Tabdeeli chahnay walay hukmaran kay liyay chand tajaveez

تبدیلی کے خواہاں نومنتخب حکمرانوں کیلئے تجاویزِ چند!!
( ڈاکٹر اظہر وحید )

وطنِ عزیز میں جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے اہلِ وطن نئے سرے سے سے نئی اُمیدیں باندھ لیتے ہیں….اِس خیال سے کہ حکومت کے بدلنے سے شائد اُن کی حالت بھی بدل جائے۔ صد شکر! یہ قوم روحانی و فکری اعتبار سے بنجر نہیںٗ یہاں نخلِ اُمید ہمہ حال ہرا رہتا ہے۔ اس قوم کو عدل اور عزت دو…. پھر دیکھو! اس کا دامنِ مراد پھولوں سے کیسے بھرتا ہے۔ محض انصاف نہیںٗ عدل بھی چاہیے۔ صرف روٹی نہیںٗ عزت بھی چاہیے۔ انصاف کی ضرورت ظلم بپا ہونے کے بعد ہوتی ہے، عدل قائم ہو تو کوئی مظلوم رہے گاٗ نہ محروم۔ عدل فلاح کی ضمانت ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں”جس معاشرے میں مظلوم اور محروم نہ ہوںٗ وہی معاشرہ فلاحی ہوتا ہے”۔ کسی معاشرے میں انسان کیلئے کم سے کم جینے کا جواز‘ عزت اور عدل ہے۔ عدل سے مراد ہےٗ ہر شئے کواُس کے مقام پر رکھا اور برتا جائے۔ عام فہم زبان میں اسے میرٹ کلچر کہیں گے، یہ وی آئی پی کلچر کا الٹ ہوتا ہے۔ مہذب قوم کا ہر فرد وی آئی پی ہوتا ہے۔ مقامِ خاص خدمتِ عام سے متعین ہوتا ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم تخریب سے تعمیر کی طرف اور شکستگی سے استحکام کی جانب سفر کریں۔ یاد رہے کہ پُرامن طریق پر تبدیلی کا یہ موقع آخری ہے، اس کے بعد…. تبدیلی کی قیمت کشت و خون کی صورت میں چکانی پڑے گی۔
تاریخ کے اس اہم موڑ پر اربابِ حل و عقد کی خدمت میں یہ فقیرِ بے نواچند تجاویز پیش کرنے کی جراتِ رندانہ کر رہا ہے:
1۔ تھنک ٹینک
ہر شعبے میں بہتری کیلئے تھنک ٹینک بنائے جائیں۔ متعلقہ ماہرین یہ خدمت بغیر معاوضے کے سرا نجام دینے کیلئے تیار ہوں گے۔ تھنک ٹینک بنانے میں پیسے خرچ نہیں ہوتے لیکن اس سے ناقابلِ تسخیر ٹینک ضرور بنتے ہیں۔ ہر وزارتٗ مشاورت کیلئے درجنوں تھنک ٹینک تشکیل دے۔ عوام الناس سے بھی تجاویز موصول کرنے کیلئے ایک سیل کا قیام عمل میں لایا جائے۔ بعض اوقات عام آدمی کی تجویز بڑی خاص ہوتی ہے۔ جو کسی تکلیف سے گزرتا ہےٗ اس کے ذہن میں ایک عملی تجویز کا خیال بھی گزرتا ہے۔
2۔ ٹیکس کی آمدن کیسے بڑھائی جائے
ٹیکس کا نظام سادہ ترین کر دیا جائے، درجنوں قسم کے ٹیکس ختم کریں اور ایک سادہ ترین کلیہ بنائیںٗ تاکہ ایک عام شہری ماہانہ ، ہفتہ وار اور سالانہ ٹیکس کا تعین کر سکے۔ اسے یہ آزادی بھی حاصل ہو کہ وہ اپنا ٹیکس ماہانہ یا سالانہ جس طرح بھی چاہے دے ۔ ٹیکس ددینے والے کو یہ بھی سہولت دی جائے کہ وہ خود فیصلہ کرے اور بتائے کہ وہ کتنی رقم فلاحی مدّ میں جمع کروانا چاہتا ہے اور کتنی رقم حکومتی اخراجات کی مدّ میں…. بظاہر عجیب نظر آنے والی اس تجویز کے نتائج حیرت انگیز ہوں گے۔اسے یقین دلایا جائے کہ فلاحی مدّ میں جمع کروائی جانے والے ٹیکس کی رقم ایک صدقہ جاریہ ہے اور یہ رقم صرف تعلیم اور علاج پر خرچ ہوگی۔ یاد رکھیںٗ یہ قوم سب سے زیادہ صدقات و خیرات کرنے والی قوم ہے…. پھر دیکھیے! ٹیکس کی آمدن دنوں میں اتنی بڑھے گی کہ اللہ کے حکم سے آپ ہر قصبے میں ایک اعلیٰ یونیورسٹی اور بہترین قسم کا ہسپتال کھول سکیں گے۔
3۔ تعلیمی اصلاحات ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک نصاب ایک قوم۔۔۔۔۔۔!!
ملک بھر میں تعلیمی نصاب یکساں کر دیا جائے۔ سرکاری اور پرائیویٹ سب سکولوں میں ایف اے تک ایک سا نصاب رائج کیا جائے، ایسا نصاب جو ہماری اخلاقی اوردینی قدروں سے ہم آہنگ ہو۔ ایک طرزِ فکر ایک قوم تشکیل دیتا ہے اور نصابِ تعلیم طرزِ فکر کو تشکیل دیتا ہے۔ نصابِ تعلیم ایک کردیںٗ اگلے دس برسوں میں قوم ایک ہو جائے گی۔ صوبائی ، مسلکی اور لسانی عصبتیں از خود دم توڑ دیں گی۔
آپ بغیر کسی اضافی بجٹ کے اضافی اسکول بنا سکتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ مدارس ، مساجد اور اسکولوں کو باہم ضم کر دیا جائے۔ اس پرکچھ زیادہ خرچ نہیں آئے گا۔ نئے اسکول بنانے سے کہیں کم اخراجات میں ہر گلی محلے میں نظر آنے والی مساجد اور مدارس اسکول میں بدل جائیں گے۔ تمام مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے خطیب حضرات کو سرکاری اسکولوں میں عربی و اسلامیات کے ٹیچر کے طور پر بھرتی کر لیا جائے، اسکولوں میں موجود باشرع عربی ٹیچرز کو مدارس اور مساجد میں تعینات کر دیا جائے۔ دونوں طبقے بصد شوق راضی ہوں گے۔ غربت میں پسے ہوئے مولوی صاحبان کوایک خوشحال روزگار میسر آئے گا اور اسکولوں کے اساتذہ کو اپنی خطابت کے جوہر دکھانے کا موقع میسر آئے گا۔ اس اقدام سے فرقہ واریت کی جڑ کٹ جائے گی۔ اساتذہ کی تںخواہ اتنی قابلِ رشک ہونی چاہیے کہ ذہین طلبا وطالبات ڈاکٹر اور انجیینئر بننے کی بجائے استاد بننے کو ترجیح دیں۔ اس امر کی تبلیغ کی جائے کہ دنیاوی اور دینی تعلیم میں فرق نہیں ہوتا۔ علم علم ہوتا، مسلمان پر ظاہری اور باطنی دونوں علوم کا حصول فرض ہے۔ علم کیلئے چین جانے کا حکم ہے، کیا چین میں دین کی تعلیم ملتی تھی؟ جنگِ بدر میں کفار کی رہائی کا ایک فدیہ یہ قرار پایا تھا کہ وہ مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں، کیا کفار نے مسلمانوں کو دین کی تعلیم دینا تھی؟ کوئی علم اپنے طور پر نہ دینی ہے ، نہ دنیاوی۔۔۔۔۔ یہ تو علم حاصل کرنے والا بندہ ہے جو دینی یا دنیاوی ہوتا ہے۔ ایک دینی مزاج کا بندہ سائینس کی لیبارٹری میں بھی دین کی خدمت کر رہا ہے، وہ مسلمانوں کی فلاح کیلئے تفکر کر رہا ہے، اور ایک بدنیت شخص مسجد اور مدرسے میں بیٹھا تمام تر دینی کتب پڑھ کر بھی مسلمانوں میں تخریب اور تفریق کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ احادیث میں فرمایا گیا کہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے بھی ملے،وہ لے لیتا ہے۔ ان احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ ایک مسلم نوجوان کیلئے حصول علم ایک دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ ایک اہم دینی تقاضا ہے۔ مسجد ، مدرسہ اور اسکول ایک کرنے سے ہم دین اور دنیا دونوں جہانوں میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔
4۔ فوری عدل کیسے ممکن بنایا جائے
کسی معاشرے میں خوشحالی کیلئے امن کا ماحول از حد ضروری ہے اور امن کیلئے عدل کا قائم ہونا اَز بس ضروری ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر مزید ظلم اور غربت کا باعث بنتی ہے۔ ہر تھانے میں ایک مجسٹریٹ پر مشتمل ایک عدالت قائم کر دی جائے۔ نوّے فیصد مقدمات موقع پر نمٹ جائیں گے۔ فوری انصاف کا یہ نظام پولیس کو مکمل طور غیر سیاسی کرنے کے بعد ہی چل سکے گا۔ عدالتیں خود کو پابند کریں کہ ہر قسم کے مقدمے کا فیصلہ زیادہ سے زیادہ چالیس دنوں میں سنا دیا جائے۔ اس انقلابی اقدام کیلئے معزز منصفین کو صبح شام ایک کرنا ہوگی۔ عدالتوں میں چھٹی کا تصور غور طلب ہے۔ کیا ہسپتالوں میں کبھی چھٹی ہوتی ہے؟ جج حضرات چھٹی پر ضرور جائیںٗ لیکن عدالتیں چوبیس گھنٹے کھلی رہیں۔ ہسپتال کا چوبیس گھنٹے کھلا رہنا ایک فرد کی زندگی کا مسئلہ ہے،اور عدالت کا ہمہ وقت میسر ہونا قوم کی زندگی کا سوال ہے۔اجتماعی زندگی کا قیام و دوام عدل کے ساتھ ہی ممکن ہوتا ہے!!

5۔ ادویات اور خوراک میں ملاوٹ کا خاتمہ۔۔۔۔
جس طرح جعلی چیک دینا ایک ناقابلِ ضمانت جرم ہے‘ اس طرح جعلی دوا اور غذا بنانا بھی ایک ناقابلِ ضمانت جرم تصور کیا جائے ، اور اس جرم کی ایسی کڑی سزائیں مقرر کی جائیں کہ مجرم لوگ سات پشتوں تک کسی دوا اور غذا میں ملاوٹ کرنا بھول جائیں۔ اس بھیانک جرم کی سزا اگر موت نہیں تو موت سے کم تر بھی نہ ہو، جرم ثابت ہونے پرمجرم کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کر لی جائے۔ کرپشن کی کمائی بحقِ سرکار ضبط ہونی چاہیے۔

6۔ علاج کی سہولت بغیر کسی اضافی بجٹ کے:
اخلاقی صحت کے ساتھ ساتھ ہماری قوم کی جسمانی صحت کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ ریاستِ پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچے کی تعلیم اور علاج مکمل طور پرحکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے۔ فری علاج کیلئے صحت کارڈ ہر محکمے میں جاری کیے جائیں، ہر آجر تنخواہ کا پانچ فیصد صحت کارڈ کی مد میں محکمہ صحت میں جمع کروائے اور اس کے عوض مزدور کو ہر جگہ بلامعاوضہ علاج کی سہولت میسر ہو۔ پرائیویٹ ڈاکٹر بھی حکومت کا جاری شدہ صحت کارڈ قبول کرنے کے پابند ہوں۔ اس خدمت کے عوض انہیں ٹیکس میں رعائت دی جا سکتی ہے۔ اس طریقے سے کسی اضافی بجٹ کے بغیر غریبوں کو فری علاج معالجے کی سہولت میسر آ سکتی ہے۔

7۔ چھوٹے انتظامی یونٹ ۔۔۔۔۔۔ موثر اور شفاف ایڈمنسٹریشن:
ہمارے ملک میں صوبوں کی تعداد پانچ یا چھ نہیںٗ بلکہ پچاس اور ساٹھ ہونی چاہیے۔ انتظامی یونٹ جتنے چھوٹے ہوں گےٗ اتنے زیادہ موثر اور شفاف ہوں گے۔ زیادہ صوبے بنانے سے صوبائی عصبیت کا قلع قمع ہو گا۔ جب تک آئینی ترمیم کے ذریعے مزید صوبے بننے کی راہ ہموار نہیں ہوتیٗ انتظامی اعتبار سے ہر ضلع کو اس حد تک خود مختار کر دیا جائے کہ وہ صوبوں کی طرح الگ بجٹ بنا کر آزادانہ خرچ کر سکے۔ ہر ضلع سے ایک ڈپٹی وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ صدارتی آرڈیننس یا ریفرنڈم کے ذریعے اسے قانون کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

8۔ جاگیرداری نظام کیسے ختم کیا جائے:
جاگیر داری نظام فی الفور ختم بلکہ کالعدم قرار دیا جائے۔ پارلیمنٹ میں براجمان جاگیر دار اس راہ میں مزاحم ہوں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تعلیم اور جمہوریت کی فراوانی کی راہ میں یہی نظام رکاوٹ ہے۔ زمین اس کیٗ جو کاشت کرے۔ اپنی زمین بٹائی پر دینے والوں کا ہاتھ اس طرح بٹایا جا سکتا ہے کہ ان کی زمین ریاست اپنی ملکیت میں کرے اور اسے دور دراز علاقے کے رہائشیوں کو الاٹ کردے۔ سابقہ مالکان کو کسی اور جگہ زمین دی جا سکتی ہے، وہ چاہیں تو اسے جا کر آباد کر لیں۔ آباد نہ کرنے کی صورت میں وہ بھی ضبط تصور ہو!

9۔ منشیات سے پاک معاشرہ۔۔۔۔۔۔۔ پاک سرزمین کی ضرورت ہے:
طبی نقطہ نگاہ سے منشیات سست اثر زہر ہیں۔ زہر کا کاروبار کرنے والوں کیلیے بھی زہر کا ٹیکہ یعنی موت کی سزا کا قانون پاس کیا جائے۔ بہت سے ملکوں میں یہ قانون موجود ہے اور اسی قانون کی وجہ سے وہ منشیات کی لعنت سے محفوظ ہیں۔ یہاں بھی سو گرام سے زاید منشیات رکھنے پر سزائے موت سنائی جائے۔ زندہ لوگوں کی رگوں میں زہر اتار کر اپنے بینک بھرنے والے خود بھی زندہ رہنے کے مستحق نہیں ہیں۔ جب تک معاشرے کو منشیات سے پاک نہیں کیا جائے گا، ہر قسم کی فلاحی اور معاشی بہبود کا پروگرام دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ جب صحت مند وجود ہی میسر نہ ہوں گے تو صحت مند ذہن اور صحت مند معاشرہ کیسے وجود میں آئے گا۔ منشیات کا استعمال خاندانوں کو نگل لیتا ہے۔ قوم بھی ایک بڑے خاندان کی طرح ہوتی ہے۔

10۔ ٹرانسپورٹ کا نظام موثر بنایا جائے:
ایک موثر اور سبک نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) شہریوں کو سکون کا سانس دیتی ہے، اس سے دفاتر اور اسکولوں میں ملازمین اور طلبا کی کارکردگی میں بہتری دیکھنے آتی ہے۔ بینکوں کو پابند کیا جائے کہ وہ لگژری گاڑیوں کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے نجی شعبے کو آسان قرضے فراہم کریں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو نجی شعبے کے سپرد کیا جائے، اس شعبے میں مسلسل سبسڈی دے کر پہلے سے مقروض حکومت کو مزید مقروض نہیں کیا جا سکتا۔ بڑے شہروں میں اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں نجی گاڑیوں کے ذریعے طلبا کے پک اینڈ ڈراپ پر پابندی عائد کی جائے۔ ہر سکول، کالج اور دفتر کو ادارے کی اپنی کوچ اور بسیں استعمال کرنے کا پابند بنائا جائے۔ اس سے پٹرول کی بچت بھی ہوگی، ٹریفک کے مسائل بھی کم ہوں گے اور ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ساتھ معاشرتی سٹیٹس کی اندھی دوڑ میں بھی کمی واقع ہو گی۔ اگر کوئی مالدار شخص یا خاندان دولت خرچ کر سکتا ہے تو لازم نہیں کہ وہ ہر آسائش بلاروک ٹوک حاصل کر لے۔ ہمیں اجتماعی مفاد کیلئے انفرادی آسائشوں کی قربانی دینا ہوگی۔

11۔ مہنگائی کا جِنّ کیسے کنٹرول کریں:
ماہرین پر مشتمل ایک پرائس کنٹرول بورڈ تشکیل دیا جائے۔ جس طرح ادویات کی قیمتیں محکمہ صحت کی اجازت کے بغیر نہیں بڑھائی جا سکتیں، اس طرح ہر شئے کی قیمت کا تعین کرنے کیلئے ماہرین پر مشتمل ایک بورڈ موجود ہو، وہ اس شئے کی لاگت اور منافع کے درمیان ایک مناسب نسبت کا تعین کرتے ہوئے اس کی قیمت معین کرے۔ اس طرح مینوفیکچرر کا استحصال بھی نہیں ہوگا، اور عوام تک بھی وہ چیز مناسب دام میں پہنچے گی۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ مڈل مین اور اسٹآکسٹ حضرات اپنی من چاہی قیمتیں مقرر کرکے دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹ رہے ہوتے ہیں لیکن کارخانہ دار بھی پس رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف پبلک بھی لٹ رہی ہوتی ہے۔ اس مصنوعی مہنگائی کا الزام براہِ راست حکومت کے سر آتا ہے۔ مڈل مین کی چالاکیوں کو کنٹرول کر لیں، قمیتیں ازخود اعتدال کی راہ لیں گی۔ مڈل مین مافیا طلب اور رسد کے درمیان مصنوعی رسہ کشی کا تاثر پیدا کرتا ہے اور اپنی مرضی کی قیمتیں عوام پر مسلط کر دیتا ہے۔ حکومت کا کام عوام کو مافیا کی لوٹ کھسوٹ سے بچانا ہے۔ ہمارے ہاں تعلیم ، صحت اور غذائی اجناس کے مافیاز قائم ہو چکے ہیں، انہوں نے ہر جگہ سٹآک ایکسچینج کی فضا پیدا کر دی ہے۔ اشیاء کو حرکت میں لائے بغیر یہ لوگ قیمتوں کو حرکت میں لے آتے ہیں۔ غذائی اجناس کے سٹاکسٹ فی الفور ختم کئے جائیں، یہ لوگ آپس میں مل کر چند بلین روپے اکٹھے کرتے ہیں ، اور بنیادی ضرورت کی غذائی اجناس کی رسد کو کنٹرول کر لیتے ہیں، یوں یہ ذخیرہ اندوز پوری مارکیٹ ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ کسان بھی غریب کا غریب ، اور دس کلو آٹا چینی خریدنے والا مزدور بھی پہلے سے غریب تر۔۔۔۔۔ لیکن ان ذخیرہ اندوزوں کی گاڑیاں اور مکان ہر سال پہلے سے زیادہ پرتعیش ہوتے چلے جاتے ہیں۔ سرمایے کا یہ منفی استعمال روک دیا جائے تو مہنگائی از خود قابو میں آ جائے گی، اور نیک نامی اور دعائیں حکمرانوں کا سرمایہ ہوں گی۔

12۔ بیروزگاری کیسے ختم کی جائے!
غریب کیلئے روزگار مہیا کرنا صرف حکومت پر نہیں بلکہ ہر شعبے کے باثر طبقے پر فرض ہے۔ کمپنیوں، دفتروں اور کارخانوں میں ڈاؤن سائزنگ ممنوع قرار دی جائے۔ معاشی اعتبار سے ماہرین اسے رائیٹ سائزنگ کہتے رہیں ، لیکن معاشرتی اعتبار سے یہ رونگ سائیزنگ ہے۔ ایک فلاحی اور باشعور معاشرے میں بیروزگاری ختم کرنا اہلِ ثروت کے ذمے ایسے ہی واجب ہے جیسے صدقہ و خیرات کرنا۔ اس بات کی تبلیغ کی جائے کہ کسی غریب کو نہ چاہتے ہوئے بھی اور بلاضرورت بھی نوکری پر رکھا جا سکتا ہے، یہ ایک صدقہ ہے، ماہانہ صدقہ و خیرات کی طرح یہ بھی کارِ ثواب ہے، اس سے آپ کسی کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر اس کی مدد کر سکتے ہیں۔
غربت پیسوں کی کمی سے نہیں ، احساس کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ایک خوشحال خاندان صرف ایک غریب خاندان کا عملی طور پر سہارا بن جائے تو غربت دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ ہم غریبوں کو روزانہ مچھلی دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں ، انہیں مچھلی پکڑنے کا سامان مہیا نہیں کرتے۔ انفرادی فلاحی جذبہ اگر اجتماعی سانچے میں ڈھل جائے تو اسلامی فلاحی معاشرے کی منزل زیادہ دور نہیں۔ اس کیلئے لائحہ عمل اور پالیسی مہیا کرنا حکومتِ وقت کا کام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں نیک جذبات ہمارے ہاں پانی کی طرح وافر بہہ رہے ہیں، لیکن اس بہتے ہوئے جذبے اور پانی کو ڈیم ، نہروں اور نالوں کی شکل میں صحیح رخ دے کر سب کیلئے کارآمد بنانے کیلئے قومی سطح پر حکمت عملی ( پالیسی) کا فقدان ہے۔

(i) بڑی آرگنائزیشن کو petty jobs معمولی قسم کی نوکریاں مہیا کرنے کی طرف راغب کیا جائے، ترغیب کے طور پر اس مد میں انہیں ٹیکس میں رعایت دی جا سکتی ہے۔ جاپان میں ہر طرح کی آٹومیشن کے باوجود بڑی بڑی کمپنیاں اپنے دفتروں میں بلاضرورت درجنوں ٹیبل بوائے ، کافی بوائے اور ٹی بوائے قسم کی آسامیاں پیدا کرتی ہیں۔

(ii) ٹرانسپورٹ اور کنسٹڑکشن کے شعبہ جات پر سرمایہ کاری کرنے سے بے روزگاری ختم کرنے میں کافی حد تک مدد ملتی ہے۔ نجی شعبے کو کنسٹڑکشن کے میدان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کیلئے سہولتیں دی جائیں۔

(iii) شہر کی سڑکوں کی صفائی کیلئے غیرملکی کمپنیوں کے مہنگے ٹھیکہ جات منسوخ کئے جائیں اورہاتھ سے صفائی کرنے والے ورکرز بھرتی کیے جائیں، شہر کی صفائی کا یہ طریقہ سستا بھی پڑے گا اور انتہائی غربت کے عالم میں بسر کرنے والے سیکٹروں خاندانوں کو روزگار بھی میسر آئے گا۔

(iv) گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ گھروں میں کام کرنے والوں کی رجسٹریشن کی جائے۔ رجسٹڑیشن کیلئے ایک ادارہ قائم کیا جائے جو ان کے حقوق کا نگہبان ہو، انہیں صحت کی سہولتیں بشمول صحت کارڈ مہیا کرنے کا پابند ہو۔ ان کیلئے کم سے تنخواہ کا تعین کیا جائے۔ دوخاندان براہِ راست معاملہ طے نہ کریں، اس طرح ظلم اور استحصال کا دروازہ کھلتا ہے۔

دینِ فطرت میں ہر قسم کے استحصال کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ بادشاہت اور ملوکیت کا تصور اسلام میں بدعت ہے۔ سود استحصال کا ایک قدیم ذریعہ ہے، حجتہ الوداع کے موقع پر سود کو فی الفور بند کر دیا گیا۔ فرمایا گیا کہ کسی شئے پر ملکیت حاصل کیے بغیر اسے آگے نہیں بیچا نہیں جا سکتا۔ اس طریق پر مڈل مین مافیا کا تصور اسلام میں موجود نہیں۔ فرمایا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا آڑھتی نہ بنے۔ سبحان اللہ! کیا خوبصورت کلیہ دیا گیا ہے ، ایک غریب دیہاتی کسان کی محنت کا کس طرح خیال رکھا گیا ہے۔ اندیشہ تھا کہ اپنی اجناس کی قدر و قیمت سے بے خبر غریب دیہاتی کہیں کسی شاطر شہری کے ہاتھوں استحصال کا شکار نہ ہو جائے۔
اسلامی معاشرہ وہ ہو گا جہاں کوئی طاقتور طبقہ کسی کمزور اور غریب کا استحصال نہ کر سکے گا۔ عبادات جب تک ہمارے معاملات کو درست نہ کرے ، ہم روحِ عبادت سے دور ہیں۔ “نماز میرا فرض ہے ، چوری میرا پیشہ ہے” والا تصور عوام کے ذہن سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ یہ تصور پیدا کرنے میں بدنیت بادشاہوں کی پالیسوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ بدقسمتی سے دورِ ملوکیت مسلمان بادشاہوں نے اپنی بادشاہت کا دفاع کرنے کیلئے دین کے ان پہلوؤں کو عوام کی نظروں سے دور رکھا جن سے آگاہی کے بعد عوام اپنے حقوق کی بات کرتے اور بادشاہوں کے بے لگام اختیارات پر سوال اٹھاتے۔
مساجد سے بلند ہونے والی آواز آج بھی ایک عام مسلمان کو متحرک کرتی ہے۔ آج وقت کی ضرورت ہے کہ مساجد میں علما کرام حقوق العباد کی اہمیت پر وعظ کریں، سرکاری ملازمین کو بتایا جائے کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانا دراصل رسولِ پاکﷺ کی امت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے برابر ہے۔ کرپشن کرنے والا محض ایک فرد کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ وہ اس ملک میں بیس کروڑ مسلمانوں کا مجرم ٹھہرتا ہے۔ ایک اسلامی مملکت میں ملکی قانون توڑنے والا صرف قومی مجرم ہی نہیں بلکہ دینی مجرم بھی قرار پاتا ہے۔ اسلام فرد اور معاشرہ دونوں کے حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار افرادِ ملت کے حقوق کا امین اور محافظ ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے فرائض سے غفلت کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ملت کی امانت میں خیانت کر رہا ہے۔ دینِ فطرت میں ذخیرہ اندوزوں پر جس طرح فردِ جرم عائد کی گئی ہے ، اس کا اعادہ کیا جائے۔ جعلی ادویات اور اجناس بنانا تو دور کی بات ہے، اسلامی ریاست میں کاروباری شفافیت کا اس قدر اہتمام ہے کہ خشک گیہوں اوپر رکھنے اور گیلے نیچے رکھنے پر یہ وارنننگ ایشو کی گئی کہ ” من غشّ فلیسَ منّی”۔۔۔ ” جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔” ملاوٹ کرنے والا ، دھوکا دیتا ہے اور مخلوقِ خدا کو دھوکا دینے والے کیلئے اتنی بڑی وارننگ۔۔۔۔۔ گویا وہ امتی ہونے کے اعزاز سے محروم کیا جارہا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں واضح طور پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنی چیز فروخت کرتے ہوئے اس کے عیب بتا دینا لازم ہے۔ چرب زبانی سے مضر اشیا کی فروخت تو دور کی بات ہے، محض خاموش رہ کر دھوکا دینے کا شائبہ بھی یہاں برداشت نہیں کیا جاتا۔ ہم آخر اس دینِ فوز و فلاح دین کے کس “ایڈیٹ شدہ ایڈیشن” پر زندگی بسر کر رہے ہیں؟
دینِ اسلام دین ِ فطرت ہےاور فطرت میں استحصال کا کوئی کلیہ دیکھنے میں نہیں آتا۔ فطرت نزاعِ باہمی نہیں بلکہ اصلحِ باہمی کے اصول پر کاربند ہے۔ فطرت میں ہر طرف بقائے باہمی کا کلیہ زیرِ مشاہدہ ہے۔۔۔۔ ڈارون کی قوتِ مشاہدہ کمزور تھی، وگرنہ وہ انسانی شعور کا دھارا فطری کلیات سے کاٹ کر شیطانی کلیات کی طرف موڑ کر نہ لے جاتا۔ struggle for existence نہیں ، بلکہ struggle for co-existence ……. فارمولہ Survival of the fittest نہیں ، بلکہ انسانوں کی دنیا میں جو کلیہ زیرِ بحث ہے وہ fittest is befitted to save others ہے۔ انسانی معاشرے میں cut throat competition جیسے کلیے قاتل پیدا کرتے ہیں، مسیحا نہیں۔۔۔۔۔ انسانیت کو اپنی بقا کیلیے مسیحاؤں کی ضرورت ہے۔
عمل سے پہلے فکر کی اصلاح لازم ہے۔ فکر کی اصلاح کیلئے توبہ خشتِ اوّل ہے۔ ہمیں اپنی غلطیوں پر صدقِ دل سے اپنے رب کے حضور معافی طلب کرنا چاہیے۔ خود بھی معافی طلب کریں اور دوسروں کو بھی غیر مشروط طور پر معاف کر دیں۔ مصلحِ پاکستان حضرت واصف علی واصفؒ کا قول ہے “ہم ایک عظیم قوم بن سکتے ہیںٗ اگر ہم معاف کرنا اور معافی مانگنا شروع کر دیں”۔ اس باصلاحیت قوم کے افراد کی آدھی سے زیادہ صلاحیت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں صرف ہو جاتی ہے۔ ایک دوسرے کو معاف کرنے سے ہم اپنی صلاحیتیں بحال کر سکتے ہیں۔ جوہر شناس کہتا ہے کہ خود میں گم ہو کر ہی ہم کوئی جوہر تلاش کر سکتے ہیں!!
ان تجاویز پر عمل درآمد اگرچہ مشکل ہےٗ لیکن ناممکن ہرگزنہیں۔ یہ بارہ نکاتی تجاویز نو منتخب منتظمین پرایک حجت ہیں۔ ہمارا کیا….
ع فقیرانہ آئے صدا کر چلے
www.facebook.com/dr.azharwaheed www.azharwaheed.com
+923219440981
#drazharwaheed #wasifkhayal #thinktank #reforms #socialreforms #pti#imrankhan #pakistan #urducolumns #socialjustince #islamicwelfarestate
Dr. Azhar Waheed

Print Friendly, PDF & Email

Related Posts

  • 81
    آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں ابوبکر قدوسی بہت شور ہے ڈیم بنانے کا - پنجابی میں کہتے ہیں "ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں " یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں - سو دوستو…
  • 79
    امیدواراورووٹر ایک امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس گیا اور ان کو ایک ہزار روپیہ پکڑواتے ہوئے کہا حاجی صاحب اس بار ووٹ مجھے دیں۔ حاجی صاحب نے کہا: مجھے پیسے نہیں چاہیےووٹ چاہیے تو ایک گدھا لادیں، امیدوار گدھا ڈھونڈنے نکلا مگر کہیں بھی…
  • 78
    غلط خاکے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینے والی تفتیش :زینب اور اس جیسی 11 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کے پیچھے چھپے خوفناک و شرمناک حقائق اس رپورٹ میں ملاحظہ کیجیے لاہور(ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی…

Share Your Thoughts

Make A comment