صدائے وقت پروفیسرتحریر شوکت محمود کنڈان

045

shaukatkandanکتاب لکھنا ، کتاب پڑھنا اور پھر کتاب پر تبصرہ کرنا ایک انتہائی مشکل اور کٹھن کام ہے ۔ کتاب کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک صاحبِ کتاب کی شخصیت اور اس کے افکار سے شناسائی نہ ہو ۔
آئیے ! پہلے صاحب کتاب کی شخصیت سے تعار ف ہو جائے۔ چوہدری عنایت اللہ ایک منکسرالمزاج اور مرنجان مرنج درویش منش صوفی حلیم الطبع انسان ہیں۔ آپ نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی۔ وہ خا موش سمندر کیطرح ہمیشہ خاموش رہے ۔ دراصل اس میں عنایت اللہ کا کمال کم ہے کیونکہ ان کی تربیت ہی ایسے فقیر دوست لوگوں کے ہاتھوں ہوئی ۔ جو اپنے دور کے دیدہ و بینا لوگ تھے۔ لہٰذا یہ بڑی سیدھی سی بات ہے کہ صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے اور جب سوکھی لکڑی ہو تو آگ بہت جلد پکڑ تی ہے ۔ میرا آپ کے ساتھ تعارف برادر بزرگ قبلہ واصف علی واصف کی وساطت سے ہوا ۔ یہ فیض قبلہ واصف علی واصف  کا ہے ۔ جو ہمیں درویش منش صوفی عنایت اللہ کی شکل میں دکھائی دے رہا ہے ۔ میں نے صوفی کے لفظ کو جان بوجھ کر استعمال کیا۔ ممکن ہے یہ عنایت اللہ صاحب کو پسند نہ آئے ۔کیونکہ آپ کی طبیعت میں خوشامد نہیں ہے ۔ آپ کی زبان میں سچائی کی کاٹ ایسی ہے۔ جیسی دو دھاری تلوار ۔ آپ سچائی کو اخفا کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ آپ واصف علی واصف کے ساتھ اس زمانے سے ہیں ۔ جب واصف علی واصف صرف ملک واصف تھے ۔ اور ایک استاد تھے انگریزی ادب کے ۔ اس سارے سفر کی کہانی کے اگر کوئی چشم دید گواہ ہیں تو وہ راقم الحروف یا جناب عنائت اللہ صاحب ہیں۔ جو ہر وقت سایہ کی طرح ان سے منسلک رہتے ۔ آپ قبلہ واصف علی واصف کے ساتھ ان تمام منزلوں میں دن رات عازم سفر رہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں طے کیں ۔ آپ نے قال سے حال تک اور پھر صاحب حال تک تمام منازل دیکھیں ۔ شب و روز ان بزرگ ہستیوں کی بھی زیارت سے بہرہ مند ہوئے ۔ جن سے قبلہ واصف علی واصف صاحب ملے ۔قبلہ عنائت اللہ صاحب کا یہ اعزاز ہے کہ انہوں نے ان ہستیوں کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کئے ۔ یہی وجہ ہے کہ عنائت اللہ صاحب کی بات میں وہ کاٹ، وہ درد، وہ کرب، وہ لذت ، وہ فکر اور وہ بے چینی موجود ہے ۔ انہوں نے ان ہستیوں کے فیض کا دامن نہیں چھوڑا۔ خواہ وہ ۱۹۶۵ء کی جنگی راتیں ہوں یا ۱۹۷۰ء کی گولا برساتی اور آگ اگلتی ہوئی توپوں کے منہ میں جانے کی بات ہو۔چوہدری عنائت اللہ نے کبھی نہ نہیں کی ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے مزاج میں ایک عاجزی، انکساری ، ادب ، خدمت اور فرمانبرداری کا بے پناہ عنصر موجود ہے ۔ کیونکہ انہوں نے نہ کرنا سیکھا ہی نہیں۔ اور یہ بات ہے بھی سچ کہ محبت میں نہ ہے ہی نہیں ۔ یہ تسلیم کا راستہ ہے اور تسلیم ادب سکھاتا ہے ۔ بقول شاعر :
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
بات لمبی ہوتی جا رہی ہے ۔ یہ سفر کم و بیش ۴۰ سال پر محیط ہے اور ہمار ی رفاقت کا یہ سارا زمانہ تربیت کا ہی دور ہے ۔اس رفاقت کی داستان کے لئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے ۔ یہ تعارف اس لئے ضروری تھا کہ صدائے وقت کی اصل صدا اپنے قاری تک پہنچ سکے اور جس پس منظر میں یہ تخلیق وارد ہوئی ہے اس کا قاری احاطہ کر سکے۔ صدائے وقت دراصل وقت کی صدا ہے جو آئینہ وقت میں انسان دیکھ بھی سکتا ہے اور سن بھی سکتا ہے۔ صدائے وقت آج کے دور کا نوحہ بھی ہے اور نشان منزل بھی ۔آج ہم جس منزل کی طرف گامزن ہیں وہ منزل ہماری منزل ہے ہی نہیں۔ چنانچہ وہ بر وقت آواز لگاتے ہیں اور ہمیں اپنی سمت بدلنے کے لئے صدائے وقت کا تازیانہ استعمال کرتے ہیں تاکہ منزل ہم سے جدا نہ ہو جائے سمت کا تعین منزل کی شرط اولین ہے ۔
انہوں نے صدائے وقت کو سات ابواب میں تقسیم کیا اور ہر باب ایک مکمل کتاب ہے۔ جمہوریت کا مکروہ چہرہ آ پ نے دکھایا۔ جب آپ اس جمہوریت کے خوبصورت چہرہ سے خود غرضی کا غازہ اتارتے ہیں تو نیچے سے جمہوریت کی اصل شکل نکل آتی ہے جو انتہائی مکروہ، پر فریب اور انسانیت سوز ہے ۔ آپ نے مغربی جمہوریت کو یک قلم رد کر دیا اور اس کے اصل کردار کا ذکر بڑی دلیری، جرا ت اور خوبصورتی سے کیا ہے ۔ اس جمہوریت کی آڑ میں ان لوگوں نے ملی تشخص کو غیر اسلامی نظام میں ڈھال کر مسخ کر رکھا ہے۔یہ نشتر ایک مردِ حق ہی چلا سکتا ہے۔ جناب عنایت اللہ صاحب نے جمہوریت کو ایک دولہن سے تشبیہ دی ہے اور یہ صرف وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، اور آمروں کے محلوں میں اترتی ہے اور ان کے ایوانوں کو اپنے حسن کی روشنی سے چکا چوند کرتی ہے اور اس چمک میں غریبوں کی کٹیا کو ، اور ان کہاروں ( یعنی عوام ) کو بھی بھول جاتے ہیں جن کے کندھوں پر سوار ہو کر یہ دلہن ان کے ایوانوں میں اتری ۔عنایت اللہ صاحب کا یہ اعجاز ہے کہ وہ نہ صرف مرض کی تشخیص کرتے ہیں بلکہ اس کا علاج بھی تجویز کرتے ہیں ۔ عوام اور بالعموم طالب علموں کو آگاہ کرتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کا آلہ کار نہ بنیں۔انہوںنے اپنے تجربے اور گیان سے ان عوامل کی نشان دہی کی ہے ۔خاص طور پر طبقاتی تعلیمی نظام، جس کی وجہ سے ملت طبقوں میں تقسیم کر دی گئی۔ دینی اقدار کو پامال اور اسلا می کردار کو مسخ کر دیا۔ ملی، ملکی و سائل،اقتدار اور خزانہ چند غا صب ہاتھوں میں مقید ہو گیا۔ میرٹ میرٹ کہنے والے کس طرح میرٹ کی دھجیاں بکھیرکرکسان،مزدور،ہنر مند کی۹۹ فیصد عوام سے ان کے حق چھین چکے ہیں۔میرٹ صرف استحصالی طبقے کا کھیل بن چکا ہے۔ ا نصاف کا چشمہ ملک میں خشک ہو چکا ہے۔ لیکن ان کے ہاں جس چیز کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ وہ ایک عزم اور منزل کی نشان دہی ہے۔وہ سوئے حرم کے مسافر ہیںاور لا خوف ہیں۔
دوسرے باب میں عنایت اللہ صاحب نے کسانوں کے کردار پر روشنی ڈالی ہے اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی نشان دہی بھی کی ہے ۔ تمام ملکی وسائل یہ طبقہ پیدا کر رہا ہے ۔وہ ۱۴ کروڑ عوام کو ہر قسم کی خوراک،سبزیاں،دودھ ، پھل اور ہر قسم کے میوہ جات مہیا کرتا چلا آرہا ہے۔ اس کو مل کیا رہا ہے۔ وہ غلہ اگاتا ہے اور اپنا شکم نہیں بھر سکتا ۔ اس کی کپاس ہی اس کے تن ڈھانپنے کے لئے میسر نہیں۔اس کی محنت نے جاگیرداروں، سرمائے داروں کے ایوان روشن کئے ہیں۔ ان کے ایئر کنڈیشنڈ وہ چلا رہا ہے ۔ لیکن ان کو بجلی میسر نہیں۔وہ تعلیمی اداروں،ہسپتالوں،سڑکوں،بجلی اور تمام بنیادی ضرورتوںسے محروم۔ان کو انہوں نے شودربنا رکھا ہے۔عنائت اللہ صاحب ایک مجاہد کی طرح ظالم حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک اگر یہ حکومت کی مشینری ٹھیک ہو تی تو آج ملک کی وہ حالت نہ ہوتی جس مقام پر وہ پہنچ چکا ہے ۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ان ظالموں اور غاصبوں سے ملک کو آزاد اور اس مروجہ نظام اور سسٹم سے نجات حاصل کر لی جائے تا کہ ملک صحیح منزل کی جانب گامزن ہو جائے اور دین کی روشنی میں ایسا سسٹم رائج ہو جائے جو وطن کے ماتھے پر جھومر بن سکے۔عنایت اللہ صاحب کی کتاب ایک ایسی صدا ہے جو سوئے ہوئے لوگوں کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لئے صور کا کام دے گی۔ اس ملک کا المیہ ہے کہ حاکم جو بھی آیا‘ وہ خود غرضی اور ذاتی خواہشات کی بھیانک عدل کش نیت کے ساتھ آیا۔انکے زیر سایہ افسر شاہی اور منصف شاہی،رشوت،کمیشن،کرپشن اور بریف کیس مافیا میں ڈھل گئی۔ عدلیہ نے عدل کے علاوہ باقی سارا کام کیا۔ استاد نے طبقاتی تعلیم پڑھانے پر اعتراض نہیں کیا۔ طالب علموں نے علم کے علاوہ کسی اور منزل کو نشان منزل بنایا۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں،طالب علم کسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کا کردار بھی اتنا ہی مضبوط ہونا چاہئے۔ لیکن عنائت اللہ صاحب نے صدائے وقت میں طا لب علموں کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور ان کو اپنا ماضی بھی یاد دلایا اور حال کا آئینہ بھی دکھایا انہوں نے بڑے کرب اور دکھ کے ساتھ طالب علموں کو مخاطب کیا ۔ اور ان سے ان کا اصل کردار ادا کرنے کی نہ صرف استدعا کی بلکہ منزل کا تقاضا بھی سمجھایا۔ عنایت اللہ صاحب نے طالب علم کو پورے ملک میں ایک نصا ب کے تعین کا فکر دیا۔ اخلاص کے ساتھ علم کا حصول کرنے اور آئندہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی درخواست بھی کی ۔ عنایت اللہ صاحب کوئی ادیب نہیں اور نہ ہی انہوں نے کوئی ادبی مقام کا دعویٰ کیا ۔لیکن جب انسان کسی کی نگاہ انتخاب میں آ جائے اور وہ اس انتخاب کا حق دار بھی ہو تو پھر صدائے وقت کا وجود میں آنا ناگزیرہو جاتا ہے ۔کیونکہ ایسے انسان کو ایک خاص مقصد دے کر انتخاب میں لایا جاتا ہے اور پھر اس کو اتنا ہی ظرف بھی عطا کر دیا جاتا ہے کیونکہ عطا کرنے والی ہستی کے لئے عطاء رحمت بھی ہے اور سایۂ رحمت بھی۔
اللہ تعالیٰ عنائیت اللہ کی اس کاوش کو قبولیت کا شرف بخشے اور ان کی تحریریں وہ کام کر جائیں جو بڑے بڑے فلاسفر ، ادیب،رہنما اور مصلح بھی نہ کر سکے۔ کیونکہ اکتساب اور انتخاب میںبہت فرق ہے۔ اکتساب والا انسان ادیب تو ہو سکتا ہے ۔ لیکن ا نتخاب والی شخصیت عنایت اللہ کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتی ۔ ان کی اس بات سے قطعا کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کے چہرے کو مسخ کرنے والے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچا یا جائے اور ان مجاہدوں اور اللہ والے لوگوں کو آگے لایا جائے تاکہ وہ ملک کی زمام کو سنبھالیں اور یہ ملک جو اللہ اور اس کے رسول  کے نام پر حاصل کیا گیا اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوسکے۔ ملک و ملت کا کھویا ہوا مقام اقوام عالم میںنہ صرف بحال ہو۔بلکہ پوری انسانیت کے کھوئے ہوئے حقوق محبت ،ادب ،خلوص اور عدل و انصاف کو بھی ادا کر سکیں۔ ان کی اس کتاب میں خوبصورت استعارے بھی موجود ہیں ۔ اور کتاب تمثیلی حوالے سے قابل تعریف حد تک نمایاں نظر آتی ہے ۔انہوں نے بڑے خوبصورت انداز میں وہ بات کہہ دی ہے جو بڑے بڑے ادیب نہ کہہ سکے۔ اور ان کے سینے میں ایک سچے مسلمان اور پاکستانی کا دل دھڑک رہا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس نیک خواہش کو پایہ ء تکمیل تک پہنچائے اور ان کی یہ کاوش قبول کرے ۔آمین
پروفیسر شوکت محمود کنڈان
رشید کالونی ، صادق آباد روڈ
راولپنڈی
مورخہ ۲۳ جون ۲۰۰۰


Print Friendly

Download Attachments

  • pdf Sadaa i Waqat
    Sadaa i Waqat by Prof Shaukat Kandan
    File size: 247 KB Downloads: 40

Related Posts

  • 53
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…
  • 48
    محترم عنائیت اللہ صاحب کا ۔’’ آئینہ وقت‘‘ میرے سامنے ہے۔ میں نے جب اس کااحتساب دیکھا۔ تو میں یکدم چونگا۔ محترم عنائیت اللہ صاحب سے تعلق آج سے اکتالیس سال پہلے قائم ہوا۔ اور وہ تعلق آج تک قائم ہے۔ اس تعلق کی وجہ برادرم محترم قبلہ واصف علی…
  • 45
    اشفاق احمد داستان سرائے ۱۲۱ سی ماڈل ٹاؤن،لاہور۔ ہم عنائیت کو نہیں جانتے ۔ مگر وہ ہمیں اور ہمارے مسائل کو بڑ ی اچھی طرح سے جانتا ہے۔زیر نظر کتاب سے پہلے ’’ آئینہ وقت ‘‘، ’’صدائے وقت‘‘ ، ’’ندائے وقت ‘‘ ، ’’ آواز وقت ‘‘ ، چار کتابچے…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply