پیش لفظ نادِوقت

055

ghulamsarwar


برادر عزیز ڈاکٹر تصدق حسین راجہ کا میں تہہ دل سے ممنون ہوں۔ کہ ان کی وساطت سے ایک مرد خود آگاہ اور درویش خدامست سے اکتساب فیض کی سعادت نصیب ہوئی۔ میرا اشارہ جناب عنایت اللہ صاحب کی جانب ہے، جنہوں نے ایک طویل عرصہ تک عہد حاضر کے عظیم مفکرحضرت واصف علی واصف  کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کرکے علم و عرفان کی کئی منازل انتہائی خوش اسلوبی سے طے کر رکھی ہیں۔
یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا!
ان سے فیض یاب ہونے کی جہاں مجھے بے پایاں خوشی ہوئی۔ وہاں اس بات کا مجھے افسوس بھی ہوا کہ موصوف سے میں اس سے پہلے کیوں متعارف نہ ہو سکا۔ پھر مجھ پر کچھ اس طرح کی کیفیت طاری ہوئی۔ کہ مجھے بے اختیار شاعر کی آواز میں آواز ملا کر کہنا پڑا:۔
نالہ از بہر رہائی نہ کند مرغ اسیر
خورد افسوس زمانے کہ گرفتار نہ بود
عنایت اللہ صاحب کی چار تصانیف ’آئینہ وقت ‘ ’ صدائے وقت‘ ’ ندائے وقت‘ اور ’آواز وقت‘ اس سے قبل طباعت کے مراحل طے کر چکی ہیں۔’’ نادِ وقت‘‘ ان دنوں طباعت و اشاعت کے مراحل طے کر رہی ہے۔ امید ہے، بہت جلد یہ کتاب بھی قارئین کے ہاتھوں میں ہو گی۔
کتاب ھذا پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ ان ابواب میں امت مسلمہ کو درپیش مسائل کا تجزیہ بڑے دردمندانہ انداز میں کیاگیا ہے۔ اس کتاب کی امتیازی پہچان یہ ہے۔ کہ بیک وقت ذہن کے دریچوں کو وا کرتی ہے۔ اور ساتھ ہی قلب کو گرماتی بھی ہے۔ مصنف نے بڑے موثر انداز میں اس حقیقت کا ا ظہار کیا ہے، کہ پاکستان اسلامی ضابطہ حیات اور اسلامی مملکت قائم کرنے کے لئے حاصل کیا گیاتھا۔ مقصد یہ تھا ۔ کہ یہ ملک مسلم امہ بلکہ پوری انسانیت کوالہامی اور روحانی تعلیمات سے روشناس کر ا سکے۔ لیکن وائے حسرت ایسا نہ ہو سکا۔ اور پاکستانی قوم کو سیاستدانوں اور حکمرانوں نے جمہوریت کی بے دینی کی خرافات میں گم کر دیا ۔ حصول پاکستان کے اصل مقصد کو انہوں نے پس پشت ڈال دیا۔ اور طالع آزماؤں اور ابن الوقتوں نے اس کے ملی تشخص کو اس طرح پاؤں تلے روند ڈالا ۔کہ اس پر بسمل کی کیفیت طاری ہوگئی۔ مصنف درست فرماتے ہیںکہ وطن عزیز اسلامی نظریات کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا۔ مگر اس وقت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ اسلام کے منافی جمہوریت کے باطل اور غاصب نظریات پر مشتمل قوانین و ضوابط کے گھپ اندھیروںمیں گم ہوکر رہ گئی ہے۔ مصنف کا اسالیب ہے کہ امت مسلمہ کی منزل کا تعین صرف دین حق کے شورائی نظام میں مضمر ہے۔ اور جب تک مسلمان ممالک کی قیادت اللہ کے احکام اور اس کے دستور مقدس کا نظام اور ضابطہ حیات کو نافذ کرنے والے کسی قائد کے ہاتھ نہیں آتی ۔ اتنی دیر تک مسلمان قوم اندھیروں میں ٹھوکریں کھاتی رہے گی۔ اور اسے منزل کا سراغ نہیں مل سکے گا۔
مصنف اس بات پر سخت دلفگار ہے۔ کہ گم گشتہ راۂ بندگان خدا نے انبیاء کرام کے الہامی،نورانی اور دینی ضابطۂ حیات کو پس پشت ڈال کر فرعون و یزید کے باطل نظام کی بالادستی کو قبول کر لیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج انسانیت طبقاتی کشمکش کی گرفت میں الجھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ مادیت کے حصول کی جنگ میں غرق ہوتی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی زبوں حالی تو مسلم ہے، ادھر عیسائت کے علمبرداروں نے بھی عیسائیت کے نورانی ضابطہ حیات اور نظریات کی بجائے جمہوریت کے باطل اور غاصب فرعونی ضابطہ حیات اور اس کے نظریات کو اور اس کی تعلیمات کو اپنے اپنے ممالک میں رائج کر رکھا ہے۔ ان منافق حکمرانوں نے اپنے پیغمبران کے نظریات اور ان کی تعلیمات کو ملکی سطح پر منسوخ کر دیا ہوا ہے۔ عیسائیت کو جمہوریت کے مذہب کی تعلیم و تربیت کے ذریعہ فرعونی مادہ پرستی اور قتل و غارت کے باطل نظریات میں کنورٹ کر لیا ہے۔