پسِ آئینہ کوئی اور ہے تحریر ڈاکٹر تصدق حسین راجہ

048

tassadaqraja


بابا عنایت اللہ صاحب کی مختصر عرصے میں پانچ کتابیں قارئین تک پہنچ چکی ہیں ۔ چراغ وقت ۔سے پہلے ناد وقت،آواز وقت،ندائے وقت،صدائے وقت اور آئینہ ء وقت یکے بعد دیگرے شائع ہوچکی ہیں۔جیسا کہ میں اس سے قبل شائع ہونے والی کتاب میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ انکی ساری کتابوں میںایک موضوع نیا ہوتا ہے۔جس پر اپنا قلم یہ خون جگر میں ڈبو کر لکھتے ہیں۔خونِ جگر میں ڈبو کر میں نے اس لئے کہا کہ دلِ درد مند کا حامل انسان ایسی تحریریں صفحۂ قرطاس پر لاتے وقت جس قرب سے گذرتا ہے۔یہ صرف وہی جانتا ہے۔جو اس مرحلے سے گذرتا ہے۔جس میں دل و جگر سے خون اگلنا ایسے انسانوں کا مقدر بن گیا ہوتا ہے۔دیگر موضو عات یہ اپنی پچھلی کتابوں کے جستہ جستہ دہراتے جاتے ہیں۔جو یقینا بے ساختگی سے ہوتا ہے۔انہیں انکا احساس نہیںرہتا۔اسے تکرار نہ کہا جائے تو بہتر ہے۔کہ ہر بار پچھلی باتوں کا اعادہ ہو جاتا ہے۔مصنف نے زیر نظر کتاب میں اہل بصیرت کو انکا فرض یاد دلایا ہے۔کہ وہ اس نازک گھڑی میںانسانیت کی رہنمائی فرماویں۔
چراغ وقت۔ کے صفحہ۳۵۔ پر یوں فرماتے ہیں۔
جس دور میں قلیل سے لوگ اور چند ترقی یافتہ ممالک حق سے زیادہ مال و دولت اور وسائل پر قابض ہو جائیں۔ اور عوام الناس فطرتی ضروریات سے بھی محروم ہوتے جائیں ۔ تو یہ زمانہ حق تلفی اور ظلم کا زمانہ ہوتا ہے۔
جب زمانے میں حق پرست اور حق شکن ،دین دار اور بے دین، اہل بصیرت اور جاہل ،صاحب کردار اور بد کردار، نیک اور بد ،زانی شرابی، اور متقی، پاکباز اور گنہگار، صالح اور بے حیا،ظالم اور مظلوم،رہبر اور رہزن ایک ہی دام فرخت ہونے لگیں تو اسے اندھیر نگری اور جمہوریت کا دور کہتے ہیں۔
صفحہ۱ ۶۔قارئین محسوس کریں گے کہ ایک فقیر کے دل کی تڑپ الفاظ میں ڈھل کر
کتابی شکل میںدل ہائے درد منداور چشمِ بینا کے حامل پیشواؤں کے سامنے آگئی ہے ۔
گناہ اور جر م کے اخلاقیات کو سمجھنے کیلئے،اچھائی اور برائی،نیکی اور بدی،خیر اور شر کی
پہچان اور انسانیت کی تباہی کا تدارک اور فلاح کی روشنیاں پھیلانے کیلئے بین
الاقوامی سطح پر جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کے تیار کردہ اخلاقیات اور مذہب کے
اخلاقیات اور ا لہیات کے وارث صاحب بصیرت پیشواؤںکیلئے یہ مسودہ پیش کیا
جا رہا ہے۔کہ وہ انسانیت کی رہنمائی فرماویں۔ اسکے علاوہ پیغمبران کی تمام امتوں
اور پوری انسانیت کو تابع فرمان الہی کے روشن پہلو ؤں سے روشناس کروائیں۔
صفحہ۱۱۷۔جب باطن مذہب کی صداقتوںکا پجاری ہو اور ظاہر جمہوریت کے بے
دین سیا سی قائدین کے نظام،احکام اور قوانین و ضوابط کے روح سوز عمل سے دو
چار ہو۔تو ضمیر کے چہرے پر نفرت کا اظہار کیسے روکا جا سکتا ہے۔
نادِوقت۔کے بعد اس مرتبہ چراغ وقت ۔میں مصنف نے جس حقیقت حال کودکھایا ہے۔اس سے نہ مفر ہے نہ اغماض برتا جا سکتا ہے۔نتائج کی نہ تو ذمہ داری مصنف کی ہے۔نہ اسے اصلاح احوال کی صورت نظر نہ آنے پر فکر مندی۔کیونکہ اس کا کام خواب غفلت سے بیدار کرنا ہے۔جس کیلئے وہ پورے خلوص نیت سے بر سر پیکار ہے۔اس فقیر کی دعا ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے پیارے آقا ﷺ کے صدقے میں عنایت اللہ صاحب کی کوششوںکو بار آور فرماوے۔ امین۔
جناب عنایت اللہ صاحب کی تحریر میںرنگ واصف علی واصف نہ جھلکے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ اس پر سوز اور پر تاثیر تحریرکی دھیمی دھیمی خوشبو کسی عظیم وقت کی آغوش سے کشید کی گئی ہوئی ہے۔جو تمام مذاہب کی امتوں اور پوری انسانیت کے دلوںکو مسحور کرنے کیلئے اس جہان رنگ و بو میں پھیلتی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر تصدق حسین راجہ

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 49
    زیر نظر کتاب’’ نسخہ ء انقلاب وقت‘‘ عنایت اللہ صاحب کی ساتویں کتاب ہے۔ اس سے قبل انکی شائع ہونے والی کتابوں میں درج ذیل کتب شامل ہیں:۔ ۱۔آئینہ وقت۔۲۔صدائے وقت۔۳۔ندائے وقت۔۴۔آوازوقت۔۵۔ناد وقت۔ ۶ ۔ چراغ وقت مصنف نے اس کتاب میںبہت سے سوال اٹھائے ہیں،ا ن میں سب سے…
  • 48
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…
  • 44
    بابا عنایت اللہ صوفی ہیں مگر تارک الدنیا نہیں۔مجھے انکی یہ ادا بہت پسند ہے۔وہ طریقت اور معرفت کے اس مسلک سے وابستہ ہیںجو اس مادی دنیا کو روحانی روشنی سے نور۔‘ علیٰ نور کر دینا چاہتے ہیں۔یہ تمنا اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتی،جب تک ذاتی مجاہدہ ء…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “پسِ آئینہ کوئی اور ہے تحریر ڈاکٹر تصدق حسین راجہ

  1. ’حالِ فقیر‘‘ ڈاکٹر تصدق حسین کی زندگی کا مطالعہ
    (محمد عارف ٹیکسلا)
    گروپ کیپٹن(ر) شہزاد منیر سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تو وہ مجھے پہلے سے ہی جانتے تھے۔ میں نے انہیں اپنی اس خواہش سے آگاہ کیا کہ میں ڈاکٹر تصدق حسین کے بارے میں کچھ خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جنہیں ’’حالِ فقیر ‘‘میں شامل کر لیا جائے تو میرے لئے سعادت کی بات ہو گی۔ گروپ کیپٹن (ر)شہزاد منیر نے انتہائی خندہ پیشانی سے میرا استقبال کیا اور مجھے کھل کر لکھنے کی دعوت دی۔ لہذا’’ حالِ فقیر‘‘ میں میرا مضمون ’’ ڈاکٹر تصدق حسین المعروف بسم اللہ سرکار ‘‘ شامل ہے۔ یہ وہ مضمون ہے کہ جس سے میرے ڈاکٹر تصدق حسین سے ذہنی و فکری روابط کا بھرپور اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ ڈاکٹر تصدق حسین پر پہلی مبسوط علمی تصنیف ’’ تجھے گر فقرو شاہی کا بتا دوں۔ڈاکٹر تصدق حسین حیات و خدمات‘‘ میرے ہی قلم سے نکلی اور رومیل پبلیکیشنز ہاؤس راولپنڈی سے 2010 ء میں زیورِ اشاعت سے آراستہ ہوئی۔ ’’حالِ فقیر‘‘ اسی موضوع کی توسیع ہے۔ گروپ کیپٹن (ر)شہزاد منیر کو بھی قرطاس و قلم سے نسبت ہے۔ان کی اس وقت تک مندرجہ ذیل کتب شائع ہو چکی ہیں :۔
