پیش لفظ چراغِ وقت تحریر کرنل غلام سرور ستارہ امتیاز۔ملٹری

047

ghulamsarwar

آج کے معروف دانشور بابا عنایت اللہ کی تازہ تصنیف’چراغ وقت‘ پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔میرے دل کی کلی کھلی۔اس بار موصوف کے دل کی گہرائیوںسے کہی ہوئی بات، قاری کے دل پر جا گرتی ہے اور پھر اپنا اثر دکھاتی ہے۔مو صوف نے اس دور کے معروف فقیر دوست عظیم دانشور حضرت واصف علی واصف سے اکتسابِفیض کیا ہے۔ اور یہ ان کا فیضان نظر ہے کہ بابا عنائیت اللہ کا دل عشق حقیقی کی آگ سے ہر دم سلگتا رہتا ہے۔وہ آج کے پریشان حال انسان کے مسائل کو اسلام کی ابدی ہدایت کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ انکی ہر بات پر ایک نکتہ،ہر نکتہ میں ایک تجربہ اور ہر تحریر میں وارداتِ قلب کی جلوہ فرمائی نظر آتی ہے۔اور ایک شگفتہ متانت انکی تحریروں میں تیرتی نظر آتی ہے۔
بابا عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ دینی حکومت کا منتہا و مقصود اللہ تعالیٰ کی اس سر زمین پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا قائم کرنا ہوتا ہے۔اور یہ حاکمیت اللہ کے بندوں پراللہ کی حاکمیت اور اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے ضابطہ حیات کو ملک میں نافذالعمل کر کے قائم کی جا سکتی ہے۔
باباعنایت اللہ کو اس بات پر دکھ ہے کہ دین کے منکروں اور منافقوںنے امت کے گلے میں جمہوریت اور بادشاہت کا پھندا ڈال کر اس کا دینی تشخص ان سے چھین لیا ہے ۔ اس پر متزا د ! جمہوری اور بادشاہی طرز حکومت کی سرکاری سر پرستی نے مسلم امہ کو دین کی روشنی سے محروم اور بے دینی کے ظلمات کے سمندر میں دھکیل دیا ہے۔
فاضل مصنف کے بقول! ’جمہوریت‘مادہ پرستوں اور اقتدار پرستوں کے نظریات اور کردار کا ایک بھیانک ضابطہ حیات اور نظریات پر مشتمل سیاسی دانشوروں کا مذہب ہے۔ عنایت اللہ صاحب آج کی پریشان حال صورت حال کا تجزیہ جب اسلام کی روشنی میں کرتے ہیں۔تو انہیں اس کا اصل اور بنیادی سبب صرف ایک ہی نظر آتا ہے۔اور وہ یہ کہ انسان نے مقتدر اعلیٰ کی ہستی کو نہیں پہچانا اور رب السمٰوا ت والارض کو اپنا حقیقی مقتدر اعلیٰ تسلیم کرنے کی بجائے اپنے ہی جیسے کسی ایک فرد یا چند افراد کو اقتدار اعلیٰ کے بلند ترین منصب پر فائض کر کے انسانوں کے درمیان حاکم و محکوم کے دو طبقے پیدا کر دئیے۔اس نے بادشاہ کے اقتدارِ اعلیٰ کا مزہ چکھا۔۔۔تو یہ اقتدار اعلیٰ پارلیمنٹ کو منتقل کر دیا۔پارلیمنٹ نے اپنے جوہر دکھائے تو اس نے دستور کی حدود و قیود میں جکڑ کر اسے قابو میں کرنے کی کوشش کی،مگر پارلیمنٹ اور انتظامیہ نے باہم گٹھ جوڑ کر کے اس دستور کے پرخچے اڑا دئیے۔راہ کا یہ پتھر جب ہٹ گیا یا سرک گیاتو انتظامیہ نے موقع پا کر مقننہ اور عدلیہ کو زیر کر کے اقتدارِ اعلیٰ پر خود قبضہ کر لیا۔غرض یہ اقتدار اعلیٰ ادھر سے ادھر منتقل ہوتا رہا۔مگر حاکم و محکوم کابنیادی رشتہ اپنی جگہ پر قائم رہا۔
اس تناظر میں جناب بابا عنا یت اللہ صاحب اپنی سوچ کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ اسلام کے نزدیک واحد راہ نجات یہی ہے کہ انسان ہیر پھیر کے سارے راستے چھوڑکر سیدھی طرح خالق کائنات کو اپنا مقتدرِ اعلیٰ تسلیم کرے ۔اور انسان پر انسان کی حاکمیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حقوق کا احترام کرے،اور بشمول سیاست زندگی کے تمام معاملات میں اسکے احکام کی پابندی کرے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج انسانی فکرِنظر کی نارسائی اور عقلی دستور کے درماندگی کے اصل اسباب کیا ہیں۔۔اس ضمن میں یہ بات واضح ہے کہ اس سارے بگاڑ کا اصل سبب صرف ایک ہے۔اور وہ یہ کہ ہم نے مقتدر اعلیٰ کی ہستی کو فراموش کر دیا ہے۔اور خود ساختہ خداؤں کو اپنی اطاعت و فرمانبرداری کا مرکز بنا لیا ہے۔یہی جھوٹے خدا آج ہماری گرد ن دبوچ رہے ہیںاورہمارے حقوق پامال کر رہے ہیں۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو پورا قرآن اسی صراط مستقیم کی نشاندہی کے لئے نازل ہوا
ہے۔زبور شریف،توریت شریف ،انجیل شریف اسی شاہراہِ حیات کو اجاگر کرنے کیلئے نازل ہوئیں۔ حضرت آدم سے لیکر سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ  تک تمام انبیا کرام بھی صرف یہی ایک پیغام لے کر آتے رہے کہ خدا کے بندو! بندوں کو اپنا خدامت بنانا۔۔۔تم صرف ایک ہی مقتدر اعلیٰ کے لا محدود،دائمی، ہمہ گیر اور کائنات کے ایک ایک ذرے پر محیط اقتدار کے تحت زندگی بسر کر رہے ہو۔اسکے سوا تمہارا کوئی رب،کوئی مطلق ا لعنان حاکم،کوئی مالک،کوئی رازق نہیں ۔قرآن میں ایک ایک نبی پاک کے حالات اس بات کے گواہ ہیں کہ ان سب پیغمبرانِ کرام کا مشن ایک ہی تھا۔اپنے اپنے عہد کے شداد ،فرعون اور نمرود کاخاتمہ اور اللہ کے بندوں کو ان کی غلامی سے نجات دلا کر حکم الہیہ سے ان کا رشتۂ بندگی جوڑنا مقصود تھا۔
جنا ب بابا عنایت اللہ صاحب نے اپنی تصنیف میں اقتدار اعلیٰ سے کئے گئے عہد کی پابندی اور اس سے رو گردانی کے نتیجے میں انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ہماری دعا ہے۔اللہ تعالیٰ انکے لئے اور ہم سب کیلئے آسانیاں پیدا کرے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی ہمیں توفیق بخشے آمین۔

غلام سرور


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 53
    برادر عزیز ڈاکٹر تصدق حسین راجہ کا میں تہہ دل سے ممنون ہوں۔ کہ ان کی وساطت سے ایک مرد خود آگاہ اور درویش خدامست سے اکتساب فیض کی سعادت نصیب ہوئی۔ میرا اشارہ جناب عنایت اللہ صاحب کی جانب ہے، جنہوں نے ایک طویل عرصہ تک عہد حاضر کے…
  • 48
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 42
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply