علامہ یوسف جبریل کی شاعری

017
nadeemniazi
”نعرہ جبریل“ علامہ یوسف جبریل کا شعر ی مجموعہ ہے۔ ان کی شاعری میں الہامی کیفیت پائی جاتی ہےجس سےمستقبل کی نشان دہی اس انداز سےہوتی ہےکہ ان کی فکری پرواز کو پیشین گوئی کہنا بےجا نہ ہوگا۔ علامہ یوسف جبریل اگرچہ عمر کےاعتبار سےناتوانی کی منزل پر پہنچ چکےہیں مگر ان کےولولےاورجذبےجواں بیدار متحرک اور خوش آئند ہیں۔ ان کےسینےمیں صرف تڑپ کی چنگاری ہی نہیں بلکہ ایک الاو روشن ہےجسےالفاظ کےجوالا مکھی کاروپ دےکر” نعرہ جبریل“ کی صورت میں عوام کی روحوں میں حرارت اور قوت پیدا کرنا چاہتےہیں۔ ان کےپختہ عزائم اور بلند حوصلےان کی جواں ہمتی کا بین ثبوت ہیں۔علامہ یوسف جبریل نکتہ رس و نکتہ سنج ہی نہیں دوررس اور دوربیں بھی ہیں۔ وہ مستقبل قریب میں ظلمات کےجالوں کو بدلنےکےدرپئےہیں اور ایک بیدار مغز ناصح کی طرح پوری مسلم قوم کو آنےوالےہیبت ناک وقت کی خبر دیتےہیں۔ ان کےمناط و مقاصد حالی اور قبال کیپیروی ہی۔ ان کا انداز فکر حضرت علامہ اقبال کا سا ہی۔ یہ کہنےمیں مضحکہ نہیں کہ ان کا آہنگ علامہ اقبال کی صدائےبازگشت ہی۔ ان کی شاعری عصر حاضر کی عکاسی اور غمازی کا اپنا جواب آپ ہی۔ ان کی پرتاثیر روش بیباکی کی اعلی دلیل ہی۔ مقصدیت سےبھرپور شاعر ی اس دور کاتقاضا ہےمگر اکثر شعراکرام اس تقاضےکو پورا نہیں کر پاتی۔ علامہ یوسف جبریل کی انفرادیت اس بات کی ضمانت ہےکہ وہ اس تقاضےکی تاسیس پر اپنی شاعری کی فلک بوس عمارت کی تعمیر میں مگن ہیں ۔یہ ان کی شدت لگن کا صحیح جواز اور حسین پہلو ہی۔ان کےہاں حال کی منظر کشی بھی عمدہ انداز سےکی گئی ہی۔ ان کی شاعری بلبل کےسریلےنغمےاور گیت کی ترنم ریزیوں پر مبنی نہیں ہےبلکہ اس سےشاہین کی جگر دوذ ضیفروں کی صدا بلند ہوتی ہی۔ جہاں انہوں نےمقصدیت اور نفس مضمون کو اولیت کا درجہ دیا ہےوہاں شعری محاسن اور مناقب کی بھی کمی نہیں پائی جاتی۔ ان کی شاعری چونکہ اساسی نظریات کی حامل ہےاس لئےیہ زندہ و تابندہ رہےگی اور اس کےلئےبھی کہ ترکیب وبندش کی خوبصورتی کےباوصف خصوصی و موزوں اور عیق معانی قطار در قطار نظر آتےہیں۔ علامہ یوسف جبریل مادہ پرستی کےاس دور سےجذبہءنفریں رکھتےہیں اور روحانی اقدار کےخاتمہ پر ان کا جی کڑھتا ہے۔ ان کو پوری قوم روح کی بالیدگی سےغافل نظر آتی ہی۔ اس لئےانہیں عمل کےپاسبان ننگ خرافاتی لگتےہیں۔ علامہ صاحب کی جملہ شاعری انتہائی نصیحت آموز ہےاور تڑپ و کسک کےسامان مہیا کرتی ہی۔ خصوصی بات جو قابل ذکر ہےکہ وہ گھٹا ٹوپ اندھیروں ارور شب و دیجور کی ظلمت افروز کیفیت سےنا امیدی اور یاسیت کا شکار نہیں ہوتےبلکہ روشن مستقبل کےاجالوں کا یقین دلاتےہیں۔ انہیں یہ روشنی صرف اسلام کےپرچم سےپھوٹتی نظر آتی ہی۔ وہ اسلام کےمتقابل ہر نظریہ کو باطل قرار دیتےہیں۔ ان کی بیدار مغزی اس بات کی دلالت کرتی ہےکہ ان کےاندر کا انسان سچا مسلمان اور محب قوم ہےاس لئےان کی دل کی آواز جو لفظوں کاروپ دھار لیتی ہےدیرپا اثر رکھتی ہی۔ ان کی اس جگر کاری اور جان سوزی کا احترام لازمی ہےجو لائق توصیف وستائش ہی۔ان کےہاںذخیرہ الفاط نئی تراکیب اور چست بندشوں کی بھرمار ہےجہاں ان کےسچےزندہ و بیدار جذبوں کا احترام ہی۔ وہاں ان کی شاعری کی عظمت کا بھی اعتراف ہی۔بلاشبہ دور حاضر کی نبض شناسی کےلئےعلامہ یوسف جبریل صاحب پوری قدرت رکھتےہیں اور اس طرح وہ حقیقت افروز
معاملات کےبارےمیں پوری آگاہی رکھتےہیںلہذا ان کی شاعری کا مطالعہ انفرادی اوراجتماعی مسائل کو سلجھانےکےلئےمشعل راہ ثابت ہو گا۔ ان کےظاہرو باطن میں اختلاف نہیں ہےوہ صرف گفتار کےغازی نہیں بلکہ کردار وعمل پرپورا اترتےہیں اور یہ وصف و خوبی اکثریت کےاعتبار سےآج کےلکھاریوں میں عنقا ہی۔مگر علامہ صاحب اس سےپوری طرح متصف ہیں ۔وہ ہر نوع کےسود و ضیاع سےواقف ہیں۔ ان کی نگاہیںپاتال تا افق تک مشاہدہ کی قوت بصیرت رکھتی ہیں۔ اس لئےزندگی کےنشیب و فراز ان کےاحاطہ فکر سےباہر نہیں ۔وہ دردمند دل رکھتےہیں اس لئےملی اورا نسانی جذبےکےباوصف اپنےمفکرانہ اور دردمندانہ خیالات و مقاصد سےقوم کی اصلاح کرنا مناط حیات بنا چکےہیں لہذا یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ آپ دردمند قومی مفکر ہیں۔ اگرچہ ان کی شاعری میں قدیم رنگ نمایاں ہےمگر شعری فکر و احساس ملک و ملت کےدرد سےرنگین ہی۔ زبان پر قدرت ان کی فنی صلاحیتوں کا شیوہ ہےتو بیان کی ندرت بھی بدرجہ اتم موجود ہی۔ ان کی شاعری پر سنجیدگی سےپرکھ و پہچان اور نقد و نظر کی ضرورت شدت سےمحسوس ہوتی ہی۔ ان کےکلام کا کرشمہ ہےکہ قلوب و اذہان میں سرایت کر جاتا ہےاور قارعین داد دیئےبغیر نہیں رہ سکتے۔ان کی شاعری کا بنیادی تنازعہ ملک و ملت کی اصلاح اور معاشرےکی شیرازہ بندی ہی۔ وہ قبیلوں میں بٹی ہوئی قوم کو ان کی بےاتفاقی اور خود سری کےخطرناک انجام سےباخبر رکھنا چاہتےہیں اور اس امر کا احساس دلاتےہیں کہ حضور اکرم کےآخری خطبہءمبارک کو مسلمانان عالم کیوں فراموش اور نظر انداز کر بیٹھےہیں۔ جس سےمسلمانوں کی یگانگت اور یک جہتی اخوت و بھائی چارےکا درس اور حکم ملتا ہےاور اس حقیقت سےپہلوتہی اور مفر دور حاضر کی ابتری اور قومی کسمپرسی کی شاہد ہی۔
علامہ صاحب کی شاعری ایک محور کےگرد گھومتی ہی۔ ان کا مرکزی خیال قوم کی اصلاح ہی۔ حضرت علامہ اقبال کےبعد چند شعراءنےعلامہ اقبال کی ڈگر کواختیار کرتےہوئےاتباع کیا۔ مگر علامہ یوسف جبریل ان کی پوری تقلید کرتےہیں۔ اس طرح وہ مبلغ اور مصلح کی صورت اپنی شاعری میں جلوہ گر ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ندیم نیازی عیسی خیلوی
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 46
    الفقر فخری ، شہنشاہ ولایت، حضرت پیر سیدعبدالقادرجیلانی کی سرزمین عراق کے نزدیک عراق کےقرب و جوار میں ” مصیب“ کی مقدس فضاوں میں سانس لینےوالےنوجوان محمد یوسف کےوہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ مجھےایک دن دنیا بھر کےسامنےایٹمی ہتھیاروں کےخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر…
  • 43
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…
  • 42
    ”نعرہ جبریل “جیسا کہ نام سےظاہر ہےایک لرزہ انداز نعرہ ہی۔ ایک للکار ہےسوزو گدازمیں ڈوبی ہوئی منظوم و موزوں بادل کی گرج بجلی کی کڑک شاعری برائےشاعری نہیں ایک نصیحت ہی۔ ایک پیغام ہےتنبیہی انداز میں صورِ اسرافیل کی پکار ہی۔ کلام ہےجو دل میں اُ تر کر ضمیر…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “علامہ یوسف جبریل کی شاعری

Leave a Reply