پسِ آئینہ کوئی اور ہے تحریر ڈاکٹر تصدق حسین راجہ

048

tassadaqraja


بابا عنایت اللہ صاحب کی مختصر عرصے میں پانچ کتابیں قارئین تک پہنچ چکی ہیں ۔ چراغ وقت ۔سے پہلے ناد وقت،آواز وقت،ندائے وقت،صدائے وقت اور آئینہ ء وقت یکے بعد دیگرے شائع ہوچکی ہیں۔جیسا کہ میں اس سے قبل شائع ہونے والی کتاب میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ انکی ساری کتابوں میںایک موضوع نیا ہوتا ہے۔جس پر اپنا قلم یہ خون جگر میں ڈبو کر لکھتے ہیں۔خونِ جگر میں ڈبو کر میں نے اس لئے کہا کہ دلِ درد مند کا حامل انسان ایسی تحریریں صفحۂ قرطاس پر لاتے وقت جس قرب سے گذرتا ہے۔یہ صرف وہی جانتا ہے۔جو اس مرحلے سے گذرتا ہے۔جس میں دل و جگر سے خون اگلنا ایسے انسانوں کا مقدر بن گیا ہوتا ہے۔دیگر موضو عات یہ اپنی پچھلی کتابوں کے جستہ جستہ دہراتے جاتے ہیں۔جو یقینا بے ساختگی سے ہوتا ہے۔انہیں انکا احساس نہیںرہتا۔اسے تکرار نہ کہا جائے تو بہتر ہے۔کہ ہر بار پچھلی باتوں کا اعادہ ہو جاتا ہے۔مصنف نے زیر نظر کتاب میں اہل بصیرت کو انکا فرض یاد دلایا ہے۔کہ وہ اس نازک گھڑی میںانسانیت کی رہنمائی فرماویں۔
چراغ وقت۔ کے صفحہ۳۵۔ پر یوں فرماتے ہیں۔
جس دور میں قلیل سے لوگ اور چند ترقی یافتہ ممالک حق سے زیادہ مال و دولت اور وسائل پر قابض ہو جائیں۔ اور عوام الناس فطرتی ضروریات سے بھی محروم ہوتے جائیں ۔ تو یہ زمانہ حق تلفی اور ظلم کا زمانہ ہوتا ہے۔
جب زمانے میں حق پرست اور حق شکن ،دین دار اور بے دین، اہل بصیرت اور جاہل ،صاحب کردار اور بد کردار، نیک اور بد ،زانی شرابی، اور متقی، پاکباز اور گنہگار، صالح اور بے حیا،ظالم اور مظلوم،رہبر اور رہزن ایک ہی دام فرخت ہونے لگیں تو اسے اندھیر نگری اور جمہوریت کا دور کہتے ہیں۔
صفحہ۱ ۶۔قارئین محسوس کریں گے کہ ایک فقیر کے دل کی تڑپ الفاظ میں ڈھل کر
کتابی شکل میںدل ہائے درد منداور چشمِ بینا کے حامل پیشواؤں کے سامنے آگئی ہے ۔
گناہ اور جر م کے اخلاقیات کو سمجھنے کیلئے،اچھائی اور برائی،نیکی اور بدی،خیر اور شر کی
پہچان اور انسانیت کی تباہی کا تدارک اور فلاح کی روشنیاں پھیلانے کیلئے بین
الاقوامی سطح پر جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کے تیار کردہ اخلاقیات اور مذہب کے
اخلاقیات اور ا لہیات کے وارث صاحب بصیرت پیشواؤںکیلئے یہ مسودہ پیش کیا
جا رہا ہے۔کہ وہ انسانیت کی رہنمائی فرماویں۔ اسکے علاوہ پیغمبران کی تمام امتوں
اور پوری انسانیت کو تابع فرمان الہی کے روشن پہلو ؤں سے روشناس کروائیں۔
صفحہ۱۱۷۔جب باطن مذہب کی صداقتوںکا پجاری ہو اور ظاہر جمہوریت کے بے
دین سیا سی قائدین کے نظام،احکام اور قوانین و ضوابط کے روح سوز عمل سے دو
چار ہو۔تو ضمیر کے چہرے پر نفرت کا اظہار کیسے روکا جا سکتا ہے۔
نادِوقت۔کے بعد اس مرتبہ چراغ وقت ۔میں مصنف نے جس حقیقت حال کودکھایا ہے۔اس سے نہ مفر ہے نہ اغماض برتا جا سکتا ہے۔نتائج کی نہ تو ذمہ داری مصنف کی ہے۔نہ اسے اصلاح احوال کی صورت نظر نہ آنے پر فکر مندی۔کیونکہ اس کا کام خواب غفلت سے بیدار کرنا ہے۔جس کیلئے وہ پورے خلوص نیت سے بر سر پیکار ہے۔اس فقیر کی دعا ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے پیارے آقا ﷺ کے صدقے میں عنایت اللہ صاحب کی کوششوںکو بار آور فرماوے۔ امین۔
جناب عنایت اللہ صاحب کی تحریر میںرنگ واصف علی واصف نہ جھلکے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ اس پر سوز اور پر تاثیر تحریرکی دھیمی دھیمی خوشبو کسی عظیم وقت کی آغوش سے کشید کی گئی ہوئی ہے۔جو تمام مذاہب کی امتوں اور پوری انسانیت کے دلوںکو مسحور کرنے کیلئے اس جہان رنگ و بو میں پھیلتی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر تصدق حسین راجہ

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 49
    زیر نظر کتاب’’ نسخہ ء انقلاب وقت‘‘ عنایت اللہ صاحب کی ساتویں کتاب ہے۔ اس سے قبل انکی شائع ہونے والی کتابوں میں درج ذیل کتب شامل ہیں:۔ ۱۔آئینہ وقت۔۲۔صدائے وقت۔۳۔ندائے وقت۔۴۔آوازوقت۔۵۔ناد وقت۔ ۶ ۔ چراغ وقت مصنف نے اس کتاب میںبہت سے سوال اٹھائے ہیں،ا ن میں سب سے…
  • 48
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…
  • 44
    بابا عنایت اللہ صوفی ہیں مگر تارک الدنیا نہیں۔مجھے انکی یہ ادا بہت پسند ہے۔وہ طریقت اور معرفت کے اس مسلک سے وابستہ ہیںجو اس مادی دنیا کو روحانی روشنی سے نور۔‘ علیٰ نور کر دینا چاہتے ہیں۔یہ تمنا اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتی،جب تک ذاتی مجاہدہ ء…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply