تصویر سے ملے تصویر

تصویر سے ملے تصویر
تحریر رضوان یوسف
ہم جانتے ہیں کہ نشہ انسان کو حقیقتوں سے آگاہ نہیں ہونے دیتا بلکہ یہ کہا جاسکتاہے کہ حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لئے نشہ استعمال ہوتا ہے ۔
’’ نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشے میں ہو ‘‘
اب دیکھنا پڑے گا کہ نشے کی حالت میں انسان پر کیا اثرات ہوتے ہیں جسکی وجہ سے نماز اُسکو کوئی فائدہ نہیں دے گی ۔اگر چہ کہ وہ ظاہری طور پر پڑھ بھی لے ظاہری وجوہات کے علاوہ باطنی وجہ یہ بھی ہے کہ اُسکی روح الہیات کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتی اور نماز کا جو مقصود ہے وہ معراج یا عُروج ہے اور عُروج تبھی حاصل ہوتا ہے جب عُروج والی ہستی سے قرب حاصل ہو ۔ اس کے علاوہ روح کو اللہ کا ذکر اور اُسکا نام یاد کروانا اور اپنے مقام کی پہچان کروانا ہے اور یہ صرف اُسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے کہ اگر آپ مکمل طور پر ذاتِ الہٰی کی طرف متوجہ ہوں اور ذات کا ظہور ہمارے سامنے اُسکے اسم (نام)کی صورت میں ہے۔ اور جب خیال اِدھر اُدھر لوٹ پوٹ رہا ہوگا تو ایک ذات کی طرف توجہ کہاں رُک سکتی ہے جہاں شراب یا متعلقہ چیزیں جو نشہ ہیں اور اللہ سے غافل کرتی ہیں تو دنیا کی محبت کا نشہ بھی اللہ کی یاد سے غافل کردیتا ہے ۔غرض جب ہم اِس نشے میں بھی دُھت ہوں گے تو بھی یہ عمل ریاکاری کے سوا کچھ نہیں دے سکے گا۔ انسان کی روح نے یعنی حقیقی انسان نے عالم لاہوت (عالم ارواح)میں کئی ہزار برس تک اللہ کی ذات کا دیدار اُسکے نام کی صورت میں کیا اور جب انسان اِس دنیا (عالم ناسوت)میں آنکھ کھولتا ہے تو بھی اُسکے کان میں آذان دے کر اُسکو اُس ذات کی یاد کروائی جاتی ہے ۔ اور اللہ فرماتا ہے کہ نماز قائم کرو میری یاد کیلئے اور یاد تو اُس کو ہی کیا جاسکتا ہے جس کے ساتھ کچھ وقت گزارا ہو ۔اگر آپ اور میں کہیں اکٹھے گئے ہی نہ ہوں اور میں آپ کو کہوں کہ یاد کرو اُس وقت کو تو آپ یقینی طور پر تذبذب کا شکار ہو جائیں گے۔ یاد آنے پر بولنا ذکر کہلاتا ہے۔ جب انسان اللہ کا نام نماز کے آغاز میں لیتا ہے تو اُسکی روح تلاش کرتی ہے کہ اللہ کون ہے اور کہاں ہے اور پورے وجود کا چکر لگاتی ہے اور دل میں جو خیال اُسکو ملتا ہے وہ لاکر اُس صاحب کے سامنے رکھ دیتی ہے اور ہم اس شکایت کا اظہار کرتے ہیں کہ نماز میں خیالات آتے ہیں وہ ہماری ہی چھوٹی چھوٹی خواہشات ہوتی ہیں جو ہمارے سامنے آتیں ہیں اور ہم سارا الزام شیطان کے سر ڈال کر پھر زندگی کی تفریحات اور شغل اشغال میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ ہمیں یہ سُوچنے کی فرصت بھی نہیں ملتی کہ حقیقت کو کیسے حاصل کیا جائے ۔ اب دل میں اور دماغ میں ہر وقت اُسکا خیال ہو سانس میں اُسکا ذکر ہو تو یہ صورتِحال نہیں ہوگی۔ہماری چھوٹی یا بڑی ہواس خواہشات جو دل کے بت ہونے کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں یہ ہمیں حقیقت سے غافل کیسے ہوتے ہیں اور بقول علامہ یوسف جبریل اس جدید دور کے بت اتنے جدید ہیں کہ ہم اِنکو بت سمجھنا بھی قبول نہیں کرتے ۔ اور بتوں کو توڑنے والے بت شکن کہلاتے ہیں اور یہ ابراہیم  کی سنت ہے ۔ علامہ محمد اقبال  ایک جگہ فرماتے ہیں :
ابراہیمی نظر مگر مشکل سے پیدا ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کر بنالیتی ہے سینوں میں تصویریں
جب انسان چھوٹی بڑی خواہشات وہوس کو اپنا مطمح نظر بناتا ہے اور اُسکی بے جا تعریفوں میں مشغول ہوتا ہے تو انجانے میںہی اُس کے دل پر تصویریں بنا دی جاتی ہیں اور رفتہ رفتہ اُس کا دل اُن تصویروں سے بھر جاتا ہے اور وہ اللہ کے انوار وتجلیات اور اُسکی نگاہِ رحمت میں سے نکلتا جاتا ہے ۔ قرآنِ مجید اِس ضمن میں ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ ہم نے اِن کے دل پر مہر لگا دی ہے ۔ اِنکو ہدایت نہیں مل سکتی اب مہر کیا ہے؟مہر بھی ایک تصویر ہے کسی افسر کی مہر اگر کاغذ پر موجو دہو تو اِسکا مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ افسر خو د اُس کاغذ پر موجود ہے بلکہ اُسکا نقش یا تصویر ہے جو اُس کاغذ پر موجود ہے ۔تو ثابت ہوا کہ زن ،زراور زمین کی ہوس دل میں بٹھانے سے وہ وہاں آنہیں جاتی بلکہ اُس کا نقش دل پر اُتر جاتا ہے ۔ اور رُوح کا یہ دل میلا ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں ذکر روح کے دل کا ہورہا ہے اور حضور سلطان محمد باہو ؒ فرماتے ہیں کہ یہ قلب نہیں بلکہ کلب بن جاتا ہے جو ماسویٰ اللہ کی خواہشات کا گھر جسکا مطلب کتا ہے ۔جب دل پر تصویر سے تصویریں جڑنا شروع ہوتی ہیں تو یہ آئینہ گدلا ہوجاتا ہے اور یہ ہی وہ آئینہ ہوتا ہے جس کو صاف رکھنے سے ہم دل کی آنکھ سے ذاتِ الہٰی کا دیدار کرتے ہیں۔
سنبھال سنبھال کر نہ رکھ اِسے کہ تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہوتو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
علامہ اقبال  کا وہ بیان کردہ تصویر کا تصور قرآنِ کریم کے مہر والے تصور سے اخذ کردہ ہے اور اُنکے قرآنی فہم و فراست کی نشانی ہے ۔مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمادیتے ہیں کہ یہ ابراہیمی نظرجو اِس تمام صورتِ احوال کو دیکھ اور سمجھ رہی ہو ، پیدا کرنا بھی مشکل ہوتا ہے جو اندر اور باہر کے بتوں کو پہچان بھی سکے۔سوزِ جگر اور تمنا دیدِجاناں ہی حقیقتِ احوال سے باخبر کرتا ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو عقل کو پاکی اور قلب کو صفائی عطا کرتی ہیں۔
علم کا مقصود ہے پاکیِ عقل وخرد
فقر کا مقصود ہے عفتِ قلب ونگاہ
عقل و خرد اور قلب ونگاہ کی پاکی مسلسل محنت اور یقینِ محکم کی طرف بلاتی ہے اور یہی مردِ مومن کی شمشیریں ہیں اور شمشیروہ ہے جو کاٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ انسان کا دماغ جتنا مصروف ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اُسکے دماغ کا ایک خانہ ایسا ہوتا ہے جو خالی ہوتا ہے ۔ مثلاًمیں آپ سے گفتگو کررہا ہوں اور میری پوری توجہ آپکی طرف ہے۔ لیکن پھر بھی میرے ذہن کے کسی کونے میں یہ ’’خیال‘‘ موجود ہے کہ میں نے سونا ہے یا میں فلاں چیز کہیں بھول آیا ہوں اور میں آپ سے معذرت کرکے اُس طرف متوجہ ہوجاؤں گا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ میرے ’’خیال ‘‘ میں ہر وقت ذاتِ الہٰی کا تصور موجود ہو اور میں جس کام میں بھی مصروف ہوں پھر بھی کوئی وقت ایسا نہ ہو جس میں یہ خیال مجھ سے جُدا ہو ۔ یہ تو بات ہے ذہن کی جسکا تعلق عقل سے ہے۔ اور ساتھ ہی دوسری بات یہ ہے کہ ہم مانتے اور جانتے ہیں کہ اللہ ہماری شہ رگ سے قریب ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر میں آپ سے کہوں کہ میں اسلام آباد کے قریب تر ہوں تو آپ مجھ تک پہنچ سکتے ہیں نہیں ہرگز نہیں آپکو میرے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت پڑے گی ۔ قرآنِ پاک کی اِک آیت ’’النفس‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت سلطان باہوؒ اس مسئلے کو حل فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تو اپنے آپ کو تمہارے النفس یا سانس میں رکھا ہے کیا تم غور نہیں کرتے۔ اب ایک مثال سے واضح کرتے ہیں کہ کبھی آپ نے اس طرح کہا ہے کہ ابھی میں کھانا نہیں کھا سکتا کیونکہ میں سانس لے رہا ہوں ۔ نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے۔ بلکہ اگر آپ چاہیں تو بھی سانس روک نہیں سکتے کیونکہ یہ آپکے اختیار میں نہیں اور قرآنِ حکیم کے ارشاد ’’ونضخت ُفی من روحی‘‘کے مطابق یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ قصہ مختصر یہ کہ کوئی سانس ایسی نہ ہو جو یادِ الہٰی سے غافل گزرے کیوں کہ حلال کھانا بسم اللہ کے بغیر حرام ہوگیا ،حلال جانور اللہ کے نام کے بغیر ذبح کرنے سے حرام ہوگیا تو وہ سانس جو اللہ کے نا م کے بغیر گئی وہ کیا حرام نہیں ہوگئی؟ ۔انسانی خوراک کو ہضم کرنے کے لئے سانس کا نظام(Respiratory System) کام کرتا ہے وہ ہی خوراک جگر کے ذریعے خون پیدا کرتی ہے جو پورے جسم کو توانائی عطا کرتی ہے ۔اب اگر سانس حرام ہوگیا تو اِسکے اثرات ‘ خون کے بننے اور جب تک وہ خون جسم میں موجو د ہے تب تک اُسکے ساتھ ہیں ۔ اور یہی خون اگلی نسل میں منتقل ہوتا جاتا ہے اور یہ اثرات اُس میں بھی منتقل ہوتے جاتے ہیں جب تک اس مسئلے کا تدراک نہ کیا جائے اور انتہا روشن خیالی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ آپ کو بھی ساری بات سمجھ آچکی ہو گی ۔ حضرت سلطان محمد باہوؒ صاحب فرماتے ہیں کہ جو دم غافل سو دم کافر یعنی جو ایک سانس کیلئے غافل ہوا ۔سو سانسوں تک پھر ایمان کی رونق نہیں دیکھ سکے گا ۔ پس دل اور دماغ دونوں کو ابراہیمی مشن کی طرف راغب کرنا اور یادِ الہٰی سے معمور کرنا اہم ضرورت ہے
اب دن رات کا اکثر وقت اِن دونوں کی صفائی میں گزرے گا تو فرق معلوم ہوجائے گا ۔ انسان دن رات دنیا کے شغل اشغال اور فکرمیں غرق رہے اور یہ خیال کرے کہ ایک گھنٹہ پر اُسکے اثرات نہ ہوں کیونکہ دن بھر کی نمازوں پر ایک گھنٹہ ہی وقف ہوتا ہے تو یہ تو ناممکن نہیں مگر مشکل ضرور ہے لحاظہ 23گھنٹے کا اثر زیادہ ہو گا یا ایک گھنٹے کا اوراس عمل سے یہ صورتِ حال پیدا ہوگی کہ جلوہ تیری ذات کا سو بسو ہے جدھر دیکھتا ہوں تو ہی تو ہے ۔ وما توفیقی الا باللہ۔
ختم شد !


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 43
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 42
      [daily]x1adfk3_buttan-e-kalb-o-khird-rizwanyousaf-4-4-11_school[/daily] Buttan e Qalb o Khird.... By Rizwan Yousaf   Description:A Very Beautiful Lecture on Spiritualism "Butaan e Qalb o Khird " By Rizwan Yousaf . For More Lectures and Speeches Join Our Community and Visit Our Website.
  • 39
    ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں نہ تو دولت کی خوشی باقی ہے نہ غربت کے لئے صبر بلکہ خوشی اور صبر دونوں ہی فکر آلودہ اور غم انگیز ہیں۔ سب جذبات ایک دوسرے کے ساتھ گڈمڈ ہوکر کسی حد تک اپنی امتیازی خصوصیات سے محروم ہوچکے ہیں۔…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply