علامہ یوسف جبریل کی تین طویل نظمیں

015
raoofamir
جدید صنعتی شہر واہ کےقریب سےگذرتی ہوئی شاہراہ اعظم کےکنارےپرانی جوتیاں گانٹھنےوالےموچی کےپاس بان کی ٹوٹی ہوئی چارپائی پر اکثر و بیشتر ایک بابا بیٹھا نظر آتا ہی۔ سر پر پگڑی، پاوں میں ہوائی چپل دیہاتی طرز کا ڈھیلا ڈھالا لباس الجھی الجھی بکھری ہوئی زلفیں، اور غیر تراشیدہ بڑھی ہوئی داڑھی اس کی سفید رنگ کی رنگت اور لباس اپنا اصل رنگکھو چکےہیں اور سر اور داڑھی کےسفید بال مٹیالےہو چکےہیں۔ بظاہر تو یوں لگتا ہےجیسےیہ بابا ابھی ابھی قریب کےکھیتوں میں ہل چلا کر آیا ہی۔ لیکن اس کےہاتھ میں مفکرانہ انداز سےپکڑی ہوئی چائےکی پیالی اور اخبار پر جھکی ہوئی کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں اس کی تردید کرتی ہیں۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہی۔ یا شائید کوئی بھی نہیں جانتاکہ علامہ یوسف جبریل نام کا یہ بابا کس مقام و مرتبےکاآدمی ہی۔ شاہراہ اعظم سےگزرنےوالی صاحبان منصب کی کاروں سےاڑتی ہوئی دھول کیا خبر کہ وہ جس جسم کو میلا کر رہی ہی۔ اس میں ایک پہلو دار آئینےجیسی شخصیت پوشیدہ ہےجو رنگارنگ مناظر کےعکس رکھتی ہی۔ وہ ہمہ جہت شخصیت جو بیک وقت سائنس دان شاعر ادیب مذہبی مفکر اور ماہر معاشیات ہی۔
میں کسی بھی مبالغےاور بناوٹ سےقطع نظر یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں جب علامہ یوسف جبریل کےبارےمیں سوچتا ہوںتو مجھےیوں لگتا ہےکہ جیسےواہ کےقریب ملک آباد نام کی بستی جس میں علامہ یوسف جبریل رہتےہیں۔ پاکستان کا نہیں قدیم یونان کا کوئی حصہ ہو۔ اور علامہ یوسف جبریل کےجسم میں سقراط کی روح در آئی ہو ۔ میرےاس جملےپر نقادین ادب پہلےمسکرائیں گےاور پھر اسےتنقید کےجدید معیارات پر پورا اترنا دیکھ کر تاثراتی نوعیت کی تحریر کا نام دےدیں گی۔ میری یہ بات ایک شاعرانہ سوچ بھی ہو سکتی ہےلیکن حقیقت یہ ہےکہ علامہ یوسف جبریل نےسقراط سےزیادہ بڑا سچ بولا ہی۔
کیا یہ کم درجےکی صداقت کا اظہار ہےکہ دونوں سپر پاورز کےسب سےجدید اور سپر ہتھیارایٹم بم کی تھیوری کو بیک قلم رد کر دیا ہی۔ اور کہا جائےکہ تمہارےسائنس دانوں سےچودہ سو سال قبل مدینےمیں رہنےوالےایک امی نےیہ تھیوری دی تھی اور پھر یہ کہنا کیا کم درجےکی صداقت ہےکہ تمہاری مادی ترقی اورتمہارےجدید معاشرتی رویےپوری انسانیت کےقاتل ہیں ۔تم نےاس زمین کو آگ سےبھر دیا ہےجہاں پھول کھلنےتھی۔ تم نےاپنےممالک اور اپنےسیاسی نظریوں کےفروغ کےلئےتمام دنیا کو داوپرلگا دیا ہےاور یہ کہ اس دور میں اسلام کےزریں اصولوں سےہی تمہاری جلائی ہوئی اس آگ کو پھولوں میں بدلا جا سکتا ہی۔ قران حکیم کہتا ہےکہ مال گن گن کر رکھنےوالا خسارےمیں ہےلہذا تم خسارےمیں ہو اور اس کا حل یہ ہےکہ تقوی اختیار کرو تاکہ لمبےلمبےستونوں میں بند کی ہوئی یہ آگ تمہارےدلوں کو نہ جلائی۔
یہ تو علامہ یوسف جبریل کی پہلو دار شخصیت کا صرف ایک پہلو ہی۔ ان کےتمام پہلووں پر تو پوری کتاب کی ضرورت ہےاور مجھےاسوقت ان کی شاعرانہ حیثیت کا جائزہ لینا ہےاور اس میں بھی ان کی کتاب” نعرہ جبریل“ کی تین طویل نظموں کی تفہیم و تحسین کرنا ہی۔اس سلسلےمیں پہلی نظم ”نعرہ جبریل “ہی۔ پچاس بندوں پر مشتمل اس نظم میں کئی موضوعات بکھرےپڑےہیں۔ نظم کی بتدا میں علامہ یوسف جبریل فکر اقبال سےاپنی جذباتی وابستگی کا اظہار کرتےہیں اور اس وابستگی میں اس حد تک شدت ہےکہ جبریل اقبال کو اپنےارمانوں اورا منگوں کا روشن ستارہ قرار دیتےہیں۔
”نعرہ جبریل“ میں ایک بڑا موضوع عصر حاضر کا نئےعلوم و فنون اور ایٹمی ترقی پرفخر کےساتھ رقص کرنا ہی۔ ایٹم علامہ یوسف جبریل کاخاص موضوع ہےاور انہوں نےاپنی تمام عمر اس تحقیق میں صرف کر دی ہی۔ ان کی عمر بھر کی محنت کا ثمرہ ہی۔ ایٹمی آگ کےحوالےسےان کےدقیع نظریات کی ہلکی سی جھلک” نعرہ جبریل“ میں بھی نظر آتی ہی۔ وہ کہتےہیں کہ انسان کی اس تخلیق پر فلک طنز سےہنس رہا ہی۔ اور ”برق بےتاب ہےاس گھر کو جلانےکےلئی“ وہ ایٹمی ترقی کا محرک مادہ پرستی کو قرار دیتےہیں۔ ان کےخیال میں انسان نےانسان کو محکوم بنانےکےلئےیہ دام ہمرنگ زمین بچھایا ہی۔ بڑی طاقتیں چھوٹےممالک کو ایک تر نوالےسےزیادہ اہمیت نہیں دیتیں اور اپنی سیاسی برتری قائم رکھنےکےلئےاور جغرافیائی حدوں کو وسعت دینےکےلئےایٹم بم بنا رہی ہیں۔ اب وہ دن دور نہیں جب جہان رنگ وبو خاک میں مل جائےگا۔
یہ جہاں خاک ہوا خاک میں نمناک ہوا
قصہ اس دور میں آدم کا المناک ہوا
علامہ صاحب کےنزدیک مسلمانوں کےزوال کا اصل سبب یہی مادہ پرستی ہی۔ منبر مسجد اور محراب سب کےسب اس طوفان کی زد میں ہیں۔ یہ قحط الرجال کا دور ہےاور جنون اور عشق عقل کی قید میں ہیں۔ انسان نےمادی طور پر ترقی کی انتہائی حدوں کو چھو لیا ہی۔ لیکن روحانیت کافقدان ہےاور ایسا کیوں نہ ہو جب۔
دشت رقصاں ہیں بیاباں رقصاں ہیں
غوث اس دور کےرقصاں ہیں قطب رقصاں ہیں
علامہ صاحب نےمادیت کےاس دور میں روحانی اداروں کی تباہی کا بالکل صحیح نقشہ کھینچا ہی۔ آج ہم دیکھ سکتےہیں کہ غوث ، ولی قطب اور پیر دنیا پرست ہو گئےہیں اور لمبی لمبی کاریں اور فائیو سٹارہوٹل ان کی ملکیت ہیں۔ مذہب کےنام پر استحصال کرنےوالےاس طبقےکا بینک بیلنس اعداد و شمار کی حدوں میں بمشکل سماتا ہی۔ اب کہاں وہ فقر و غنا کےپیکر، اسوة رسول ا کےچلتےپھرتےنمونےجن کےدلوں میں ایمان کی روشنی تھی۔ اور جو بھٹکےہووں کو نشان راہ دکھاتےتھےآج کےدولت پرست غوث اورقطب تضاد کےشکار ہیں۔ ان کےدلوں پر مادیت کی کالک اور ان کےشیش محل بقعہ نور بنےہوئےہیں۔
گھر پیر کا بجلی کےچراغوں سےہےروشن
ہم تم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
”نعرہ جبریل“ کا چوتھا بڑا موضوع معاشی ناہمواری ہی۔ معاشی ناہمواری جو کہیں افسراور ماتحت ،صنعت کار اور مزدور اور کہیں جاگیر دار اور مزارعہ کی قبیح شکل میں موجود ہی۔ معاشی ناہمواری جس نےایک آدم کی آل کو مختلف طبقوں میں بانٹ دیا ہی۔ علامہ یوسف جبریل نےاس کےلئےبالکل نئی تشبیہ وضع کی ہی۔ وہ کہتےہیں کہ گندم کےڈھیر تو پہاڑوں سےبھی بلند ہو رہےہیں لیکن پھر بھی بھوک اور افلاس نےہر سو ڈیرےڈالےہوئےہیں۔ وہ کہتےہیں کہ اس ناانصافی پر کسان اپنےکھیت میں کھڑا رو رہا ہےاور مزدور کی حالت پر منظربھی نم دیدہ ہو گئےہیں۔ وہ کہتےہیں کہ ملوں کا بجٹ روز و شب بڑھتا چلا جاتا ہےلیکن مزدور کی عمر گھٹنی چلی جارہی ہےاور وہ کٹتا چلاجا رہا ہے۔ علامہ صاحب یہاں پر غریبوں کا لہو چوس کےپینےوالےمزدوروں کی کمر توڑ کےجینےوالےاور فانی دنیا میں دفینوں پر دفینےجمع کرنےوالےطبقےسےکہتےہیں ۔
اگلی دنیا کےٹھکانےکا بھی کچھ زاد کرو
سفر اس منزل ِآخر کا بھی کچھ یاد کرو
”نعرہ جبریل“ میں علامہ صاحب نےعلم کےحوالےسےماضی اور حال کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا ہی۔ وہ کہتےہیں کہ ماضی کےان پڑھ بھی اہل دل ، اہل خرد، اہل شرم، اور اہل شرف تھی۔ آج علم و دانش کی فراوانی ہےلیکن یہ علم تعقل و تفکر پیدا نہیں کرتا بلکہ نادان بناتا ہے۔ یہ علم ان کو انسانیت کی ارفع و منازل سےآشنا نہیں کرتا۔
چند اوراقِ پریشان میں پریشاں ہونا
بسکہ آسان ہےنئےدور میں انساں ہونا
یہاں پر علامہ صاحب پر شکوہ ماضی کو یاد کرتےہیں۔ اور بدحالی پر اشک بہاتےہیں۔
شمعِ مسجد کی شعاوں سےوہ انوار گئی
نورِ عرفاں کی تجلی کے طلبگار گئی
سعدی اس دور سےراہی ہوئےعطار گئی
تھی وہ مولا کی جنہیں حسرتِ دیدار گئی
اب ستوں مسجدِ ویراں کا کھڑا روتا ہی
اور قراں کا عَلَمدار پڑا سوتا ہی
پر شکوہ ماضی اور عظیم روایات کےحوالےسےان کی فکر بھی اقبال کی روحانیت کےدائرےمیں آتی ہی۔ اور یہ بھی پھر سےعظیم ماضی کی عملداری دیکھنےکےمتنمنی ہیں۔
”پھر اذانیں ہوں زمانےمیں حدی خوانوں کی“
نظم ”نعرہ جبریل“ میں دولت کو خدا اور درد کی دوا مان لینےکی طرف بھی اشارہ ملتا ہےاور تہذیب کی شکست و ریخت پر اظہارافسوس بھی ہی۔ اور یہ سب کچھ کیوںنہ ہو جب کہ باپ اور بیٹےمیں تکرار ہی۔تہذیب و تمدن تباہ ہیں۔اور اقدار سب اجڑ چکی ہی۔ انسان چیتےسےبڑھ کر خونخوار ہو گیا ہےاور سانپ کی طرح جھنجھلایا ہوا رہتا ہی۔ علامہ صاحب کےبقول انسان نےخود اپنےپاوں پر کلہاڑی چلائی ہی۔
اپنی کرنی ہےکہ انسان پر تباہی آئی
اس نےافسوس کہ جو چیز نہ چاہی آئی
فنی لحاظ سےاس نظم میں مسدس کی ہیئت استعمال کی گئی ہی۔ نظم کاتقاضا تھا اور مسدس ہونےکےناطےاس میںیہ گنجائش بھی موجود تھی کہ اس میں خیالات کو ایک تسلسل کےساتھ بیان کیا جاتا۔لیکن اس نظم میں غزل کی سی ریزہ خیالی پائی جاتی ہی۔ اگر ایک ہی موضوع سےمطابقت رکھنےوالنےمختلف بندوں کو ایک ترتیب میں لایا جاتا۔ تو خیالات کی تفہیم سہل ہو سکتی تھی۔ اس نظم میں کئی فنی محاسن ملتےہیں۔ مثلا َوہ فارسی تراکیب استعمال کی گئی ہیں جو اردو کےمزاج سےہم آہنگ ہیں ایک جگہ عربی کی پوری آیت استعمال کی گئی ہےلیکن اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔
”اےتعز و تذل من تشاءمان لیا“
ایک مقام پر تکرار لفظی سےبھی الفاظ کا جادو جگایا گیا ہی۔ اردو ادب میں اس کو شعری حسن قرار دیا جاتا ہےاور میر اور انیس وغیرہ کےہاں ناقدین نےاس کا کھوج لگایا ہی۔ مثال کےطور پر میر کےایک شعر کےمصرعہ ثانی میں جیم کی تکرار دیکھئی۔
”جانےنہ جانےگل ہی نہ جانےباغ تو سارا جانےہی“
لیکن علامہ صاحب کےہاں ایک بند میں خاک کی تکرار کو جس طرح اس کی معنویت کےتناظر میں اجاگر کیا گیا ہےوہ ان کی زبان فہمی کا منہ بولتا ثبوت ہی۔
خاک داں خاک کےخاروں میں گرفتار ہوا
خاک راں خاک کےغاروں میں گرفتار ہوا
خاک بیں خاک کےتاروں میں گرفتار ہوا
خاک خواں خاک کےپاروں میں گرفتار ہوا
یہ جہاں خاک ہوا خاک میں نمناک ہوا
قصہ اس دور میں آدم کا المناک ہوا
ٹی ایس ایلیٹ نےروایات کےشعور پر زور دیتےہوئےکہاتھا ” کہ ہر عظیم شاعر کو اپنی روایات سےمکمل طور پر آگاہ ہونا اور اس سےاستفادہ کرنا چاہیی“۔ علامہ صاحب کےہاں اردو کی کلاسیکی روایت سےچراغ سےچراغ جلانےکا عمل بھی ملتاہی۔ مثلا غالب کااثر دیکھئی۔
چند اوراقِ پریشاں میں پریشاں ہونا
بسکہ آسان ہےنئےدور میں انساں ہونا
یوں تو علامہ صاحب کی نظم میں فکر کا عنصر غالب ہےاور اس کےاظہار کےلئےزبان بھی بھاری بھر کم استعمال کی گئی ہی۔ لیکن بعض مقامات پرلطیف ترین لہجےکےالفاظ بھی ملتےہیں اور کئی بندوں میں تعزل کا عنصر پیدا ہو گیا ہی۔ تعزل کی چاشنی اور غزل کی سی کیفیات لئےہوئےکچھ بند دیکھئی:۔
بات جبریل کی افلاک و سماوا بھی سنیں
دل کی موجوں میں سسکتےہوئےدریا بھی سنیں
گلِ رعنا بھی سنیں نرگسِ شہلا بھی سنیں
سینہءارض پہ تَپ تےہوئےصحرا بھی سنیں
اےپہ ھیہات کہ اس لفظ کو انساں نہ سنیں
آشکاراس میں ہےجس درد کا درماں نہ سنیں
یا پھر:
کارواں سیلِ خرافاتی و منزل خالی
دوستاں ترک موالاتی و محفل خالی
پاسباں ننگِ خرافاتی و محمل خالی
کون سمجھےگا مرےدوست یہ مشکل خالی
اپنےویرانہءدل کی یہ ویرانی دیکھ
اپنی حیرت پہ زمانےکی یہ حیرانی دیکھ
یا پھر ایک شعر دیکھئےجس میں دبستان دہلی کےاساتذہ کا سا رنگ در آیا ہی۔
جو غریبوں کا لہو پی کےجواں ہوتےہیں
ناز و غمزہ میں وہ کیا رشک بتاں ہوتےہیں
دوسری طویل نظم ”گلبانگِ ِ صدارت“ زمانی ترتیب کےلحاظ سے یہ نظم1970 ءکےالیکشن سےقبل لکھی گئی۔ اس میں ایک آیئڈل سربراہِ ِ مملکت کی تصویر کشی کی گئی ہےاور اس حوالےسےیہ علامہ یوسف جبریل کا سیاسی منشور بھی قرار پایا ہی۔ ملکی نظم و نسق چلانےکےلئےعلامہ صاحب خلافت کےنظام کی آرزو کرتےہیں اور ا ن کی خیالی اسلامی ریاست میں اللہ کی حاکمیت اُ س کےنیک بندوں کےذریعےقائم ہوتی ہی۔ اس نظم میںعلامہ یوسف جبریل ملک کےصدر بن کر جس مسئلےکو پہلےحل کرنےکےمتمنی ہیں وہ مسئلہ کشمیر ہے۔