    ۱۔ سوئے دانش
    ۲۔ درویش بے کلاہ
    ۳۔ بے کلاہ لکھتاہے
    ۴۔ زندہ آنکھیں مردہ خواب
    ۵۔ پاکستان کے درویش قبائل
    ۶۔ ارمغانِ فقیر
    ۷۔ قومی ہیرو بنئے
    ۸۔ گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
    ۹ Mosaic of Retirement
    ۱۰۔ فرسودہ خیال
    ۱۱۔ قائد اعظم کے فیصلے
    ڈاکٹر تصدیق حسین کی شخصیت اور ان کے فن کے بارے میں مختلف افراد نے وقتاََ فوقتاََ جو مضامین تحریر کئے ہیں انہیں ’’حالِ فقیر‘‘ میں شامل کر دیا گیاہے۔ یہ مضامین ڈاکٹر تصدق حسین کی علمی و روحانی زندگی کے بارے میں متعد د خفتہ گوشوں کو بے نقاب کرتے ہیں جن سے ان کی زندگی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ ڈاکٹر تصدق حسین لمحہء موجود کے وہ شہرہء آفاق مترجم ، مولف ، افسانہ نگار ، سوانح نگار اور صوفی دانش ور ہیں جن کی زندگی کے متعدد پہلو ایسے ہیں جو ابھی تک پردہء اخفا ء میں ہیں اور ان پر سیر حاصل بحث کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر تصدق حسین نے کولیمبیا کی پیسیفک یونیورسٹی سے نسیم حجازی کی شخصیت و فن پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یہ مقالہ انگریزی میں تھا اور ہنوز تشنہء اشاعت ہے۔ اس مقالے کی اشاعت کی بھی ضرورت ہے۔ صوفی بزرگ سید عبدالرشید ؒ نے ان کے نام جو خطوط تحریر کئے ہیں ان کی تعداد ساڑھے سات سو سے زیادہ ہے۔ یہ وہ خطوط ہیں کہ جو فقری تعلیمات اور قرآن حکیم کے موضوع پر لکھے گئے ہیں۔ اگر یہ خطوط منظرِ عام پر آ جائیں تو بنی نوعِ انسان کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر تصدق حسین کے پروفیسر عبدالعزیز سے روابط بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ یہ وہی پروفیسر عبدالعزیز ہیں کہ جنہوں نے’’ نیلام گھر‘‘ کے نام سے کوئٹہ ریڈیو سے پروگرام شروع کیا تھا ۔انہوں نے فلم’’ گھونگھٹ ‘‘کے لئے گیت بھی لکھے تھے مگر آج ان کا نام بھی کوئی نہیں جانتا۔ جاوید چوہدری نے زیرو پوائنٹ میں ایک کالم لکھا جسے پڑھ کر ڈاکٹر تصدق حسین ان سے ملنے کے لئے چلے گئے اور انہوں نے چند ملاقاتوں میں انہیں تصوف کا ایک تہائی مقام عطا کیا۔ واضح ہو کہ انہیں یہ مقام خدمتِ انسانیت کے شعبے میں دیا گیا تھا۔ یہ امر بھی انتہائی اہم ہے کہ پروفیسر عبدالعزیزؒ کی زندگی کے بارے میں جامع تحقیق کی جائے اور وہ پہلو بھی ڈھونڈھے جائیں جو ابھی تک سامنے نہیں آ سکے۔ ڈاکٹر تصدق حسین نے ’’ متاعِ فقیر‘‘ میں کافی روحانی واقعات بیان کر دیئے ہیں مگر ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے جس کے ورق ورق کو سمیٹنا لمحہء موجود کا تقاضا ہے۔ پروفیسر عبدالعزیزؒ اس دنیا میں نہیں ہیں مگر یہ کھوج لگانے کی بھی ضرورت ہے کہ ان کا خاندانی پس منظر کیا تھا۔ ان کے والدین کون تھے، وہ رشتہء ازدواج میں کب منسلک ہوئے۔ وہ روحانی دنیا کی طرف کیسے راغب ہوئے اور کن کن بزرگوں سے فیض حاصل کیا۔ کیا پروفیسر عبدالعزیزؒ باقاعدہ طور پر کسی سے بیعت تھے یا کہ نہیں۔ ڈاکٹر تصدق حسین نے محض چند واقعات کا تذکر ہ کردیا ہے جو کہ آپ بیتی کے رنگ میں ہیں مگر پروفیسر عبدالعزیزؒ جیسی باوقار اور بلند پایہ شخصیت کے بارے میں جس عرق ریزی کی ضرورت ہے ابھی تک نہیں کی جا سکی۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ پروفیسر عبدالعزیزؒ کے حلقہء احباب میں کون کون لوگ تھے اور ان کے زیر تربیت آنے والے افراد میں ڈاکٹر تصدق حسین کے علاوہ کون کون گوہر تابدار تھے۔ اگر وہ حیات ہیں تو ان کی یاداشتیں اکٹھی کرنی چاہئیں ۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ پروفیسر عبدالعزیز ؒ نے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کتابیں کون کون سی لکھی ہیں۔ ان کے دوستوں اور عزیزوں کو لکھے گئے خطوط کا بھی کھوج لگانا پڑے گا۔ پروفیسر عبدالعزیز ؒ ہنستی بستی ہوئی دنیا کو چھوڑ کر چالیس سال تک جنگلوں اور بیابانوں میں چلہ کشی میں مصروف رہے اور جب آئے تو مستجاب الدعوات تھے۔ پروفیسر عبدالعزیز اور ڈاکٹر تصدق حسین کے درمیان رشتہ و پیوند سے متعلق مزید حقائق کو بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ یا شاید ان پس پردہ اسرار و رموز کو دنیا کے سامنے آنے کے لئے ابھی وقت درکار ہے ۔ڈاکٹر تصدق حسین ایک گوشہء گمنامی میں پڑے ہوئے وہ مردِ فقیر ہیں کہ جن کا اللہ ان کے ساتھ ہے۔ وہ مخلوقِ خدا کے لئے دن رات مصروفِ خدمت ہیں ۔ ان کی زندگی کا مقصد دوسروں کے کام آنا ہے۔ وہ مستجاب الدعوات ہیں مگر جبہء و دستار اور عمامہ و مسند سے کوسوں دور ہیں۔ انہیں پروفیسر عبدالعزیز ؒ صاحب نے اللہ کا جھنڈا بھی عطا کیا ہے اور انہیں اس بات کی اجازت بھی دی ہے کہ وہ میرا لنگر جاری رکھ سکتے ہیں۔ انہیں یہ مشن بھی سونپا گیا ہے کہ وہ اللہ والوں کی ایک جماعت بنائیں گے۔ ڈاکٹر تصدق حسین کی مرتبہ علمی تصنیف ’’ حالِ فقیر‘‘ نے محمد قدیر، آفتاب احمد ملک، نیاز عرفان، خالد خلیل ، ارم زبیر(بہو) ذوالفقار حیدر راجا (بیٹا) محمد مظہر اقبال نظامی ، اقرار حسین شیخ، سیدہ جنت الفردوس، نذیر بیگم اہلیہ ، احمد محمود ،محمد عارف، محمد رشید آفرین، پروفیسر ارشد محمود ، محمد ریاض جنجوعہ ، کرنل (ر) مظفر علی خان، سید محمد افسر ساجد، عبدالصمد، مسز فوزیہ عالم (بیٹی) انجینئر منور علی قریشی کے مضامین کے علاوہ گروپ کیپٹن شہزاد منیر کا ایک انٹرویو بھی شامل ہے۔ کتاب کے آخر میں مکاتیب سید عبدالرشید بنام ڈاکٹر تصدق حسین کل آٹھ خطوط شامل کئے گئے ہیں۔ ’’حالِ فقیر‘‘ کی سب سے خاص بات شہزاد منیر کا وہ مقدمہ ہے جو انہوں نے کتاب کے آغاز میں شامل کیا ہے۔ یہ مقدمہ کل چھبیس صفحات پر مشتمل ہے جس میں شریعت و طریقت، عرفان و سرمستی ، عصری مسائل اور علم تصوف کے بارے میں بعض حقائق منفرد انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔ شہزاد منیر کے مقدمہ سے چند ایک اقتباسات ملاحظہ فرمائیں :۔
    (۱) ’’ عارف کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ دین و شریعت کے حدود و حلقہ میں رہ کر معاشرے کا فعال رکن بن کر رہتا ہے‘‘۔
    (۲) ’’ڈاکٹر تصدق حسین کا نظریہ یہ ہے کہ ’’ جاہل اور کم کوش شخص کی جڑیں بے علم اور بنجر زمین میں ہوتی ہیں۔ جب تک اس زمین کا سینہ علم و دانش اور جدید خنجر سے نہ چیرا جائے جہالت ختم نہیں ہوتی‘‘۔
    (۳) ’’ تصوف کائنات کا مشاہدہ اور فطرت کا عرفان ہے۔ یہ نہ تو کوئی دین ہے نہ لادینیت اور نہ ہی کوئی مذہب و فرقہ بلکہ نظریہء حیات ہے جو اپنے اللہ کے قہر و غضب سے ڈرنے والے اور عاجزی و انکساری سے لوگوں سے لین دین کرنے والے راتوں کو اٹھ اٹھ کر رو رو کر اپنے اللہ سے فلاحِ عظیم چاہنے والے لوگ اپناتے ہیں ‘‘۔
    ڈاکٹر تصدق حسین کے افکار و نظریات میں سے چند کا انتخاب بھی پیش کیا جاتا ہے :۔
    (۱) ’’ وطنِ عزیز کے سکولوں اور کالجوں میں یہ جو غیر ملکی نصابِ تعلیم آیا ہے اور ان تعلیمی اداروں کا الحاق امریکی اور برطانوی یونیورسٹیوں سے کرانے کے بعد لاکھوں روپے فیسوں کی شکل میں وصول کئے جانے لگے ہیں۔ اس میں جو کردار بزمِ ادب ادا کرتی تھی وہ ختم ہو گیا۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اچھا استاد پیدا ہونا بند ہو گیا ‘‘۔
    (۲) ’’ نوجوان نسل کسی قوم ، ریاست اور ملک کا سرمایہ ہوتی ہے۔ اس صدی میں جدید سائنسی علوم کا جو سیلاب آیا ہے۔ اس نے آج کے نوجوانوں کو بہت متاثر کیا ہے اور ایسا اسوقت ہوا جب وہ اپنے ماضی کی تعلیمات سے اپنے کلچر سے پہلے ہی بہت دور ہو چکا تھا۔ مغربی تعلیم اور اس مغربی تہذیب نے جس سے خود مغرب والے نالاں تھے۔ اسے اپنے رنگ میں ایسا رنگ ڈالا کہ وہ جلدی جلدی تعلیم کا کچھ حصہ یہیں مکمل کرنے کے بعد یورپ بھاگ جانے کے خواب دیکھنے لگا تھا‘‘۔
    (۳) ’’ بچہ اپنی مادری زبان میں بہتر اظہارِ خیال کرتا ہے۔ اردو رابطے کی زبان ہے۔ بچوں کو اس میں دسترس حاصل ہونی چاہیئے۔ انگریزی ایک اور بڑی زبان ہے جو دنیا کے بہت سے ملکوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ اسے بھی ضرور سکھایئے مگر مادری زبان کو اس طرح نظر انداز نہ کریں۔‘‘۔
    (۴) ’’ شاعری کا انگریز ی سے اردو میں ترجمہ کسی حد تک ہو سکتا ہے لیکن اردو سے انگریزی میں ترجمہ بے حد مشکل کام ہے۔ اور شعری روح کو Capture کرنا تو ناممکن ہوتا ہے ۔ پھر جب شاعری بھی اقبال کی ہو تو کام اور کٹھن ہو جاتا ہے۔ نثر میں ترجمہ نسبتاََ آسان ہوتا ہے‘‘۔
    سید عبدالرشید ؒ دوسری عظیم شخصیت ہیں جن کا مختصر تعارف مکاتیب سید رشید علی عبدالرشید کے عنوان سے شاملِ کتا ب کیا گیا ہے۔ سید عبدالرشید فاطمی سید نجیب الطرفین تھے ۔ ان کے بزرگ طوسی شہر ایران سے آئے تھے، جو، اب مشہد کہلاتا ہے اور جہاں سیدنا ابوالحسن محمد علی رضا ؒ کا روضہ ہے۔ پھر سید صاحب کے بزرگ ہرات یعنی افغانستان آئے ۔ قندھار میں حسن ابدال ولی قندھاری اسی خاندان سے ہیں اور پیر بابا کہلاتے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت 1947 ء میں سید صاحب کے بزرگ قلعہ بہادر گڑھ ضلع رہتک میں شہید کر دیئے گئے تھے۔ اکبر بادشاہ اور ان کی والدہ سید حسنؒ ابدال ولی قندھاری کے بہت معتقد تھے۔ انہوں نے چشموں کے پاس بستی کو حسن ابدال کا نام دیا اور اس کے قریب پہاڑی کو ولی قندھاری کی پہاڑی پکارا۔ اکبر بادشاہ نے گرمی میں چشمے کے ٹھنڈے پانی میں ڈبکی لگائی اور باہر نکلنے پر منہ سے واہ نکلا جب سے یہ بستی واہ کہلاتی ہے۔ سید عبدالرشید کی زندگی کے مزید گوشوں کو بھی بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ان کے خطوط اور چند ایک یاداشتوں سے محدود واقعات پتہ چلتے ہیں۔ سید عبدالرشید کے خاندانی پس منظر ، ان کی تعلیم، ملازمت، اعزازات کے علاوہ انہوں نے جن بزرگوں سے استنباطِ فیض کیا ان کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کی ضرورت ہے۔ واحد رشید ان کے واحد فرزند ہیں جو ان دنوں ملک سے باہر ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو اپنے والد محترم کی زندگی کے واقعات کے بارے میں خود یاد داشتیں مرتب کر سکتے ہیں۔ واضح ہو کہ سید عبدالرشید کے خطوط کا بھی ایک پس منظر ہے کیوں کہ انہیں براہ راست عالم رویا میں نبی کریم ﷺ سے فقرِ قرآن حاصل ہوا تھا۔ ڈاکٹر تصدق حسین کے علاوہ بھی کچھ ایسی شخصیات ہیں جن سے ان کی خط و کتابت رہی ہے ان کے تعارف اور سید عبدالرشید کے ساتھ ان کے تعلقات کو بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ واضح ہو کہ سید عبدالرشید کے خطوط میں زندگی بسر کرنے کے سنہری اصول ملتے ہیں۔ وہ ایک صوفی بزرگ تھے جنہوں نے فقر و استغناء، سیاسیات حاضرہ، تاریخِ پاکستان ، قائد اعظم ، علامہ اقبالؒ اور مختلف روحانی شخصیات کے بارے میں ہی نہیں بلکہ اسلام کے نظام معیشت اور سیاست کے متعلق بھی قرآن حکیم کی روشنی میں انتہائی خوبصورت اظہار خیال فرمایا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اگر ان خطوط کو ایک ہی کتاب میں مرتب و مدون کرکے شائع کر دیا جائے تو آئندہ آنے والی نسلیں یہ احسان کبھی فراموش نہیں کریں گی۔ یہ وہ خطوط ہیں جو علم لدن ہیں۔ یہ وہ علم ہے جو سینہ بہ سینہ سفر کرتا ہے اور دلوں کو مہمیز کر کے رکھ دیتا ہے۔ سید عبدالرشید ؒ کے ڈاکٹر تصدق حسین کے ساتھ تعلق کی معنویت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر راولپنڈی اسلام آباد جیسے وسیع و عریض علاقے میں سے آخر ڈاکٹر تصدق حسین ہی کیوں توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ڈاکٹر تصدق حسین گدڑی میں چھپے ہوئے ایسے لعل ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو زمانے کی نگاہوں سے چھپایا ہوا ہے۔ مقام حیرت ہے کہ ابھی تک لوگ انہیں پہچان ہی نہیں سکے۔ان سے وابستہ سینکڑوں افسانے اور قصے اس وقت سامنے آئیں گے جب پلوں کے نیچے سے پانی بہہ چکا ہوگا۔ ڈاکٹر تصدق حسین جیسے لوگ مرتے نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔ ان کی علمی اور روحانی خدمات آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں ۔ ’’حالِ فقیر‘‘ بھی در اصل ان کی زندگی کے چند مخصوس واقعات کو تاریخ میں محفوظ کرنے کی ہی ایک کوشش ہے جو لائقِ تحسین ہے۔ معروف ادیبہ افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار بانو قدسیہ’’ حالِ فقیر‘‘ کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ ’’ شخصیات نگاری ادب کی اہم صنف سخن ہے۔ اس کے لئے بہت ہی باریک بینی سے شخصیت کا جائزہ لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ کسی بھی شخصیت کی خوبیوں اور خامیوں کا مکمل جائزہ پیش کرنے کے لئے فنی مہارت درکار ہوتی ہے۔ تبھی ہی شخصیت نگاری کا حق ادا ہو پاتا ہے۔یوں شخصی مضمون خاکے کے قریب ہو جاتا ہے اور خاکہ پڑھتے ہوئے افسانے کا لطف اٹھایا جا سکتاہے۔ گروپ کیپٹن (ر) شہزار منیر نے’’ حالِ فقیر‘‘ کے نام سے مضامین کی کتاب مرتب کی ہے۔ یہ مضامین ڈاکٹر تصدق حسین المعروف بسم اللہ سرکار کی شخصیت کا بڑا جامع انداز میں احاطہ کرتے ہیں۔
    ’’حال فقیر ‘‘ ’’ متاع فقیر‘‘ جیسی کتابیں دراصل ان کی فقری زندگی کا عکس ہیں۔ یہ ان کے اپنے ہی روحانی تجربات اور مشاہدات ہیں جنہیں مختلف اسالیب بیان میں ڈھال کر بیان کیا جاتا ہے۔ متاعِِ فقر وہ دولت ہے۔ کہ جس کے بارے میں علامہ محمداقبالؒ نے فرمایاتھا :۔
    ’’ داراو سکند ر سے وہ مرد فقیر اولی
    جس فقر سے آتی ہو بوئے اسداللہی
    ڈاکٹر تصدق حسین وہ خوش نصیب انسان ہیں جنہیں بارگاہ خداوندی سے یہ دولت نصیب ہوئی ہے۔ وہ مقربین خدامیں سے ہیں اور ان کی زندگی ہمارے لئے ایک نمونہ عمل ہے۔ خداوند کریم ان کا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم رکھے۔ امین۔
    یہ امر بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ میں نے ’’ڈاکٹر تصدق حسین حیات و خدمات‘‘ کے نام سے 2010 ء میں ایک کتاب مرتب کی تھی جس میں ملک کی اہم علمی و ادبی شخصیات اور ان کے دوست احباب کے تاثرات شامل کر دیئے گئے تھے اور اب گروپ کیپٹن (ر) شہزاد منیر احمد ’’حالِ فقیر‘‘ کے نام سے مزید چندنئے پہلو سامنے لے آئے ہیں جس کے لئے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ واضح ہو کہ میں نے یہ کتاب حضرت علامہ محمد یوسف جبریلؒ کے ایماء پر تحریر کی ہے۔ جو لمحہء موجود کے معروف شاعر، فلسفی اور دانش ور تھے۔

    فقیر
    محمد عارف (ٹیکسلا)
    ایم اے (پنجاب) ایم فل ،
    وائس پرنسپل، حسنین شریف شہید ماڈل کالج ترنول، فیڈرل ایریا،اسلام آباد

    یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
    http://www.oqasa.org
    Back to Conversion Tool

    Urdu Home

Leave a Reply