ان سیاستدانوںنے کمال ہنرمندی سے اسلاف کی تاریخ کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔آج جمہوریت کے علمبرداروں نے دنیا میں ہر طرف جنگ کے شعلے بھڑکا رکھے ہیں۔ اوران شعلوں کے اثرات مختلف ممالک میں پھیلتے جا رہے ہیں۔ مصنف کے نزدیک اس سنگین صورت حال سے نمٹنے کی صورت یہ ہے کہ مذہبی پیشواؤں اور روحانیت کے علمبرداروں اور عیسائیت کے پیروکاروں کو جمہوریت کے عدل کش نظام حیات سے نجات حاصل کرنے کی تدابیر پر غور کرناہو گا۔ اور اللہ کی حاکمیت قائم کرنے اور مذہب کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے منظم مہم کا آغٓاز کرنا ہو گا۔ اب صرف باتوں سے بات نہیںبنے گی۔ پل کے نیچے سے پہلے ہی بہت پانی بہہ چکا ہے۔
مصنف کا ارشاد بجا ہے۔ کہ آج کم و بیش تمام ممالک پر کسی نہ کسی حوالے سے جمہوریت کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔مگر اس وقت گلوبل لائف ان ممالک کی مہلک اسلحہ سازی اور قتل و غارت کی گرفت میں ہے۔ جمہوریت کے تربیت یافتہ رہزن پسماندہ قوموں کو دبوچنے کا طریقہ و اردات کچھ یوں ہے۔ کہ یہ ترقی یافتہ ممالک شروع میں دوستی کا روپ دھار کر پسماندہ ممالک کی جانب اپنا دست شفقت بڑھاتے ہیں۔ ان ممالک کی بنیادی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔ اور انہیں مالی امداد بھی فراہم کرتے ہیں۔ پھر ان ممالک کی ضروریات کا تخمینہ لگا کر ان ممالک پر ڈالروں کی بارش برسانا بھی شروع کرتے ہیں۔ حاجت مند ممالک کہتے ہیں۔ کہ مسیحا نے ان کی مشکلات حل کر دی ہیں۔ ادھر مسیحا خوش ہے کہ شکار زیر دام آ گیا ہے۔
مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہے
صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی
مصنف کا ارشاد بجا ہے کہ آج انسانیت بالخصوص امت مسلمہ جمہوریت کے دین کش ایک بہت بڑے دردناک المیہ اور فتنہ سے دوچار ہے۔ دنیا میں اس وقت ۵۶ اسلامی ممالک موجود ہیں۔ لیکن ملوکیت نے ان کے بطن میں جا بجا پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ ایک جانب مسلمان حسینیت کی یاد کو مناتے ہیں۔مگر دوسری جانب وہ یزیدی نظام حکومت کی سرکاری طور پر پیروی کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان باطل قوتوں کو للکارنے کی اپنے تئیں ہمت نہیں پاتے۔ قول و فعل کے اس تضاد نے مسلمانوں کو ذلت اور رسوائی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کی نجات کی صورت صرف یہ ہے۔ کہ وہ اسلام کے عطا کردہ شورائی نظام کی روح کو سمجھنے کی کوشش کر یں۔ اور ان ابدی ہدایات کی روشنی میں پیش آمدہ حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ اس میں ان کی فلاح کا رازمضمر ہے۔
دست ہر نااہل سیاست کند
سوئے مادر آکہ تطارت کند
ہوا ہے گو تندو تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے۔
وہ مرد درویش جس کو حق نے دئے ہیں انداز خسروانہ
اقبال


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 53
    آج کے معروف دانشور بابا عنایت اللہ کی تازہ تصنیف’چراغ وقت‘ پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔میرے دل کی کلی کھلی۔اس بار موصوف کے دل کی گہرائیوںسے کہی ہوئی بات، قاری کے دل پر جا گرتی ہے اور پھر اپنا اثر دکھاتی ہے۔مو صوف نے اس دور کے معروف فقیر دوست…
  • 51
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 46
      انسانی ارتقاء تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ تبدیلی ماحول کی ہو، نظریات کی ہو یا خیالات کی، اس سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ بنیادی مشکل انسان کو ہر لحظہ درپیش رہتی ہے۔ وہ چاہے تبدیلی کاخیر مقدم کرے۔ یااسے کلی طور پر رد کر دے۔ ہر مقام پراسے…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply