سوز جبریل

020
arifseemabi
خطہء فردوسِ بریں واہ کینٹ کی ادبی تاریخ پر نظر ڈالیں تو دنیائےعلم و ادب کےبےشمار ستارےجگمگ جگمگ کرتےنظر آتےہیں۔شعراءو ادباءنےمختلف ادبی تنظیموں کےذریعےمحفل شعر و سخن کو آراستہ و پیراستہ رکھا جن میں فانوسِ ادب ملک گیر شہرت کی حامل تنظیم رہی ہی۔ جس کےپلیٹ فارم سےڈاکٹر رشید امجد، پروفیسر جلیل عالی، سید سبط علی صبا، حسن ناصر، حلیم قریشی جیسےادیبوں نےاپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ”بزم نعت “ نےقیامِ پاکستان سےلےکر اب تک مسلسل نعتیہ مشاعروں کےانعقاد کےذریعےاردو نعت گوئی میں گراں قدر اضافہ کیا۔ انوار عثمانی ، جمال لکھنوی، کمال کاسگنجوی ، سید منظورالکونین ، محبت اللہ خان محبت، علامہ قابل گلاٹھوی کےنام اہمیت کےحامل ہیں۔ واہ کینٹ سےملحقہ مضافات نواب آباد کی بستی میں درویشِ خدا مست ، شاعر ِ شیریں نوا، مفکر عصر نو، ایٹمی سائنس دان اور حکیم الامت حضرت علامہ محمد یوسف جبریل نصف صدی سےزائد عرصہ اپنےعلمی کارناموں سےدنیائےرنگ و بو کو معطر کرتےرہی۔ آپ کی ایک اہم شناخت شاعر اور فلسفی کی ہے۔ادارہءافکار جبریل ان کی مختلف تصانیف کی اشاعت کا اہتمام کرتا رہتا ہی۔ جنوری ٧٠٠٢ ءمیں علامہ محمد یوسف جبریل کی شعری تصنیف ”سوز جبریل“ زیور طباعت سےآراستہ ہو کر منصہ شہود پر آئی جس کا انتساب اردو کےمعروف محقق، شاعر، شاکر کنڈان کےنام ہے۔ جو سرزمین سرگودھا میں تحقیق و تنقید کےشعبےمیں نمایاں خدمات انجام دےرہےہیں۔ سر ورق پر علامہ محمد یوسف جبریل کا یہ شعر درج ہے:۔
اب تو ڈھونڈھ اس میں کسی درد کا درماں جبریل
میری صدیوں کی کمائی کا ثمر حاضر ہی
دیباچہ ندیم نیازی عیسی خیلوی نےتحریر کیا ہے۔جس میں انہوں نےعلامہ محمد یوسف جبریل کی شاعری کےفنی محاسن پر سیرحاصل گفتگو کی ہی۔ ندیم نیازی عیسی خیلوی اپنےمضمون میں رقم طراز ہیں کہ ” علامہ صاحب مادہ پرستی کےاس دور سےجذبہءنفریں رکھتےہیں ۔ اور روحانی اقدر کےخاتمےپر ان کا جی کڑھتا ہی۔ ان کو پوری قوم روح کی بالیدگی سےغافل نظر آتی ہی۔اس لئےانہیں محامل کےپاسبان ننگ خرافاتی لگتےہیں۔ علامہ صاحب کی جملہ شاعری انتہائی نصیحت آموز ہےاور تڑپ و کسک کا سامان مہیا کرتی ہی۔ خصوصی بات جو قابل ذکر ہےکہ علامہ صاحب گھٹا ٹوپ اندھیروں اور شب دیجور کی ظلمت افروز کیفیت سےنا امیدی اور یاسیت کا شکار نہیں ہوتےبلکہ روشن مستقبل کےاجالوں کا خود بھی یقین رکھتےہیں اور پوری قوم کو بھی طلوع سحر کا یقین دلاتےہیں۔ انہیں یہ روشنی صرف اسلام کےپرچم سےپھوٹتی نظر آتی ہی“۔
محمد گل نازک اپنےمضمون سوز جبریل میں فرماتےہیں کہ ” میں اتنےبڑےشاعر اتنی بڑی شخصیت کےکلام کےبارےمیں کیا عرض کروں گا جن کےایک ایک حرف ایک ایک لفظ او ر ایک ایک مصرعےمیں حضرت علامہ اقبال کا پرتو نظر آتا ہی۔ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کےکلام میں جو اشعار مجھےبہت ہی اچھےلگےہیں رقم کر رہا ہوں:۔
قضا کےچاہنےوالوں کو ہےاس جہاں سےپیارا حق
ازل سےبندہءمومن کی ہستی کا سہارا حق
ابابکر و عمر فاروق و عثمان و علی حق ہیں
ہلاکو حق نہ قیصر حق سکندر حق نہ دارا حق
علامہ محمد یوسف جبریل کےصاحبزادےشوکت محمود اعوان اپنےوالد گرامی سےبےپناہ محبت کرتےہیں اور مسلسل محنت ، لگن اور تگ و دو کےذریعےان کےعلمی مشن کےفروغ کےسلسلےمیں سرگرم عمل رہتےہیں۔ ان کی مرتب کردہ شعری تصنیف ”سوز جبریل“ بھی اسی سلسلےکی ایک کڑی ہی۔جس میں علامہ محمد یوسف جبریل کی شاعرانہ صلاحیت کا بھرپور اظہار ملتا ہی۔
شوکت محمود اعوان” تحقیق الاعوان پاکستان “ کےجنرل سیکرٹری ہیں۔ ان کا مزاج محققانہ ہےاور وہ اعوان قبیلےکی تاریخ مرتب کرنےکےسلسلےمیں نمایاں مقام رکھتےہیں۔ انہوں نےعلوی اعوان قبیلہ، اعوان تاریخ کےآئینےمیں، اعوان گوتیں، تحقیق الانساب، نسب العلویہ، سیادت علویہ، تاریخ سیادت اعوان کی ترتیب و تدوین میں مخلصانہ کاوش کےذریعےگراں مایہ مواد کی تلاش میں اہم کردار ادا کیا۔ واضح ہو کہ وہ ایک مخلص اور بےلوث انسان ہیں ۔ انہوں نےصرف علم دوستی اور اخلاص بےپایاں کےجذبےسےسرشار ہو کر مختلف محقیقین کےعلمی کام کےسلسلےمیں ان سےبھرپور معاونت کی ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہےکہ آج تک ان کا نام ونشان بھی کسی تصنیف میں درج نہیں ہی۔کیونکہ وہ نام و نمود اور شہرت دوام کی آرزو نہیں رکھتے۔علامہ محمد یوسف جبریل کےفرزند اور جانشین ہونےکی حیثیت سےان کےسینےمیں بھی ملت اسلامیہ کا درد بےپایاں ہی۔ علم و آگہی، تحقیق و جستجو اور دانش و بینش نہ صرف انہیں وراثت میں ملی ہےبلکہ ان کا اوڑھنا بچھونا بھی ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی فکری کاوشوں اور ان کےعلمی کام کو ترتیب دینےمیں ان کی عمر عزیز کا اکثر حصہ صرف ہوا ہی۔ ابتداءسےلےکر اب تک علامہ محمد یوسف جبریل کی ساٹھ کتب کی نہ صرف خود کمپوزنگ کی ا نہیں ترتیب دیا بلکہ ان کی اشاعت کےسلسلےمیں بھی بےمثال خدمات انجام دی ہیں۔
شوکت محمود اعوان ایک روحانی سلسلہ سےوابستہ ہونےکی وجہ سےاسلامی تاریخ اور علم تصوف سےبھی گہرا لگاورکھتےہیں۔ لہذا قوی امید ہےکہ وہ بھی ایک دن علمی دنیا کےسامنےاپنےغیر معمولی تحقیقی مزاج کےسبب تاریخ صوفیائےعلویہ اعوان اور تذکرہ ءادباءو شعرائےاعوان پر اہم علمی کام لےکر ادبی دنیا کےسامنےآ جائیں گی۔ فکر جبریل کا فروغ ان کا مقصد حیات ہے۔ سوز جبریل کی اشاعت شوکت محمود اعوان کےادبی ذوق ،علم دوستی اور علامہ محمد یوسف جبریل کےافکار و نظریات سےوالہانہ لگاو کا بھرپور اظہار ہے۔ محدود وسائل اور ادبی مراکز سےدوری کےسبب سوزِ جبریل کا گٹ اپ دیدہ زیب نہ ہونےکےباوجود علامہ محمد یوسف جبریل کی قومی شاعری میں سےانتخاب قابل ذکر ہی۔
اردو کی قومی شاعری پر نظر ڈالیں تو ہمیں مولانا الطاف حسین حالی سب سےنمایاں مقام پر فائز نظر آتےہیں۔ جنہوں نےاردو میں قومی شاعری کےفروغ کےسلسلےمیں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں جن کےفکری تسلسل کو علامہ محمد اقبال نےپروان چڑھایا اور نقطہءعروج پر پہنچا دیا ۔ اکبر الہ آبادی کی طنزیہ شاعری بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اردو کےکم و بیش ہر شاعر نےاپنےارد گرد کےسیاسی اور سماجی حالات و واقعات کو اپنےفکر و فن کا مرکز و محور بنایا۔لہذا ہمیں بےشمار اشعار ایسےنظر آتےہیں کہ جن میں روح عصر بدرجہ اتم موجود ہے۔ مگر یہ ادبی رحجان مستقل موضوع نہیں رہا۔ علامہ محمد یوسف جبریل اردو کی قومی شاعری کےافق پر چمکنےوالےوہ آفتاب عالمتاب ہیں کہ جنہوں نےنصف صدی تک ملت اسلامیہ کےعروج و زوال کی داستان کو نہ صرف اپنےتحت الشعور کا جزو لازمہ بنایا بلکہ وہ مسلمانوں کو خواب غفلت سےبیدار کرنےکےلئےنعرہ مستانہ بھی بلند کرتےرہے۔ علامہ محمد یوسف جبریل ایک صوفیانہ مزاج کےحامل انسان تھے۔ ان کی زندگی کا مشن اسلام کی نشاة ثانیہ اور طاغوتی نظام کا خاتمہ تھا ۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےعمر بھر تحریر و تقریر کےذریعےاسی مشن کو آگےبڑھایا ۔علامہ محمد یوسف جبریل نےاپنےقرطاس و قلم کےذریعےشاعری جزو پیغمبری کا منصب نبھایا اور ملت اسلامیہ کو اپنےاندرونی و بیرونی دشمنوں سےخبردار کرنی، سائنسی تباہ کاریوں سےروکنےکےلئےسرگرم عمل رہی۔ لہذا ان کا یہ سوز دوروں کبھی تو ان سےسینکڑوں صفحات پر مشتمل نثری فن پارےاور کبھی ہزاروں کی تعداد میں اشعار پر مشتمل منظومات کی تخلیق کا باعث بنتا رہا۔ علامہ محمد یوسف جبریل بنیادی طور پر ایک ایٹمی سائنس دان ہیں۔ برٹرینڈ رسل کےبعد وہ دنیائےانسانیت کو ایٹم بم کی تباہی سےمتنبہ کرنے، تخفیف اسلحہ سازی اور نیوکلر ہتھیاروں کی روک تھام کےعظیم علمبردار تھی۔جس کےلئےانہوں نےقران حکیم کی سورة الھمزہ میں ایٹمی آگ کی تشریح نہ صرف سمجھی بلکہ عمر بھر دوسروں کو سمجھانےکی کوشش میںہمہ تن مصروف رہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےبیس جلدوں پر مشتمل حطمہ کی انگریزی میں تفسیر و تشریح بھی تحریر کی ۔ انگریزی زبان میں سینکڑوں مضامین تحریر کئے۔اور ان کےسینےمیں چھپا ہوا یہ طوفان شاعری میں بھی ابھر آیا۔ جو ان سےایک ہی نشست میں وہ شاہکار نظمیں تخلیق کروانےکا باعث بنا جو ابھی تک علمی دنیا کی نظروں سےاوجھل ہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی شاعری بھی مغربی فلسفی فرانسس بیکن کےمادی فلسفےکا انٹی تھیسز ہے۔ جس میں انہوں نےروحانی ارتقاءاور تزکیہ باطن کو اپنی شاعری کا مرکزی نقطہ بنا کر بنی نوع انسان کو مغربی تہذیب کی چکا چوند مادی ترقی ، الحاد و بےدینی ، فحاشی و عریانی اور فتنہءدجالیت سےمتنبہ کرنےکی مساعی جمیلہ کی تاکہ دنیا میں پائی جانےوالی اضطرابی کیفیت کا خاتمہ ہو سکے۔
علامہ محمد یوسف جبریل کی اکثر شاعری علامہ محمد اقبال کی بحور میں ہی۔ جس سےان کا علامہ محمد اقبال سےگہرا قلبی ربط و ضبط اور فکری ہم آہنگی ظاہر ہوتی ہی۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہےکہ وہ علامہ محمد اقبال کی تشبیات و استعارات فنی تلمیحات سےیکسر مختلف ہیں۔ اور ان کا مخصوص نظریہ ءشعر ہر جگہ پر اپنی قوی موجودگی کا احساس دلاتا ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی شاعری میں زبان و بیان کی شستگی و شائستگی موسیقیت ، روانی اور متنوع الجہات مضامین و موضوعات ہمیں ہر جگہ بکھرےہوئےنظر آتےہیں۔
موحد لےگئےتوحیدِ باری کی سعادت کو
نصیبِ دشمناں تھا کشتہء ناز بتاں ہونا
ہزاروں سال جاں میدان محشر میں تڑپتی ہی
بڑی مشکل ہےرمزِ لاالہ کا نکتہ داں ہونا
مرےجگر سےجو قرآںکی ہوک اٹھی ہی سنیں گےاہل بیاںلا الہ الا اللہ
الٹ رہی ہےجہاں سےبساط مسلم کی
کدھر ہےتیرا دھیاں لا الہ الا اللہ
علامہ محمد یوسف جبریل کی نظم” چلی جو مغرب کی وادیوں سےطلسم و سحر و دجل کی باو“ میں ان کا نظریہءفن پوری طرح سمو گیا ہی۔ محولہ بالا نظم کےمطالعےسےپتہ چلتا ہےکہ وہ ہمیں کیا سمجھانا چاہتےہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےزیر بحث نظم میں مسلمانوں کو جھنجھوڑتےہوئےانہیں مغربی ثقافت کی یلغار جہالت و گمراہی، ایٹمی تباہی اور الحاد و بےدینی سےخبردار کرنےکی کوشش کی ہی۔تاکہ ہم اپنی ملی اساس، نظریاتی وحدت، قومی بقاء اور بین الاقوامی امن ، کےمشن کےسلسلےمیں آگےبڑھنےکےلئےذہنی طور پر تیار ہو سکیں ۔وہ کشتیءاسلام کو گرداب بلا خیز سےبچانےکی کوشش میں مصروف ہیں تاکہ ہم قعر مذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنےسےبچ جائیں ۔ وہ اسلامی معاشی نظام کی صداقت پر مکمل یقین رکھتےہیں۔ لہذا رہنمایان ملت کی کوتاہ بینی پر بھی سخت تنقید کرتےہیں ۔ کہ وہ غربت و امارت کےخاتمےاور سرمایہ دارانہ نظام کی بیخ کنی کےلئےابھی تک ذہنی طور پر تیار نہیں ہو سکی۔
چلی جو مغرب کی وادیوں سےطلسم و سحر و دجل کی باو
اڑا کےلائی وہاں سےبیکن کےفلسفہ میں شبیہءماو
تمہاری کشتی فضائےگردوں سےآبشاروں میں جا گرےگی
کہ جارہی ہےادھر کو کشتی جدھر ہےالحاد کا بہاو
علامہ محمد یوسف جبریل امت مسلمہ کےفرزند سےیہ امید رکھتےہیں کہ وہ ایک ایسا مرد مومن بن کر ابھرےگا جو کفرو شرک کی تاریکیوں کو ہمیشہ کےلئےمٹا کر نور توحید زمانےمیں عام کرنےکا باعث بنےگا ۔ علامہ محمد یوسف جبریل ایک ایسےاسلامی انقلاب کےداعی تھےجو امت مسلمہ کی ذہنی تربیت پر سب سےزیادہ زور دیتا ہےتاکہ وہ اپنےلئےدرست سمت فکر اور لائحہ عمل کا تعین کرکےترقی و کامرانی کی اعلی ترین منازل کو چھو سکے۔وہ اپنےآہنی ہاتھوں سےباطل شکن قوتوں کےبتوں کو پاش پاش کرتےرہےاور اسی لئےآج کےعہد ناپرساں کےجہنم میں ڈالےگئے۔ کیونکہ ان کا مشن ابراہیمی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کےتفویض کردہ روحانی مشن کا تقاضا ہےکہ ہم اپنےسینوں میں چھپےہوئےخود غرضی، حرص و ہوس اور لالچ کےبتوں کو ریزہ ریزہ کردیں ۔ ابراہیمی مشن کا یہ بھی تقاضا ہےکہ معاشرےمیں ہر طرف پھیلےہوئےکہنہ رسوم و روایات فرسودہ افکار و نظریات باطل کی گھناونی چالبازی، کفر و شرک کےتسلط کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کےلئےصفحہءہستی سےنیست و نابود کر دیا جائی۔
مرد مومن مرد حر مرد خدا مرد فقیر
کھینچ دےجو قوس حق سےکفر کےسینےمیں تیر
زلزلہ برپا جو کر دےفکر انسانی میں آج
توڑ ڈالےسنگ خارائےحقیقت سےزجاج
علامہ محمد یوسف جبریل کی نظم ” ترقی“ فرانسس بیکن کےفلسفہءمادیت پر گہرا طنز ہےکیونکہ وہ فکر آخرت سےتہی مغز تھا اور یہ نہیں جانتا تھا کہ مرنےکےبعد بھی انسان اپنےاعمال کےسلسلےمیں جوابدہ ہی۔ لہذا علامہ محمد یوسف جبریل نےمادی ترقی کےساتھ ساتھ روحانی ارتقاءکےبھی زبردست داعی تھی۔ وہ انسانی معاشرےکو زرو مال و جواہر، سونےچاندی کےڈھیر ، اور اعلی نسل کےگھوڑوں سےبچا کر فقر و درویشی کی تعلیم دیتےہیں۔تاکہ ہم اس عارضی قیام گاہ کو اپنا مطلوب و مقصود نہ سمجھ بیٹھیں بلکہ اپنےاگلےٹھکانےکی بھی فکر کریں۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی نظم ” ایٹم بم “ بھی بنی نوع انسان کےلئےہولناک تباہی کو روکنےکی ایک بھرپور کوشش ہی۔ کہ جس میں وہ ایٹم بم کو عذاب ایزدی قرار دیتےہیں۔ وہ ہمیں زور و شور اور شدو مد سےخبردار کرتےہیں کہ اگر ہم نےایٹمی ہتھیاروں پر قابو نہ پایا تو روئےزمین کی شادابی ماند پڑ جائےگی ۔ہستےبستےہوئےشہرآن واحد میں زمین بوس ہو جائیں گے۔
کون کہتا ہےکہ ایٹم بم بھی اک ہتھیار ہی
یہ عذاب ایزدی ہےیہ خدا کی مار ہی
علامہ محمد یوسف جبریل نےنظموں کےساتھ ساتھ غزلوں کی طرف بھی بھرپور توجہ دی ہی۔ ان کی غزل فلسفیانہ مباحث اور علمی نکاط سےبھاری بھر کم یا بوجھل نہیں ہوتی ،بلکہ تغزل کی سرمستی سےلبہ لب رہتی ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی غزل اپنےدامن میں نادرو نایاب استعاراتی نظام بھی رکھتی ہی۔ ان کی غزلوں میں خشک واعظانہ تندی و تیزی نہیں بلکہ صوفیانہ بےخودی اور رندانہ نوائےحق نظر آتی ہی۔ زور کلام لائق توجہ ہے۔ ان کا لب ولہجہ بلند آہنگ ہونےکےباوجود اپنےبطون میں ایک زیریں لےاور سوز و گداز بھی رکھتا ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی غزلوں میں بھی بیکنی دانش اور ایٹمی دوزخ کی دھندلائی ہوئی تصویریں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں۔ وہ دام تسخیر میں صورت نخچیر دیکھ لیتےہیں۔ لہذا اسی لئےان کےسینےمیں چھپی ہوئی قیامت خیزی سینکڑوں اشعار پر مشتمل غزلوں کی تسخیر کا باعث بنتی ہی۔ اور یوں محسوس ہوتا ہےکہ جیسےوہ ایک الہامی کیفیت میں سےگذر رہےہیں۔ ان کےاشعار میں مسلسل ایٹمی جہنم کی طرف اشارےاور دور حاضر کی ناعاقبت اندیشی بطور خاص اہم ہے۔ کیونکہ وہ غزل و نظم بھی اسی لئےکہتےہیں کہ خشک مضامین سائنسی موضوعات کی دقیق النظری کےساتھ ساتھ شاعری ایک ایسا ذریعہ اظہار ہےکہ جو دلوں پر براہ راست اثر کرتا ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل بھی یہی چاہتےہیں کہ شاید تیرےدل میں میری بات اتر جائی۔ مگر ابھی یہ صدا صدائےبہ صحرا ہی۔ اور ہمیں پورا یقین ہےکہ ایک دن یہ آواز صور اسرافیل بن کر دلوں پر ایک لرزہ طاری کر دےگی۔
مجھےاب بھی یہ محسوس ہوتا ہےکہ ان کی شاعری قریب کےدرختوں پر بیٹھی ہوئی فاختہ کی وہ دردناک آواز ہےجو ہمیں بار بار اپنی طرف کھینچتی ہے۔ کیا کوئی ایک بھی ایسا ہےجو ان کی آواز سن سکی۔
بیکنی دانش کےگردوں کی نئی تاثیر دیکھ
ایٹمی دوزخ کی دھندلائی ہوئی تصویر دیکھ
غرض پرستی ءخوباں کو دلبری نہ سمجھ
یہ بوئےخوں ہےاسےمشک عنبری نہ سمجھ
حسین و سادہ و معصوم ہےیہ حور فرنگ
تو سادگی سےاسےخلد کی پری نہ سمجھ
بدل گئےہیں زمانےکےمہر و ماہ جبریل
ہوئی ہےجب سےفقیروں کو حب جاہ جبریل
فنا کی جھوک ہےدنیا میں ہےثبات کسی
گدا رہیں گےجہاں میں نہ بادشاہ جبریل
علامہ محمد یوسف جبریل کی نظم ’ فغان اردو“ بھی لائق توجہ ہے۔ کیونکہ اس نظم میں انہوں نےپاکستان کی قومی زبان اردو کی فریاد انتہائی فنی مہارت اور چابکدستی سےلوگوں تک پہنچانےکی کوشش کی ہی۔ کیونکہ آج ساٹھ سال گذر جانےکےباوجود ہم پاکستان میں اپنی قومی زبان کو نافذ نہیں کر سکی۔ حالانکہ ٣٧٩١ ءکےقانون میں پاکستان کی قومی زبان اردو قرار دی گئی ہی۔ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ تحریک پاکستان کےدوران نئی مملکت کےحصول کےلئےبھی یہی زبان ذریعہ ءاظہار تھی ۔ اور آج کےنسلی ، علاقائی، لسانی تعصبات کےخاتمےکےلئےبھی یہی زبان آلہ کار بن سکتی ہی۔ ” سقوط ڈھاکہ“ کےموضوع پر لکھی ہوئی ان کی نظم سولہ دسمبر ١٧٩١ ءکےالمناک واقعہ کی یاد تازہ کرتی ہی۔ جس میں ہم نےمملکت خداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو دولخت ہوتےدیکھا ۔ علامہ محمد یوسف جبریل ایک محب وطن شاعر ہونےکی حیثیت سےاپنےایک بازو کےکٹ جانےپر نوحہ کناں ہیں اور ہمیں متنبہ کرتےہیں کہ اپنوں کی ریشہ دوانیوں اور غیروں کی سازشوں نےہمیں پہلےہی دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہےلہذا ہمیں اس بچےکھچےپاکستان میں ہر قسم کےنسلی اور فروعی اختلافات کو مٹا کر اتحاد ملت کو فروغ دینا چاہیئے۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی نظم ” سقوط ڈھاکہ “ ملت اسلامیہ کےلئےایک پیغام کی بھی نوید سناتی ہی۔ کہ ایک نہ ایک دن ہم گھر کےملبےسےاگا ہوا سبزہ دیکھیں گے۔ کیونکہ سرزمین ہند سےانہیں اسلام کی خوشبو پھیلتی ہوئی نظر آتی تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد عارف
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

  • pdf Soz e Gabriel
    Soz e Gabriel by Prof Arif Seemabi
    File size: 388 KB Downloads: 35

Related Posts

  • 53
    الفقر فخری ، شہنشاہ ولایت، حضرت پیر سیدعبدالقادرجیلانی کی سرزمین عراق کے نزدیک عراق کےقرب و جوار میں ” مصیب“ کی مقدس فضاوں میں سانس لینےوالےنوجوان محمد یوسف کےوہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ مجھےایک دن دنیا بھر کےسامنےایٹمی ہتھیاروں کےخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر…
  • 41
    علامہ محمد یوسف جبریل کا تازہ شعری مجموعہ ” خوابِ جبریل“ حال ہی میں منظر ِعام پر آیا ہےجس میںان کی طویل نظم ”گریہ ءنیم شبی“ خواب جبریل کےعنوان سے٤١ نظمیں ، لائحہ عمل (٢ منظومات) فرقان ( ایک نظم) معجزہ (٣نظمیں) نوید صبح (٢نظمیں) دعا ئیءنیمہ شب ، اسلامی…
  • 38
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply