تبصرہ نادِوقت

056

tassadaqraja


یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔

حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا بھی سرمایۂ افتخار ہیں۔ لیکن عنایت میا ں ( چوہدری عنایت اللہ ) ہم سب سے زیادہ ان کے قریب تھے۔ محکمہ فوڈ کے ڈ سٹرکٹ فود کنٹرولر ہیں۔اور آپ کے قریب ہی رہتے ہیں۔ ان کافون نمبردفتر اور گھر کا آپ کو لکھ رہا ہوں۔ ان دنوں حضرت مہر علی شاہ صاحب کے قریب گولڑہ روڈپر مکان بنا کر چھپے بیٹھے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی پرانی یادیں تازہ کرنے لاہور آجاتے ہیں۔ آپ ان سے مل لیں۔۔۔۔۔۔ (اشفاق احمد)
یہ خط ملتے ہی عنایت اللہ صاحب کو دفتر فون کیا۔ یہ حاضر سروس ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر تھے۔ ہماری پہلی ملاقات کئی گھنٹوںپر محیط تھی۔ مگر نہ جانے کیوں بار بار خیال آیا کہیں مجھے دھوکہ تو نہیں ہوا۔ یہ حضرت اور سبھی کچھ ہو سکتے ہیں مگر محکمہ خوراک کے ضلعی کنٹرولر نہیں ہو سکتے! سلسلۂ ملاقات بڑھا اور مزید آگے بڑھا ۔تو عنایت اللہ صاحب اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر دونوں سے علحدہ علحدہ ملاقاتیں ہونے لگی تھیں۔ ان کی ملاقاتوں کے بعد یہ عقدہ کھلا تھا کہ فوڈ کنٹرولر تو اس عنایت کے ماتحت تھا۔ جسے ربع صدی کی تربیت کے بعد حضرت جناب واصف علی واصف نے خود لاہور سے اسلام آباد بھیج دیاتھا۔
پھر چوہدری عنایت اللہ صاحب ریٹائر ہو گئے۔ آنا جانا رہا۔ میری دلچسپی لاہور میں جناب واصف علی واصف اور عنایت اللہ صاحب کے بارے میں زیادہ سے زیادہ باتیں سننے تک محدود رہتی تھی۔ مگر ایک رات فون آیا کہ عنایت اللہ صاحب مجھے کسی تحریر کے چند صفحات پڑھ کر سنانا چاہتے ہیں۔میں ہمہ تن گوش سنتارہا۔ میں نے آخر میں پوچھا کہ یہ تحریر کس کی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ موصوف نے آئینہ وقت کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کا ایک باب مجھے پڑھ کر سنا یاگیاتھا ۔چندروزبعد کتاب کا پورا مسودہ موصول ہوا۔ اور حکم ملا کہ میں کتاب کے بارے میں اپنی رائے لکھ بھیجوں۔ تعمیل کی اور یہ رائے آئینہ وقت میں شائع ہوئی۔ پھر مختصر سے وقفوں سے’’صدائے وقت‘‘ ’’ ندائے وقت‘‘ اور ’’آواز وقت‘‘ شائع ہوئیں۔ ان میں سے ہر کتاب کے لئے راقم نے کتاب کے موضوع سے متعلق کچھ نہ کچھ ضرور لکھا۔ جسے میں اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتا ہوں۔ یہ اعزاز کسی بہت معروف و نامور مصنف یا ادیب کی کسی تصنیف کے بارے میں لکھنے سے کہیںبڑا اعزاز تھا۔ کیونکہ لکھاری اس میدان میں ضرور نووارد تھا۔ مگر ان کی ہر کتاب کاموضوع اپنی اہمیت کے اعتبار سے بہت بڑا موضوع تھا۔ پھر یہ کوئی فسانہ وحکایت پر مشتمل تحریریں نہ تھیں۔ بلکہ اس وطن عزیز اور پوری امہ کے بارے میں مصنف نے اظہار خیال کیا تھا۔ ان چار کتابوں میں مصنف نے زندگی کے ایک ایک شعبے پر قلم اٹھایا تھا۔ امراض کی تشخیص ایک حکیم الامت کی طرح کی تھی ۔ اور علاج بھی تجویز کیا تھا۔ کہیںطبقاتی تقسیم اور طبقاتی تقسیم کے مطابق قائم کئے گئے تعلیمی اداروں کا ذکر تھا۔ تو کہیں سرمایہ دار کے ہاتھوں مات کھا جانے والے مزدور کے تلخ اوقات کو زیر بحث لایا گیاتھا ۔ کہیںجاگیردار کے ہاتھ بک جانیوالے دہقان کی دل ہلا دینے والی داستان رقم کی گئی تھی۔ تو کہیں عدل و انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو جانے والی عدلیہ کو جھنجھوڑ اگیا تھا ۔ بیمار انتظامیہ کے مرض کو کہیں موضوع گفتگو بنایاگیا تھا۔ تو کہیںبھوک پیاس سے بلکتے ان غریب اور مفلس بچوں کی داستان غم رقم کی گئی تھی۔ اپنی ایک تصنیف میں عنایت اللہ صاحب کا خطاب کشتگان سلطان و ملائی و پیری سے تھا۔ ان چاروں کتابوں میں چند ایک موضوعات ایسے تھے۔ جو مصنف نے کسی نہ کسی نئے حوالے سے بار بار دہرائے تھے۔ ان میں سے ایک موضوع ایسانکلتا ہے۔ جو ان کی پانچویں تصنیف نادِوقت میں بھی ّآگیا ہے۔ مصنف کی اس کتاب میں کل پانچ ابواب ہیں۔ جس موضوع کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے۔ وہ سرکاری محکموں کے بڑے افسران اور ایوان اقتدار میں بیٹھے اراکین اسمبلی اور مختلف وزیروں، سفیروں کے وہ اخراجات ہیں ۔جو ملکی خزانے خالی کر دیتے ہیں اور نوبت آئی ایم ایف اورورلڈ بینک سے جو قرضے حاصل کرنے تک جا پہنچتی ہے۔ جو ملوکیت کی آبیاری اور دینی نظریات کو مسخ کرتی ہے۔ دوسرا موضوع جس پر پہلی چار کتابوں میں تو مصنف نے اختصار سے گفتگو کی تھی۔ لیکن نادِوقت میں جمہوریت اور جمہوریت کے دعویداروں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ وہ طرزحکومت جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے ‘ کی ساری خرابیاں ایک ایک کرکے سامنے لائی گئی ہیں۔ اور اسلام کے شورائی نظام کے ثمرات پر سیر حاصل بات کی ہے۔
’’نادِ وقت‘‘ کا ایک باب اس کھلے خط کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام، کے پیروکاروں کے نام ہے۔ اس کا کچھ حصہ ان مذہبی پیشواؤں کے لئے بھی وقف ہے۔ جن سے مصنف بار بار یہ سوال کرتا ہے کہ ان کے پیغمبر کی زندگی میں اس پیغمبر محترم پراترنے والے ّآسمانی صحیفے میں یہ خونریزی اور قتل و غارت کہاں سے آ گئی۔ جس کے مرتکب یہ عیسائی اور یہودی ہو رہے ہیں۔ اس کتاب کا یہ حصہ ایک ایسا ّ آئینہ ہے۔ جس میں یہ لوگ اپنی مسخ شدہ تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں اور معصوم انسانوں کے خون ناحق سے لت پت اپنے ہاتھ بھی۔ مصنف نے اسی ذکر سے پیوستہ اپنے وطن عزیز میں قدم قدم پر پھیلی معاشرتی ناہمواریوں کو بھی گنوایا ہے اور فرقہ بندی کے نتیجے میں پارہ پارہ ہو جانے کے اس امت محمدی کو صراط مستقیم پر لانے کی کوشش کی ہے۔ جس میں افراد کے نام تو مسلمانوں کے ناموں جیسے ہیں لیکن اعمال اللہ اوراس کے رسول کو نہ ماننے والے فرعونوں اور یزیدوں جیسے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کو مخاطب کرکے مصنف نے ان سے بار بار یہ سوال پوچھا ہے۔ کہ افغانستان اور عراق میں حیلوںبہانوں سے جس طرح امریکا اور برطانیہ کی ان فوجوں نے تباہی مچائی ہے ۔جو عیسائی تھے۔ اس طرح فلسطین میں اسرائیلی یہودی مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں۔ کیا ان کے مذاہب نے معصوم انسانوں اور کمزور قوموں کے خون کی ندیاں بہاناروا رکھا ہے؟ کیا ان کے مذہبی پیشوا انہیں اس سے روک نہیں سکتے؟یقینا مصنف کو دونوں طرف سے کوئی جواب نہیںملے گا۔ اس لئے کہ مذہب کو سیاست سے جدا کرکے جس چنگیزیت کو یہود ونصاریٰ نے گلے سے لگالیا ہے اس میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ ان کے کلیساؤں اور معبدوں سے وابستہ مذہبی پیشواؤں نے باہر کی دنیا سے یا تو کوئی رشتہ و تعلق ہی نہیں رکھاہوا۔ یا وہ بھی اس قتل و غارت گری کو دیدہ دانستہ نظر انداز کر رہے ہیں۔
’’نادِ وقت‘‘ کے حصے کے مطالعہ کے بعد قاری کے ذہن میں کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ جن میںسے ایک سوال بے حد اہم ہے۔ کہ کیااب بھی عالم اسلام کے متحد ہوجانے کا وقت نہیں آیا؟ کیا ابھی تک مسلمان اسی غلط فہمی کا شکار ہیں ۔کہ عراق کی جنگ امریکا، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں کی جنگ ہے۔ اور اسرائیل فلسطین کی لڑائی دو ملکوں کی لڑائی ہے؟ عالمی حقوق انسانی کے دعویداروں کا مسلمان قیدیوں سے سلوک کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ امریکا، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں کے دوستوں کو چاہیئے۔ کہ انہیں نفرتوں کی اس فصل کے عنقریب پک کر تیار ہو جانے کی خبر کر دیں جس کا بیچ سرزمین اسرائیل، افغانستان اور عراق میں انہوں نے بویاتھا۔ اکیسویں صدی کا ایک پیغام بڑا واضح ہے کہ سکندر اعظم کی طرح پوری دنیا کو فتح کر لینے کا خواب دیکھنے والوں کو یہ معلوم ہو جانا چاہیئے کہ ایسا جدید اسلحہ اور عسکری طاقت کے زور پر ہرگزہرگز ایسا نہیںکیا جا سکتا۔ یہ وہ پیغام ہے جو زیادہ عرصے تک صدا بصحر ا اس لئے ثابت نہیں ہو گا۔ کہ ظلم وتشدد او ر انسانی قتال کی مرتکب طاقتوں اور ملکوں کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔ ہر کمزور ملک کو اپنی اقلیم میں شامل کر لینے کی سعی و کوشش ناکامی سے دوچار ہوا کرتی ہے۔ اور وہ خالق کائنات جو اپنی حکومت کے اندر کسی دوسرے کی حکومت گوارا نہیں کرتا۔ جب فرعون کی سلطنت ،ہامان اور شداد کی تیار کردہ جنت پلک جھپکتے ہی ریت کے گھروندوں کی مانند زمین بوس ہو جایاکرتی ہیں۔ سوویٹ روس کی مثال ابھی پرانی نہیں ہوئی ۔ کل کی بات ہے کہاں گیا Iron curtain? ۔کہاں گئی سائنسی ترقی؟ کہاں گئی دنیا کی دوسری بڑی سپر طاقت؟ میراجی تو چاہتا ہے کہ بھائی عنایت اللہ صاحب سے کہوں زبور، توریت اور انجیل کے پڑھنے والوں کو ان کے آسمانی صحیفوں کے فراموش شدہ اسباق پھر سے زیرمطالعہ لانے کی دعوت دی جائے ۔ اور مزید ان سے کہا جائے کہ وہ قران حکیم کی صرف وہ سورتیں پڑھ لیں ۔ جن میں بستیوں کے الٹ دیئے جانے اور پکے ہوئے میووں والے باغات کے پل بھر میں اجڑ جانے کے قصص بیان فرمائے گئے ہیں۔ ثمود اور عاد نے اس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا تو ثمود ایک سخت حادثے سے ہلاک کئے گئے۔ اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیئے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط رکھا۔( تم وہاں ہوتے تو ) دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پھچڑ ے پڑے تھے۔ جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں اب کیاان میں اسے کوئی تمہیں باقی بچا نظر آتا ہے ۔(الحاقہ 69: 1-8 )
یہ وہ لوگ تھے جنہیں اپنی قدرت اور اپنے اختیار پر ایسا بھروسہ تھا۔ کہ قسم کھا کر بے تکلف کہہ دیا کہ ہم کل ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے ۔اور یہ کہنے کی کوئی ضرورت وہ محسوس نہیں کرتے تھے کہ اللہ نے چاہا تو ہم یہ کام کریں گے۔ قران حکیم میں قوم لوط کی بستیوں کا بھی ذکر ہے جنہیں تلپٹ کرکے رکھ دیاگیا تھا۔
عنایت اللہ صاحب نے جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں۔ اپنی پانچوں کتابوں میں ( جن کے نام میں شروع میں دے آیا ہوں) ایک ایسے بے دین فرعونی جمہوریت کے مرض کی نشان دہی کی ہے۔ جو ملک کو کینسر کی طرح لاحق ہو گیا ہے۔ اوروہ ہے بڑے طبقے کی کرپشن۔اس میں سیاست دانوں،حکمرانوں،افسر شاہی اور منصف شاہی کے افراد بھی شامل ہیں ۔ آہستہ آہستہ پورا ملک ایک ایسے مقام پر پہنچنے والا ہے۔ جہاں صرف دو طبقے رہ جاتے ہیں ۔ایک وہ جسے گندم کی روٹی کے د و نوالے بھی نہ مل رہے ہوں۔اور دوسرا وہ طبقہ جس کے افراد کو گندم کا نوالہ اچھا ہی نہ لگتا ہو اور اس کی بھوک سونے کے نوالے سے مٹتی ہے۔ سیمناروں، تقریروں میں بڑاطبقہ ( جس میں زیادہ تعداد حکمرانوں کی ہوتی ہے) اللہ، اس کے رسول اور رسول عربی کے صحابہ کرام کے نام تک استعمال کرکے غربت و افلاس اور مصیبتوں کے مارے انسانوں کو بیوقوف بنا لیتے ہیں۔ مگر نہ تو وہ اپنی شاہانہ غاصبانہ زندگی کے طریقہ کار کو بدلتے ہیں۔ اور نہ ہی عوام کو بنیادی سہولتیں مہیاکرنے کی طرف کوئی توجہ دیتے ہیں۔ امراض کی تشخیص ’’نادِوقت‘‘ کے مصنف نے ایک حکیم حاذق کے طور پر کر دی ہے۔ اس میں دو آراء ہو ہی نہیں سکتیں ۔ شورائی نظام کا نسخہ اول و آخر انشاء اللہ انسانیت کی بھلائی و بہبود اور خیر و فلاح کا ذریعہ ثابت ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمارے بھائی عنایت ا للہ صاحب کو سلامت رکھے ۔کہ ان جیسے مردان درویش اس وطن کا اس ملت کا سرمایہ ہیں۔
(ڈاکٹر تصدق حسین راجا۔ اسلام آباد)


Print Friendly

Download Attachments

  • pdf Tabsara Nad e Waqat
    Tabsara Nad e Waqat by Dr Tasaduq Hussain Raja
    File size: 180 KB Downloads: 45

Related Posts

  • 53
    کتاب لکھنا ، کتاب پڑھنا اور پھر کتاب پر تبصرہ کرنا ایک انتہائی مشکل اور کٹھن کام ہے ۔ کتاب کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک صاحبِ کتاب کی شخصیت اور اس کے افکار سے شناسائی نہ ہو ۔ آئیے ! پہلے صاحب کتاب کی شخصیت سے…
  • 52
    اس کتاب کا مسودہ پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ اللہ کا یہ شعر میں دیر تک زیرلب گنگناتا رہا ۔ وہی ہے بندۂ حر جس کی ضرب ہے کاری نہ وہ کہ حرب ہے جس کی تمام عیاری ۔ ۔ اس مسودہ کو پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ  اللہ کا…
  • 51
    زیر نظر کتاب’’ نسخہ ء انقلاب وقت‘‘ عنایت اللہ صاحب کی ساتویں کتاب ہے۔ اس سے قبل انکی شائع ہونے والی کتابوں میں درج ذیل کتب شامل ہیں:۔ ۱۔آئینہ وقت۔۲۔صدائے وقت۔۳۔ندائے وقت۔۴۔آوازوقت۔۵۔ناد وقت۔ ۶ ۔ چراغ وقت مصنف نے اس کتاب میںبہت سے سوال اٹھائے ہیں،ا ن میں سب سے…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply