائلِ دورِ زمیں خوار تو ہیں ہیں بھی نہیں
سائلِ دورِ ثمر بار تو ہیں ہیں بھی نہیں
نائلِ دورِ تباہ کار تو ہیں ہیں بھی نہیں
کھچے پھرتے ہیں دمِ دور سے ارمانوں پہ
دین و دنیا کی ہے پھٹکار مسلمانوں پہ

(556)
جب کسی قوم پہ دنیا میں زوال آتا ہے
کجروی قلب میں چہروں پہ ملال آتا ہے
پستی ءِ خلق میں روٹی کا سوال آتا ہے
اپنی اغراض کا ہر کسی کو خیال آتا ہے
دیکھ لے دور میں حالت یہ مسلمانوں کی
خود غرض تیرہ و دوں ہمتوں نادانوں کی
(557)
اے سمجھتا ہوں کہ حالات میں مجبور ہے تُو
دورِ موجود کی ہر بات میں مجبور ہے تُو
دورِ بے سود کی آفات میں مجبور ہے تو
ظلِ پُر دود کی ظلمات میں مجبور ہے تُو
ساحرِ دورِ طلسمات نے مجبور کیا
مردِ مسحور کو ظلمات میں محصور کیا
(558)
اے سمجھتا ہوں کہ حالات میں مجبور ہے توُ
دورِ نابود کی ہر بات میں مجبور ہے توُ
دورِ بے سود کی مکافات میں مجبور ہے توُ
ظلِ پُردود کی ظلمات میں مجبور ہے تُو
ساحرِ دورِ طلسمات نے مجبور کیا
مردِ مسحور کو ظلمات میں محصور کیا

(559)
کیا کریں اور جو اس دور میں شرکت نہ کریں
کیا کریں اور جو اس طَور میں شرکت نہ کریں
کیا کریں اور جو اس غَور میں شرکت نہ کریں
کیا کریں اور جو اس فور میں شرکت نہ کریں
ہستی اس دور میں غافل کی جو مٹ جاتی ہے
تازیانے سے کمر شیر کی پٹ جاتی ہے
(560)
حکمران آج جو کہدیں کہ وہ افسر نہ بنیں
کسی حالت میں بھی وہ قوم کے رہبر نہ بنیں
ادنیٰ خادم نہ بنیں اعلیٰ کماندر نہ بنیں
تا لغت ہا ءِ حجازی کے سمندر نہ بنیں
طفل گہوارہء مادر سے جو حفاظ آئیں
بڑھ کے سحباں سے کہیں افسح عکاظ آئیں
(561)
اے پہ اس دور نے انساں کو جو مجبور کیا
حلقہء حکمتِ افرنگ میں محصور کیا
نشہء جادو ءِ دجال میں مخمور کیا
ساری دنیا کو اسی رنگ میں مستور کیا
بجھ گئی شرق میں عرفاں کی وہ مشعل مومن
کھو گئی غرب میں ایماں کی وہ محمل مومن

(562)
گدیہ گر قوم ہیں خیرات پہ جی لیتے ہیں
زندہ دل قوم ہیں ہر بات پہ جی لیتے ہیں
آہ پہ اشک پہ ھیہات پہ جی لیتے ہیں
عاقبت ترکِ موالات پہ جی لیتے ہیں
شَکر ہے رنج کی ملبوس ہے تلبیس کا یہ
صنعت لف و نَشرَ کار ہے کٹ پیس کا یہ
(563)
بڑھ کے جس قوم سے جاہل بھی زمانے میں نہیں
بڑھ کے جس قوم سے کاہل بھی زمانے میں نہیں
بڑھ کے جس قوم سے ذاھل بھی زمانے میں نہیں
بڑھ کے جس قوم سے باھل بھی زمانے میں نہیں
دین و دنیا میں یہ ناکام ہوئے پھرتے ہیں
اے دو گیتی میں یہ بدنام ہوئے پھرتے ہیں
(564)
جاہل اس قوم سے بڑھ چڑھ کے زمانوں میں نہیں
کاہل اس قوم سے بڑھ چڑھ کے زمانوں میں نہیں
باھل اس قوم سے بڑھ چڑھ کے زمانوں میں نہیں
ذاھل اس قوم سے بڑھ چڑھ کے زمانوں میں نہیں
کاش اس قوم کے سینے میں جو ایماں ہوتا
ان کے ہر درد کا ہر دور میں درماں ہوتا

(565)
نشہء بھنگ میں مستانہ ہوئے پھرتے ہیں
سحرِ افرنگ میں دیوانہ ہوئے پھرتے ہیں
شمعِ نیرنگ کے پروانہ ہوئے پھرتے ہیں
دورِ بے رنگ میں پیمانہ ہوئے پھرتے ہیں
گرمیء حرص و حماقت میں حمیت بھی گئی
ہیں پراگندہ کچھ ایسے کہ جمیعت بھی گئی
(566)
َََََََََََََََََِِِِِِِمردِ ناداں غمِ دوراں کی شکائت نہ کریں
اہلِ ارماں غمِ باراں کی شکائت نہ کریں
اہلِ ایمان دمِ نیراں کی شکائت نہ کریں
اہلِ عرفاں شبِ ویراں کی شکائت نہ کریں
امرِ مصعب ہے فقط قلب کی ویرانی کا
جادہءِ عشق میں محرومی و حِرمانی کا
(567)
آج ملت ہے تو بے مقصد و مقصود ہے کون
آج ملت ہے تو بے حرمت و مردود ہے کون
آج ملت ہے تو بے وقعت و بے سود ہے کون
آج ملت ہے زمانے میں تو نابود ہے کون
کیسے مسلم ہیں کہ بے مقصد و بے کار بھی ہیں یہ
مسلماں ہیں کہ ایماں سے یہ بیزار بھی ہیں یہ

(568)
جس کو دیکھو ہے وہ تنورِ غضبناکی میں
ایک بھٹی ہے کہ مستور ہے بیباکی میں
ایک خنجر ہے جو مسرور ہے سفاکی میں
تلخی زہر ہے موفور ہے چالاکی میں
کٹ گیا حرفِ مدارات و مروت ویلا
اٹھ گئی دور مشین زاد سے اخوت ویلا
(569)
ہاں تو اسلامی ممالک میں جو بدکاری ہے
ظلم و سفاکی و خونریزی و غداری ہے
فسق ہے جور ہے الحاد ہے عیاری ہے
اور غفار کی غفاری و ستاری ہے
ورنہ آوارہء خونیں یہ ناری بندے
دیوِ آزارِ ھوس خو کے پجاری بندے
(570)
ہائے اسلام کی دنیا میں جفا کاری ہے
ظلم ہے جور ہے تذویر ہے غداری ہے
جور و خونخواری و پُرکاری و مکاری ہے
قومِ آوارہ و طاغوت کی سرداری ہے
حرصِ بے پیر فسوں کار کے بیمار سنیں
جلجلہء برقِ جہاں سوزِ تباہ کار سنیں

(571)
اور اسلامی ممالک کی یہ ناچاکی دیکھ
اہلِ اغراض کی اس حال میں سفاکی دیکھ
دیکھ ظالم کی ذرا ظلم پہ بے باکی دیکھ
خسِ شیرازہء اسلام کی خاشاکی دیکھ
جن کو شیرازہءِ اسلام کا احساس نہیں
جن کو اخوت کے تقاضوں کا بھی کچھ پاس نہیں
(572)
حیف اسلامی ممالک میں جو ناچاکی ہے
اہلِ اغراض کی اس بات میں سفاکی ہے
حرصِ دوں کارِ ہوسکار کی چالاکی ہے
روس و افرنگ کی نیت میں جو ناپاکی ہے
قعرِ ظلمات سے اب لولوئے لالا اٹھیں
وقت آیا ہے کہ اغراض سے ہوکے بالا اٹھیں
(573)
اور اسلام کی دنیا میں جو بدنامی ہے
نگہہِ دنیا میں تری قومِ زبوں عامی ہے
شیرِ اسلام جو اس دور میں ضرغامی ہے
سبب اس بات کا ملت کی یہ خود کامی ہے
ہو کے رسوائے زمانہ یہ تہی جام پھرے
ملت اسلام کی اس دور میں بدنام پھرے

(574)
کاش قراں کے حامی وہ ہلاکت دیکھیں
کاش ایماں کے حامی وہ فلاکت دیکھیں
کاش عرفاں کے حامی وہ نزاکت دیکھیں
آج اس دور میں طاغوت کی طاقت دیکھیں
جس سے دوچار ہے اسلام وہ طاقت دیکھیں
ورطہء ذلت و تذلیل و ھلاکت دیکھیں
(575)
خسِ شیرازہء اسلام کی خاشاکی دیکھ
دیکھ ظالم کی ذرا ظلم پہ بے باکی دیکھ
اہلِ اغراضِ تباہ حال کی سفاکی دیکھ
اور اسلام کی دنیا میں یہ ناچاکی دیکھ
جن کو شیرازہ ءِ اسلام کا احساس نہیں
جن کو اخوت کے تقاضوں کا بھی کچھ پاس نہیں
(576)
جن کو شیرازہء اسلام کا احساس نہیں
جن کو اخوت کے تقاضوں کا بھی کچھ پاس نہیں
جن کی تنظیم کی درزوں میں یہ الماس نہیں
حصنِ ایماں کا بھی سینے میں جو رہتاس نہیں
وہ اگر حرفِ صحیح ہیں تو بھی مٹ جائیں گے
ہر زمانے میں وہ ہر دوڑ میں پِٹ جائیں گے

(577)
چھوڑ کر کوثر و تسنیم کے پیمانوں کو
چھوڑ کر جنتِ تسلیم کے ایوانوں کو
چھوڑ کر آحمد بے میم کے عرفانوں کو
چھوڑ کر افسر و دیہییم کے ارمانوں کو
غافلو جیفہ ءِ مردار کے دیوانے ہو
بوئے گل چھوڑ کے اس خار کے دیوانے ہو
(578)
چرخِ نیلی سے جھپٹ لے کے ابھرنا ممکن
دردِ ھجراں میں ہے مرمر کے نہ مرنا ممکن
جادہء موت میں بے موت اترنا ممکن
اور شکوہ نہ کسی بات کا کرنا ممکن
اے پہ ممکن نہیں سنسار میں تسکیں کا حصول
جن کے باطن میں نہ ہو ثروتِ ایماں کا حلول
(579)
چرخِ نیلی سے جھپٹ لے کے ابھرنا ممکن
دردِ ھجراں میں ہے مرمر کے نہ مرنا ممکن
چاہِِ اموات میں بے موت اترنا ممکن
اور شکوہ نہ کسی بات کا کرنا ممکن
اے پہ ممکن نہیں بوجہل کو ایماں کا حصول
جس کے سینے میں نہ محبوب ہو اللہ کا رسولﷺ

(580)
اپنے پہلو میں جو ظلماتِ سکندر پا لے
دل کی اقلیم میں بیٹھا ہے جو بندر پا لے
قلبِ گلخن میں جو پیدا ہے سَمنَدر پا لے
اور پنہاں ہے جو مَن میں پیمبر پا لے
چھوٹ جائیں یہ تیرے ہاتھ سے پھندے تیرے
کتنے بے کار ہیں دنیا میں یہ دھندے تیرے
ََََََِِِِِ (581)
وہ جو انعامِِ خداوند پہ مشکور نہ ہوں
عمرِ دو روز کی اثبات پہ مغرور نہ ہوں
عاقبت دونوں جہانوں میں وہ مسرور نہ ہوں
اور جبریل کی باتوں سے وہ رنجور نہ ہوں
شکر واجب ہے اگر حق نے نوازا ہے ہمیں
دل کی تنویر ہے چہرے کا یہ غازہ ہے ہمیں
َََََََِِِِِ (582)
حرصِ طولانی ءِ بیمار پہ منڈلاتے ہیں
کلبِ نفسانی ءِ بدکار پہ منڈلاتے ہیں
فتنہ سامانی ءِ بے کار پہ منڈلاتے ہیں
گدھ ہیں گدھ یہ مردار پہ منڈلاتے ہیں
خبط ہے دہرِ دو روزہ کا جو بے چاروں کو
چھوڑ کر جنتِ فردوس کے گلزاروں کو

(583)
سود بنکوں کا زمانے میں روا ہوتا ہے
فتوی ءِ حرص میں جائز یہ ربوا ہوتا ہے
ناس ایماں کا یہ بے مکر و ریا ہوتا ہے
دیکھ اے مردِ مسلماں یہ کیا ہوتا ہے
پھر بھی کہتے ہیں کہ موجودہ نظام اچھا ہے
مئے بھی اچھی ہے نئے دور کا جام اچھا ہے
(584)
شبِ دیجور جو چھائی ہے شبستانوں میں
تیرگی رنگِ سیاہ فام ہے افسانوں میں
مئے تاریک بھی خاموش ہے پیمانوں میں
دل بھی تاریکِ سیاہ پوش ہے انسانوں میں
روئے ظلمات پہ کیا چاند سا مکھڑا نکلا
آہِ جبریل میں سو سال کا دکھڑا نکلا
(585)
کیوں یہ اسلام کے فرزند سنبھلتے بھی نہیں
ہائے اطوارِ سفیہاں یہ بدلتے بھی نہیں
دینِ اسلام کی راہوں پہ یہ چلتے بھی نہیں
غارِ الحاد سے باہر یہ نکلتے بھی نہیں
دامِ افرنگ کی تاروں کو وہ کیا سمجھے ہیں
دولت و ثروت و دولت کو خدا سمجھے ہیں

(586)
حور و غلماں کو جو واعظ کا فسانہ سمجھے
گرمئیِ بحث کا فرسودہ بہانہ سمجھے
دامِ تذویرِ فسوں ساز کا دانہ سمجھے
اگلی دنیا کا حقیقت میں بہانہ سمجھے
علمِ افرنگ میں ھیہات وہ مغرور ہوئے
نشہء دورِ خرافات میں مخمور ہوئے
(587)
حور و غلمانِ بہشتی یہ فسانہ بھی نہیں
گرمئیِ بحث کا فرسودہ بہانہ بھی نہیں
دامِ تذویرِ فسوں ساز کا دانہ بھی نہیں
مقصد اس بات سے واعظ کا بنانا بھی نہیں
عمر جب حضرتِ انساں کی بسر ہوتی ہے
اس حقیقت کی حقیقت میں خبر ہوتی ہے
(588)
حور و غلمانِ بہشتی کو فسانہ نہ کہو
گرمئیِ وعظ کا فرسودہ بہانہ نہ کہو
دامِ تذویرِ فسوں ساز کا دانہ نہ کہو
نشہء وعظ میں واعظ کا ترانہ نہ کہو
علم فانی ہے تو باقی کا تقابل دیکھیں
مردِ افغاں کو نہ دیکھا ہو تو کابل دیکھیں

(589)
تیری بگڑی نہ سفینوں کے بنانے میں بنے
تیری بگڑی نہ مشینوں کے بنانے میں بنے
تیری بگڑی نہ خزینوں کے بنانے میں بنے
تیری بگڑی نہ دفینوں کے بنانے میں بنے
تیری تقدیر مقید ہے تو قران میں ہے
اور اس دور کے دجال کی پہچان میں ہے
(590)
مسلم اس دور میں پھرتا ہے جو ٹھکرایا ہوا
آہ بے چارہ یہ پھرتا ہے جو گھبرایا ہوا
اپنی رنگت سے بھی پھرتا ہے یہ گدرایا ہوا
بزمِ دنیا میں یہ پھرتا ہے جو شرمایا ہوا
کم نگاہی کا یہ نخچیر ہوا پھرتا ہے
اپنی قسمت پہ یہ دلگیر ہوا پھرتا ہے
(591)
مسلم اس دور میں اللہ کا سپاہی بھی نہیں
قہرماں دہر کا اب ظلِ الہی بھی نہیں
کلمہ گو جنتِ فردوس کا راہی بھی نہیں
طَور اب قومِ فلک سیر کے شاہی بھی نہیں
غم و آلامِ زمانہ میں زبوں حال پھریں
عمرِ دو روز کے جھنجھٹ میں یہ پامال پھریں

(592)
صبح کہتے ہیں کہ افرنگ قریں اچھا ہے
شام ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ چیں اچھا ہے
نیند آتی ہے تو کہتے ہیں یہیں اچھا ہے
ہوں جو بیدار تو کہتے ہیں نہیں اچھا ہے
وائے اس قوم کے افکارِ پریشاں وائے
وائے بیمارِ تذبذب کے یہ خذلاں وائے
(593)
پیرہِ ضیغَم سے چھٹیں اور جواں ریچھ ملے
شیرِ غراں سے بچیں اور نہاں ریچھ ملے
جائیں اس دور میں کمزور جہاں ریچھ ملے
اپنی تقدیر کی ندرت سے فغاں ریچھ ملے
آسرا میرے خدا آج ترا چاہتے ہیں
دیکھ بھٹی سے جہنم میں گرا چاہتے ہیں
(594)
روس و افرنگ کے مابین گھسٹتے وہ پھریں
پہلو اس دور میں ہر روز الٹتے وہ پھریں
خرس و ضیغم سے بہ تکرار لپٹتے وہ پھریں
بیم و امید میں کُھل کُھل کے سمٹتے وہ پھریں
اک المناک ہے منظر یہ گھسٹنا تیرا
یہ گھسٹنا یہ الٹنا یہ لپٹنا تیرا

(595)
روس و افرنگ کے مابین گھسٹنا تیرا
پہلو اس دور میں ہر روز الٹنا تیرا
خرس و ضیغم سے بہ تکرار لپٹنا تیرا
بیم و امید میں کُھل کُھل کے سمٹنا تیرا
ایک منظر ہے المناک گھسٹنا تیرا
یہ گھسٹنا یہ الٹنا یہ پلٹنا تیرا
(596)
روس و افرنگ کے مابین گھسٹنے کی قسم
پہلو اس دور میں ہر روز الٹنے کی قسم
خرس و ضیغم سے بہ تکرار لپٹنے کی قسم
بیم و امید میں کُھل کُھل کے سمٹنے کی قسم
اک المناک یہ منظر ہے گھسٹنا تیرا
یہ گھسٹنا یہ الٹنا یہ لپٹنا تیرا
(597)
روس و افرنگ کے مابین گھسٹتا دیکھوں
پہلو اس دور میں ہر روز الٹتا دیکھوں
خرس و ضیغم سے بہ تکرار لپٹتا دیکھوں
بیم و امید میں کُھل کُھل کے سمٹتا دیکھوں
اور داماں نہ کروں چاک نواہا نہ کروں
ارض و افلاک و سموت میں واہا نہ کروں

(598)
درد اٹھا ہے یہ سینے میں وہ پھر اٹھا ہے
شور اٹھا ہے سفینے میں وہ پھر اٹھا ہے
مار اٹھا ہے دفینے میں وہ پھر اٹھا ہے
نور اٹھا ہے مدینے میں وہ پھر اٹھا ہے
آگ اس مادہ پرستی کی بجھانے اٹھا
آدمیت کو مصائب سے چھڑانے اٹھا
(599)
موت کے گھاٹ انہیں آج اترتے دیکھوں
قوم کی قوم کو اس گھاٹ پہ مرتے دیکھوں
لاشہء قوم پہ کہسار گذرتے دیکھوں
خونِ معصوم کے صد سندھ ابھرتے دیکھوں
اے گریباں نہ کروں چاک نواہا نہ کروں؟
غلغلہ گنبدِ افلاک میں برپا نہ کروں؟
(600)
رنگِ اسلام کی دنیا کا جو بطحائی تھا
روپِ فاراں کی تجلی کا جو طوبائی تھا
جو بھی مسلم تھا وہ اسلام کا شیدائی تھا
خود خدا گنبدِ خضرا کا تماشائی تھا
تیرے گلشن میں مدینے سے نسیم آتی تھی
گلشن کوئے محمد ﷺ سے شمیم آتی تھی

(601)
گنجِ اسرارِ حقیقت کا امیں سوتا ہے
زیرِ انوارِ سرِ عرشِ بریں سوتا ہے
نورِ قراں کی تجلی میں حزیں سوتا ہے
مرگِ ظلمات کے پردوں میں کہیں سوتا ہے
چشمِ افلاک سے جب ا شکِ سحر گرتے ہیں
روئے بے ہوش پہ صد لعل و شرر گرتے ہیں
(602)
خلق جاگی ہے پہ افسوس کہ توُ سوتا ہے
کہفِ دوراں میں کہیں عالم ھو سوتا ہے
قلبِ بے جان کے گوشوں میں لہو سوتا ہے
چادرِ دور پہ توُ مثلِ رفو سوتا ہے
اے فلاں ابنِ فلاں ابن فلاں جاگو گے
خفتہ بخت اب بھی نہ جاگے تو کہاں جاگو گے
(603)
چہچہاتے ہیں یہ طیور گلستانوں میں
گنگناتے ہیں یہ طنبور گلستانوں میں
مسکراتے ہیں یہ مسرور گلستانوں میں
کیا ہی جلسے ہیں یہ پُرنور گلستانوں میں
حمدِ ربی میں ہے مصروف جہاں مولا کا
پتے پتے میں ہے موصوف بیاں مولا کا

(604)
اے پہ ھیہات شرابور پسینے میں ہے تو
وائے مجبور نہ مرنے میں نہ جینے میں ہے تو
مردِ مخمور نہ لندن نہ مدینے میں ہے تو
وائے مستور پلانے میں نہ پینے میں ہے تو
ہائے اس طَور سے غرق اپنے پسینے میں ہوا
گنجِ مستور تو ہستی کے دفینے میں ہوا
(605)
اے مصائب کا وہ کہسارِِِ گراں ٹوٹا ہے
کیا ہی غم ہے کہ بالائے جہاں ٹوٹا ہے
وہ زوائر کا زمانے پہ سماں ٹوٹا ہے
کُن کی تقدیر سے عالم پہ فکاں ٹوٹا ہے
غم زمانے نے وہ اس دور پر لا ڈالے ہیں
جس نے جبریل کو غم اپنے بھلا ڈالے ہیں
(606)
دینِ قراں پہ قوانینِ فرنگی وائے
اہلِ توحید کی دنیا میں دو رنگی وائے
پائے تسلیمِ مسلماں کی یہ لنگی وائے
چشمِ شہباز کی خورشید سے تنگی وائے
وائے شیروں کی زمانے میں شِغالی وائے
وائے زیروں کی یہ نیرنگِ خیالی وائے

(607)
دردِ دوراں کا یہ درمانِ سفیہاں عجبے
دینِ قراں پہ قوانینِ صبیحاں عجبے
قولِ یزداں پہ یہ فوقیتِ گیہاں عجے
نظمِ ربی پہ یہ ترجیحِ اجی ہاں عجبے
لفظِ قراں کی صداقت کا ہے اقرار انہیں
اور قانونِ الہی سے ہے انکار انہیں
(608)
تو نے سمجھا ہے محمد ﷺ کا خدا ظالم ہے
والئی دینِ محمد ﷺ کی قضا ظالم ہے
شرعِ ربی کا یہ قانونِ ھدیٰ ظالم ہے
میں یہ کہتا ہوں جو ہے اُ س کے سوا ظالم ہے
ہائے معصوم قوانینِ فرنگاں کی قسم وائے
مظلومی ءِ افکارِ نہنگاں کی قسم وائے
(609)
سرو ءِ آزاد کو جکڑیں گے وہ زنجیروں میں
دامِ تذویرِ غلط گیر کی تدبیروں میں
علمِ نادانی ءِ دوں میر کی تقصیروں میں
برقِ دیں سوزِ قریں گیر کی تنویروں میں
مردِ مومن کو وہ زنجیر یہ پہنائیں گے
نورِ قراں کی وہ تنویر کو ظلمائیں گے

(610)
سرو ءِ آزاد کو جکڑیں گے وہ زنجیروں میں
دامِ تذویرِ غلط گیر کی تدبیروں میں
علمِ نادانئی روزرد کی تقصیروں میں
برقِ دیں سوزِ جگر سرد کی تنویروں میں
مردِ مومن کو وہ زنجیر یہ پہنائیں گے
نورِ قراں کی وہ تنویر کو ظلمائیں گے
(611)
کاٹ دو ہاتھ وہ چوری کی جسارت جو کریں
دین و ایماں کے وہ اخلاق کو غارت جو کریں
محنت انساں کی وہ صدیوں کی اکارت جو کریں
اصلِ ایماں کی وہ برباد عمارت جو کریں
قولِ فیصل ہے شہنشاہی ءِ خلاق کا یہ
حرفِ آخر ہے ید اللہی ءِ رزاق کا یہ
(612)
سن کہ ویرانی ءِ مسجد پہ جہاں روتا ہے
دہرِ ویرانِ جگر چاک اذاں روتا ہے
نوحہ گر کون ہے مسجد کا مکاں روتا ہے
دورِ دلچاکِ الم دود و دخاں روتا ہے
آدمی باطنِ پامال کی فریاد سنیں
قلبِ ویرانِ زبوں حال کی فریاد سنیں

(613)
سن کہ ویرانی ءِ مسجد پہ جہاں روتا ہے
دہرِ ویرانِ جگر چاک اذاں روتا ہے
نوحہ گر کون ہے مسجد کا مکاں روتا ہے
سینہء چاکِ جہاں دود و دخاں روتا ہے
آدمی باطنِ پامال کی فریاد سنیں
قلب ویرانِ زبوں حال کی فریاد سنیں
(614)
امرا ! نشہء دولت میں زیاں کاری کیوں؟
سجدہ و مسجد و آذان کی گرانباری کیوں؟
دین و ناموسِ الہی سے یہ بیزاری کیوں؟
نشہء دولتِ دو روز میں سرشاری کیوں؟
تم کو لازم تھا کہ تم حافظِ قراں ہوتے
دین و ناموسِ الہی کے نگہباں ہوتے
(615)
امرا !نشہء دولت میں زیاں کاری کیوں؟
طبع نازک پہ اقامت کی گرانباری کیوں؟
دین و ناموسِ الہیٰ سے یہ بیزاری کیوں؟
نشہء دولتِ دو روز میں سرشاری کیوں؟
تم کو لازم تھا کہ تم حافظِ قراں ہوتے
دین و ناموسِ الہیٰ کے نگہباں ہوتے

(616)
مولوی ہے سو وہ بدکار پہ تم اچھے ہو؟
مولوی ہے سو وہ بے کار پہ تم اچھے ہو؟
مولوی ہے سو وہ عیار پہ تم اچھے ہو؟
مولوی ہے سو وہ فنکار پہ تم اچھے ہو؟
تَند جس قوم کی بگڑی ہے سو تانی بگڑی
بَند جس قوم کا ٹوٹا ہے روانی بگڑی
(617)
مولیا ! تو نے بھی گیتی میں عجب کار کیا
دینِ اسلام کو دنیا میں جو نادار کیا
گلشنِ دینِ محمد ﷺ کو بھی پُرخار کیا
نام مُلاَ کا زمانے میں بہت خوار کیا
لفظِ حق حلق کے حلقوں میں جو رَنان ہوا
اسم منان کا سرکٹ کے فقط نان ہوا
(618)
مولیا ! تجھ کو اگر دور میں کچھ کام نہیں
قلبِ بے سوز میں افکار سے آرام نہیں
جامِ عرفاں بھی نہیں بادہء گلفام نہیں
علم و حکمت کی شرابوں میں ترا جام نہیں
خونِ اسلام سے اب ہاتھ بھی رنگیں تو نہ کر
اور اب زار و زبوں ملتِ مسکیں کو نہ کر

(619)
مولیا ! تجھ کو اگر دور میں کچھ کام نہیں
قلبِ بے سوز میں افکار سے آرام نہیں
جامِ عرفاں میں کہیں بادہء گلفام نہیں
بادہء علم حقیقت میں ترا جام نہیں
خونِ اسلام سے اب ہاتھ بھی رنگیں تو نہ کر
اور اب زار و زبوں ملتِ مسکیں کو نہ کر
(620)
مولیا! ملتِ مرحوم سے مایوسی کیوں؟
کارِ تبلیغِ الہی میں یہ کنجوسی کیوں؟
آشکار ایسے تقاضوں میں یہ سالوسی کیوں؟
ہائے اس ملتِ بدبخت کی منحوسی کیوں؟
تو بھی طوفانِ قیامت میں جو مجبور ہوا
سرد و افسردہ و پژمردہ و مستور ہوا
(621)
مولیا! رندِ خراباتی ءِ مئے خوار نہ بن
زلفِ محبوبِ جہاں سوز کا بیمار نہ بن
گردنِ کفر پہ اسلام کی تلوار نہ بن
دورِ باطل میں کہیں غازی ءِ پیکار نہ بن
اے نہ بن کچھ بھی نہ بن آہِ جگر دوز تو لے
زندگی بھر میں مزہ اس کا بھی اک روز تو لے

(622)
مولیا ! رندِ خراباتی ءِ مئے خوار نہ بن
زلفِ خورشیدِ جہاں تاب کا بیمار نہ بن
گردنِ کفر پہ اسلام کی تلوار نہ بن
دورِ باطل میں کہیں غآزی ءِ پیکار نہ بن
اے نہ بن کچھ بھی نہ بن آہِ جگر دوز تو لے
زندگی بھر میں مزہ اس کا بھی اک روز تو لے
(623)
قصرِ ہاماں بھی تو ہی ۔ طورِ کلیماں بھی تو
مثلِ شیطاں بھی تو ہی ۔ سایہء یزداں بھی تو ہی
زُورِ دیواں بھی تو ہی ۔ عقلِ سلیماں بھی تو
َََََََََروئے حرماں بھی تو ہی ۔ جلوہء فاراں بھی توہی
تو جو چاہے سو تو بن نقشہء اضداد ہے تو
تو معلم ہے مدرس ہے کہ استاد ہے تو
(624)
گنجِ عرفانِ حقیقت کی مقالید سبھی
گنجِ قرانِ حقیقت کی مقالید سبھی
گنجِ فرقانِ حقیقت کی مقالید سبھی
گنجِ ایقانِ حقیقت کی مقالید سبھی
ترے ہاتھوں میں ہیں اَ ولی لَکَ فاولی مویی
کاش ہوتا جو ترے ہاتھ میں مولا مویی

(625)
اشک بیزی یہ تری شعلہ مقالی یہ تری
دورِ منبر پہ یہ تقریرِ ھلالی یہ تری
محوِ فریاد ہے تجھ سے ہے سوالی یہ تری
واعظا ! بات ہے تاثیر سے خالی یہ تری
ہے بھی معلوم کہ دجال نے پی ڈالی ہے
گوشِ مخلوق میں تذویر سے سی ڈالی ہے
(626)
دور ازکار یہ منبر پہ تری باتیں ہیں
دن گرجتا ہے پہ خاموش تری راتیں ہیں
وادی ءِ رزق میں محدود تری گھاتیں ہیں
تیری دنیا میں فقط فرقے فقط ذاتیں ہیں
تو نے دیکھا ہی نہیں دور کا دجال ابھی
تو نے آنکھوں سے اٹھایا ہی نہیں جال ابھی
(627)
ََََََََََََََََِِِِِِِوعظ و تقریر ہے اس دور میں بے سود تیری
حد و تدبیر ہے اس دور میں بے سود تری
فکرِ تعمیر ہے اس دور میں بے سود تری
سوز و تاثیر ہے اس دور میں بے سود تری
شمع ایماں کی یہ افسوس بجھی جاتی ہے
زیر تذویرِ زمیں بوس بجھی جاتی ہے

(628)
پندِ واعظ کی نہ راہوں میں اثر باقی ہے
سوزِ سالک کی نہ آہوں میں قمر باقی ہے
فقر کی تیغ توکل کی سپر باقی ہے
نہ قلندر کی نگاہوں میں شرر باقی ہے
آدمی حرص میں مجبور ہوئے پھرتے ہیں
سحر ِ دجال میں مسحور ہوئے پھرتے ہیں

(629)
پندِ واعظ کی نہ راہوں میں اثر باقی ہے
سوزِ سالک کی نہ آہوں میں قمر باقی ہے
قلبِ مومن میں توکل کی سپر باقی ہے
نہ قلندر کی نگاہوں میں شرر باقی ہے
آدمی حرص میں مجبور ہوئے پھرتے ہیں
سحر ِ دجال میں مسحور ہوئے پھرتے ہیں ََََََََََََََََِِِِِِِ
(630)
بیس برسوں میں بنیں جا کے کہیں مولانا
جھڑکیاں بھوک کی کھا کھا کے کہیں مولانا
تنگیاں موت کی پا پا کے کہیں مولانا
درس و تدریس میں غا غا کے کہیں مولانا
طالب انگلش کے تو صد فنڈ کے نگراں ہوں گے
مولوی دستِ خداوند کے نگراں ہوں گے

(631)
مولوی ہے سو وہ بدکار پہ تم اچھے ہو؟
مولوی ہے سو وہ بے کار پہ تم اچھے ہو؟
مولوی ہے سو وہ عیار پہ تم اچھے ہو؟
مولوی ہے سو وہ فنکار پہ تم اچھے ہو؟
ہفتِ افلاک میں طوفان ہوئے پھرتے ہو
فکرِ خوراک میں ہلکان ہوئے پھرتے ہو
(632)
شیعہ سنی سے جو لڑ لڑ کے زبوں حال ہوئے
ہائے امت ہیں محمد ﷺ کی یہ پامال ہوئے
اشک ہر چشمِ نبی ﷺ دوست میں سیال ہوئے
اور غم خوار جو سینے تھے وہ غربال ہوئے
خون مسلم کا جو گلیوں میں رواں پھرتا ہے
تیرہ جبریل کی آنکھوں میں سماں پھرتا ہے
(633)
خون مسلم ہے رواں آج گلی کوچوں میں
خونِ مسلم پہ ہے تاراج گلی کوچوں میں
کیا ہی بسمل ہیں یہ دراج گلی کوچوں میں
سر لڑھکتے ہیں یہ بے تاج گلی کوچوں میں
اے مگر کس نے کیا خون یہ ارزاں تیرا
کس کے خنجر سے ہے پُرخوں یہ داماں تیرا

(634)
خوں کے دریا جو بہائے ہیں مسلمانوں نے
شمعِ توحید کے ان دل جلے پروانوں نے
روحِ اسلام کے ان من چلے دیوانوں نے
مومنوں جنتِ فردوس کے مہمانوں نے
اے پہ ہیہات یہ خوں کس کا بہا ڈالا ہے
کس کی میت کوچہء مرگ میں لا ڈالا ہے
(635)
یہ سمجھتے بھی نہیں دشمنِ اسلام ہے کون
گردنِ دینِ جہاں گیر پہ صمصام ہے کون
ارضِ نخچیر پہ پھیلائے ہوئے دام ہے کون
ماحی ءِ دین محمد ﷺ ہے پہ گمنام ہے کون
کاش اس دور میں دشمن کو سمجھ لیتے ہم
اور جبریل کی قدغن کو سمجھ لیتے ہمََََََََََََََََِِِِِِِ

(636)
یہ سمجھتے بھی نہیں دشمنِ اسلام ہے کون
گردنِ دینِ جہاں گیر پہ صمصام ہے کون
کامران کون ہے اس دور میں ناکام ہے کون
ماحی ءِ دین محمد ﷺہے پہ گمنام ہے کون
کاش اسلام کے دشمن کو سمجھ لیتے ہم
اور جبریل کی قدغن کو سمجھ لیتے ہم

(637)

ََََََََََََََََِِِِِِِ

کیسے مسلم ہیں یہ صدیق و ولی تولیں گے
عمرؓ عثمانؓ و ابابکرؓ و علیؓ تولیں گے
گلشنِ نور میں پھولوں کی کلی تولیں گے
شہرِ دلدار میں دلبر کی گلی تولیں گے
اپنی ہستی کو ذرا تول کے دیکھیں
مومن اپنی ہستی سے بڑا بول کے دیکھیں
(638)
خوں برستا ہے مری چشمِ المناک سے کیوں
ہوک اٹھتی ہے میرے سینہء صد چاک سے کیوں
آہ اٹھتی ہے لبِ تربتِ لولاک سے کیوں
آہ ابھرتی ہے دلِ عرشِ خدا پاک سے کیوں
کس قدر قلب یہ سفاک مسلماں کا ہوا
جس کے خنجر سے جگر چاک مسلماں کا ہوا
(639)
نور کہتا ہے کوئی کوئی بشر کہتا ہے
شام کہتا ہے کوئی کوئی سحر کہتا ہے
زیر کہتا ہے کوئی کوئی زبر کہتا ہے
اور جبریل تو اس بات کو شر کہتا ہے
کیسے بندے ہیں زمانے میں خدا تول سکیں
نورِ حق نورِ نبی ﷺ نورِ ھدیٰ تول سکیں

(640)
نورِ مقصودِ دو عالم میں بشر دیکھیں گے
نیم بینی کے تاثر میں اثر دیکھیں گے
چھوڑ کر مغز کو بے مغز یہ سر دیکھیں گے
ماہ و ماہتاب کو بے نور قمر دیکھیں گے
بدر بے اُ شعہ شمسِ فلک بدر نہ ہو
لیلِ نورانی ءِ بے جلوہء حق قدر نہ ہو
(641)
غم ہے جبریل کو دنیا کے مسلمانوں کا
غم ہے قندیل کو گذرے ہوئے پروانوں کا
غم ہے جبریل کو اجڑے ہوئے کاشانوں کا
دورِ اسلام کے بِسرے ہوئے افسانوں کا
یاد آتے ہیں جو گذرے ہوئے ایام اسے
بادہء عشق میں ڈوبے ہوئے صد جام اسے
(642)
اپنے جبریل کی اک ادنی سی نصیحت ہے سنو
نیک اس بات میں جبریل کی نیت ہے سنو
سخت جبریل کے اس دل میں اذیت ہے سنو
روشنی تم کو جو ایماں کی ودیعت ہے سنو
الحاد اس دور کا قاتل ہے تو اسلام کا ہے
اور دشمن ہے تو کعبے کے در و بام کا ہے

(643)
نیر اسلامِ جہاں تاب کی مانند کبھی
چشمِ گردونِ زماں تاب کی مانند کبھی
نورِ عرفانِ عیاں تاب کی مانند کبھی
نگہہِ ایمانِ سماں تاب کی مانند کبھی
تیری دنیا کی فضاؤں میں ضیا پاش بھی ہو
راز جبریل کی آہوں کا کبھی فاش بھی ہو
(644)
عہدِ حاضر کے مشاہیر ؟ یہ کیا کہتے ہو
دشتِ الحاد کی عقاقیر ؟ یہ کیا کہتے ہو
رنگِ باطل کی مقادیر ؟ یہ کیا کہتے ہو
سنگِ جبریل و قواریر ؟ یہ کیا کہتے ہو
ایک ہی پَر میں انہیں حشر کروں نشر کروں
خاک ہوں پائے محمد ﷺ کی بپا حشر کروں
(645)
یا خدا ان کو حقیقت یہ بتاؤں کیسے
قلبِ مسلم کو رہِ راست پہ لاؤں کیسے
بادہ عرفانِ حقیقی کا پلاؤں کیسے
دشمنی الحاد و قراں کی دکھاؤں کیسے
کھو گئے بھول بھلیوں میں غلط بینی سے
دینِ قراں کو بدلتے ہیں یہ لادینی سے

(646)
یا خدا ان کو حقیقت یہ بتاؤں کیسے
قلبِ ناداں کو رہِ راست پہ لاؤں کیسے
بادہ عرفانِ حقیقی کا پلاؤں کیسے
غورِ آیات کا مقصود سناؤں کیسے
کھو گئے بھول بھلیوں میں غلط بینی سے
دینِ قراں کو بدلتے ہیں یہ لادینی سے
(647)
اہلِ اسلام کی اب مردہ دلی دیکھیں گے
مرگ دیکھی ہے خفی اور جلی دیکھیں گے
مرگ اس قوم کے سینے میں سِلی دیکھیں گے
کوزہء یاس میں حرمانِ گِلی دیکھیں گے
ہے یہ غمناک وہ منظر کہ فلک روئیں گے
شدتِ یاس میں رضوان و ملک روئیں گے
(648)
دردِ ھجراں میں غمِ دل کی تسلی ہی بھلی
اہلِ حرماں کے لئے فخر و تعلی ہی بھلی
چشمِ کوراں کے لئے تیرہ تجلی ہی بھلی
جھوٹے انساں سے کہیں خَلی و ولی ہی بھلی
اور اس دور میں مومن کی مناجات بھلی
دورِ بے نور میں ایماں کی محاکات بھلی

(649)

َ ََََََِِِِِاہلِ ایماں جو ابھی دل کی دمک دیکھیں گے
وقت آیا ہے کہ ایماں کی چمک دیکھیں گے
قلبِ مومن میں وہ عرفاں کی رمق دیکھیں گے
حسنِ ایماں کی تجلی میں حق دیکھیں گے
بندے دجال کے بندوں سے جدا دیکھیں گے
اہلِ دجال ادھر اہلِ خدا دیکھیں گے
(650)
بندے دجال کے بندوں سے جدا دیکھیں گے
اہلِ دجال ادھر اہلِ خدا دیکھیں گے
اہلِ تذویر ادھر اہلِ صفا دیکھیں گے
اہلِ توحید ادھر اہلِ ریا دیکھیں گے
چہرے اب حزبِ منافق کے سیاہ دیکھیں گے
اور شہباز قضا چشم براہ دیکھیں گے
(651)
نائرہ کفر کی الحاد میں جولانی ہے
خونِ مسلم میں ادھر سندھ کی طغیانی ہے
خلق اس دورِ غلط سیر کی دیوانی ہے
ارض اللہ کی مسلمان کو یہ ارزانی ہے
پرچمِ دیں کا عَلمَ دار مسلماں ہو گا
ساری مخلوق پہ اللہ کا فرماں ہو گا

(652)
پاک دجال کے فتنے سے زمیں ہونی ہے
دور اس ارض کے سینے سے مشیں ہونی ہے
پھر زمانے میں وہی حرمتِ دیں ہونی ہے
ساری مخلوق کی سجدے میں جبیں ہونی ہے
سن کہ جبریل کی آواز ہے وسواس نہیں
آئینہ حق ہے الحاد کا یہ بکواس نہیںَ َ

(653)
پاک دجال کے فتنے سے زمیں ہوتی ہے
دور اس ارض کے سینے سے مشیں ہوتی ہے
پھر زمانے میں وہی حرمتِ دیں ہوتی ہے
ساری مخلوق کی سجدے میں جبیں ہوتی ہے
سن یہ جبریل کی آواز کی سرگوشی میں
دیکھ تنویرِ جہاں تاب کی خاموشی میں
(654)
ذوقِ عرفاں کی زمانے میں فراوانی دے
جانثارانِ محمد ﷺ کو جہاں بانی دے
بے نوایانِ خدا دوست کو سلطانی دے
اور اقبالؒ کو عالم کی حدی خوانی دے
اپنی رحمت سے ہمیں حرمتِ انسانی دے
اپنی بخشش سے ہمیں خلعتِ ایمانی دے

(655)
کوئی اسلام کو دنیا میں مٹا بھی نہ سکے
دیا اس نور کا عالم میں بجھا بھی نہ سکے
موت کی نیند مسلماں کو سلا بھی نہ سکے
پرچمِ اسلام کا دنیا میں گرا بھی نہ سکے
فکر تم اپنی کرو اسلام پہ مغموم نہ ہو
اپنی غفلت میں کہیں غافلو معدوم نہ ہو
(656)
دیکھ ملت کے سلانے کو یہ نوام آئے
ڈھوندھنے ملتِ بدبخت میں آرام آئے
مردہ ملت کے کفن دوز سرِ شام آئے
وقتِ آخر بھی یہ ملت کے نہ کچھ کام آئے
خود بھی سوتے ہیں سلانے کو یہ قوم آئے ہیں
ساعتِ یاس میں افیونی ءِ یوم آئے ہیں
(657)
جو اٹھاتے ہیں غریبوں کی غریبی کا سوال
جن کی باتوں سے ٹپکتا ہے نرا حزن و ملال
جن کی کھپتی ہے غریبوں کی غریبی میں مقال
ہے بھی کچھ ان کو غریبوں کی غریبی کا خیال
ان سے پوچھو کہ غریبوں کا تمھیں درد بھی ہے؟
آہِ سوزان و دلِ گرم و رخِ زرد بھی ہے؟

(658)
رہنما قوم کے ملت کے ہوا خواہ جو ہوئے
شوقِِ تعریف میں ملت سے نواخواہ جو ہوئے
اچھی خدمت پہ وہ ملت سے جزا خواہ جو ہوئے
صوتِ عالی کے بھروسے پہ ثنا خواہ جو ہوئے
آنکھ ملت کی بھی رہبر کی جو دستار پہ ہے
آنکھ رہبر کی بھی پبلک کی جو شلوار پہ ہے
(659)
رہنما قوم کے ملت کے ہوا خواہ بھی نہیں
شوقِِِ تعریف میں ملت سے نوا خواہ بھی نہیں
اپنی خدمت پہ وہ ملت سے جزا خواہ بھی نہیں
صوتِ عالی کے بھروسے پہ ثنا خواہ بھی نہیں
آنکھ ملت کی بھی لیڈر کی جو دستار پہ ہے
آنکھ لیڈر کی بھی پبلک کی جو شلوار پہ ہے َ َََََََ

(660)
رہنما قوم کے ملت کے ہوا خواہ جو نہیں
حسنِ توصیف میں ملت سے نواخواہ جو نہیں
اچھی خدمت پہ وہ ملت سے جزا خواہ جو نہیں
کارِ عالی کے بھروسے پہ ثنا خواہ جو نہیں
ورنہ یوں دہر میں ملت یہ تباہ حال پھرے
تلخی ءِ درد و غمِ دور میں پامال پھرے

(661)
لیڈر اس قوم کے ملت کے ہوا خواہ جو نہیں
حسنِ توصیف میں ملت سے نوا خواہ جو نہیں
اپنی خدمت پہ وہ ملت سے جزا خواہ جو نہیں
کارِ عالی کے بھروسے پہ ثنا خواہ جو نہیں
ورنہ یوں دہر میں ملت یہ تباہ حال ہوتی؟
تلخی ءِ درد و غمِ دور میں پامال ہوتی ؟
(662)
نام لیتے ہوئے جہاد کا گھبراتے ہیں
نام لیتے ہوئے الحاد کا گھبراتے ہیں
نام لیتے ہوئے بیداد کا گھبراتے ہیں
نام لیتے ہوئے شداد کا گھبراتے ہیں
کاٹ دیں لفظ وہ الحاد کا قاموسوں سے
چاٹ لیں لفظ وہ بے داد کا ناموسوں سے
ََََََََََََََََِِِِِِِ (663)
لفظ جہاد کا اٹھتا ہے کبھی آہوں سے
دور اس دورِ ہوس کار کی جنگاہوں سے
اے بہت دور حقیقت کی وہ شاہراہوں سے
شور اٹھتا ہے زمانے کی نشر گاہوں سے
مرقدِ قومِ مسلماں سے جہاد اٹھا ہے
نوعِ انساں میں وہ از بہرِ فساد اٹھا ہے

(664)

عجب اس کیش پہ اطلاقِ مسلمانی ہے
اے روا جس میں شہِ کفر کی سلطانی ہے
سبب اس بات کا کمزوری ءِ ایمانی ہے
اور فقدانِ طمانیتِ روحانی ہے
ورنہ تخصیصِ اُولیِ الامرِ بِکمُ کیا معنی
شرطِ مِنُکم ہو اولیِ الامر سے گم کیا معنی
(665)
ہستی مسلم کی جو مسلم کو گوارا بھی نہیں
اپنی عادت پہ انہیں حیف کہ چارہ بھی نہیں
پاس اخوت کا انہیں خوفِ خدا را بھی نہیں
اے مروت بھی نہیں ان میں مدارا بھی نہیں
سانپ ہیں سانپ یہ خود سانپ کو ڈس لیتے ہیں
اپنے ڈسنے کو یہ بَل کانپ کے کس لیتے ہیں
(666)
تجھ کو معلوم تری بیعت ہے رحمان سے ہے
اپنے اللہ سے ہے مومن کے نگہبان سے ہے
فالقِ الحَبِ و نویٰ خالقِ گیہان سے ہے
تو سپاہی ہے تری حرب ہے شیطان سے ہے
جاوداں بیعت ہے جاوید قیامت تک ہے
حشر تک دائم و قائم ہے یہ لاینفک ہے

(667)
زندگی بھر میں نگوں نفس کا خیبر نہ ہوا
ہائے افسوس جہادوں میں وہ اکبر نہ ہوا
زیر تسکینِ فزوں حرص کا اژدر نہ ہوا
غرقِ تسنیمِ سکوں قلبکِ مضطر نہ ہوا
اپنے مولا سے ہو پیمانِ وفا تازہ اب
توڑ دوں خبیرِ الحاد کا دروازہ اب
(668)
گرزِ ایماں سے سرِ نفس کچلنا مومن
عمر بھر آتشِ دلسوز میں جلنا مومن
ہر نفس روغنِ جاں سوز میں تلنا مومن
جنگ و پیکار میں گر گر کے سنبھلنا مومن
ہے جہادوں میں یہی ارفع و اعلیٰ مومن
ارفع و اعلیٰ و بس اکمل و بالا مومن
(669)
گرزِ ایماں سے سرِ نفس کچلنا مومن
عمر بھر آتشِ دلسوز میں جلنا مومن
ہر نفس روغنِ جاں سوز میں تلنا مومن
جنگِ الحاد میں گر گر کے سنبھلنا مومن
ہے جہادوں میں یہی ارفع و اعلیٰ مومن
ارفع و اعلیٰ و بس اکمل و بالا مومن

(670)
خون کا دریا ہے لہو سرخ رواں کس کا ہے
قلب آثارِ الہیٰ میں طپاں کس کا ہے
راز اس قتلِ زمانہ میں عیاں کس کا ہے
سود اس فتنہء خونیں میں زیاں کس کا ہے
ان کی بکھری ہوئی لاشوں میں فدا کار بھی ہیں
اور لاشیں ہیں کہ اسلام سے بیزار بھی ہیں
(671)
مردِ مومن کی نگاہوں میں ہیں آثآر ترے
چہرہء مردِ مسلماں پہ ہیں انوار ترے
منکشف قلبِ مسلماں پہ ہیں اسرار ترے
ساری دنیا سے نرالے ہیں یہ بیمار ترے
گریہء ہجر دمِ وصل یہ رونے والے
اشکِ ھجراں یہ شبِ وصل پرونے والے
(672)
نگہہِ مومن میں یہ سرسبز جو شرارے ہیں
جھلملاتے ہوئے افلاک پہ ستارے ہیں
سرِ انوارِ الہی کے شرر پارے ہیں
سایہء عرش میں انوار کے نظارے ہیں
اے پہ اس دور میں مومن کا ہے ملنا مشکل
ہے قبا فقر کی اس دور میں سلنا مشکل

(673)
مقصد عالی ہے تو دنیا میں مسلمان کا ہے
مقصد عالی ہے تو اس حاملِ قران کا ہے
مقصد عالی ہے تو اس قائلِ ایمان کا ہے
مقصد عالی ہے تو اس غازیء ذیشان کا ہے
اور مقصد ہے تو تعلیم ہے قران کی ہے
اور مقصد ہے تو تلقین ہے ایمان کی ہے
(674)
مومنو! کفرِ تباہ حال کو برباد کرو
اپنے دل یادِ الہی سے بھی آباد کرو
رمزِ اسلام کو اس دور میں پھر یاد کرو
نیتیں صاف کرو قلب کو دلشاد کرو
یہ جہاں فانی سرائے ہے تمھیں یاد بھی ہے؟
چند روزہ ہے جہاں عاقبت آباد بھی ہے؟
(675)
تم بناؤ گے جو ایٹم ہیں وہ معلوم ہمیں
دہر والے سو سمجھتے ہیں وہ مظلوم ہمیں
تین صدیوں سے بنایا ہے جو محکوم ہمیں
اے مگر کر نہ سکیں دہر سے معدوم ہمیں
پاس قراں کے جو تلوار ہے لافانی ہے
تیغِ ربی ہے الہیٰ ہے وہ یزدانی ہے

(676)
پھونک دے ناقورِ فلک دوزِ جہاں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ فلک دوزِ سماں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ جہاں دوزِ دخاں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ عیاں لرزِ نہاں لرز کہ اب
کفرِ ویراں کے ٹکانوں میں بپا حشر کریں
غلغلوں آہوں فغانوں میں بپا حشر کریں
(677)
خودی اقبالؒ کی عوام بھی کیا سمجھیں گے
خود پرستاری و پندار و ہوا سمجھیں گے
شیخی و فخر و تعلی کی ادا سمجھیں گے
اپنی ہستی کو خدا سے بھی سَوا سمجھیں گے
خودی اقبالؒ کی ملتی ہے فنا ہونے سے
کشتہء خنجرِ تسلیم و رضا ہونے سے
(678)
درگہہءِ ذاتِ الہی میں ہے فریاد مری
دیکھ اس دور میں یوں حالتِ برباد مری
کون سنتا ہے کہ روداد ہے ناشاد مری
بے زبانی کی نگہباں ہے یہ روداد مری
وائے بربادی ءِ برباد پہ خوں روتا ہے
گوشہء ظلمتِ دوراں میں نگوں روتا ہے

(679)
نام اقبالؒ کا سنتے ہیں تو سر دھنتے ہیں
اسمِ اقبالؒ کی وہ زیر و زبر دھنتے ہیں
شاہی مسجد میں وہ اقبالؒ کا در دھنتے ہیں
اور جبریل بھی اس بات پہ پَر دھنتے ہیں
اے پہ حرف اس کا نہ پڑھنے کی قسم کھائی ہے
کوئے عرفاں میں نہ بڑھنے کی قسم کھائی ہے
(680)
ہاں تو اب دینِ محمد ﷺ سے تمسخر چھوڑیں
یہ تکاسل یہ تغافل یہ تفخر چھوڑیں
غمزہ و لیتَ لعل میں تبّحر چھوڑیں
حسنِ تاویل کے پردوں میں تاخر چھوڑیں
چھوڑ دیں تکیہ فقط رسمی مدارات پہ اب
تل گئی تیغ سرِ عرش مکافات پہ اب
(681)
گنجِ اسرارِ حقیقت کا امیں سوتا ہے
زیرِ انوارِ سرِ عرشِ بریں سوتا ہے
نورِ قراں کی تجلی میں حزیں سوتا ہے
مرگِ ظلمات کے پردوں میں کہیں سوتا ہے
چشمِ افلاک سے جب اشکِ سحر گرتے ہیں
روئے بے ہوش پہ خورشید و قمر گرتے ہیں

(682)
شبِ ظلمات میں خاموش و نگوں روتا ہے
سینہء جبریل کا پھٹتا ہے تو خوں روتا ہے
منع کرتے ہیں جو رونے سے فزوں روتا ہے
دیکھ اس مرد کی حالت پہ جنوں روتا ہے
صبح ہوتی ہے تو ہر اشک میں خوں ہوتا ہے
آہِ دلدوز میں اندازِ فسوں ہوتا ہے
(683)
تم کو لازم ہے کہ جبریل کو سنگسار کرو
پار اس سینہء بے لوث سے تلوار کرو
ختم اس مومنِ حق بیں کا یہ اصرار کرو
رسمِ دیرینہء دنیا سے نہ انکار کرو
حق پرستی کی زمانے میں سزا ہوتی ہے
قتل و زندان کے سوا اور یہ کیا ہوتی ہے
(684)
اور اس کارِ جہاں لرز پہ مائل بھی نہیں
قتلِ غم خوارِ خدا دوست کے قائل بھی نہیں
مکرِ شیطانِ فسوں ساز کے گھائل بھی نہیں
اور دیوارِِ رہِ خیر میں حائل بھی نہیں
تو کفن باندھ کے میدانِ وغا یاد کریں
وقت آخر ہے ذرا اٹھ کے خدا یاد کریں

(685)
وقت آیا ہے کہ اب نیند سے بیدار بھی ہوں
دینِ قیم کی محبت میں وہ سرشار بھی ہوں
دورِ فرتوتِ دروں سرد سے بیزار بھی ہوں
راہِ قراں میں وہ اب مائلِ پیکار بھی ہوں
گونج اب نعرہء تکبیر کی افلاک سنیں
پھر وہی جلجلہء جبریل جگر چاک سنیں
(686)
جن ممالک میں نہ فولاد ہو جی بھی نہ سکیں
پیرھن ہستی ءِ دو روز کا سی بھی نہ سکیں
خوفِ افرنگ سے کہہ نامِ نبی ﷺ بھی نہ سکیں
مرگ کا جامِ جہاں گیر وہ پی بھی نہ سکیں
فکرِ دوراں میں وہ آرام سے سو بھی نہ سکیں
ذکرِ یزداں میں وہ آلام سے رو بھی نہ سکیں
(687)
حق نے اسلامی ممالک میں اک کاں بھی نہ رکھی
زیرِ کوہسارر کہیں مرگِ دواں بھی نہ رکھی
دورِ حاضر کی کہیں روحِ رواں بھی نہ رکھی
اور پنہانی کہیں تیغ و سناں بھی نہ رکھی
کیا ہے اس راز میں پنہاں وہ سمجھدار سمجھ
ہے جو مومن تو فراست سے یہ اسرار سمجھ

(688)
ان ممالک میں فراوانی ءِ معدن ہوتی
چپے چپے پہ مشیں ساز کی گلخن ہوتی
قوم اس فتنہء دجال میں پُر فن ہوتی
دینِ اسلام سے ہر بات میں ان بَن ہوتی
کون دجال سے پھر برسرِ پیکار ہوتا
کون اس دور میں اللہ کی تلوار ہوتا
(689)
تم بھی ہر بات میں ہمدوشِ فرنگی ہوتے
بڑھ کے افرنگ سے دجال کے سنگی ہوتے
بڑھ کے نیرنگ میں افرنگ سے ڈھنگی ہوتے
بڑھ کے افرنگ سے اس زنگ میں زنگی ہوتے
ایٹمی قوتِ شاہکار پہ ایماں ہوتا
طاقِ نسیاں کی خلاؤں میں جو قراں ہوتا
(690)
ملکِ اسلام معادن سے فقط خالی ہے
اور تعمیر تمھاری ہمہ نقالی ہے
اصلِ تجدید کہاں محض یہ دلالی ہے
میں نے اس راز کی تفصیل یہ اپنا لی ہے
ہو کے مجبور پیغمبر ﷺ کی طرف لوٹو گے
دین و ایمان کے رہبر کی طرف لوٹو گے

(691)
تیری بگڑی نہ سفینوں کے بنانے میں بنے
تیری بگڑی نہ مشینوں کے بنانے میں بنے
تیری بگڑی نہ خزینوں کے بنانے میں بنے
تیری بگڑی نہ دفینوں کے بنانے میں بنے
تیری تقدیر مقیّد ہے تو ایمان میں ہے
یعنی اس دور کے دجال کی پہچان میں ہے
(692)
تیری بگڑی نہ سفینوں کے بنانے میں بنے
تیری بگڑی نہ مشینوں کے بنانے میں بنے
تیری بگڑی نہ خزینوں کے بنانے میں بنے
تیری بگڑی نہ دفینوں کے بنانے میں بنے
تیری تقدیر مقیّد ہے تو قران میں ہے
یعنی اس دور کے دجال کی پہچان میں ہے
(693)
قعرِ عمان میں نَے کانِ بدخشان میں ہے
فنِ قارون میں ہے نَے صنعتِ ہامان میں ہے
تاجِ پرویز میں نَے افسرِ خاقان میں ہے
گنجِ کونین ادھر دیکھ کہ قران میں ہے
نعمتیں دونوں جہانوں کی اسی نور میں ہیں
شمعیں انوار کی روشن تو اسی طور میں ہیں

(694)
پاس مسلم کے ہے کیا ایٹمی طاقت کا جواب
پاس مسلم کے ہے کیا فنی حذاقت کا جواب
پاس مسلم کے ہے کیا علمی نزاکت کا جواب
ہے فقط ایک ہی اس تیری حماقت کا جواب
بڑھ کے قراں سے کوئی علمی نزاکت ہی نہیں
بڑھ کے ایماں سے کوئی ایٹمی طاقت ہی نہیں
(695)
مردِ مومن کے سفینے کو اٹم توڑ سکیں؟
نورِ عرفاں کے خزینے کو اٹم توڑ سکیں؟
نورِ ایقاں کے نگینے کو اٹم توڑ سکیں؟
نورِ یزداں کے دفینے کو اٹم توڑ سکیں؟
نورِ ربی کو فواروں سے بجھانا ممکن؟
طورِ ربی کو طیاروں سے اڑانا ممکن؟ََََََََِِِِِ

(696)
اے عجب حصنِ حصین ہا کو اٹم توڑ سکیں
اے عجب حصرمتیں ہا کو اٹم توڑ سکیں
اے عجب نصرتِ دیں ہا کو اٹم توڑ سکیں
نورِ عرفانِ جبیں ہا کو اٹم توڑ سکیں
ربِ غالب کی قسم ان کو کوئی توڑ سکیں
رب عالیٰ کی بناؤں کو وہ جھنجھوڑ سکیں

(697)
غافلو! حصنِ حصین ہا ہے تو ایمان ہے یہ
غافلو! حصرمتیں ہا ہے تو ایمان ہے یہ
غافلو! نصرتِ دیں ہا ہے تو ایمان ہے یہ
محافظ دور و قریں ہا ہے تو ایمان ہے یہ
حاشا لللہ ہے جو اس حصن کو بم توڑ سکیں
ََََََََََََََحصنِ ایمانِِِ مسلماں کو اٹم توڑ سکیں
(698)
بڑھ کے قراں سے کوئی تیغ زمانوں میں نہیں
بڑھ کے ایماں سے کوئی زور جہانوں میں نہیں
بڑھ کے عرفاں سے کوئی نور فسانوں میں نہیں
بڑھ کے ایقاں سے کوئی لعل خزانوں میں نہیں
نفسِ سرکش سے کوئی بڑھ کے تباہ کار نہیں
بڑھ کے قراں سے کوئی دہر میں تلوار نہیں
(699)
سالہا سال میں قوموں کی زباں بنتی ہے
سنگِ بے مایہ کہیں لعلِ گراں بنتی ہے
لعلِ نایاب سے وہ روحِ رواں بنتی ہے
روضہء جاں میں وہ گلگشتِ جِناں بنتی ہے
تب کہیں جا کے وہ عشرت کا سماں ہوتی ہے
جا کے صدیوں میں کہیں حور جواں ہوتی ہے

(700)
گنگ و والکن کی وہ مانند وہ غوں غوں جو کریں
رمز و تاثیر سے سامع کو وہ مفتوں جو کریں
اپنی دانست میں سامع پہ وہ افسوں جو کریں
قولِ مقصود وہ کہنے میں دگرگوں جو کریں
پیر مجبور ہیں مستور وہ لالائی میں
بسکہ معذور ترقی کی فلک سائی میں
(701)
بڑھ کے قران سے کوئی تیغ زبانوں میں نہیں
بڑھ کے قران سے کوئی تیغ جہانوں میں نہیں
بڑھ کے قران سے کوئی تیغ فسانوں میں نہیں
بڑھ کے قراں سے کوئی لعل خزانوں میں نہیں
حرفِ قران سے کوئی بڑھ کے قلمکار نہیں
بڑھ کے قران سے کوئی دہر میں تلوار نہیں
(702)
اسمِ اعظم کے مقابل میں اٹم چیز ہے کیا
گرزِ غازی کے مقابل میں صنم چیز ہے کیا
آہِ مومن کے مقابل میں یہ دم چیز ہے کیا
برقِ خاطف کے مقابل میں یہ نم چیز ہے کیا
مومنا! آہِ جہاں سوز کو اب چھوڑ کے دیکھ
ہاں ذرا تیرِ فلک دوز کو اب جوڑ کے دیکھ

(703)
بڑھ کے قران سے کوئی تیغ زمانوں میں نہیں
بڑھ کے قران سے کوئی زور جہانوں میں نہیں
بڑھ کے قران سے کوئی نور فسانوں میں نہیں
بڑھ کے قران سے کوئی لعل خزانوں میں نہیں
حرفِ قران سے کوئی بڑھ کے قلمکار نہیں
بڑھ کے قران سے کوئی دہر میں تلوار نہیں
(704)
زورِ عنتر نہ سہی قوتِ ایماں تو دے
حصنِ خیبر نہ سہی حرمتِ ایقاں تو دے
علمِ اعور نہ سہی حکمتِ عرفاں تو دے
شانِ قیصر نہ سہی شوکتِ سلمان تو دے
دے تو ایماں کہ زمانے میں اٹم غرق کروں
آہِ ایمانی ءِ دلدوز سنابرق کروں
(705)
اسمِ اعظم کے مقابل میں اٹم چیز ہے کیا
گرزِ غازی کے مقابل میں صنم چیز ہے کیا
آہِ مومن کے مقابل میں یہ دم چیز ہے کیا
اے جہنم کے مقابل میں یہ بم چیز ہے کیا
مومنا! آہِ جہاں سوز کو اب چھوڑ کے دیکھ
ہاں ذرا تیرِ فلک دوز کو اب جوڑ کے دیکھ

(706)
اسمِ اعظم کی کرامت بھی جہاں دیکھے گا
اہلِ الحاد کی ندامت بھی جہاں دیکھے گا
دورِ الحاد کی قیامت بھی جہاں دیکھے گا
عصرِ آلات کی شامت بھی جہاں دیکھے گا
دور دیکھے گا مشینیں نہ طنینیں ہوں گی
اور دیکھے گا طنینیں نہ مشینیں ہوں گی
(707)
اسمِ اعظم کی کرامت بھی جہاں دیکھے گا
اہلِ الحاد کی ندامت بھی جہاں دیکھے گا
دورِ الحاد کی قیامت بھی جہاں دیکھے گا
روزِ محشر کی اقامت بھی جہاں دیکھے گا
دور دیکھے گا مشینیں نہ طنینیں ہوں گی
اور دیکھے گا طنینیں نہ مشینیں ہوں گی
(708)
حرفِ قراں کی صداقت میں اگر ریب نہیں
زورِ ایماں کی صداقت میں اگر ریب نہیں
نورِ عرفاں کی صداقت میں اگر ریب نہیں
لطفِ یزداں کی صداقت میں اگر ریب نہیں
نصرتِ دینِ محمد ﷺ میں شبہ کیا معنی؟
لطفِ رحمانی ءِ سرمد میں شبہ کیا معنی؟

(709)
مردِ مجبور کو پَل بھر میں جو جبریل کرے
دودِ بے نور کو پَل بھر میں جو قندیل کرے
جوئے ناچیز کو پَل بھر میں جو صد نیل کرے
نعرہء مِِور کو جو صورِ سرافیل کرے
اس کو مشکل ہے وہ منہ کفر کا کالا کر دے؟
نورِ قراں سے زمانے میں اجالا کر دے؟
(710)
کی وفا عمرِ دو روزہ نے تو دکھلاؤں گا
تجھ کو جھنجھوڑ کے اک راز بتا جاؤں گا
بن کے خورشید نئے دور پہ چھا جاؤں گا
زورِ برہانی ءِ دانش سے یہ بتلا جاؤں گا
کہنا قراں کا ہے بس کام فقط مولا کا
اور اعجاز ہے دوام فقط مولا کا
(711)
لفظِ قراں کی صداقت میں کوئی ریب نہیں
زورِ ایماں کی صداقت میں کوئی ریب نہیں
نورِ فاراں کی صداقت میں کوئی ریب نہیں
قہرِ یزداں کی صداقت میں کوئی ریب نہیں
ہائے مسلم سے یہ فردوسِ بریں لے بھی نہ لیں
اے تباہی ہے امانت یہ کہیں لے بھی نہ لیں

(712)
لفظِ قراں کی صداقت میں کوئی ریب نہیں
علمِ عرفاں کی حذاقت میں کوئی ریب نہیں
دورِ باطل کی ہلاکت میں کوئی ریب نہیں
اور ایماں کی رفاقت میں کوئی ریب نہیں
قومِ مسلم سے یہ فردوسِ بریں لے بھی نہ لیں
تھی ودیعت جو امانت یہ کہیں لے بھی نہ لیں
(713)
ایک ہوا ہیں زمانے میں یہ ہتھیار تیرے
اک ڈراوا ہیں یہ سب لشکرِ جرار تیرے
اک تماشہ ہیں مکینے یہ شرربار تیرے
یہ گراں بار و میاں بار و سبکسار تیرے
نگہہء جبریل میں کچھ خوف نہیں بیم نہیں
جز بہ برداً و سلاماً بہ ابراہیم نہیں
(714)
معجزے دینِ محمد ﷺ کے پرانے نہ ہوئے
لفظ رنگین محمد ﷺکے فسانے نہ ہوئے
سست تحسینِ محمد ﷺ کے ترانے نہ ہوئے
ختم در چینِ محمد ﷺ کے خزانے نہ ہوئے
طور شرار کی مانند مدینے میں پھریں
نورِ انوار کی مانند مدینے میں پھریں

(715)
میرے مولا کی پرانی یہ کہانی نہ ہوئی
میرے مولا کی زبانی یہ پرانی نہ ہوئی
حدِ اعجاز سے گذری ہوئی ثانی نہ ہوئی
جاودانی یہ نصیحت ہے کہ فانی نہ ہوئی
عرش پہ جب سے قدم بوسی ء بے میم ہوئی
حرفِ قراں میں نہ گنجائشِ ترمیم ہوئی
(716)
حدِ اعجاز سے بالا ہے کہ قرآن ہے یہ
دل کی آواز کی مالا ہے کہ قرآن ہے یہ
چشمِ ناباز پہ تالا ہے کہ قرآن ہے یہ
قلبِ ناساز سے اعلیٰ ہے کہ قرآن ہے یہ
بادہ و جام ہے محفل ہے خدا ساقی ہے
معجزہ دینِ محمد ﷺ کا سدا باقی ہے
(717)
بندے اس دور میں سائنس کو قراں کہتے ہیں
گویا کعبے کو نگہبانِ بتاں کہتے ہیں
سودِ محشر کو وہ دنیا کا زیاں کہتے ہیں
اور بندے ہیں کہ قراں کو قراں کہتے ہیں
نارِ بے نور کو انوار سمجھ بیٹھے ہیں
نورِ بے نار کی تلوار سمجھ بیٹھے ہیں

(718)
جو فرشتوں کو قوانینِ جہاں کہتے ہیں
اور فردوسِ دو روزہ کو جِناں کہتے ہیں
وحشی انساں کو جو جِناتِ دخاں کہتے ہیں
لفظِ قراں کو وہ الہام کہاں کہتے ہیں
ریچھ ہیں ریچھ بِناؤں کو وہ مسمار کریں
روئے آقا سے مگس رانی ءِ پُرکار کریں
(719)
لفظِ قراں میں وہ سائنس کی جو اثبات کریں
لفظِ قراں کو وہ قراں سے مگر مات کریں
لفظِ قراں کو وہ سائنس کی مناجات کریں
ہائے قراں سے یہ کیا ظلم و ہیہات کریں
غافلو ہوش ! عجب چال یہ دجال کی ہے
دشمن ِ عقل کی توحید کے اکال کی ہےَِِِِ
(720)
لفظِ قراں میں یہ سائنس ہمہ مسطور بھی ہے
ہے مگر پردہء اسرار میں مستور بھی ہے
پنجہء قدرِ الہیٰ میں یہ مجبور بھی ہے
خاک افلاک کی تقدیر میں مقہور بھی ہے
راہ قراں کی مگر راہ وہ سائنس کی نہیں
راہِ اسلام سو ہمراہ وہ سائنس کی نہیں

(721)
علمِ افرنگ کو اسلام کی ایجاد کہیں
چرخِ الحاد کے ستاروں کو وہ اوتاد کہیں
سروِ آزاد کو برباد وہ شمشاد کہیں
یعنی اسلام کو ہر بند سے آزاد کہیں
نگہہء انساں میں جو الحاد کا فتور آتا ہے
حرفِ قرآں میں الجھنے کا شعور آتا ہے
(722)
اختراعیں جو سمجھتے ہیں کمالات کریں
یعنی ایمانی مسائل کی وہ اثبات کریں
ثبت مذہب کے عقائید کی محالات کریں
اور اس طور گناہوں کی مکافات کریں
جان لیتی ہے ادھر مذہب مسکین کی یہ
پھر سراہتی ہے بشاشت بھی رخِ دین کی یہ
(723)
جن و شیطان و ملائک کا جو انکار کریں
کیسے وحی کی حقیقت کا وہ اقرار کریں
حدِ عقبی کو وہ محشر سے کہاں پار کریں
دیں سے بے چارے مسلماں کو وہ بیزار کریں
چاندنی مادہ پرستار نے گہنائی ہے
ایک عینک ہے کہ ابلیس نے پہنائی ہے

(724)
نشہءِ حکمتِ افرنگ میں بیہودہ بکیں
عقلِ سالوسی ءِ افرنگ کا فرمودہ بکیں
کم نگاہی کے اندھیر میں آسودہ بکیں
اور فرمودہء افرنگ وہ فرسودہ بکیں
صوتِ افرنگ کے مشرق میں سپیکر دیکھیں
مئے حقیقت میں کبھی غرب کی پی کر دیکھیں
(725)
صوتِ افرنگ کے مشرق میں سپیکر دیکھیں
اپنی کاوش کی مئے تلخ بھی پی کر دیکھیں
دامن اس خارِ مغیلاں سے وہ سی کر دیکھیں
کاش اک روز میرے حال میں جی کر دیکھیں
پھر کہیں دور کے نقالِ فرنگ اچھے ہیں
یا کہ دریائے حقیقت کے نہنگ اچھے ہیںَ َََََََََََََََِِِِ
(726)
کشتہء نازِ حسینانِ فرنگ ہوتے ہیں
چشم بے سوز سے مجروحِ خدنگ ہوتے ہیں
خرقہء دنگِ فرنگی میں ملنگ ہوتے ہیں
قیس بنتے ہیں پہ مجبونِ دو رنگ ہوتے ہیں
چشمِ بینا کی نگاہوں میں اگر دیکھ سکیں
ہیئت اپنی وہ کبھی ایک نظر دیکھ سکیں

(727)
لعنت اس علمِ فرنگی کی نہ کافی جانیں
اور تعلیمِ فرنگی کو یہ صافی جانیں
درس و تدریس کا مقصود یہ لافی جانیں
تذکیہ ءِ نفس کو تن دھن کا منافی جانیں
اصل تعلیم جو فم بافی و تن دانی ہو
نفسِ امارہء دوں کار کی سلطانی ہو
(728)
لعنت اس حکمتِ افرنگ کی کافی نہ سہی
بارِ ادبار بھی اس علم کا وافی نہ سہی
اس کی تعلیم کا مقصود بھی لافی نہ سہی
تذکیہء نفس و مداوا کی منافی نہ سہی
علمِ افرنگ کی قراں سے توُ تطبیق نہ کر
قولِ عرفانی ءِ یزداں سے توُ تطبیق نہ کر
(729)
لعنت اس حکمتِ افرنگ کی کافی نہ کہو
درسِ افرنگ کو باطن کی تلافی نہ کہو
درس و تدریس کے مقصود کو لافی نہ کہو
اور اس حکمتِ افرنگ کو صافی نہ کہو
یہ وہ لعنت ہے کہ ناپید مثال اس کی ہے
دہر فانی میں نرالی ہے تو چال اس کی ہے

(730)
ہم تو جانیں گے کہ مغرب نے قراں سمجھا ہے
حرفِ قراں کی حقیقت کو عیاں سمجھا ہے
قلبِ پنہانی ءِ قراں کو طپاں سمجھا ہے
جملہ قراں کو کراں تا بہ کراں سمجھا ہے
سوزِ ایماں کی حقیقت سے شناسا دیکھیں
قائلِ دینِ نبی ﷺ مائلِ عقبیٰ دیکھیں
(731)
کفر و الحاد کی مستی میں وہ سرشار ہے کیوں
کفر و الحاد کی علت میں وہ بیمار ہے کیوں
کفر و الحاد کی لعنت میں گرفتار ہے کیوں
دین و ناموسِ الہیٰ سے وہ بیزار ہے کیوں
کیوں گرفتار ہے زندیقی و لادینی میں
مست و سرشار ہے کیوں ملتِ ماشینی میں
(732)
دہریئے مادہ ہیں پرستار یہ سب جھوٹے ہیں
نورِ عرفاں سے ہیں بیزار یہ سب جھوٹے ہیں
مال و دولت کے ہیں طلبگار یہ سب جھوٹے ہیں
فانی دنیا میں ہیں سرشار یہ سب جھوٹے ہیں
خود فریبی کے تخیل میں گرفتار ہیں سب
ملکِ فانی میں نگوں خفتہ و بیدار ہیں سب

(733)
نعرہء بوزنہ بن بوزنہ گر مارا ہے
شیر مارا ہے کہ اس بات میں خر مارا ہے
ایک دنیا نے جو اس بات پہ سر مارا ہے
عقلِ دوار نے کیا ضیغمِ نر مارا ہے
فکر آزادِ غلط رو کی کراماتیں ہیں
ورنہ کہنے کی کہیں یہ بھی کوئی باتیں ہیں
(734)
بندہ بندر توبنے بوزنہ انساں نہ بنے
اپنی چاہت سے کوئی قلبِ پریشاں نہ بنے
خان ساماں جو کہیں خان کا ساماں نہ بنے
قردِ زنہار درِ عقل کا درباں نہ بنے
چولی سو سال میں افسوس کہ داماں نہ بنے
اور پیمانہ دو صدسال میں پیماں نہ بنے
(735)
بندہ بندر تو بنے بوزنہ انساں نہ بنے
اپنی چاہت سے کوئی قلبِ پریشاں نہ بنے
خان ساماں جو کہیں خان کا ساماں نہ بنے
بندر اسرارِ درِ عقل کا درباں نہ بنے
چولی سو سال میں افسوس کہ داماں نہ بنے
اور پیمانہ دو صد سال میں پیماں نہ بنے

(736)
غورِ آیات سے مقصودِ خرابات نہیں
غورِ آیات یہ بلعیدنِ آیات نہیں
گربہ و موش کی معروف محاکات نہیں
شکم مملو کی قراقر کی مناجات نہیں
بلکہ مقصود ہے خالق کی کرامت مومن
اور مقصود ہے اثباتِ قیامت مومن
(737)
ہے پہ الحاد کا تو مقصودِ خرابات یہی
غورِ آیات ہے بلعیدنِ آیات یہی
گربہ و مُوش کی معروف محاکات یہی
شکم مملوء کی قراقر کی مناجات یہی
غورِ آیات میں خالق سے وہ دوری چاہیں
پشتِ عقبی میں وہ دنیا کی حضوری چاہیں
(738)
اہلِ سائنس نے مگر غور بہ آیات کیا
کوئے عرفاں کو مگر کوئے خرابات کیا
نگۂِ باطن کو جو تبدیل بہ آلات کیا
اصلِ قراں سے وہیں ترکِ موالات کیا
فخرِ ایجاد سے غارت میں قدم اور بڑھا
گردنِ فخر میں ہر گام پہ خم اور بڑھا

(739)
غورِ آیات کے پردوں میں شکم بانی دیکھ
چشمِ ابلیس کی راہوں سے خدا دانی دیکھ
نگہہءِ الحاد میں انوار کی ارزانی دیکھ
خانہء عقل میں ابلیس کی مہمانی دیکھ
علم انور میں شبِ تار یہ لافانی دیکھ
دیکھ اس نگہہءِ غلط کار کی نادانی دیکھ
(740)
غورِ آیات کا مقصود سمجھتے بھی نہیں
ورطہء حاضر و موجود سمجھتے بھی نہیں
ہے جو اس دور میں مفقود سمجھتے بھی نہیں
فکرِ آیات میں معبود سمجھتے بھی نہیں
اگلی دنیا کی وہ بہبود سمجھتے بھی نہیں
نگہہِ قراں کا وہ مقصود سمجھتے بھی نہیں
(741)
غورِ آیات کا مقصود سمجھتے بھی نہیں
ورطہء حاضر و موجود سمجھتے بھی نہیں
ہے جو اس دور میں مفقود سمجھتے بھی نہیں
فکرِ آیات میں معبود سمجھتے بھی نہیں
نگہہِ قراں کا وہ مقصود سمجھ بیٹھے ہیں
اگلی دنیا کو وہ نابود سمجھ بیٹھے ہیں

(742)
ہے جو اس دور میں مردود سمجھتے بھی نہیں
ہے جو دنیا میں سو نابود سمجھتے بھی نہیں
ہے جو اس دہر میں بے سود سمجھتے بھی نہیں
نگہ قراں کو وہ مقصود سمجھتے بھی نہیں
پیر رومیؒ کا وہ ارشاد بھلا بیٹھے ہیں
چشمِ بیدار کو دردا کہ سلا بیٹھے ہیں
(743)
ہے جو اس دور میں مردود سمجھتے بھی نہیں
ہے جو اس دہر میں نابود سمجھتے بھی نہیں
ہے جو اس عصر میں بے سود سمجھتے بھی نہیں
نگہہِ قراں کا وہ مقصود سمجھتے بھی نہیں
پیر رومیؒ کا وہ ارشاد بھلا بیٹھے ہیں
قلب آگاہ کو وہ دردا کہ سلا بیٹھے ہیں
(744)
زلفِ شبِ تاب یہ چہرے پہ ہے بکھرائی دیکھ
دیکھ محبوب کا انداز یہ لیلائی دیکھ
لازوال حسنِ جہاں سوز کی دارائی دیکھ
جس کا ہر دیدہ بیدار ہے سودائی دیکھ
ذرے ذرے میں عیاں حسنِ فزوں جس کا ہے
دل کے پردوں میں نہاں سوزِ دروں جس کا ہے

(745)
زلفِ شبِ تاب یہ چہرے پہ ہے بکھرائی دیکھ
روئے ماہ پاش کا انداز یہ لیلائی دیکھ
دیکھ انداز یہ اس چاند کے لیلائی دیکھ
لازوال حسنِ جہاں سوز کی دارائی دیکھ
ذرے ذرے میں عیاں حسن فزوں جس کا ہے
دل کے پردوں میں نہاں سوزِ دروں جس کا ہے
ََََََََََََََََِِِِِِِ (746)
زلفِ شبِ تاب یہ چہرے پہ ہے بکھرائی دیکھ
روائے ماہ پوش کا انداز یہ لیلائی دیکھ
لازوال حسن جہاں سوز کی نارائی دیکھ
چشم مدہوش بھی اسی من کی سودائی دیکھ
ذرے ذرے میں عیاں حسن فزوں جس کا ہے
دل کے پردوں میں نہاں سوزدروں جس کا ہے
(747)
تھک گیا دور یہ سائنس کی کراماتوں سے
خاک و خاکستر و خاشاک کی برساتوں سے
نارِ بے نور سے بے نور محاکاتوں سے
نورِ عرفاں کے یہ فقداں کی مکافاتوں سے
جسمِ خاکی میں جو انساں کے بدوں کیف نہیں
عقلِ انسان میں جو عرفاں کے بدوں کیف نہیں

(748)
الحاد منکر ہے قیامت کا اٹل منکر ہے
اور منکر ہے علیٰ ضربِ طبل منکر ہے
اور منکر ہے فرشتوں کا خلل منکر ہے
اور منکر ہے یہ از روزِ ازل منکر ہے
پانچ حسوں میں کوئی چیز جو محصور نہیں
ان سے منکر ہے کہ اقرار کا دستور نہیں
(749)
مقصد اس غور سے اسرارِ خدا بینی ہے
مقصد اس غور سے انوارِ خدا بینی ہے
مقصد اس غور سے افکارِ خدا بینی ہے
مقصد اس غور سے آثآرِ خدا بینی ہے
غورِ آیات سے مقصود خدا بینی ہے
جلوہء ذاتِ الہی کی یہ رنگینی ہے
(750)
تو نے قدرت کے قوانین کو خدا سمجھا ہے
غافل! اُس قادرِ مطلق کو تو کیا سمجھا ہے
اے قبا پوش کی ہستی کو قبا سمجھا ہے
باقی دنیا کو یہی فانی سرا سمجھا ہے
دہریئے اصلِ حقیقت کو یہ کیا سمجھیں گے
وہ جو خاشاک کی دنیا کو خدا سمجھیں گے

(751)
ذرے ذرے کو وہ پرواز میں انجن بھی کریں
چپے چپے کو مشیں ساز کی گلخن بھی کریں
قمقموں سے وہ آواز کو روشن بھی کریں
بچے بچے کو نئے راز میں پُرفن بھی کریں
کیجئے اس کا قراں نہ مگر نام دھریں
دہریئے حرفِ ربانی پہ نہ الزام دھریں
(752)
اور بندے ہیں کہ قراں کو قرآں کہتے ہیں
فانی دنیا کو وہ جنت کی خزاں کہتے ہیں
سودِ محشر کو وہ دنیا کا زیاں کہتے ہیں
اور محشر کو وہ دنیا کا کراں کہتے ہیں
نارِ بے نور سمجھتے ہیں کہ قراں نہ بنے
الحاد اعور ہے کسی رنگ میں فرقاں نہ بنے
(753)
چشمِ پُر آب بھی ہے قلبہء خونناب بھی ہے
جانِ ماہتاب بھی ہے روحِ جگر تاب بھی ہے
نارِ خوں سوز بھی ہے خضرتِ شاداب بھی ہے
دورِ ظلمات میں اک کِرمکِ شبِ تاب بھی ہے
درگہہِ اوج میں اک بندہء مسکین بھی ہے
ہے کراں گیر زمانے سے جہاں بین بھی ہے

(754)
وہ جو اس دور میں اسلام کے دیوانے ہیں
اپنے مولا کے جو پیغام کے دیوانے ہیں
اصلِ ایماں کے جو انجام کے دیوانے ہیں
جو شہادت کے حسیں جام کے دیوانے ہیں
میری آنکھوں کا وہی نور ہیں مسرور ہوں میں
میرے اس دل میں وہ مستور ہیں مسحور ہوں میں
(755)
ََََََََََََََخاکیا! دھونی یہ کیا تو نے رما ڈالی ہے
رسم جلنے کی یہ کیا تو نے بنا ڈالی ہے
کیا ہی قدرت نے تیرے دل میں ہوا ڈالی ہے
آگ اس خاک کی چٹکی میں یہ کیا ڈالی ہے
دھوم ہے دھوم زمانے میں تری دھونی تھی
ارض اللہ کی یہ دھونی کے بدوں سونی تھی ََََََََََََََََِِِِِِِ
(756)
خاکیا دھونی یہ کیا تو نے رما ڈالی ہے
ساقیا عشق کی کیا مَے یہ پلا ڈالی ہے
پاکیا تو نے بھی کیا طرحِ صفا ڈالی ہے
ڈاکیا بگڑی یہ کیا تو نے بنا ڈالی ہے
عجب اس دہر میں دھونی ہے رمائی یہ گئی
کیسے انداز میں سب بات بنائی یہ گئی

(757)
خاکیا دورِ تپش ناک کی نیرانوں میں
اک جہنم کی دھواں دھار ہے ویرانوں میں
نارِ بے نور ہے دوزخ کے شبستانوں میں
وائے مجبور جھلستے ہوئے انسانوں میں
خاکی انساں کا المناک ہے ناری ہونا
نارِ نمرود میں اسلام سے عاری ہونا
(758)
آتشیں دور ہے گلخن کی فراوانی ہے
نارِ نمرود سے دنیا کی ابادانی ہے
اک دھواں دھار ہے گلنار کی جولانی ہے
نارِ پُردود ہے دنیا ہے شکم بانی ہے
خاکی انساں کا نئے دور میں ناری ہونا
دل کے حرماں میں پر و بال سے عاری ہونا
(759)
جھک گئیں دورِ قیامت پہ بلائیں آخر
جل اٹھیں درد کی مسموم ہوائیں آخر
کھو گئیں نگہہ سمابیں میں خلائیں آخر
رنگ لائی ہیں یہ الحاد کی ادائیں آخر
ہے بھی اس دور میں کیا رفعِ رواسی ممکن
ہے بھی مجبور زمانے کی خلاصی ممکن

(760)
کارخانے کو لپکتے ہیں وہ سرطانوں پر
خار کھانے کو لپکتے ہیں وہ انسانوں پر
فار کھانے کو لپکتے ہیں وہ شیطانوں پر
ہار کھانے کو لپکتے ہیں وہ جم خانوں پر
آتشین دور میں انساں کا خراطیں ہونا
طورِ الحاد کی تجلی میں شیاطیں ہونا
(761)
نوعِ انساں کے مصائب کو گھٹا بھی نہ سکے
رنگِ فردوس وہ دنیا میں جما بھی نہ سکے
سنگِ مقصود وہ آدم کو دکھا بھی نہ سکے
موت کی نیند وہ انساں کو سلا بھی نہ سکے
ایک دھوکا تھا زمانے میں یہ الحاد اپنا
ایک نوحہ تھا ترانے میں یہ الحاد اپنا
(762)
دشمنِ دیں ہے یہ غارت گرِ ایماں بھی ہے
دشمنِ کیش ہے غارت گرِ ادیان بھی ہے
دشمنِ خلق ہے غارت گرِ انسان بھی ہے
دشمنِ عشق ہے غارت گرِ عرفاں بھی ہے
تیر سمجھے ہو جسے تیغ و سپر سمجھے ہو
یہ تو الحاد ہے جسے علم و ہنر سمجھے ہو

(763)
علم اچھا ہے مگر علم کے اقسام بھی ہیں
مژدے صحت کے بھی ہیں زہر بھرے جام بھی ہیں
اس میں رہبر بھی ہیں رہزن بھی ہیں نمام بھی ہیں
اچھے آغآز بھی ہیں اور برے انجام بھی ہیں
پہلے سمجھیں تو سہی علم کا مقصود ہے کیا
بس یہی ہستی ءِ دو روز کی بہبود ہے کیا
(764)
علم اس دورِ خرافات کا لاثانی ہے
یہ نہ سری ہے نہ قلبی ہے نہ روحانی ہے
یہ الہیٰ ہے فلاحی ہے نہ یزدانی ہے
یہ زمینی ہے مکانی ہے یہ طوفانی ہے
چشمِ شیطاں سے جو یزداں کا نظارہ یہ کرے
ذرہ ءِ خاک کو حیرت ہے کہ صد پارہ یہ کرے
(765)
علمِ لاثانی ءِ الحاد کے یہ آثار ہیں کیا
نورِ حقانی ءِ الحاد کے یہ انوار ہیں کیا
سرِ عمرانی ءِ الحاد کے یہ اسرار ہیں کیا
اسمِ آسانی ءِ الحاد کے یہ شاہکار ہیں کیا
آدمی دہریئے دہریئے خونخوار ہوئے
ظاہر اس طور پہ الحاد کے یہ آثآر ہوئے

(766)
علمِ الحاد نے جو مذہب کی کمر توڑی ہے
اک قیامت ہے کہ بالائے حشر توڑی ہے
تیغِ دیں توڑ کے مذہب کی سپر توڑی ہے
تو یہ کہتا ہے کہاں کیسے کدھر توڑی ہے
جھانک لے قلب سیاہ پوش کی پہنائیوں میں؟
ہے کہیں نور بھی ظلمات کی گہرائیوں میں؟
(767)
دشمنِ دیں ہے غارت گرِ ایماں بھی ہے
ماحی ءِ خلق ہے غارت گرِ انساں بھی ہے
قاتلِ عشق ہے غارت گرِ عرفاں بھی ہے
اہرمن دورِ مباہات کا شیطاں بھی ہے
تیر سمجھے ہو جسے تیغ و سپر سمجھے ہو
یہ تو الحاد ہے جسے علم و ہنر سمجھے ہو
(768)
الحاد اس دور کا اک آنکھ سے بینا بھی نہیں
نورِ فاراں بھی نہیں جلوہء سینا بھی نہیں
جامِ عرفاں بھی نہیں عشق کی مینا بھی نہیں
گنجِ عارف بھی نہیں حکمتِ سینا بھی نہیں
آنکھ عرفاں کی تو الحاد کی فقط اندھی ہے
آبِ عرفاں سے ہے تو محروم یہ بَط اندھی ہے

(769)
آتشِ عشق کو الحاد نے جِلا بخشی ہے
تو نہ سمجھے گا میرے دوست کہ کیا بخشی ہے
سوزِ بے نور کو ظلمت کی ضیا بخشی ہے
قلبِ بے سوز کو عاشق کی ادا بخشی ہے
چھین کر بندہء مجبور سے عِرفانی عشق
دے دیا حضرتِ منصور کو برفانی عشق
(770)
تجھ سے ملا نے کہا کار یہ شیطانی ہے
تو نے سمجھا یہ کہ بدمغز کی نادانی ہے
بدرِ الحاد کی جو اب دور میں تابانی ہے
اور مغرب کو بھی الحاد سے پشیمانی ہے
آج جبریل یہ کہتا ہے کہ ہاں کار یہ شیطانی ہے
الحاد اس دور کا اک فتنہءِ ہامانی ہے
(771)
تم کو چڑھنے کے لئے ارض میں حیواں جو دیئے
اسپِ راہوار دیئے تازی ءِ جولاں جو دیئے
دردِ فطرت کے لئے فطرتی درماں جو دیئے
عین فطرت کے تتابق میں یہ ساماں جو دیئے
خرِ پردار کے کاندھوں پہ سَپَٹ چلتے ہو
جوشِ عجلت ہے کہ فطرت کے الٹ چلتے ہو

(772)
اس کے دستور میں ایماں سو یہ بالغیب کہاں
اس کے منشور میں اک لفظ یہ لاریب کہاں
چشمِ بے نور میں عرفاں کے سوا عیب کہاں
جامہء کور میں ایماں کے لئے جَیب کہاں
ایک ہی بیج یہ دنیا میں کبھی بو نہ سکیں
دین و الحاد ہیں کہ ہم جنس کبھی ہو نہ سکیں
(773)
وہ یہ کہتا ہے خدا تول کے دکھلا تو سہی
کرسی ءِ عرش و سما تول کے دکھلا تو سہی
قصہء حشر و جزا تول کے دکھلا تو سہی
ہاں ذرا ملکِ بقا کھول کے دکھلا تو سہی
میں تو مانوں گا میرا ہاتھ جو لگواؤ گے
اپنی آنکھوں سے مجھے بات جو دکھلاؤ گے
(774)
اور قراں ہے کہ محشر کے سوا کچھ بھی نہیں
ہو نہ محشر تو محمد ﷺ کا خدا کچھ بھی نہیں
اس کی دنیا میں بجز روزِ جزا کچھ بھی نہیں
دورِ عقبی کے سوا دورِ فنا کچھ بھی نہیں
نگہہ قراں میں جو ملزوم خدا ہوتی ہے
حشر ایمانِ خدائی کی جزا ہوتی ہے

(775)
اور بنیاد ہے قراں کی تو بالغیب پہ ہے
اور تصدیق ہے قراں کی تو لاریب پہ ہے
اور محشر کی نگاہ دہرِ زیاں جَیب پہ ہے
دینِ قراں کی بنا کلمہء بے عیب پہ ہے
حرفِ قراں پہ ملائک کے نشاں دیکھیں گے
اور اس دہر میں محشر کے سماں دیکھیں گے
(776)
امرِ الحاد ہے کہ سب سیلف سیفیشنٹ بنیں
عقلِ الحاد کی حمایت پہ ڈیپنڈنٹ بنیں
ارضِ مادی کی متاعوں کے یہ مرچنٹ بنیں
چھوڑ دیں دل کو فقط پیٹ کے سرونٹ بنیں
امرِِبرعکس ہے قراں کی یہ اقداروں سے
نسبتِ خاک ہے فردوس کے گلزاروں سے
(777)
امرِ الحاد ہے کہ سب سیلف سیفیشنٹ بنیں
امرِ قراں ہے کہ مولا پہ ڈیپنڈنٹ بنیں
امرِ الحاد ہے اسی دہر کے سرونٹ بنیں
امرِ قراں ہے کہ عقبیٰ کے وہ مرچنٹ بنیں
نگہہء الحاد جو اسی دہر کے خاشاک پہ ہے
نگہ قراں ہے اُدھر رفعتِ افلاک پہ ہے

(778)
غورِ آیات سے قراں کا یہ مقصود نہیں
حکمتِ سائنس بے ہودہء پردود نہیں
نقصِ محشر میں یہ اندازِ زمیں سود نہیں
علم اشیاء کے بہانوں میں یہ افزود نہیں
بلکہ مقصود ہے خالق کی کرامت مومن
اور مقصود ہے اثباتِ قیامت مومن
(779)
الحاد اک دینِ مکمل ہے یہ آسان بھی ہے
اس کا کعبہ بھی ہے اللہ بھی ہے قران بھی ہے
اس کا ملا بھی شریعت بھی ہے عرفان بھی ہے
اک قیامت ہے یہ ماحی ءِ ادیان بھی ہے
مادی اقدار کی دنیا میں جہاں اس کا ہے
روح غائب ہے مگر جسمِ کراں اس کا ہے
(780)
الحاد اک دینِ مکمل ہے یہ آسان بھی ہے
اس کا کعبہ بھی ہے اللہ بھی قران بھی ہے
اس کا ملا بھی شریعت بھی ہے عرفان بھی ہے
اس کی حرمت بھی ہے کلچر بھی ہے ایمان بھی ہے
مادی اقدار کی دنیا میں جہاں اس کا ہے
روح غائب ہے مگر جسم کراں اس کا ہے

(781)
اور اسلام بھی اک دینِ مکمل ہے یہ آسان بھی ہے
اس کا کعبہ بھی ہے اللہ بھی قران بھی ہے
اس کا ملا بھی شریعت بھی ہے عرفاں بھی ہے
ہے مگر اس کے سوا ناصرِ ادیان بھی ہے
روح کی دنیا میں رواں دیکھ جہاں اس کا ہے
دہر عارض ہے مگر حشرِ کراں اس کا ہے
(782)
ضوئے قراں میں جو اس دور کی تنویر نہ ہو
کارگر اس میں کوئی آپ کی تدبیر نہ ہو
سائنس اس دور کی قراں کی بھی تصویر نہ ہو
اور قراں بھی تو سائنس سے بغل گیر نہ ہو
تیغیں دو ایک نیامے میں سما بھی نہ سکیں
ایک لمحے میں شب و روز یہ آ بھی نہ سکیں
(783)
الحاد اک تیغِ مکمل ہے یہ شمشیر بھی ہے
گردنِ مادہ پرستی میں یہ زنجیر بھی ہے
فاتحِ دہر بھی ہے برہانِ زمیں گیر بھی ہے
اور تدبیر کا ہمرازِ دروں پیر بھی ہے
خاکی دنیا کی فضاؤں میں جہاں اس کا ہے
عمرِ فانی میں حضرموت کراں اس کا ہے

(784)
اور اسلام بھی ایک تیغِ مکمل ہے یہ شمشیر بھی ہے
سینہء مادہ پرستی میں یہ اک تیر بھی ہے
فاتحِ قلب ہے برہانِ جہانگیر بھی ہے
اور تقدیر کا ہمرازِ دروں پیر بھی ہے
روح کی دنیا کی فضاؤں میں جہاں اس کا ہے
موت سیڑ ھی ہے مگر حشر کراں اس کا ہے
(785)
دشمنی الحاد و قراں کی دوامی جو ہوئی
آگ پانی کی مثل فطری مقامی جو ہوئی
نور و ظلمات کی مانند توامی جو ہوئی
جاودانی یہ دوامی یہ مدامی جو ہوئی
بیر ہنگام ازل سے جو فریقین میں ہے
دیکھ لے فرق وہی فطرتِ کونین میں ہے
(786)
نسبت اس دور کی الحاد کو جو قران سے ہے
طورِ سینا کی تجلی کو وہ نیران سے ہے
صنعِ فاراں کو وہی صنعتِ ہامان سے ہے
توشہء قبر کو اس دہر کے سامان سے ہے
تیرے سمجھانے کو نسبت یہ پلٹ ڈالی ہے
ورنہ نسبت ہے تو قراں کی فقط عالی ہے

(787)
ہندو کہتے ہیں کہ نکلی ہے تو ویدان سے ہے
آپ کہتے ہیں کہ نکلی ہے تو قران سے ہے
یہ نہ ویدان سے نکلی ہے نہ قران سے ہے
یہ جو نکلی ہے تو بس مغزکِ ہاماں سے ہے
یہ تو ایجاد فقط مغزکِ ہامان کی ہے
یہ نہ ایجاد ہے ویدوں کی نہ قران کی ہے
(788)
ہندو کہتے ہیں کہ نکلی ہے تو ویدان سے ہے
آپ کہتے ہیں کہ نکلی ہے تو قران سے ہے
یہ نہ ویدان سے نکلی ہے نہ قران سے ہے
نکلی سائنس یہ سبھی مغزکِ ہامان سے ہے
جان بے مغزکِ ہامان کی یہ ایجادیں ہیں
یہ نہ ویدوں کی نہ قراں کی یہ ایجادیں ہیں
(789)
اے پہ خاموش ہیں اس امر میں انجیلی کیوں
چہرے اس قوم کی سبکی میں ہوئے نیلی کیوں
یعنی مغرب کے یہ سائنس کے گیلییلی کیوں
کرکے برداشت وہ بیٹھے ہیں یہ تذلیلی کیوں
وہ سمجھتے ہیں حقیقت کہ نکالی یہ گئی
نہ تو قراں سے نہ انجیل سے پالی یہ گئی

(790)
پھر حقیقت ہے یہ قراں کا اعجاز بھی ہے
اس کے سینے میں دو عالم کا ہر اک راز بھی ہے
اس میں انجامِ دو عالم بھی ہے آغآز بھی ہے
قلبِ یزدانِ دو عالم کا یہ غماز بھی ہے
اس میں سائنس بھی ہے دانش بھی ہے عرفان بھی ہے
دیدہء مِور بھی ہے چشمِ سلیمان بھی ہے
(791)
اس میں سائنس بھی ہے دانش بھی ہے عرفان بھی ہے
اس میں عیسیٰ بھی ہے موسیٰ بھی ہے لقمان بھی ہے
اس میں گہرائی بلندی بھی ہے امعان بھی ہے
عرشِ مولا سے نکلتی ہوئی آذان بھی ہے
ہے وہ موجود جو کونین میں قرآن میں ہے
خالقِ اکبر منان کے دیوان میں ہے
(792)
اس میں سائنس بھی ہے دانش بھی ہے عرفان بھی ہے
اس میں عیسیٰ بھی ہے موسیٰ بھی ہے لقمان بھی ہے
اس میں گہرائی بلندی بھی ہے امعان بھی ہے
عرشِ مولا سے نکلتی ہوئی آذان بھی ہے
عقل و دانش ہے دو عالم کی سو قران میں ہے
ربِ علام خرد مند کے دیوان میں ہے

(793)
جو بھی ترتیبِ اصاویل ہے سب لکھی ہے
جتنی تخلیق کی تفصیل ہے سب لکھی ہے
جو بھی آیات کی تاویل ہے سب لکھی ہے
جتنی تورات ہے انجیل ہے سب لکھی ہے
یہ وہ دستارِ فضیلت ہے جو قران کی ہے
یہ وہ قران کی تلوار ہے جو عرفان کی ہے
(794)
جو بھی ترتیبِ اصاویل ہے سب لکھی ہے
جو بھی ترکیبِ تفاصیل ہے سب لکھی ہے
جو بھی تفسیرِ اقاویل ہے سب لکھی ہے
جتنی تنویرِ اناجیل ہے سب لکھی ہے
یہ وہ دستارِ فضیلت ہے جو قران کی ہے
یہ وہ تلوار ہے عرفاں کی جو قران کی ہے
(795)
لے کے سقراط سے برٹرینڈرسل جتنے ہیں
از ازل تا بہ قیامت کی اجل جتنے ہیں
دمقریطس سے گیلیلی کے خلل جتنے ہیں
اور نیوٹن سے آئنسٹن کے عمل جتنے ہیں
ان کی ہر بات کا مذکور ہے قران میں ہے
اور قران کے صدقے میں میری جان میں ہے

(796)
پھر بھی کہتا ہوں کہ قراں سے نکالی نہ گئی
طرح اس سائنسِ ایجاد کی ڈالی نہ گئی
قومِ مسلم سے کبھی روحِ بلالیؒ نہ گئی
قلبِ مومن سے کبھی نگہہء جلالی نہ گئی
اے پیغمبر ﷺ نے صحابیؓ نے تو ایجاد نہ کی
عہدِ اسلام کے مسلم نے کبھی یاد نہ کی
(797)
پھر بھی کہتا ہوں کہ قراں سے نکالی نہ گئی
طرح اس سائنسِ ایجاد کی ڈالی نہ گئی
لے کے قراں سے کبھی دہر میں پالی نہ گئی
روحِ قراں سے کبھی نگہتِ عالی نہ گئی
اے پیغمبر ﷺ نے صحابیؓنے تو ایجاد نہ کی
عہدِ اسلام کے مسلم نے کبھی یاد نہ کی
(798)
لفظ قراں میں یہ سائنس ہمہ مسطور بھی ہے
ہے مگر پردہ ءِ اسرار میں مستور بھی ہے
پنجہء قدرِ الہی میں یہ مجبور بھی ہے
خاکِ افلاک کی تقدیر میں مقہور بھی ہے
دستِ قراں کا اشارہ ہے جو افلاک کی سو
پائے سائنس کا اشارہ ہے تلے خاک کی سو

(799)
لفظِ قراں میں یہ سائنس ہمہ مسطور بھی ہے
ہے مگر پردہء اسرار میں مستور بھی ہے
پنجہء قدرِ الہی میں یہ مجبور بھی ہے
قدرِ ربی کے تقاضوں میں یہ مقہور بھی ہے
دستِِِ قراں کا اشارہ ہے جو افلاک کی سو
پائے سائنس کا اشارہ ہے تلے خاک کی سو
(800)
ہے یہ قوت کہ قراں دہر سے منوائے گا
قلعہ الحاد کا اسی گرز سے لرزائے گا
فوقیت اپنی اسی طور سے جتلائے گا
اہلِ الحاد کو تمکنت سے وہ بتلائے گا
دیکھ ادھر کیفیت اس دور کی سب لکھی ہے
میں نے صدیوں سے مگر تم نے اب لکھی ہے
(801)
اسی تلوار سے الحاد کو سلا ڈالے گا
دورِ موجود کی لعنت کو جلا ڈالے گا
جنگ و پیکار میں یوں طرحِ وغا ڈالے گا
آبِ عرفاں سے زمانے کو جِلا ڈالے گا
خرمنِ مادہ پرستی کو جلائے گا ابھی
بیخ و بنیاد یہ باطل کی ہلائے گا ابھی

(802)
دستِ قراں میں مقابل کی نہ تلوار ہوتی
دشتِ الحاد کو جلانے کی نہ گر نار ہوتی
فرقِ قراں پہ فضیلت کی نہ دستار ہوتی
آج تعلیم یہ قران کی بھی بے کار ہوتی
علمِ الحاد کے مقابل پہ یہ خاموش ہوتا
طاقِ نسیاں میں یہ انجیلِ فراموش ہوتا
(803)
ستیا الحاد کا جو اس دور میں ناس ہونا ہے
ماتمی چہرہء الحاد کا لباس ہونا ہے
رخصت اس دور نے دنیا سے بہ یاس ہونا ہے
قصہِ الحاد کا فقط ظن و قیاس ہونا ہے
میرے مرنے پہ میری قبر پہ مرقوم کریں
فتنہ الحادِ مردار کو معدوم کریں
(804)
دستِ غیبی سے میرے قلب پہ مرقوم ہوا
نام الحاد کا نئے دور میں معدوم ہوا
محو اس دور سے الحاد کا جو مفہوم ہوا
طوقِ الحاد سے رہا دہر کا حلقوم ہوا
عشق و عرفاں کی زمانے میں فراوانی ہو
اور شاہیں کی سموات میں سلطانی ہو

(805)
دیکھ الحاد کے کمالوں میں زوال آتا ہے
دورِ حاضر کے مقدر پہ ملال آتا ہے
غیرتِ حسنِ الہی میں جلال آتا ہے
لیلِ دیجور کے ماتھے پہ ہلال آتا ہے
قلبِ جبریل سے اٹھی ہوئی آواز بھی ہے
اور اسرارِ حقیقت کی یہ غماز بھی ہے
(806)
دیکھ الحاد کے کمالوں میں زوال آتا ہے
دورِ حاضر کے مقدر پہ ملال آتا ہے
غیرتِ حسنِ الہی میں جلال آتا ہے
اور مغرب کی سیاھی پہ ھلال آتا ہے
قلبِ جبریل سے اٹھی ہوئی آواز بھی ہے
اور اسرارِ حقیقت کی یہ غماز بھی ہے
(807)
تھک گیا دور مادہ پرستی کی کراماتوں سے
خاک و خاکستر و خاشاک کی برساتوں سے
نارِ بے نور سے بے نور محاکاتوں سے
نورِ عرفاں کے یہ فقداں کی مکافاتوں سے
جسم خاکی میں جو انساں کے بدوں کیف نہیں
عقلِ انساں میں جو عرفاں کے بدوں کیف نہیں

(808)
ساحری ساحرِ افرنگ کی پسپا جو ہوئی
چھوڑ کر فرش کو اب سوئے فلک وا جو ہوئی
عقلِ بے نور جو تھی حرص کا سودا جو ہوئی
گرمی ءِ حرص میں اب شعلہ بہ کالا جو ہوئی
تو نے سمجھا ہے ابھی اس کے افق اور بھی ہیں
خود فریبی کے تقاضوں کے عجب طور بھی ہیں
(809)
جتنی سائنس ہے اسے آپ بھی پڑھ کر دیکھیں
حدِ سائنس کی خلاؤں سے بھی بڑھ کر دیکھیں
خرِ دجال کی سیٹوں پہ بھی چڑھ کر دیکھیں
شہر نیوٹن سے ورے ایٹمی گڑھ تک دیکھیں
ساری سائنس میں فقط خاک کی پابندی ہے
آنکھ مادی تو ہے چالاک پہ روح اندھی ہے
(810)
عصرِ الحاد کا تمدن میں مقام آیا ہے
دیکھ صیہونی حکومت کا قیام آیا ہے
دورِ حاضر میں یہودی یہ نظام آیا ہے
دورِ صیہونی عجب دور بجام آیا ہے
الحاد اطوارِ یہودی نے جو اپنایا ہے
رنگ اس رنگ میں یوں وحدتِ دوں لایا ہے

(811)
دیکھ اس دورِ یہودی میں صفات آئی ہیں
لے کے الحاد کے وہ گھوڑے پہ برات آئی ہیں
روزِ روشن کی شعاؤں میں وہ رات آئی ہیں
کرنے اس دھر سے غربت کو وہ مات آئی ہیں
کامرانی کی بھی الحاد نے ادا پائی ہے
جب سے صیہونی تمدن نے یہ اپنائی ہے
(812)
دیکھ اس دورِ یہودی میں صفات آئی ہیں
لے کے الحاد کے وہ گھوڑے پہ برات آئی ہیں
بن کے دنیا کی شعاؤں میں وہ رات آئی ہیں
کرنے اس دہر سے غربت کو وہ مات آئی ہیں
کامرانی کی بھی الحاد نے ادا پائی ہے
جب سے صیہونی تمدن نے یہ اپنائی ہے
(813)
سائنس اس دورِ یہودی پہ سوار آئی ہے
جامِ اطوارِ یہودی میں عقار آئی ہے
کامراں نخلِ یہودی کی بہار آئی ہے
اور تقدیر جہاں سینہ فگار آئی ہے
لازم اس دور یہودی میں جو ملزوم ہوا
جو بھی خادم تھا نئے دور میں مخدوم ہوا

(814)
کیوں زمانے کی یہودوں سے وہ نفرت بھی گئی
کیوں زمانے سے یہودوں کی حقارت بھی گئی
کیوں زمانے سے یہودوں کی وہ ندرت بھی گئی
کیوں زمانے کی یہودوں سے وہ فرقت بھی گئی
رنگ اس دور نے ڈالی ہیں یہ اقوام سبھی
ہوگئیں ایک ہی رنگت میں یہ ہم فام سبھی
(815)
حیف اس دورِ یہودی میں صفات آئی ہیں
یعنی دنیا نے یہودوں سے جو اپنائی ہیں
پڑھ کے قراں نے وہ آیات میں گِنوائی ہیں
چشمِ جبریل نے لاریب صحیح پائی ہیں
اس لئے آج یہودوں سے وہ نفرت نہ رہی
رنگِ ہم جنس کے مابین وہ ندرت نہ رہی
(816)
کس نے دلوائی زمانے میں حکومت ان کو
کس نے دلوائی زمانے میں یہ سطوت ان کو
کس نے دلوائی زمانے میں یہ قوت ان کو
کس نے دلوائی زمانے میں یہ حشمت ان کو
قلب مومن ہے تو سوچے گا وہ اس راز کو اب
انکرالصوت کی پائے گا وہ آواز کو اب

(817)
آج دنیا نے جو دولت کو خدا مان لیا
اپنے ہر عقدہء مشکل کا کشا مان لیا
یعنی ہر درد کا درمان و دوا مان لیا
اے تعزُ و تزلُ من تشاء مان لیا
دیکھ دجال کی دنیا میں کراماتیں دیکھ
مذہب دورِ نویں زاد میں دو ذاتیں دیکھَ َََ
(818)
آج دنیا نے جو دولت کو خدا مان لیا
اپنے ہر عقدہء مشکل کا کشا مان لیا
یعنی ہر درد کا درمان و دوا مان لیا
اے تعزُ و تزلُ من تشاء مان لیا
دیکھ اس دور کی دنیا میں کراماتیں دیکھ
مذہب دورِ مشین گر میں نئی باتیں دیکھ
(819)
آج دنیا میں حکومت ہے تو ختار کی ہے
آج دنیا میں جو عزت ہے تو فجار کی ہے
آج دنیا میں جو وقعت ہے تو اشرار کی ہے
اور ناگفتی حالت ہے تو ابرار کی ہے
دور باغی ہوا طاغی ہوا غدار ہوا
بندہ اس دور میں اللہ کا ناچار ہوا

(820)
دیکھ اس دورِ یہودی کی حکومت کا قیام
اور پھر دیکھ زمانے میں یہودی کا نظام
دیکھ پھر دستِ یہودی میں زمانے کی زمام
تو نہ سمجھے تو تیری اپنی فراست کو سلام
مادی اقدار کے انداز یہ سودی دیکھیں
دورِ اعور کے یہ اندازِ یہودی دیکھیں
(821)
مُوش اس دورِ دگرگوں میں بہشتی دیکھیں
مُوش اس دورِ جگر خوں میں کنشتی دیکھیں
مُوش اس دورِ نگوں بو میں سرشتی دیکھیں
مُوش اس ورطہء پرخوں میں یہ خشتی دیکھیں
دورِ افزود کی بے تار کلیلوں کی قسم
چرخِ پُردود میں دُم دار سُہیلوں کی قسم
(822)
یہ گلستانی ءِ بے نگہتِ ایمانی دیکھ
یہ مسلمانی ءِ بے دینی و ایقانی دیکھ
یہ خدا دانی ءِ بے دانش قرانی دیکھ
یہ پریشانی ءِ افکار کی ارزانی دیکھ
مردہ چشمان غضبناک میں بے باکی دیکھ
روبہہِ دورِ جہاں گرد کی چالاکی دیکھ

(823)
بندے ہیں اپنی غرض کے پہ یہ فنکار بھی ہیں
بے مروت ہیں وفادار نہیں یار بھی ہیں
گرگ سفاک بھی ہیں گربہء خونخوار بھی ہیں
ہوں غرض مند تو ہیہات کہ بے عار بھی ہیں
ابنِ آدم کی یہ ابلیسی و خناسی دیکھ
مکرِ پیہم کی یہ پالیسی و نسناسی دیکھ
(824)
حسنِ تخریب کا انداز یہ تعمیری دیکھ
حسنِ تہذیب کے انداز یہ تذویری دیکھ
حسنِ تشبیب میں صیاد کی نخچیری دیکھ
دیکھ اس مرشدِ تجدید کی بے پیری دیکھ
حسنِ تعمیر کے انداز یہ تخریبی دیکھ
ناز اس حسنِ فسوں ساز کے تہذیبی دیکھ
(825)
کہدو جبریل یہ کہتا ہے بیابانوں میں
پھونک دو صورِ سرافیل یہ میدانوں میں
آندھیوں میں ابھرتے ہوئے طوفانوں میں
اور اسلام کی دنیا کے شبستانوں میں
ہاں کمر باندھ کے آمادہء پیکار اٹھیں
ہو گئی تم پہ قیامت پئے یلغار اٹھیں

(826)
آسمانوں میں مسلمان منادی یہ سنیں
دورِ افلاک میں اعلانِ بلادی یہ سنیں
قومِ مسلم کے وہ سُلطان وہ ہادی یہ سنیں
بندے اللہ کے مسلمان بشادی یہ سنیں
کٹ کے جالوں سے سوئے وحدتِ اقلیم آئیں
اڑ کے غاروں سے سوئے دستِ براھیم آئیں
(827)
صورِ محشر کی زمانے میں دہاڑ آتی ہے
بن کے افرنگ کی کانوں سے چنگھاڑ آتی ہے
ایٹم ایٹم سے صدا ہائے اجاڑ آتی ہے
بن کے دنیا کے دہانے پہ کواڑ آتی ہے
آدمی غور سے اس دور کی شامت دیکھیں
اپنی آنکھوں سے علاماتِ قیامت دیکھیں
(828)
ابرِ ممسک کے دہانوں سے دہاڑ آتی ہے
مردِ ممسک کے خزانوں پہ اجاڑ آتی ہے
خانہء بنک سے ہاتھی کی چنگھاڑ آتی ہے
بن کے اس دور کے ممسک پہ پہاڑ آتی ہے
ابرِ ممسک کے خزانوں سے غریو آتی ہے
بن کے مایا کے ٹھکانوں میں یہ دیو آتی ہے

(829)
تلخیء زہر میں دنیا کی ہوا سنتے ہیں
گرمی ءِ قہر میں باطن کا گلہ سنتے ہیں
جلوہء بحر کی ظلمت میں یہ کیا سنتے ہیں
سینہء دہر میں شمشیرِ قضا سنتے ہیں
نارِ الحاد میں سرگرم جو بندے دیکھوں
ان کی گردن میں ابھی آگ کے پھندے دیکھوں
(830)
صورِ محشرکی پکاروں میں ہوا اٹھی ہے
گوشِ دوراں کی طنینوں میں ندا اٹھی ہے
دورِ بے ہوش کے کانوں میں صدا اٹھی ہے
دیکھ اس دور کی حشر آج بپا اٹھی ہے
مردے اٹھ اٹھ کے جو قبروں سے رواں ہوتے ہیں
آنکھ کھلتی ہے ادھر قلب طپاں ہوتے ہیں
(831)
اپنی آنکھوں سے علاماتِ قیامت دیکھیں
اپنی آنکھوں سے نئے دور کی شامت دیکھیں
اپنی آنکھوں سے یہ انساں کی ندامت دیکھیں
اپنی آنکھوں سے یہ محشر کی اقامت دیکھیں
روح انساں کی جو پھرتی ہے یہ گھبرائی ہوئی
اک اداسی ہے کہ ا س دور پہ ہے چھائی ہوئی

(832)
تھک گیا دور یہ الحاد کی کراماتوں سے
خاک و خاکستر و خاشاک کی برساتوں سے
علمِ بے نور کی بے نور محاکاتوں سے
نورِ عرفاں کے یہ فقداں کی مکافاتوں سے
جسمِ خاکی میں جو انساں کے بدوں کیف نہیں
عقلِ انساں میں جو عرفاں کے بدوں کیف نہیں
(833)
ضوئے خورشیدِ جہاں تاب کی تابانی میں
زرد سیمابِ سماں تاب کی تابانی میں
زعفراں زارِ خزاں تاب کی تابانی میں
اشعہ شمس زماں تاب کی تابانی میں
خیمہ و خرگہہ اسلام کی سرتابی میں
ہلکا ہلکا ہے دھواں دھوپ کی زرتابی میں
(834)
ساحری ساحرِ افرنگ کی پسپا جو ہوئی
چھوڑ کر فرش کو اب سوئے فلک وا جو ہوئی
عقلِ بے نور جو تھی حرص کا سودا جو ہوئی
گرمئی حرص میں شعلہ بہ کالا جو ہوئی
تو نے سمجھا ہے ابھی اس کے افق اور بھی ہیں
خود فریبی کے تقاضوں کے عجب طور بھی ہیں

(835)
کتنی صدیوں سے خدا صابر و خاموش رہا
انتقام آتشِ دلسوز کا مدہوش رہا
دہرِ بے باک مگر حشر فراموش رہا
اور غافل تُو یہاں محوِ تن و توش رہا
انتقام آگ کی مانند بھڑکتا ہے کہیں
دل بھی افلاک کا سینے میں دھڑکتا ہے کہیں
(836)
انقلاب اپنے زمانوں میں کئی دیکھے ہیں
اور گیتی کے فسانوں میں کئی دیکھے ہیں
عقل و دانش کے بہانوں میں کئی دیکھے ہیں
ظلم و ظالم کے ٹکانوں میں کئی دیکھے ہیں
انقلاب اب جو نئے دور میں اتراتا ہے
چشم بینا میں تحیر سے فتور آتا ہے
(837)
شیرِ ضرغام نہیں شیرِ ژیاں دیکھیں گے
اپنی کرنی کا وہ اب سود و زیاں دیکھیں گے
اپنی آنکھوں میں جہنم وہ عیاں دیکھیں گے
وقت آیا ہے کہ دیکھیں گے وہ ہاں دیکھیں گے
عَلَم الحاد کا دنیا میں نگوں دیکھیں گے
اپنے کردار کے دوزخ کا فسوں دیکھیں گے

(838)
پشتِ دجال سے عیسیٰ جو گذاریں برچھی
آفریں نعرہء تکبیر کہ ماریں برچھی
کیا عجب تول کے ہاتھوں میں سہاریں برچھی
کیا ہی انداز سے سینے میں اتاریں برچھی
خون اچھالیں گے جو عیسیٰ تو سبھی دیکھیں گے
زیرک اس خوں کو دیکھیں گے غبی دیکھیں گے
(839)
دورِ ایماں کی طرف تیرا جہاں لوٹے گا
تیرا جبریل یہ کہتا ہے کہ ہاں لوٹے گا
شورِ جانکاہِ جہاں سوئے اذاں لوٹے گا
مردِ نومید یہ کہتا ہے کہاں لوٹے گا
مومنو رحمتِ غفار سے نومید نہ ہو
مردِ مومن کی فراست سے تو بے دید نہ ہو
(840)
قلبِ گردوں میں تڑپتی ہے آذاں سنتا ہوں
شورِ خاموش کے پردوں میں فغاں سنتا ہوں
ایک طوفاں ہے تموج میں طپاں سنتا ہوں
دیکھ اسرار کی دنیا میں کہاں سنتا ہوں
یہ نہ بس حسنِ تخیل کی فسوں کاری ہے
اک حقیقت ہے پسِ چشمِ یقیں جاری ہے

(841)
یاد اللہ کی زمانے سے کہیں محو ہوئی
زندگی اپنی فسانے میں فقط لحو ہوئی
خلقِ گردانِ جہاں صرفِ سرِِ نحو ہوئی
ذکرِ مولا کے بھلانے میں مگر سہو ہوئی
پھر سے اکبار تجلی سے جہاں روشن کر
دل کی دنیا میں محبت کے نشاں روشن کر
(842)
آسمانوں پہ فرشتوں نے بھی ٹائی باندھی
شرق کے سادہ سرشتوں نے بھی ٹائی باندھی
جو جحیموں تو بہشتوں نے بھی ٹائی باندھی
اے کلیساؤں کنشتوں نے بھی ٹائی باندھی
حاتم اس دور کے طائی تو نہیں ٹائی ہیں
کیا ہی رسمیں ہیں کہ اس دور نے اپنائی ہیں
(843)
بے خبر طوق یہ کیا باندھ کے اتراتے ہو
یہ نشانی تھی نصاری کی جو اپناتے ہو
ہو جو موجود تو حلقوم کو سہلاتے ہو
ہو جو ناپید تو ہر بزم میں شرماتے ہو
تھی نصاری کی یہ دجال نے اپنا لی ہے
ابنِ مریم کے یہ نقال نے اپنا لی ہے

(844)
تم سمجھتے ہو فقط بات یہ معمولی ہے
ترکی و مصری و ھندی ہے اناطولی ہے
بات پہ اصل حقیقت کی تمھیں بھولی ہے
نگہہِ اسلام کی گردن میں یہی سولی ہے
جس کو سمجھے ہو کہ ٹائی ہے فقط ٹائی ہے
اک قیامت ہے کہ ٹائی نے یہاں ڈھائی ہے
(845)
تیری گردن میں جو مغروری ءِ خو اٹھی ہے
تیری آنکھوں میں جو پندار کی بو اٹھی ہے
گرہِ ابرو میں جو مانندِ رفو اٹھی ہے
رسم پندار ہے از بہر وضو اٹھی ہے
مارِ مردہ ہے لپٹ گردنِ خود کام چڑھے
ایک نشہ ہے کہ بے بادہ و بے جام چڑھے
(846)
سوٹ سمجھے ہو جسے خلعتِ شیطانی ہے
بادِ مغرب میں نگوں حشمتِ ایمانی ہے
جھوٹے نقالِ غلط بیں کی یہ نادانی ہے
قصرِپندارِ زمیں گرد کی دربانی ہے
سوٹ دنیا میں اگر ریچھ کو پہنائیں گے
وہ بھی خم ٹھونک کے پنڈال میں اتِرائیں گے

(847)
مولیا! آ تو ادھر تجھ کو بھی ٹائی باندھوں
لے کے گردن میں ترے سانپ کی مائی باندھوں
جو ترے بھائی کے بھائی کو ہے بھائی باندھوں
پھر جگر تھام کے مضمونِ دہائی باندھوں
بُھونک دوں اپنے کلیجے میں یہ خنجر بھائی
چھوڑ دوں تجھ کو تیرے حال میں ششدر بھائی
(848)
اہلِ تثلیث وہ دنیا کو جو پہنا نہ سکے
الفِ توحید میں مسلم بھی جہاں لا نہ سکے
دورِ زنار میں ہندو بھی جو بٹھلا نہ سکے
ایک ہی طوق میں مخلوقِ خدا آ نہ سکے
کس نے اک طوق میں مخلوق یہ لٹکائی ہے
جس طرف دیکھئے ٹائی ہے فقط ٹائی ہے
(849)
فکرِ ایں ہا میں کہیں ذکرِ مسیحا نہ کریں
فکرِ بیں ہا میں کہیں ذکرِ بریں ہا نہ کریں
ذکرِ چیں ہا میں کہیں فکرِ جبیں ہا نہ کریں
کیا کریں اور اگر فکرِ مشیں ہا نہ کریں
اب تو دجال کا مسلم نے فسانہ بھولا
بیس برسوں سے یہ واعظ کو ترانہ بھولا

(850)
دیکھ جولانی ءِ دجال کی جولانی میں
کانے دجال کی ہر چال کی جولانی میں
ابنِ مریم کے یہ نقال کی جولانی میں
دینِ اسلام کے اکال کی جولانی میں
آج واعظ کو یہ نقالِ خدا بھول گیا
دورِ بیمار کو اب نامِ وبا بھول گیا
(851)
بڑھ کے اس بات کی اثبات سے کیا ڈھونڈو گے
بڑھ کے اثبات میں اس بات سے کیا ڈھونڈو گے
بڑھ کے اس دور کی ظلمات سے کیا ڈھونڈو گے
بڑھ کے اندھیر میں اس رات سے کیا ڈھونڈو گے
رخِ دجال نے یوں خیرہ و شبکور کیا
دہر کو قہرِ تجلی سے جو مستور کیا
(852)
کفر و الحاد کو کس رنگ میں سہلاتا ہے
جور و بیداد کو کس بھنگ میں سہلاتا ہے
قلبِ ناشاد کو کس زنگ میں سہلاتا ہے
دل کی فریاد کو کس ڈھنگ میں سہلاتا ہے
فتنہء جادوئے افرنگ کی دجالی دیکھ
دیکھ اس دور کے کذاب کی نقالی دیکھ

(853)
کتنی پرکار زمانے میں یہ چالاکی ہے
کتنی فنکار زمانے میں یہ سفاکی ہے
کتنی عیار زمانے میں یہ بے باکی ہے
یہ زمینی ہے زمانی ہے نہ افلاکی ہے
مرد مومن ہوں سمجھتا ہوں یہ تذویر تیری
نقش ہے میری نگاہوں میں یہ تصویر تیری
(854)
خلق دجال کے دھوکے میں گرفتار ہوئی
جھوٹے دجال کے جادو میں نگونسار ہوئی
سحرِ کذاب کی تاثیر میں گفتار ہوئی
نشہء حرص کی شدت میں ہوسکار ہوئی
بانورے گرگ ہیں دیوانے ہوئے پھرتے ہیں
لئے کفگیر وہاں تانے ہوئے پھرتے ہیں
(855)
خاکی آدمی کا نئے دور میں بادی ہونا
رنگِ انساں کی طبیعت کا رمادی ہونا
فکرِ دوران و غمِ دور میں عادی ہونا
قلبِ مغموم و پریشاں کا فسادی ہونا
دورِ پرواز ہے انساں کے بھی پر نکلے ہیں
مرحبا ! حضرتِِِ دجال کے خر نکلے ہیں

(856)
اہلِ مغرب نے سلیمان کی جو نقالی کی
اس خود آگاہِ خدادان کی جو نقالی کی
دیوِ تسخیر کے ارمان کی جو نقالی کی
تختِ پرواز کے سامان کی جو نقالی کی
گر گئے ورطہءِ دجال میں نادانی سے
کٹ گئے اصلِ حقیقت کی وہ جولانی سے
(857)
دستِ دجال میں مجبور ہے انگریز بھی ہے
مکر دجالِ ستمگر کا الم خیز بھی ہے
برلن اس آگ میں مستور ہے تبریز بھی ہے
بیکن اس سحر کا نخچیر ہے پرویز بھی ہے
ترس آتا ہے نئے عصر کی مجبوری پہ
دہر بریاں ہے نئے دور کی تنوری پہ
(858)
ہے جو مومن سو وہ دجال کو پہچانے گا
مکر و تلبیس کے اس جال کو پہچانے گا
جھوٹے کذاب کی ہر چال کو پہچانے گا
دورِ باطل کے وہ نقال کو پہچانے گا
چشمِ اعور کا جواب رازِ عیاں ہوتا ہے
وقت آیا ہے کہ رسوائے جہاں ہوتا ہے

(859)
خط یہی خال یہی چال یہی ڈھال یہی
قد یہی قیل یہی قال یہی حال یہی
عین یہی آن یہی شان یہی بال یہی
اور لکھا ہے حدیثوں میں بھی احوال یہی
یہ ہی دجال ہے اس دور کا دجال یہی
یہ ہی نقال ہے اس دور کا نقال یہی
(860)
اب تو دنیا سے خدا کی وہ خدائی بھی گئی
اب تو شیطاں کی وہ آدم سے جدائی بھی گئی
اب تو باطل کی زمانے سے بُرائی بھی گئی
نگہہِ انوار سے پہلی وہ صفائی بھی گئی
دورِ حق بیت گیا دورکِ دجال آیا
اب تو جوبن پہ زمانے میں یہ نقال آیا
(861)
اے عجب ابلہہ فریبی سے جہاں رام کیا
دامِ تفہیم بہ تذویرِ نہاں رام کیا
کیا ہی جینسں ہے کہ ہر دود و دخاں رام کیا
اے بہ افسونِ عیاں پیر و جواں رام کیا
تو نے ابلیس کی مانند جہاں ریز کیا
چڑھ کے جنات کی مانند طپاں ریز کیا

(862)
تو نے دنیا کا خدا بن کے جہاں رام کیا
بحر و بر تو نے کراں تا بہ کراں رام کیا
بے سِناں ہو کے نہاں ہو کے عیاں رام کیا
یہ جہاں رام سماں رام زماں رام کیا
فانی دنیا پہ زمانے میں خدائی تیری
ہے مگر قلبِ خدا داں سے جدائی تیری
(863)
کتنا نازک ہے نظر پوشِ نگاہ دام ترا
کس قدر ہوش ربا ہے یہ تہی جام ترا
کتنا بے کیف و سکوں بادہ ہے گلِفام ترا
چشمِ مومن میں نہیں راز پہ انجام ترا
مردِ مومن کی نگاہ تیری ادا جانچ گئی
رنگتِ گل سے دلِ حسنِ صبا جانچ گئی
(864)
اک معمہ ہے زمانے میں یہ تذویر تری
رنگِ عیسیٰ میں نمایاں ہے جو تصویر تری
برقع ءِ نورِ خدا پوش ہے تنویر تری
بڑھ کے ہے جادوئے ہاروت سے تاثیر تری
ہے جو مومن تو تری ترچھی ادا سمجھے گا
رنگِ بہبود کے پردوں میں دغَا سمجھے گا

(865)
میں نے دیکھا ہے نگاہوں میں ملمع تیرا
میں نے تاڑا ہے گناہوں میں ملمع تیرا
میں نے جانچا ہے دوراہوں میں ملمع تیرا
اور ان تیری رفاہوں میں ملمع تیرا
خوردبینی یہ ترا جال یہ تدقیق تری
یہ مشینی یہ تری چال یہ تحقیق تری
(866)
اے لعیں! تیری خدائی کا اٹل منکر ہوں
میرا انکار ہے از روزِ ازل منکر ہوں
تو ہے دجال علیٰ ضربِ طبل منکر ہوں
اور منکر ہوں ترا تا بہ اجل منکر ہوں
مجھ میں طاقت ہوترے دل میں سِناں بھونک یہ دوں
چیر کر تیرا جگر تیغِ قراں بھونک یہ دوں
(867)
فتنہ گر تجھ سے ھُو اللہ کی پناہ مانگوں گا
کوئے محبوبِ جِناں پوش کا راہ مانگوں گا
اپنے سینے میں جگر دوز وہ آہ مانگوں گا
نورِِ فرقاں کے صدقے میں نگاہ مانگوں گا
جس سے جل جائے یہ تلبیس یہ تذویر تری
اپنے مولا کی عنایت سے یہ تاثیر تری

(868)
اپنے مولا کی حمایت میں پناہ ڈھونڈھوں گا
کوئے محبوب میں فردوس کی راہ ڈھونڈھوں گا
حسنِ دلسوزِ محمد ﷺ میں نگاہ ڈھونڈھوں گا
اپنی کھوئی ہوئی اس راہ پہ آہ ڈھونڈھوں گا
اپنے محبوب کی راہوں میں خدا ڈھونڈھوں گا
اپنے اس ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ڈھونڈھوں گا
(869)
فتنہ گر تجھ سے ھُو اللہ کی پناہ مانگوں گا
کوئے محبوبِ جناں پوش میں راہ مانگوں گا
صدقہء نور میں فرقاں کی نگاہ مانگوں گا
اپنے سینے میں جہاں سوز وہ آہ مانگوں گا
جس سے جل جائے یہ تلبیس یہ تذویر تری
اپنے مولا کی عنائت سے یہ تاثیر تری
(870)
اے خدا مومنِ بے کس کے مددگار خدا
ہو فقط مردِ مسلماں کے تمھیں یار خدا
میرے غم خوار ہو غفار ہو ستار خدا
میں نہ مانوں گا زمانے میں یہ اغیار خدا
میں فقط تیری حمائت میں پناہ ڈھونڈوں گا
تیری رحمت کے نشاں دیکھ کے راہ ڈھونڈھوں گا

(871)
تیرے بندوں کا زمانے میں ٹکانہ نہ رہا
تیری دنیا میں محبت کا فسانہ نہ رہا
چشمِ لیلی میں وہ خاموش ترانہ نہ رہا
اب تو جینے کا کوئی اپنا بہانہ نہ رہا
اپنے بندوں کو تو اب پاس بلا لے مولا
یا یہاں آ کے تو رہ اپنے ہی نالے مولا
(872)
میرے مولا حرفِ جبریل میں برکت دے دے
نورِ اسلام کی قندیل میں برکت دے دے
نعرہء حشرِ سرافیل میں برکت دے دے
قلبِ خاموشِ ابابیل میں حرکت دے دے
قم سے قران و محمد ﷺ کے اگر معنی لیں
قلبہء قوم سے مرقد کے اگر معنی لیں
(873)
صدقِ ایماں کی حلاوت میں ترقی دے دے
شکر و اخلاص و سخاوت میں ترقی دے دے
حلم و اخلاق و طراوت میں ترقی دے دے
فہم و ادراک و ذکاوت میں ترقی دے دے
ہو عطا وعدہ وفائی کی بھی توفیق ہمیں
ہو عطا خوفِ خدائی کی بھی توفیق ہمیں

(874)
میرے مولا ملتِ بیضا کو وہ بیضائی دے
دشتِ بطحا میں انہیں قیسی و لیلائی دے
امتِ آحمد مختار ﷺ کو مولائی دے
پستیاں دیکھ چکے اب انہیں بالائی دے
تجھ کو توفیق ہے مُردوں کو تو ہی زندہ کرے
ذرہِ تار کو افلاک پہ تابندہ کرے
(875)
میرے مولا پھر انہیں گرمی و تابانی دے
ہستی و مستی و سرمستی و جولانی دے
سوزِِِِِ صدیقؓ انہیں ثروتِ عثمانیؓ دے
بازوئے حیدرؓ انہیں الفتِ سلیمانی دے
آسمانوں سے یہ ٹپکے ہوئے ستارے ہیں
آج ہیہات وہ دنیا کے جو بے چارے ہیں
(876)
اور جبریل کو آحمد ﷺ کی غلامی کافی
عیشِ جاوید یہی عیشِ مدامی کافی
عیشِ کونین ﷺ یہی عیشِ توامی کافی
عیشِ ثقلین یہی عیشِ دوامی کافی
مردِ درویش کو اک آہِ سحر گاہی بس
اور پابوسی ءِ آحمد ﷺکی شہنشاہی بس

(877)
آسمانوں سے گرے ہیں کہ زمیں گیر ہوئے
حرصِ بے پیر کے فتراک میں نخچیر ہوئے
سوئے تدبیر کہ گیتی میں اساطیر ہوئے
پردہ پوشی کے لئے قائلِ تقدیر ہوئے
کون انہیں دہر میں اب قائلِ تقدیر کرے
جنگِ عصیاں میں انہیں مائلِ تدبیر کرے
(878)
ہر طرف تیرہ گھٹاؤں نے جو آ گھیرا ہے
ہر طرف جھوٹے خداؤں نے جو آ گھیرا ہے
تیرہ و تار خلاؤں نے جو آ گھیرا ہے
دکھی مسلم کو بلاؤں نے جو آ گھیرا ہے
کشتی بھنور میں ہے طوفاں بھی غضبناک ہوا
چاک اس دور میں مسلم کا جگر چاک ہوا
(879)
اور قوموں کو بھروسہ ہے تو ہتھیاروں پر
اور توپوں سے برستے ہوئے شراروں پر
آسمانوں میں گرجتے ہوئے بمباروں پر
ماہ و انجم پہ لپکتے ہوئے طیاروں پر
اور مسلم کو بھروسا ہے تو بس تیرا ہے
لاج تجھ کو ہے کہ دنیا کا نکس تیرا ہے

(880)
دکھی مسلم کا زمانے میں سہارا تو ہے
تیرے بندے ہیں مددگار ہمارا تو ہے
قلبِ مسکینِِِ مسلماں کا یارا تو ہے
چشمِ غمگینِ مسلماں کا تارا تو ہے
کر دے اک نظرِ کرم ہم پہ خدا را کر دے
مردِ مفلوک کو افلاک کا تارا کر دے
(881)
تیرے محبوب کی امت ہیں تجھے لاج بھی ہے
تو ہی اس امتِ مرحوم کا سرتاج بھی ہے
اک زمانے کی اسی قوم پہ تاراج بھی ہے
تو شہنشاہ ہمارا ہے تو ہی آج بھی ہے
ہیں تو بدکار پہ امت تیرے محبوب ﷺ کی ہیں
یعنی تخلیق کی اُس ہستی ء مطلوب کی ہیں
(882)
آج بھی سارے زمانے میں ہے محبوب تو ہی
قلبِ بے چارہء مسلم میں ہے مرغوب تو ہی
زشت ہیں اور ہے زشتوں کا فقط خوب تو ہی
ہم غریبوں کا زمانے میں ہے مطلوب تو ہی
گرچہ گردابِ زمانہ میں ہمیں ہوش نہیں
اک تیرا نام ہے یا رب کہ فراموش نہیں

(883)
آخری عمر میں جبریل نے نعرہ مارا
دوزِ اسلام سے ابلیس کا ہر راہ مارا
نیزہء عشق سے اس دور کا گمراہ مارا
قلبہء کفر کا ہر خیمہ و خرگاہ مارا
جھک گیا عالمِ افلاک بھی نظارے پہ
لگ گئی چوٹ جو اسلام کے نقارے پہ
(884)
دل میں ٹھنڈک ہے نگاہوں میں عجب لطف و سرور
کیفِ سیمابیء کافور ہے کیا قلبِ صبور
جانِ سوزاں میں عجب کیفِ برودت کا شعور
بقعۂ برفِِِ سماں پوش ہوئی بردِ وفور
جانِ جبریل یہ زمزم میں کہیں ڈوب گئی
چشمِ دنیا سے نہاں غم میں کہیں ڈوب گئی
(885)
لیلِ سیمابی ءِ بے صوت میں جو سوتی ہے
نقرئی چادرِ سیماب میں ھو سوتی ہے
برف گوں وادی ءِ کافور میں بو سوتی ہے
روحِ سیمابی ءِ خاموش یہ تو سوتی ہے
نقرئی چادر سیماب میں دنیائے خموش
یاسمیں زار میں ہے عالمِ ھو صوت سروش

(886)
نیلگوں نگہتِ انوار کی پرچھاؤں میں
نیلگوں شمع قمربار کی پرچھاؤں میں
نیلمی بقعہء اسرار کی پرچھاؤں میں
نورِ لاہوتی ءِ سرشار کی پرچھاؤں میں
کون بیٹھا ہے ولی جس کا بہا شیر بھی ہیں
ہیں وہ اولادِ علیؓ جس پہ فدا شیر بھی ہیں
(887)
کوئے مدینہ ہے کہ فردوس کی رنگینی ہے
کیا ہی خوشبو ہے تخیل میں یہ کیا بھینی ہے
ریگِ مدینہ کی عجب شان یہ پروینی ہے
اے پہ اس چرخِ ستم کار کی سنگینی ہے
کوئے محبوب سے مہجور ہوں جا بھی نہ سکوں
پیاس آنکھوں کی مدینہ میں بجھا نہ سکوں
(888)
ہاں تو جبریل کو اب ارض و سما دیویں گے
کشتہء عشق کو انعامِ وفا دیویں گے
تاج و دیہیم و زر و تخت و ردا دیویں گے
صلہ خدمت کا سوا اس کے وہ کیا دیویں گے
میں نے تکلیف جو جھیلی سو محمد ﷺ کے لئے
کوئے محبوب میں اس جنتِ سرمد کے لئے

(889)
دستِ تقدیر نے کیا تیرِ الم چھوڑے ہیں
دورِ تذویر نے کیا تیرِ ستم چھوڑے ہیں
عصرِ تدبیر نے کیا تیرِ اٹم چھوڑے ہیں
ناری تنویر نے کیا ہم پہ ستم توڑے ہیں
سایہء یاس ہے کیا فکر کی جولانی میں
فرق اب کر نہ سکیں غم میں نہ شادانی میں
(890)
ہم کو اقرار بھی ہے اپنی گنہگاری کا
اور احساس بھی ہے وعدے کی گرانباری کا
دل سے افسوس بھی ہے اپنی غلط کاری کا
اب اٹھاتے ہیں حلف تیری وفاداری کا
ہو جو توفیق تو وعدہ کو نبھا سکتے ہیں
تیری ہمت سے گرانبار اٹھا سکتے ہیں
(891)
تیرے صدقے میں یہ گھر بار لٹا ڈالیں گے
اپنی ہستی کا یہ سنسار لٹا ڈالیں گے
دل کی بستی کا یہ گلزار لٹا ڈالیں گے
تیری خاطر یہ در و دار لٹا ڈالیں گے
جو بھی اپنا ہے سو حاضر ہے ترے نام پہ ہے
سر بھی قربان ہے مولا ترے اسلام پہ ہے

(892)
آدمی ملتِ اسلام میں پیدا کر دے
نام اسلام کا دنیا میں ہویدا کر دے
ہر مسلمان کو اسلام پہ شیدا کر دے
نوعِ انساں کو اسی نام پہ شیدا کر دے
بول اسلام کا اس دور میں بالا کر دے
اپنے اس نام سے دنیا میں اجالا کر دے
(893)
یہ نہ ترکی ہیں نہ رومی ہیں نہ تاتاری ہیں
یہ نہ مشرک ہیں نہ کافر ہیں نہ زناری ہیں
یہ نہ ہندی ہیں نہ سندھی ہیں نہ قندھاری ہیں
یہ خلیلی ہیں جلیلی ہیں یہ ستاری ہیں
ایک امت کے ہیں فرزند مسلمان ہیں یہ
ایک مادر کے ہیں دلبند مسلمان ہیں یہ
(894)
مردِِ مومن کی نگاہوں میں ہیں آثآر ترے
چہرہء مردِ مسلماں پہ ہیں انوار ترے
منکشف قلبِ مسلمان پہ ہیں اسرار ترے
ساری دنیا سے نرالے ہیں یہ بیمار ترے
گریہء ہجر دمِ وصل پہ رونے والے
اشکِ ہجراں پہ شب وصل پرونے والے

(895)
قافلہ ملتِ مسلم کا رواں ہونا ہے
پیکِ تقدیر یہ پیوستِ کماں ہونا ہے
فکرِ طاغوت میں مقتل کا سماں ہونا ہے
پاک ابلیس سے مولا کا جہاں ہونا ہے
دیکھ مسلم کی وہی کرب و بلا آتی ہے
تیغِ اسلام کے جوہر میں ضیا آتی ہے
(896)
تندی ءِ باد مخالف سے ہوا اور بڑھے
شوقِ پرواز میں جنبش کا مزا اور بڑھے
شورِ پیکار میں نعروں کی صدا اور بڑھے
قدِ بالا کی بلندی پہ ردا اور بڑھے
تندی اس بادِ مخالف کی کسی طور بڑھے
اور اس بادِ مخالف سے کہو اور بڑھے
(897)
ہاں تو اب دورِ تباہ کار کو برباد کرو
اپنے دل یادِ الہی سے بھی آباد کرو
رمزِ اسلام کو اس دور میں پھر یاد کرو
نیتیں صاف کرو قلب کو دلشاد کرو
یہ جہاں فانی سرائے ہے تمھیں یاد بھی ہے
چند روزہ ہے جہاں عاقبت آباد بھی ہے

(898)
ریگِ بطحا سے جو فردوس کی بو اٹھی ہے
آہِ جبریل بھی افلاک کی سو اٹھی ہے
لے کے جبریل کے سینے سے لہو اٹھی ہے
بن کے ظلمات میں انوار کی ضو اٹھی ہے
دل کی خاموشی میں ارماں میں یہ ویلا دیکھیں
ریگِ بطحا پہ رواں آہو ءِ لیلی دیکھیں
(899)
کرن امید کی پھوٹی ہے شبِ تار میں کیا
جھلکی انوار کی اٹھی ہے دلِ زار میں کیا
قیرگوں ظلمتِ آفاق ہے انوار میں کیا
مسکراہٹ ہے دلِ شوقِ جواں کار میں کیا
شائد ہلکی سی مدینے سے ہوا آئی ہے
لے کے پیغام یہ یژب سے صبا آئی ہے
(900)
قلبِ بے جانِ مسلمان میں جاں باقی ہے
دلِ جیریل سمجھتا ہے کہاں باقی ہے
سوزِِِبے نور میں افسردہ اذاں باقی ہے
امتِ سیدِ مرسل ﷺ میں قراں باقی ہے
مومنو ! رحمتِ غفار سے نومید نہ ہو
تم مسلماں ہو فراست سے تو بے دید نہ ہو

(901)
دورِ ایماں کی طرف تیرا جہاں لوٹے گا
تیرا جبریل یہ کہتا ہے کہ ہاں لوٹے گا
شورِ جانکاہِ جہاں سوئے اذاں لوٹے گا
نورِ ایماں کی طرف نوحہ کناں لوٹے گا
مومنو ! رحمتِ غفار سے نومید نہ ہو
تم مسلماں ہو فراست سے تو بے دید نہ ہو
(902)
مردہ اسلام کی آنکھوں میں یہ جاں کیسی ہے
گورِ تاریک کے باطن میں فغاں کیسی ہے
قلبہء حزن میں تحریکِ رواں کیسی ہے
اور اسلام کے ہاتھوں میں سِفاں کیسی ہے
کیوں تحیر میں ہو ؟ اسلام ہے لافانی ہے
دینِ قیم ہے یہ دوام ہے لاثانی ہے
(903)
قلبِ گرووں میں تڑپتی ہے اذاں سنتا ہوں
ایک طوفاں ہے تموج میں طپاں سنتا ہوں
شورِ خاموش کے پردوں میں فغاں سنتا ہوں
دیکھ افلاک کی دنیا میں کہاں سنتا ہوں
یہ نہ بس حسنِ تخیل کی فسوں کاری ہے
اک حقیقت ہے بس قلبِ یقیں جاری ہے

(904)
قلبِ مستورِ مسلماں سے یہ کیا ٹپکا ہے
چشمِ مستورِ مسلماں نے یہ کیا جھپکا ہے
نگہہِ بے نورِ مسلماں سے یہ کیا لپکا ہے
دستِ مجبورِ مسلماں نے کیا تھپکا ہے
دیکھ ادھر دیکھ ادھر دیکھ ابھی اٹھتا ہے
یہ تو مسلم ہے ادھر دیکھ یہ جی اٹھتا ہے
(905)
ہو نہ نومید کہ اس دور میں ایماں نہ رہا
نورِ ایماں کا وہ خورشیدِ درخشاں نہ رہا
سوزِ عشاقِ جگر چاک کا ساماں نہ رہا
جلوہء آحمد ﷺ لولاک کا فاراں نہ رہا
رنگ گردوں کا ادھر دیکھ تو عنابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے
(906)
دیکھ امید کا خورشید نکلتا ہے وہاں
دیکھ خورشید وہ امید کا جلتا ہے وہاں
دیکھ امید کا خورشید ابلتا ہے وہاں
دیکھ امید کا خورشید مچلتا ہے وہاں
دیکھ خورشید وہ فاراں پہ ضیا پاش ہوا
راز تقدیر کی آنکھوں میں وہی فاش ہوا

(907)
مومنا ! نصرتِ ربی سے یہ نومیدی کیوں
مردِ مومن کی فراست پہ یہ بے دیدی کیوں
بجھ گئی دل کی وہ تابانی و خورشیدی کیوں
ظلمتِ یاس نگوں حکمتِ تبریدی کیوں
چھا گئی ہیبتِ افرنگ ترے سینے پہ
موت روتی ہے تحیّر میں ترے جینے پہ
(908)
گلشنِ دینِ محمد ﷺ میں بہار آئی ہے
ابرِِ اسلام کے کاندھوں پہ سوار آئی ہے
باغِ قراں سے قمری کی پکار آئی ہے
ابرِ ایماں سے باطن پہ پھوار آئی ہے
آج جبریل جو گلزارِ بداماں ہوتا
کیا ہی لطف اور سَوا محفلِ یاراں ہوتا
(909)
خونِ اسلام کی موجوں میں جہاں ڈوبے گا
بحرِ ذخار کی موجوں میں رواں ڈوبے گا
جھوٹے دجال کا فردوسِ جِناں ڈوبے گا
خونِ مسلم میں کراں تا بہ کراں ڈوبے گا
گرمی ءِ خونِ مسلماں میں یہ جل جائیں گے
حسن اس دورہء الحاد کے ڈھل جائیں گے

(910)
خونِ اسلام کی موجوں میں جہاں ڈوبے گا
اپنے انجام کی موجوں میں رواں ڈوبے گا
جھوٹے ناکام کا فردوس و جِناں ڈوبے گا
فانی ارماں میں کراں تا بہ کراں ڈوبے گا
گرمئی خونِ مسلماں میں یہ جل جائیں گے
حسن اس دورہء الحاد کے ڈھل جائیں گے
(911)
دورِ پردود مشیں زاد کہیں ڈوبے گا
بحرِ مردار میں اب لے کے مشیں ڈوبے گا
خاک زادہ ہے کہیں زیرِ زمیں ڈوبے گا
اٹھا ہے خندہ زناں چیں بہ جبیں ڈوبے گا
ڈوب جائے گا یہ ہنگامہء بے نور کہیں
چاہِ ظلمات میں ڈوبے گا یہ شبکور کہیں
(912)
خونِ اسلام کی موجوں میں جہاں تیرے گا
دورِ مدینہ کا پہلا وہ سماں تیرے گا
ڈوب جائے گا دخاں نورِ رواں تیرے گا
عرشہء نورِ سموات عیاں تیرے گا
ڈوب جائے گا مہیں دورِ مشیں زاد کہیں
چمنی ملوں کی کہیں انجن فولاد کہیں

(913)
خونِ مسلم کی یہ حمرت ہے کہ دوشالہ ہے
ملکہء دہر نے آفاق پہ لا ڈالا ہے
ابرِ رمانی ءِ خوں پاش ہے پر ژالہ ہے
حسن اس حسنِ شفق رنگ میں دو بالا ہے
درزی ءِ دور نے تارے بھی یہ کیا ٹانکے ہیں
اشکِ مسلم کے ستارے بھی یہ کیا ٹانکے ہیں
(914)
خونِ عنابی ءِ عشاق کی تنویر ہے یہ
نورِ آفاقِ شفق رنگ کی تصویر ہے یہ
خونِ رمانی ءِ پُر نور شفق گیر ہے یہ
شمعِ خورشید پس ابرک کی قواریر ہے یہ
قلبِ بے تاب میں ہجراں کی یہ بے تابی ہے
اشکِ عنابی عشاق جو عنابی ہے
(915)
خونِ شبیرؓ کی حمرت میں جہاں روشن ہے
فکرِ تقدیر کے پردوں میں نہاں روشن ہے
فردا ءِ دہرِ شفق رنگ عیاں روشن ہے
عرش روشن ہے دلِ کون و مکاں روشن ہے
آنکھ افلاک کی اس دور میں پتھرائی سن
سن یہ بجتی ہے کہیں موت کی شہنائی سن

(916)
غمِ شیبرؓ میں افلاک بھی رو دیتے ہیں
کوئے اسلام کے خاشاک بھی رو دیتے ہیں
حرفِ افسانہء غمناک بھی رو دیتے ہیں
وہ ستم کار وہ سفاک بھی رو دیتے ہیں
کیا ہی وہ غم ہے جسے لوح و قلم روتے ہیں
چشمِ پر نم سے جسے جور و ستم روتے ہیں
(917)
سر ہے شبیرؓ کا نیزے پہ جہاں روتا ہے
میرے شبیرؓ کو صدیوں سے جہاں روتا ہے
خوں فشاں چشمِ دو عالم ہے سماں روتا ہے
کُن کی تقدیر کے پہلو میں فکاں روتا ہے
غمِ شبیرؓ میں شبیرؓ کو رونے والو
سینہء دھر میں اس تیر کو رونے والو
(918)
غمِ شبیرؓ میں شبیرؓ کو رونے والو
سینہء درد میں اس تیر کو رونے والو
دینِ اسلام کی تقدیر کو رونے والو
صبرِ شبیرؓ کی تصویر کو رونے والو
اک قیامت ہے المناک کہ جب یاد آئے
سنگ و خارا سے بھی اس درد میں فریاد آئے

(919)
سن یہ شبیرؓ ہوں شبیرؓ کی آواز ہے کیا
دیکھ مقتل میں مجاہد کی تگ و تاز ہے کیا
باز جنت کے ہیں در راز یہ کیا راز ہے کیا
شاہِ شاہاں ہے یہ غازی ہے یہ سر باز ہے کیا
حق و باطل کی وغاؤں میں جو سر تاج ہوئی
آج اے گنبد دوارِ فلک آج ہوئی
(920)
دیکھ وہ مقتل کی فضاؤں میں حسینؓ آئے ہیں
اصغرؓ و اکبرؓ و غوث الثقلین آئے ہیں
جانباز بھی ہیں ہادی ءِ کونین ﷺ آئے ہیں
دورِ باطل کے مقابل پہ بصد چین آئے ہیں
تیری تقدیر میں لکھا ہے شہیدی ہونا
یا کہ تقدیر میں لکھا ہے یزیدی ہونا
(921)
دیکھ مقتل کی فضاؤں میں وہ شبیرؓ آئے
لیکے اسلام کے ہاتھوں میں وہ تقدیر آئے
مقتلِ صدق میں ایثار کی تصویر آئے
ظلمتِ کرب میں کیا صبر کی تنویر آئے
آؤ شبیرؓ کی آواز پہ لبیک کہیں
رسمِ سربازیِ سرباز پہ لبیک کہیں

(922)
سن کہ مدینے کی فضاؤں میں اذاں گونجی ہے
چیر کر چرخِ فلک تا بہ جِناں گونجی ہے
مردِ مومن کی دعاؤں میں فغاں گونجی ہے
کُن کی آواز پہ مستور فکاں گونجی ہے
کہدو تکبیر مدینے سے بلالؓ آئے ہیں
تیری تقدیر کی رفعت پہ ھلال آئے ہیں
(923)
کہدو تکبیر مدینے سے بلالؓ آئے ہیں
تیری تقدیر کی رفعت پہ ھلال آئے ہیں
دورِ تذویر کی لعنت کا زوال آئے ہیں
بن کے ایمان کے چہرے پہ وہ خال آئے ہیں
کہدو تکبیر مدینے سے بلالؓ آئے ہیں
سوزِ تکبیر کا خورشیدِ کمال آئے ہیں
(924)
اٹھ کہ تکبیر کے کہنے کو بلالؓ اٹھے ہیں
تیرہ آفاق پہ صد بدر و ہلال اٹھے ہیں
قیروانوں میں یہ کیا حسن و جمال اٹھے ہیں
شبِ دیجور کی ظلمت کا زوال اٹھے ہیں
تیرہ آفاق میں تکبیرِ اذاں گونجی ہے
گلشنِ دہر میں آوازِ جناں گونجی ہے

(925)
سن کہ مدینے کی فضاؤں میں اذانیں گونجیں
کُن کی آواز پہ مستور فکانیں گونجیں
مردِ مومن کی دعاؤں میں فغانیں گونجیں
اور ابلیس کے سینے میں سنانیں گونجیں
گونج آفاق میں ہے گونج ہے تکبیروں کی
لیلِ دیجور میں کیا شان ہے تنویروں کی
(926)
صوتِ تکبیر سے اب سن کہ جہاں گونجے گا
کون تکبیر سے گونجے گا مکاں گونجے گا
ارض و افلاک و سموٰت و جناں گونجے گا
کن کی آواز پہ اظہارِ فکاں گونجے گا
ذکرِ لاہوت سے افلاک بھی تھرائیں گے
فکرِ طاغوت کے ادراک بھی تھرائیں گے
(927)
بانگِ تکبیر بھی ہے طیرِ ابابیل بھی ہے
شبِ تاریک بھی ہے نور کی قندیل بھی ہے
خیبرِ کفر بھی ہے شورِ عزازیل بھی ہے
اور آمادہ بلب صور سرافیل بھی ہے
اک اکیلا ہے زمانے میں مددگار خدا
مرد مومن کا زمانے میں فقط یار خدا

(928)
بانگِ تکبیر بھی ہے نیزہء جبریل بھی ہے
شبِ تاریک بھی ہے قراں کی قندیل بھی ہے
خیبرِ کفر ہے غوغا ہے عزازیل بھی ہے
اور آمادہ بلب صورِ سرافیل بھی ہے
اک اکیلا ہے جو جبریل کا مددگار خدا
اس نئے دور میں مومن کا مددگار خدا
(929)
کہدو تکبیر مدینے سے نبی ﷺ آئے ہیں
اے فدا جن پہ ہوں امی و ابی آئے ہیں
ساتھ مولا کے فدائی بھی سبھی آئے ہیں
عمرؓ عثمانؓ وہ صدیقؓ و علیؓ آئے ہیں
اے مبارک ہو کہ محبوب وہ مدنی ﷺآئے
کیا ہی نعرہ ہے یہ مرغوب وہ مدنی ﷺآئے
(930)
اے مبارک ہو کہ محبوب وہ مدنی ﷺآئے
کیا ہی نعرہ ہے یہ محبوب وہ مدنی ﷺآئے
ہے یہ آواز بھی کیا خوب وہ مدنی ﷺآئے
اپنی امت کے وہ مطلوب وہ مدنی ﷺآئے
آ ذرا دیکھ یہ امت کا تری حال ہے کیا
قعرِ تقدیر کی پستی میں یہ پامال ہے کیا

(931)
امتی ۔۔ امتی ۔۔ کہتے ہیں وہ غم خوار نبی ﷺ
ہر زماں امت محبوب کے دلدار نبی ﷺ
اپنی امت کی محبت میں وہ سرشار نبی ﷺ
وہ نبی ﷺ سرور کونین وہ سردار نبی ﷺ
امتی امتی کہتے ہیں مسلمانوں کو
بے کسوں راندہء کونین کو نادانوں کو
(932)
اپنے آقا ﷺ ہیں بلاتے ہیں مسلمانوں کو
یعنی اسلام کی توحید کے پروانوں کو
مومنوں شمع جہاں تاب کے پروانوں کو
غازیوں جنت فردوس کے مہمانوں کو
پھر وہ مقتل کی فضاؤں میں اذاں ہوتی ہے
رحلت ملت ماسوئے جناں ہوتی ہے
(933)
اپنے آقا ﷺ ہیں بلاتے ہیں مسلمانوں کو
یعنی اسلام کی توحید کے پروانوں کو
مومنوں شمع جہاں تاب کے پروانوں کو
غازیوں جنت فردوس کے مہمانوں کو
پھر وہ مقتل کی فضاؤں میں اذاں ہوتی ہے
رحلت اسلام کی پھر سوئے جناں ہوتی ہے

(934)
روحِ مسلم کی دمِِ مرگ جو بیدار ہوئی
سوزِ عرفانی ء ایماں سے جو سرشار ہوئی
جندِ شیطانی ء ابلیس پہ یلغار ہوئی
للہ الحمد کہ سرگرم یہ پیکار ہوئی
پھر وہی منبرِ مسجد پہ اذانیں سن لو
اور ابلیس کے سینے میں فغانیں سن لو
(935)
نگہِ جبریل نے سب کون و مکاں ڈھونڈھا ہے
از ازل تا بہ ابد سارا جہاں ڈھونڈھا ہے
دشت و فردوس و بیابان و جناں ڈھونڈھا ہے
نور و ظلمات کا سب سود و زیاں ڈھونڈھا ہے
بات جو پائی محمد ﷺ میں کہیں اور نہیں
جلوہء حسن کا انداز اسی طور نہیں
(936)
انبیاء ایک سے ایک ارفع و اعلیٰ آئے
بحرِ ہستی میں وہ لولوئے لالا آئے
سوئے مخلوق وہ خالق کا سندیسہ لائے
ہادیء قیس سوئے منزل لیلیٰ آئے
حلقہء ختم طوالت میں سبھی ڈوب گئے
نور خورشید رسالت میں سبھی ڈوب گئے

(937)
پہ نرالا ہے زمانے میں محمد ﷺ کا جمال
کہ دوبالا ہے زمانے میں محمد ﷺ کا جمال
کہ دوہالہ ہے زمانے میں محمد ﷺ کا جمال
کہ اجالا ہے زمانے میں محمد ﷺ کا جمال
نورِ لولاک سے مولا کا جہاں روشن ہے
کون ہر دور میں روشن ہے مکاں روشن ہے
(938)
ماہ و خورشید سے ہے بڑھ کے محمد ﷺ کا مقام
ماہ و خورشید سے ہے بڑھ کے محمد ﷺ کا غلام
ماہ و خورشید سے ہے بڑھ کے محمد ﷺ کا پیام
ماہ و خورشید سے ہے بڑھ کے محمد ﷺ کا کلام
اے محمد ﷺ ہے جو خورشید ! جہاں ذرہ ہے
تابِ خورشیدِ محمد ﷺ میں طپاں ذرہ ہے
(939)
خلقِ آدم کی وہ معراج کہیں اور نہیں
نقشِ ہستی کا وہ سرتاج کہیں اور نہیں
شمعِ نورانی ء دھاج کہیں اور نہیں
کل کہیں اور نہ تھی آج کہیں اور نہیں
گلشن روضہء سرمد کی مہک دیکھی ہے
خوشبوء خلق محمد ﷺ کی مہک دیکھی ہے

(940)
کس کی توصیف سے بندے کی زباں عاجز ہے؟
کس کی تعریف سے اندازِ بیاں عاجز ہے؟
کس کی تمجید سے مولا کا جہاں عاجز ہے؟
ملک افلاک پہ ، مدینے میں حساںؓ عاجز ہے
کون مقصود ہے تخلیقِ خداوندی کا؟
کون مفہوم ہے آدم کی برومندی کا؟
(941)
سرِ لولاک نمودار جو گیتی میں ہوا
نورِ لولاک کا انوار جو گیتی میں ہوا
طائع خاک ضیا بار جو گیتی میں ہوا
زیبِ افلاک وہ اوتار جو گیتی میں ہوا
عرش کو رشک ہوا خاک کی مسکینی پہ
ارضِ مسکینِ جگر چاک کی رنگینی پہ
(942)
قلبِ رنجور میں گلشن کی فضا آئی ہے
طورِ سینا کی تجلی میں ضیا آئی ہے
مشک و عنبر سے یہ مستور صبا آئی ہے
کوئے محبوب مدینہ سے ہوا آئی ہے
قلب جبریل ہے فردوس کی شادانی ہے
لیلِ سیمابیء طوبیٰ لک ارزانی ہے

(943)
پھر وہ گلزارِ مدینہ سے نسیم آئی ہے
روضہء گنبد خضرا سے شمیم آئی ہے
بامِ فردوس پئے قلب دو نیم آئی ہے
روحِ جاوید پئے عظمِ رمیم آئی ہے
صبح امید میں کیا نگہتِ گلزاری ہے
خضرتِ دہر میں کیا رنگتِ گلناری ہے
(944)
گل و گلزار ہے بے خار ہے کیا اسوۃ ترا
یا نبی ﷺحسن کا شاہکار ہے کیا اسوۃ ترا
ماحی ء کلفت و آزار ہے کیا اسوۃ ترا
سلکِ انوارِ گہر بار ہے کیا اسوۃ ترا
اسوۃ حسنہ لولاک کی رنگینی میں
آدمیت کی ہے معراج خدا بینی میں
(945)
داغِ عصیاں کو مٹانے کی دوا پائی ہے
قلبِ عاصی نے گناہوں سے شفا پائی ہے
قلبِ بے نور نے باطن کی ضیا پائی ہے
دیدہء کور نے کیا نگہہ صفا پائی ہے
اسمِ تنویرِ محمد ﷺ کی کراماتیں ہیں
روزِ روشن سے فزوں اپنی سیاہ راتیں ہیں

(946)
میں نے دیکھا جو محمد ﷺکو خدا دیکھ لیا
نورِ حق نورِ نبی ﷺنورِ ھدیٰ دیکھ لیا
فخرِ کون فخرِ رسل فخرِ دجیٰ دیکھ لیا
جلوہ صلیِ علیٰ صلیِ علیٰ دیکھ لیا
پرتوِ حسنِ محمد ﷺ کی جھلک دیکھی ہے
روضہء جنتِ خضرا کی مہک دیکھی ہے
(947)
ارضِ کشمیر ! نگوں سار ہیں کوہسار ترے
غم کی تصویر ہیں خاموش ہیں گلزار ترے
کس کے ماتم میں کفن پوش ہیں بازار ترے
کس کی تدبیر کی تخلیق ہیں آزار ترے
غم و آلام میں ڈوبی ہوئی تصویر تری
کب پلٹتی ہے جگر پاش یہ تقدیر تری
(948)
چاک ہے دستِ زمانہ سے گریباں تیرا
آستاں کب سے ہوا گورِ غریباں تیرا
جاگزیں دل میں ہوا خوفِ نقیباں تیرا
خارِ دل بن کے چبھے رنج رقیباں تیرا
قلب آغشتہ بخوں تیرِ جگر دوز کجاست
اے جگر سوختہ آں آتش دلسوز کجاست

(949)
چاندنی بھی ترے چاند کی خاموش ہوئی
زندگی بھی تری ماند کفن پوش ہوئی
تیری پتھرائی ہوئی آنکھ بھی مدہوش ہوئی
فکرِ فردا میں کہیں محوِ غم دوش ہوئی
مرگ خاموش کا منظر ہے یہ وادی تیری
چھن گئی تجھ سے تری حیف کہ شادی تیری
(950)
ارضِ کشمیر کے نخچیر کی تقصیر ہے کیا
دستِ تقدیر کی تحریر کی تفسیر ہے کیا
صورِ تاخیر کی تاثیر کی تعبیر ہے کیا
نگہہِ تدبیر کی تصویر کی تنویر ہے کیا
طیرِبے بس کی یہ فریاد و بکا سنتے ہیں
صوتِ کشمیر سے طائر کی نوا سنتے ہیں
(951)
خونِ کشمیر کی سرخی میں سیاہی آئی
حرصِ بے پیر کی موجوں میں تباہی آئی
دورِ تذویر نے جو چیز نہ چاہی آئی
سرخِ تحریر یہ تقدیرِ الہی آئی
بدشگونی کی علامات سیاہ فام بھی ہیں
جن کی آنکھوں میں المناک سے انجام بھی ہیں

(952)
ارضِ کشمیر ترا حسن فسوں ساز نہیں
ارضِ کشمیر ترے حسن کا اعجاز نہیں
ارضِ کشمیر تری جلوت طناز نہیں
ارضِ کشمیر ترا جلوہ غماز نہیں
یہ تو کہرام ہے کشمیر کے مظلوموں کا
نامرادی کی یہ تصویر کے مفہوموں کا
(953)
ہیچ ہیں میری نگاہوں میں یہ گلزار ترے
ارضِ کشمیر فلک بوس یہ کہسار ترے
فرش کم خواب یہ جنات یہ انہار ترے
زعفراں زار ترے مشک کے انبار ترے
میں تو انصاف کو روتا ہوں جو خوں ہوتا ہے
ارض و آفاق کا برباد سکوں ہوتا ہے
(954)
ایک خاموش سی فریاد کے شرارے ہیں
ارض کشمیر سلگتے ہوئے انگارے ہیں
ذرے ذرے کی نگاہوں میں شررپارے ہیں
آتش افشانیء کوہسار کے نظارے ہیں
قلب بیدار کے سوئے ہوئے ہنگاموں میں
اک قیامت ہے کہ مستور ہے باداموں میں

(955)
نہ تو اب بازؤئے مسلم میں توانائی ہے
نہ دل مسلم ناداں میں وہ دانائی ہے
مسلم اس دور خرافات کا ہرجائی ہے
ہائے ہیہات زمانے کا وہ لالائی ہے
ورنہ کشمیر میں کیا آہ و بکا ہوتی ہے
چاک اسلام کی حرمت کی قبا ہوتی ہے
(956)
غافل اس خطہء کشمیر کو آزاد کریں
ساری دنیا کا سکوں حیف نہ برباد کریں
ہائے اس ظلم کے نخچیر پہ بیداد کریں
اپنے ہاتھوں نہ اسے جنتِ شداد کریں
کانپ جاتی ہے جو روح جنتِ کشمیر پہ اب
ناتوانی کے گناہگار کی تقصیر پہ اب
(957)
اے خدا مسلمِ کشمیر کو آزادی دے
ارض مظلوم کے نخچیر کو دلشادی دے
قوم بے راہ زمیں گیر کو اب ہادی دے
عزم کشمیر ء ناشاد کو فولادی دے
نور قران کو نئے درد کا درماں کر دے
مرد مسلم کو زمانے میں مسلماں کر دے

(958)
تو تو کشمیر کو روتا ہے جہاں تیرا ہے
ارض و آفاق کا جتنا ہے سماں تیرا ہے
ہے جو اسرار کی دنیا میں نہاں تیرا ہے
اور پنہائے دو گیتی میں عیاں تیرا ہے
کی وفا تو نے محمد ﷺ سے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
(959)
حزمِ افغاں ہے کہ تقدیرِ خداوندی ہے
جزمِ افغاں ہے کہ تدبیرِ خداوندی ہے
بزمِ افغاں ہے کہ تنویر خداوندی ہے
نظم افغان ہے کہ تعذیرِ خداوندی ہے
زورِ ایماں بھی ہے کیا غیرتِ افغانی ہے
حصرِ ایقاں بھی ہے کیا کوہِ سلیمانی ہے
(960)
وہ وزیری ہیں مسعودی ہیں کہ مہمندی ہیں
آفریدی ہیں بھٹانی ہیں کہ پیوندی ہیں
فوجِ اسلام کے بازو ہیں یہ سب جندی ہیں
حزب لاریب وہ احزابِ خداوندی ہیں
میں نے ایثار کی قوت جو وہاں دیکھی ہے
برق و تلوار کے سائے میں اذاں دیکھی ہے

(961)
کیا ہی ایران کے بندوں میں بھی شیرینی ہے
گوئیا ! گلشنِ فردوس کی گل چینی ہے
رنگِ فردوس ہے فردوس کی رنگینی ہے
بوئے فردوس ہے کیا بھینی ہے عجب بھینی ہے
آہے از سینہ جبریل ز ہجراں برود
سوئے شیراز و صفاہان و بدخشان برود
(962)
کیا ہی ایران کی امنگوں میں بھی شیرینی ہے
گوئیا ! گلشن فردوس کی گل چینی ہے
بوئے فردوس میں فردوس کی رنگینی ہے
قند و گلقند و شکر قند و شکر چینی ہے
آہے از سینہ جبریل ز ہجراں برود
سوئے شیراز و صفاہان و بدخشان برود
(963)
شمع اسلام کی دنیا میں جلانے والے
علم اسلام کا دنیا میں اٹھانے والے
کفر و الحاد کو دنیا سے مٹانے والے
نغمہ توحید کا دنیا کو سنانے والے
لفظ عاجز ہے کہ اس قوم کی توصیف کرے
بلکہ اوصافِ عرب میں وہ تخفیف کرے

(964)
ترکِ جانباز کی قوت کا جہاں باقی ہے
بازوئے ترک سے اسلام میں جاں باقی ہے
دستِ توحید میں رومیؒ کی سناں باقی ہے
کن کی امید پہ ترکوں کی اذاں باقی ہے
اب بھی کوہ قاف میں شاہیں کی صفیر آتی ہے
بن کے شہاب کی مانند وہ تیر آتی ہے
(965)
اور تصویر وفا ہے جو بلالیؓ دنیا
حسن تصویر وفا ہے جو بلالیؓ دنیا
اپنے آقا پہ فدا ہے جو وہ کالی دنیا
اپنے مولا کی نگاہوں میں صدا ہے وہ عالی دنیا
ہجر سودا جو شہہ چرخ کو تڑپاتا ہے
قیس گوں جلوہ لیلیٰ پہ وہ منڈلاتا ہے
(966)
قعر دریائے دل زار کی حرکات میں ہے
اک سمندر ہے تلاطم میں کہ جذبات میں ہے
قلب خونیں و دل چاک کے رشخات میں ہے
رنج ہجران و غم دوست کی برکات میں ہے
شور دجال کے پردوں پہ طوفان بھی ہے
ہندی مسلم کے تغافل میں ہے ایمان بھی ہے

(967)
قعرِ دریا ہے تموج میں کہ حرکات میں ہے
اک سمندر ہے تلاطم میں کہ جذبات میں ہے
اشک خونیں ہے دل زرد کے رشخات میں ہے
چشم باطن ہے کہ اس درد سے برسات میں ہے
شور دجال کے پردوں میں یہ طوفان بھی ہے
ہندی مسلم کے تغافل میں ہے ایمان بھی ہے
(968)
شیر اسلام نے پھر جاگ کے انگڑائی لی
مردہ ضرغام نے پھر جاگ کے انگڑائی لی
خفتہ صمصام نے پھر جاگ کے انگڑائی لی
گذرے ایام نے پھر جاگ کے انگڑائی لی
فرط ہیبت سے زمانے کے غبی سہم گئے
اور خنزیر زمانے کے سبھی سہم گئے
(969)
شیر بیدار ہوا شیر نے انگڑائی لی
ذود ہشیار ہوا دیر نے انگڑائی لی
پیش بیکار ہوئی زیر نے انگڑائی لی
خاطر اندھیر کی اندھیر نے انگڑائی لی
کتنے اسرار عیاں ہیں یہ انگڑائی میں
کتنے اسرار نہاں ہیں یہ انگڑائی میں

(970)
شیر گرجا ہے جہانوں میں غریو آتی ہے
کفر و باطل کے ٹکانوں میں غریو آتی ہے
ابلق دور کے تھانوں میں غریو آتی ہے
دور بے طور کے کانوں میں غریو آتی ہے
فرط ہیبت سے جو باطل کا جگر پھٹتا ہے
اہل تذویر کا افکار سے سر پھٹتا ہے
(971)
شیر گرجا ہے کہ خنزیر سبھی سہم گئے
دہریئے منکرِ تقدیر سبھی سہم گئے
لے کے اغراض کی تنویر سبھی سہم گئے
دے کے غماز کی تدبیر سبھی سہم گئے
کیا عجب راز ہیں تقدیر خداوندی کے
کیا ہی انداز ہیں قدرت کی سماں بندی کے
(972)
خواب تھا خواب پریشاں سے جو بیدار ہوئی
زندگی اپنی حقیقت میں نمودار ہوئی
اپنے اللہ کی عبادت کی طلب گار ہوئی
آنکھ کھلنے پہ عجب دور سے دوچار ہوئی
نہ طلسمات نہ افرنگ نہ ماشینیں تھیں
خواب تھا خوابِ پریشاں کی نظر بینیں تھیں

(973)
کیا سہانی یہ فضاؤں میں گھٹائیں چھائیں
کیا ہی دلکش یہ پپیہے کی صدائیں آئیں
کیا ہی سرمست یہ مستانہ ہوائیں آئیں
تیری زلفوں کی وہ لینے کو بلائیں آئیں
اے پہ غرقاب ہے تو فکر کے کاشانے میں
اپنے افکار کے الجھے ہوئے افسانے میں
(974)
کیا سہانی یہ فضاؤں میں گھٹائیں چھائیں
کیا ہی دلکش یہ پپیہے کی صدائیں آئیں
کیا ہی سرمست یہ مستانہ ہوائیں آئیں
تیری زلفوں کی وہ لینے کو بلائیں آئیں
ہر طرف خضرت انوار میں تہلیلیں ہیں
روشن آفاق میں عرفاں کی قندیلیں ہیں
(975)
چاند ظلمات سے نکلا ہے یہ تصویر بھی دیکھ
حسن خاموش میں سوئی ہوئی تقدیر بھی دیکھ
آہ خاموش میں فریاد گلوگیر بھی دیکھ
شکوہ ء خامش و مدہوشی ء تنویر بھی دیکھ
کس کی تصویر ہے کیوں حسن میں مدہوش ہوئی
کس کے انوار کی آیات میں روپوش ہوئی

(976)
چاند ظلمات سے نکلا ہے یہ تصویر بھی دیکھ
حسنِ خاموش میں سوئی ہوئی تقدیر بھی دیکھ
آہِ خاموش میں فریاد گلوگیر بھی دیکھ
حسنِ بے صوت کی مدہوشی ء تنویر بھی دیکھ
کس کی تصویر ہے کیوں حسن میں مدہوش ہوئی
کس کے انوار کی آیات میں روپوش ہوئی
(977)
چشمہء فیض میں کیا عکس یہ ماہتابی ہے
چاندنی رات ہے فردوس کی شادابی ہے
نقرئی چادر انوار کی زرتابی ہے
قلب خاموش میں کیا نغمہء فارابی ہے
لامکاں گم جو ہوا جلوہء لاہوتی میں
سو گئے عصر و زماں دیدہء ماروتی میں
(978)
دورِ صیہونی ءِ دوں کار کا دشمن جبریل
دورِ افزونی ءِ عیار کا دشمن جبریل
دورِ افسونی ءِ نادار کا دشمن جبریل
کر گیا دورِ فسوں کار کا قدغن جبریل
یاد آئے گی سیاہ رات یہ انسانوں کو
یاد آئے گی کبھی بات یہ نادانوں کو

(979)
لیلِ دیجور میں تنویر شباب اٹھی ہے
جلوہ حسن جہاں تاب گراں خواب اٹھی ہے
بن کے انوار الہیٰ سے حجاب اٹھی ہے
دور افلاک میں گنبد کا حباب اٹھی ہے
جلوہء حسن محمد ﷺ سے نقاب اٹھی ہے
حلقہء ماہ میں حضرت ﷺ کی رکاب اٹھی ہے
نوٹ : اس مصرعے کی تلاش میں تھا ۔ چاہا کہ تشبیہ رکاب کی ھلال سے دوں۔تشبیہ خوب تھی۔ مگر دل نے چاہا کہ بدر کو رکاب کہا جائے۔ مگر بدر اور رکاب۔ تشبیہ کچھ کھٹکتی سی تھی۔ اسی ادھیڑ بن میں نگاہ جو اوپر اٹھی تو دیکھا کہ چاند کو گہن لگ رہا تھا۔ حتی کہ چاند ہلال کی صورت بن گیا۔ قدرت کے اس عجیب اتفاق پر متعجب ہوا۔ مصرعے کو بھول گیا۔ اور متوجہ ہوا گہن کی طرف کہ سایہ دیکھوں زمین کا چاند میں کہ آیا اندازہ کچھ زمینی حجم اور زمینی صورت اور دوری کا ہو سکتا ہے۔ اس سائے کی گول یا مخروطی کیفیت سے یا یہ کہ کچھ اندازہ اس کی حرکت محوری کا ہو سکتا ہے۔ کہتے جو ہیں کہ زمین متحرک ہے اپنے محور کے گرد گھومتی ہے۔ ایک دن ایک رات میں۔ ہو گی مگر سائنس بھی اپنے دعوے کی حکمی اور حتمی اثبات سے تو قاصر ہے گو کہ میرے جغرافیہ دان اور ستارہ شناس مغربی دوست میری اس بات کونگہہ تعجب سے دیکھیں گے۔ حالانکہ یہ مسئلہ ان کی وسعت علمی اور دماغی سے قطعاََ خارج ہے۔ اور یہ امر ان کے لئے ’’ بعید از قیاس ‘‘ کی حیثیت کا حامل ہے بہر حال اس موقع پر ہمارا ہرگز کوئی ارادہ اس قبیل کی بحث چھیڑنے کا نہیں۔ اتنا ضرور کہیں گے کہ زمین ساکن ہے یا متحرک بہر حال اللہ کی ہے اور اللہ چاہے تو اسے ساکن کر دے چاہے تو متحرک کردے ۔یہی نہیں بلکہ چاہے تو ان ہر دو کیفیات کے علاوہ کوئی اورتیسری شکل دھار لے۔ اسے طاقت ہے۔ مگر آپ اس تیسری شکل کے متعلق کیاسمجھ سکتے ہیں۔ ذرا سوچئے تو سہی ۔سائنس نے زمین کو متحرک کسی برھان قاطع یا دلیل ساطع کی بنا پر نہیں بلکہ اغلباََ بغض و کینہ کی بنا پر مانا ہے۔ اور اس طور مذہب کی تباہی اور خدا سے دوری چاہی ہے۔البتہ ہمیں علم ہے کہ معدودے چند آدمی خدا کی اس وسیع دنیا میں ایسے بھی ہیں جو ہمارے اس نکتہ کو قابل اعتناسمجھنے کی استعداد رکھتے ہیں۔ اور جم غفیر توان انسانوں کا ہے جن کو’’ زمین کی حرکات دو ہیں ایک محوری اور ایک سالانہ‘‘ کے الفاظ آیات قرانی کی طرح حفظ ہیں اور ثبوت مانگو تو وہ تفصیل بیان کریں گے ۔بحر حال ایک غیر محسوس سا تعجب۔ خوف اور حیرت۔ چاند گہن کے اس سانحے میں ہمارے لئے پوشیدہ تھا ۔جس کاغور وغوض اور مفکریت سے محض واجبی سا تعلق تھا۔الغرض دیرتک اس سست رفتارفینامینن کو دیکھا۔سایہ چاند پر بتدریج بڑھتا رہا ۔ شائد باریک آلات میں کچھ پتہ چل سکے۔ مگر معاملہ کچھ ایسا ٹیڑھا ہے کہ انسانی حد علم و کہنہ کی کچھ بنتی نظر نہیں آتی۔ جملہ گلیلی اور برونو اس امر میں عاجز محض ہیںَ اور دوربینیں کلیتہََ بیکار۔ بہر حال ہم دیکھا کئے۔ یہاں تک کہ نیند نے خلاف معمول کچھ ایسا غلبہ پایا کہ ہم سو گئے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اتنا البتہ معلوم ہو گیا کہ غلبہء نیند کو چاند گہن سے کچھ لگاؤ ضرور ہے۔ اور بعض ایسی شقیں اقلیم فکر میں ایسی ابھی باقی ہیں۔ جہاں تک یورپی مشاہیر کی نگاہیں پہنچنے سے قاصر رہی ہیں۔

(980)
پھروہی ہیں رونقیں اسلام کے بازاروں میں
پھر اذانیں ہیں وہی شام کے میناروں میں
تھی وہی محفلیں عرفان کے گلزاروں میں
پھر چراغاں تھی وہ رات کے آثاروں میں
ہر طرف خِضرتِ انوار میں تہلیلیں تھیں
روشن آفاق میں عرفان کی قندیلیں تھیں

(981)
قمریاں محوِ تلاوت ہیں جو میناروں میں
دہر مستور ہوا عرش کے انواروں میں
چھپ گئی ارض یہ فردوس کے گلناروں میں
سو گئی چاندنی ادراک کے گلزاروں میں
پستی اس دہر کی گم مستی ءِ ترتیل میں تھی
ہستی اس دہر کی گم مستی ءِ تنزیل میں تھی
(982)
قمریاں محوِ تلاوت ہیں جو میناروں میں
دہر مستور ہوا عرش کے انواروں میں
چھپ گئی ارض یہ فردوس کے گلناروں میں
سو گئی چاندنی ادراک کے گلزاروں میں
پستی اس دہر کی گم مستی ءِ تنزیل میں تھی
ہستی اس دہر کی گم مستی ءِ قندیل میں تھی
(983)
ماہ و خورشیدِ جہاں تاب احد کہتے تھے
مسجد و منبر و محراب احد کہتے تھے
مدفن و مشہد و فاراب احد کہتے تھے
ساز و سازندہ و مضراب احد کہتے تھے
شیخ کہتے تھے احد شاب احد کہتے تھے
کاخ کہتے تھے احد باب احد کہتے تھے

(984)
کیا سہانی ہے یہ آوازِ فغاں کس کی ہے
سن یہ انوارِ محمد ﷺ میں جِناں کس کی ہے
کس کی آواز ہے پردے میں زباں کس کی ہے
کس کے انوار میں تکبیرِ عیاں کس کی ہے
ذکر تہلیل ہوا روح میں تہلیل ہوا
قلبِ تاریک میں انوار کی قندیل ہوا
(985)
کیا سہانی ہے یہ آوازِ فغاں کس کی ہے
سن یہ انوارِ محمد ﷺ میں جِناں کس کی ہے
کس کی آواز ہے پردے میں زباں کس کی ہے
کس کے انداز میں تکبیرِ عیاں کس کی ہے
ذکر تہلیل ہوا روح میں تہلیل ہوا
دہر تیرہ یہ شب قدر کی قندیل ہوا
(986)
سامری دورِ طلسمات کا چالاک ہوا
دہر گؤسالہ پرستی میں طربناک ہوا
اہرمن اپنے کمالات میں بے باک ہوا
جگر اس بات پر موسیٰ کا دو صد چاک ہوا
طُور بے نور یہ اس دور کا موسائے کلیم
آج مصروفِ تکلم ہے یہ ابلیسِ رجیم

(987)
مہہِ خورشیدِ جہاں تاب کی تابانی میں
زرد سیمابِ سماں تاب کی تابانی میں
زعفراں زارِ خزاں تاب کی تابانی میں
اشعہء شمسِ زماں تاب کی تابانی میں
خیمہ و خرگہہِ اسلام کی سرتابی میں
ہلکا ہلکا ہے دھواں دھوپ کی زرتابی میں
(988)
پھر وہی پہلی محبت ہے رواداری ہے
پھر وہی اخوت و الفت ہے ملنساری ہے
درد و تسکین و طمانیت و سرشاری ہے
بندہء عبدِ خدا رحمتِ غفاری ہے
بانگِ طاس ہے طوطی کی شکر خوانی میں
نورِ امید و سکوں خِضرتِ ایمانی میں
(989)
عشقِ لولاک میں جلتے ہوئے پروانے پھر
وہ جگر چاک تڑپتے ہوئے دیوانے پھر
سِرلولاک کے پہلے وہی فرزانے پھر
کھل گئے بادہ ءِ عرفاں کے وہ مے خانے پھر
آدوسہِ جام بنوشیم و خدا مست شویم
باز در مستی ءِ پارینہء ما مست شویم

(990)
چاندنی چاند کی روزن سے نکل آئی ہے
قعرِ ظلمات سے چھن چھن کے نکل آئی ہے
کوہِ عرفات سے بن بن کے نکل آئی ہے
تیرہ ذرات سے تن تن کے نکل آئی ہے
حسنِ تخلیق کی تنویر کا آ راز سنیں
پردہ ءِ دل میں کسی ساز کی آواز سنیں
(991)
سن کہ تکبیر کے کہنے کو بلالؓ اٹھے ہیں
تیرہ آفاق پہ صد بدر و ہلال اٹھے ہیں
قیروانوں میں یہ کیا حسن و جمال اٹھے ہیں
شبِ دیجور کی ظلمت کا زوال اٹھے ہیں
تیرہ آفاق میں تکبیرِِِ اذاں گونجی ہے
گلشنِ دہر میں آوازِ جِناں گونجی ہے
(992)
عََلم اسلام کا دنیا میں بلند ہوتا ہے
غآزی اس دور کا انجم بہ کمند ہوتا ہے
اسپ اسلام کا مائل بہ زقند ہوتا ہے
حسن چندا کا زمانے میں دوچند ہوتا ہے
پھر وہی نورِ دو عالم کی جہاں تابی ہے
افق اس دورِ کہن سال کا ماھتابی ہے

(993)َََََََِِِِِ
عَلم اسلام کا دنیا میں بلند ہوتا ہے
غازی اس دور کا انجم بہ کمند ہوتا ہے
اسپ اسلام کا مائل بہ زقند ہوتا ہے
حسن چندا کا زمانے میں دوچند ہوتا ہے
پھر وہی نورِ دو عالم کی جہاں تابی ہے
رنگ گردوں کا ادھر دیکھ کہ عنابی ہے
(994)
پھر وہی عشقِ محمد ﷺ میں جو سرشاری ہے
پھر جو مخمور نگاہوں میں فدا کاری ہے
پھر وہی قلبِ وفا دوست کی خونباری ہے
پھر امنگوں میں وہی حیدری کراری ہے
آنکھ مسلم کی غمِ ہجر میں نمناک ہوئی
زندگی ہجرِ محمد ﷺ میں المناک ہوئی
(995)
تیرہ ظلمات کے پردوں میں وہ ماہتاب اٹھا
حسنِ نورانی ءِ لیلی ءِ فلک تاب اٹھا
روئے آئینہء زرتابی ءِ سیماب اٹھا
رخِ خوابیدہء تنویر پہ کیا خواب اٹھا
ذکر تہلیلِ خفی عسجدِ قوریر ہوا
فکرِ قندیلِ خفی مسجدِ تنویر ہوا

(996)
مہہِ ایماں نے جو پھر جاگ کے انگڑائی لی
قلبِ دوراں نے جو پھر جاگ کے انگڑائی لی
چشمِ عرفاں نے جو پھر جاگ کے انگڑائی لی
طُور و فاراں نے پھر جاگ کے انگڑائی لی
کُن کی تاثیر میں کیا دیر ہے کچھ دیر نہیں
امرِ ربی میں اگر دیر ہے اندھیر نہیں
(997)
شمعِ لولاک کے دلچاک وہ پروانے پھر
زلفِ لولاک کے پییچاک کے دیوانے پھر
سِر لولاک کے ادراک کے فرزانے پھر
سوزِ لولاکِ طربناک کے مئے خانے پھر
دیکھئے موت کی غفلت سے وہ بیدار ہوئے
مدعی حقِ ولائت کے نمودار ہوئے
(998)
گونج ہے گونج یہ افلاک میں تکبیروں کی
چاندنی صاحبِ لولاک کی تنویروں کی
کیا ہی جھنکار ہے آفاق میں شمشیروں کی
سنسنی خیز ہے تاثیر بھی تقدیروں کی
قوتیں پھونک یہ ڈالی ہیں اٹامی کس نے
کر دیئے زندہ یہ پھر رومیؒ و جامیؒ کس نے

(999)
گل و گلزار کی دنیا میں بہار آئی ہے
دیکھ اسلام کے کاندھوں پہ سوار آئی ہے
باغِ قران سے قمری کی پکار آئی ہے
ابرِ ایمان سے باطن پہ پھوار آئی ہے
قمریاں محوِ تلاوت ہیں جو شمشادوں پر
گلشنِ ملتِ اسلام کے شہزادوں پر
(1000)
آہ جبریل وہ غم خوار مسلمانوں کا
یارِ بے لوثِ وفادار مسلمانوں کا
دورِ بدبخت میں ہتھیار مسلمانوں کا
خوار و بے چارہ و نادار مسلمانوں کا
گوشہء قبر میں مدہوش پڑا سوتا ہے
کشتہء درد و غمِ دوش پڑا سوتا ہے
(1001)
اپنے مولا نے کیا ہم پہ کرم ۔ جاگے ہیں
اپنے مولا کی عنائت ہے کہ ہم ۔ جاگے ہیں
گلشن و جنت و فردوس و ارم ۔ جاگے ہیں
ہند جاگے ہیں عرب ترک و عجم ۔ جاگے ہیں
جا کے اقبال ؒ کے روضے پہ بہ آواز کہو
اے بسا شکر و مسرت سے یہ جا راز کہو

(1002)
ہند جاگے ہیں عرب ترک و عجم جاگے ہیں
گلشن و جنت و فردوس و ارم جاگے ہیں
اپنے مولا کی عنائت ہے کہ ہم جاگے ہیں
اپنے مولا نے کیا ہم پہ کرم جاگے ہیں
جاگ اے مرقدِ جبریل کہ ہم جاگے ہیں
ہند جاگے ہیں عرب ترک و عجم جاگے ہیں
(1003)
آج جبریل بھی اے کاش خراماں ہوتا
مردِ رنجور جو گلزارِ بداماں ہوتا
قلبِ مہجور کی تسکیں کا بھی ساماں ہوتا
لطف کیا اور سوا محفلِ یاراں ہوتا
شمعِ عرفانی ءِ شاداب کی تنویروں میں
لطفِ خاموشی ءِ نایاب کی تصویروں میں
(1004)
ہاں وہ جبریلِ غضبناکِ جگر چاک وہی
برقِ سوزانِ خس و خارک و خاشاک وہی
نعرہ ءِ شعلہ کشِ صیقلِ ادراک وہی
صدمہء ذلتِ اسلام میں غمناک وہی
جو گرجتا تو یہ آفاق سمٹ جاتے تھے
دل لزرتے تھے جگر خوف سے پھٹ جاتے تھے

(1005)
وہ بگڑتا تو فقط اپنی بھلائی کے لئے
وہ جھگڑتا تو فقط اپنی بھلائی کے لئے
ہم سے لڑتا تو فقط اپنی بھلائی کے لئے
زندہ گڑتا تو فقط اپنی بھلائی کے لئے
آج آغوشِ لحد میں وہ خاموش ہوا
شدتِ غم سے تہِ خاک وہ روپوش ہوا
(1006)
اب بھی جبریل کی تربت سے صدا آتی ہے
مرقدِ درد سے پُردرد ندا آتی ہے
بن کے فریادِ شبی مثلِ درا آتی ہے
آہِ پُردرد کے جھونکوں میں بکا آتی ہے
جاگ اٹھا ہے مسلماں کہ ابھی سوتا ہے
بے سبب وقت یہ اس طَور وہ کیوں کھوتا ہے
(1007)
اپنے مولا نے کیا ہم پہ کرم ۔ جاگے ہیں
اپنے مولا کی عنائت ہے کہ ہم ۔ جاگے ہیں
گلشن و جنت و فردوس و ارم ۔ جاگے ہیں
ہند جاگے ہیں عرب ترک و عجم ۔ جاگے ہیں
جاگ اے مرقدِ جبریل کہ ہم ۔ جاگے ہیں
عرش جاگے ہیں ملک لوح و قلم ۔ جاگے ہیں

(1008)
جس نے ایمان کی دولت سے نوازا ہے ہمیں
اپنے احسان کی دولت سے نوازا ہے ہمیں
نورِ عرفان کی دولت سے نوازا ہے ہمیں
درد و درمان کی دولت سے نوازا ہے ہمیں
اس کے احسان جو گِنائیں تو گنا بھی نہ سکیں
بارِ احساں جو اٹھائیں تو اٹھا بھی نہ سکیں
(1009)
قلبِ افغاں میں ادھر دیکھ بہار آتی ہے
روئے لیلی میں کہیں شمس النہار آتی ہے
نورِ فردوس کے پردوں میں سوار آتی ہے
کرکے جنت کی فضاؤں سے سنگار آتی ہے
مردِ مومن کو مبارک ہو بہار آتی ہے
بن کے باطل کے کلیجے میں یہ خار آتی ہے
(1010)
تُرکِ جانباز کی دنیا میں بہار آتی ہے
رنگِ حمرت کی قباؤں میں سوار آتی ہے
ماہِ خونناب کی جھلکی میں نگار آتی ہے
بن کے رومیؒ کی جلالت کا وقار آتی ہے
ترکِ جانباز مبارک ہو بہار آتی ہے
بعد صدیوں کے پپیہے کی پکار آتی ہے

(1011)
ہند و پاکاں میں عجب دیکھ بہار آتی ہے
نورِ قراں کی شعاؤں میں سوار آتی ہے
قلبِ ہجراں میں بہ تسکین و قرار آتی ہے
جلوہء حسنِ محمد ﷺ پہ نثار آتی ہے
جلوہء حسنِ محمد ﷺ سے نقاب اٹھی ہے
صبحِ صادق سے ردا مثلِ حباب اٹھی ہے
(1012)
سوزِ دنیا ءِ بلالی میں بہار آتی ہے
اشعہء شمسِ جلالی میں بہار آتی ہے
خالِ مشکینِ سُمالی میں بہار آتی ہے
کالی دنیا ہے پہ کالی میں بہار آتی ہے
پھر وہ تکبیر میں آوازِ اذاں اٹھی ہے
صبحِ نور میں وہ مستور و رواں اٹھی ہے
(1013)
وادیِ نجد میں توحید کی ھُو اٹھی ہے
سرمئی چادرِ انوار میں ضو اٹھی ہے
عشقِ فرمانِ الہی کا سُبو اٹھی ہے
ریگِ بطحا سے گلِ دوست کی بو اٹھی ہے
پھر جگر داغ ہوا لالہء صحرائی کا
پھر چلا دور وہی قیسیٰ و لیلائی کا

(1014)
غالب آئے ہیں یہ اقبالؒ و ولی آئے ہیں
حالیؒ و سعدیؒ و عطارؒ و غنیؒ آئے ہیں
ملٹن آئے ہیں ولائت سے شبلی آئے ہیں
اور آئے ہیں یہ حسانِ نبی ﷺ آئے ہیں
خوبیء قسمت جبریل کے کیا کہنے ہیں
شمع و پروانہ و قندیل کے کیا کہنے ہیں
(1015)
صبحِ لیلائی ءِ ھلالی میں بہار آتی ہے
حسنِ تلقینِ غزالیؒ میں بہار آتی ہے
سوزِ تکبیرِ بلالیؓ میں بہار آتی ہے
قُربِ تاثیرِ جلالی میں بہار آتی ہے
صدقِ گفتار جو مسلم کو عطا ہوتی ہے
دور اس قوم سے ہر کرب و بلا ہوتی ہے
(1016)
باز در گلشنِِ ایراں چہ بہارے برسد
یارِ مہجور بہ بیں باز بہ یارے برسد
از رہِ یزد چہ تابندہ سوارے برسد
در رگِ کفرِ جہاں ریز چہ خارے برسد
ملکِ ایران و چہ فرخندہ جبیں مے بینم
دشتِ ویران و بہ فردوس قریں مے بینم

(1017)
کیا ہی یارانِ کہن اپنے ندیم آئے ہیں
قلبِ برباد میں کیا مثلِ نسیم آئے ہیں
باغِ ناشاد میں کیا مثلِ شمیم آئے ہیں
کیا ہی اقلیمِ معانی کے کلیم آئے ہیں
قلبِ جبریل میں کیا آج یہ شادانی ہے
شکر خاموش کی افراط ہے ارزانی ہے
(1018)
غوث ہر دور کے مضطر ہیں قطب مضطر ہیں
جتنے عرفاں کے ہیں سلطآن وہ سب مضطر ہیں
ہند و ایران و حبش ترک و عرب مضطر ہیں
تھے ہمیشہ سے وہ بے چین پہ اب مضطر ہیں
اب تو مجبور تڑپتے ہیں وہ انگاروں پہ
بے بس اس دور میں تَپ تے ہیں وہ شراروں پہ
(1019)
غوث ہر دور کے آئے ہیں قطب آئے ہیں
جتنے عرفاں کے ہیں سلطان وہ سب آئے ہیں
ہند و افغان و عجم تُرک و عرب آئے ہیں
سربکف سپر بکفن صور بلب آئے ہیں
سبز جھنڈوں کا پہ جنگل ہے رواں ہوتا ہے
قومِ دجال کے سینے میں سناں ہوتا ہے

(1020)
ضو فشاں دہر میں اسلام کی تنویر ہوئی
پھر شہنشاہی محمد ﷺ کی جہانگیر ہوئی
نورِ اسلام کی پھر دہر میں توقیر ہوئی
مات تقدیر سے طاغوت کی تدبیر ہوئی
مرحبا دور میں پھر جلوہء فاراں اٹھا
شبِ دیجور میں خورشیدِ بداماں اٹھا
(1021)
آپ چاہیں تو ہمیں آپ بلا سکتے ہیں
فون نمبر بھی مدینے کا ملا سکتے ہیں
تار عرفاں کی بھی سینے میں ھلا سکتے ہیں
پھول الفت کے بھی چاہیں تو کھلا سکتے ہیں
یعنی جبریل یہ اب تم سے وداع ہوتے ہیں
جا کے مدینے میں کہیں جذبِ سماع ہوتے ہیں

*ا ختتام *

Back to Kuliyat e Gabriel

 

 

Print Friendly, PDF & Email

Related Posts

  • 99
    مجھے واعظ یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف ۴ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ حضرت یوسف۴ نے اپنے ملک کو "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نھیں مرنے پایا۔ یہ تو بتاتے…
  • 99
    آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں ابوبکر قدوسی بہت شور ہے ڈیم بنانے کا - پنجابی میں کہتے ہیں "ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں " یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں - سو دوستو…
  • 99
    امیدواراورووٹر ایک امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس گیا اور ان کو ایک ہزار روپیہ پکڑواتے ہوئے کہا حاجی صاحب اس بار ووٹ مجھے دیں۔ حاجی صاحب نے کہا: مجھے پیسے نہیں چاہیےووٹ چاہیے تو ایک گدھا لادیں، امیدوار گدھا ڈھونڈنے نکلا مگر کہیں بھی…
  • 99
    مجھے واعظ یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف ۴ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ حضرت یوسف۴ نے اپنے ملک کو "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نھیں مرنے پایا۔ یہ تو بتاتے…
  • 91
    شیشیل کورالا فقیرانہ وزیر اعظم 2014ء میں نیپال کاوزیراعظم بن گیا۔پہلے دن جب اپنے سرکاری دفترپہنچاتو انتہائی سستی قیمت کے کپڑے پہن رکھے تھے۔۔لباس کی مجموعی قیمت دوسوروپے سے بھی کم تھی۔سرپرانتہائی پرانی ٹوپی اورپیروں میں کھردری سی چپل۔ وہاں ویٹریانائب قاصدکے کپڑے بھی شیشیل کورالاسے بہت بہتر تھے۔ منتخب…
  • 91
    Back to Kuliyat e Gabriel گلہائے عقیدت علامہ اقبال ؒ مرحوم کے حضور میں سرود رفتہ باز آید بیاید نسیمے از جحاز آید بیاید دو صد رحمت بجان آں فقیرے دگر دانائے راز آید بیاید دگر آید ہماں دانائے رازے ندارد جز نوائے دل گدازے دے صد چاک و چشمے…
  • 89
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 88
    Back to Kuliyat e Gabriel Index بجا دے اب یہ نقارہ (1) بجا دے اب یہ نقارہ اُ ٹھا لے اب عَلم اپنا صبا ملک ِ فلسطیں سے ادھر دیکھو یہ کیا لا ئی غمِ اقصیٰ کے ماتم میں فغانِ کربلا لائی لہو کے آنسوؤں میں اک پیامِ ابتلا لائی…
  • 85
    Back to Kuliyat e Gabriel گریہ نیم شبی خدایا شکر ہے رکھا مرا اجر اپنے ہاتھوں میں وگرنہ کس طرح ملتی مجھے محنت کی مزدوری بڑی مشکل سے سمجھائے تھے ملت کو سب اندیشے رلا کر رکھ گئی مجھ کو یہ احساسِ مجبوری خخ رلاتی ہیں مجھے ملت کی حسن…
  • 84
    Chinese are great because they understand it only a commerce person can understand it deeply اگر پاکستان کے 21 کروڑ لوگوں میں سے صرف 30٪ لوگ روزانہ 10 روپے کا جوس پیں تو مہینے بھر میں تقریبا "1800 کروڑ" روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ اور اگر آپ انہی پیسوں سے…
  • 83
    محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد…
  • 82
    غلط خاکے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینے والی تفتیش :زینب اور اس جیسی 11 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کے پیچھے چھپے خوفناک و شرمناک حقائق اس رپورٹ میں ملاحظہ کیجیے لاہور(ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی…
  • 81
    چیف ایڈیٹر روزنامہ جہاد پشاور ایک پہلو جسکی طرف ہم نے کبھی توجہ نہیں دی اور جس سے پورا یورپ ،امریکہ اورروس بھی لرزاں ہے وہ ہے ایٹم بم کے استعمال کا آسیب۔ اس وقت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں جس قدر ایٹم بم کے موہوم استعمال کا…
  • 81
    عنایت اللہ صاحب کی تازہ تصنیف (چراغ وقت) پر میرا اظہار خیال ایسا ہی ہے ۔ کہ جیسے سورج کو چراغ دکھانا۔ کہنے کو تو یہ وقت کے عنوان سے ان کی تقریبا نصف درجن کتابوں کا تسلسل ہے۔ لیکن در حقیقت یہ نوع انسانی کے موجودہ تصورات کو بدلنے…
  • 81
    سلسلہ واصفیہ کے رکن اعظم عنایت اللہ! صاحب قلم بھی ہیں صاحب نظر بھی۔درد مند بھی اور قومی حوالے سے درد مند ۔جب بھی لکھا قومی سلسلہ پر لکھا۔عاجز ایسے نام سے کام نہیں رکھا،صرف کام کیا اور مسلسل کام کیا۔واصف صاھب قبلہ نے تو عنایت اللہ صاحب کے یہ…
  • 81
    کتاب ’’آئینہ وقت‘‘ کے مصنف کو میں عرصہ پچیس سال سے جانتا ہوں۔ اور اس کے ساتھ وقت کی ہر بنت سے گذرا ہوں۔ جو دن ، دوپہر، شام ، رات، اور صبح کاذب اور صادق کے درمیان نئے نئے چھاپے چھاپتی ہے۔ اور نئے نئے رنگ ابھارتی ہے۔ عنائیت…
  • 81
    *تلاش گمشدہ* ہم سے *”خلوص“* گم ہو گیا ہے۔ اس کی عمر کئی سو سال ہے۔ بڑھاپے کی وجہ سے کافی کمزور ہو گیا ہے۔ گھر میں موجود *”خودغرضی“* کے ساتھ ان بن ہو جانے پر ناراض ہو کر کہیں چلا گیا ہے۔ اُس کے بارے میں گمان ہے کہ…
  • 80
    میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی میں اس لئے مجاہد ، میں اسی لئے نمازی تہذیبی اعتبار سے دنیا آج نہایت جدید دور سے گزر رہی ہے۔ سائنس کی تعلیم وترقی اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ایجادات نے انسان کو انتہائی حد تک مادہ…
  • 80
    تصویر سے ملے تصویر تحریر رضوان یوسف ہم جانتے ہیں کہ نشہ انسان کو حقیقتوں سے آگاہ نہیں ہونے دیتا بلکہ یہ کہا جاسکتاہے کہ حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لئے نشہ استعمال ہوتا ہے ۔ ’’ نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشے میں ہو ‘‘ اب دیکھنا…
  • 80
    *آج پیزا نہیں کھاتے* (سبق آموز) *بیوی:* آج دھونے کے لئے زیادہ کپڑے مت نکالنا۔ *شوہر:* کیوں؟ *بیوی:* کام والی ماسی دو دن نہیں آئے گی *شوہر:* کیوں؟ *بیوی:* اپنی نواسی سے ملنے بیٹی کے پاس جا رہی ہے، کہہ رہی تھی دو دن نہیں آؤں گی۔ *شوہر:* ٹھیک ہے،…