دل میں کانٹا ہےیہ کشمیر نکالوں اس کو
اپنی گردن میں ہےزنجیر کٹا لوں اس کو
کشمیر کےبعد وہ بیت المقدس کی آزادی کو اپنا مرکز بناتےہیں۔ قدس کو وہ جان و دل کا نذرانہ پیش کرتےہیں اور ا ُ س کےدامن کو پھولوں سےبھر دینا چاہتےہیں۔ وہ فرماتےہیں:۔
جان و دل دےکےادا سجدہ شکرانہ کروں
اےمرےقدس تجھےپیش یہ نذرانہ کروں
وہ ایک صدر کےلئےیہ خواہش بھی رکھتےہیں کہ وہ طاقت کےاستعمال سےبرائی کو روکی۔ وہ سود خواروں منافقوں باغیوں مشرکوں اور جابروں کو ختم کر دیناچاہتےہیں تاکہ بندہِ مجبور کی مشکلیں آسان ہو جائیں۔ وہ قانونِ ِ الہی کو عملاً نافذ کرنا چاہتےہیںاور فکرِ ِ ابلیسِ ِ فرنگی کو مکمل طور پر تباہ کرنےکےآرزومند ہیں۔ اس نظم میں اُ نہوں نےملک میں عدل و انصاف کےحصول میں درپیش مشکلات کےپیشِ نظر عدالتی نظام پر کڑی تنقید کی ہی۔
کیا یہی عدل ہے انصاف اسے کہتے ہیں
بن کےخوں عدل کےدریا بھی کہیں بہتےہیں
اس کےعلاوہ انہوں نےرشوت اور سود کےنظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہی۔ دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کی بھی مذمت کرتےہیں اور سوشلزم اور سرمایہ داری دونوں کو ہدفِ تنقید بناتےہیں ۔ اُ ن کےبر عکس وہ اسلام کےنظامِ معیشت کےداعی ہیں ۔ وہ اس نظام کو حُسن خیر اور صداقت کا منبع قرار دیتےہیں۔ وہ اُ متِ ِ مرحوم کی طاقت شوکت عظمت اور ہیبت کو یاد کرتےہیں اور اقبال کےپُر شکوہ ماضی سےوابستگی کےروحانی رویےسےاپنارشتہ جوڑتےہیں۔ وہ کہتےہیں کہ مسلمان ہی حاصلِ تقدیر ہےاور اس عالم ِ بےتاج کا وارث بھی وہی ہے۔ یہاں پر وہ اقبال کےہمنوا نظر آتےہیں اور اُ ن کا کلام اقبال کے”کی محمد سےوفا تو نےتو ہم تیرےہیں“۔ والےشعر کی توضیح و تشریح کی شکل دکھائی دیتا ہے۔ ”گلبانگِ ِ صدارت“ میںعلامہ یوسف جبریل ایک حکمران کےخصائص کا ذکر کرتےہوئےکہتےہیں۔ کہ اُ سےقاہر آمر اور مغرور نہیں ہونا چا ہئےبلکہ وہ رسمِ ِ سلطانیءجمہور کو نباہنےوالا ہو ۔ اس نظم کےآخر میں اُ ن کےہاں قلندری اور بےنیازی نظر آتی ہےاور وہ دنیا کو ایک درویشانہ ٹھوکر لگا کر کہتےہیں ۔
اک جَو میں نہ خریدوں میں شہنشاہی کو
میں پئےتحت نہ دوں دل کی جگر کاہی کو
” گلبانگِ ِ صدارت“ کےفنی محاسن میں ایک حُسن تو ان کی ایک مقام پر قافیےکی جدتہی۔ اُ نہوں نےتوجیہ تنبیہ اور تہیہ کےاجنبی لیکن دل کو بھانےوالےقافیےاستعمال کئےہیں۔ ایک مقام پر دو مصرعوں میں حرفِ ِ علت کی غیر موجودگی بھی فنی حسن کا باعث بنی ہے۔
دفتروں، خیمہ گہوں، مسجدوں، ایوانوں میں
درگہوں، مردہ گھروں، معبدوں، زندانوں میں
” نعرہِ جبریل“ کی طرح ”گلبانگ ِ صدارت“ کےبعض اشعار بھی تعزل کی منہ بولتی تصویر ہیں۔
عدل و انصاف کےپردےمیں یہ کیا لُٹتی ہی
قصرِ جنت کےجھروکوں میں صبا لُٹتی ہی
یا پھر
فصل گل لا کےبہاروں میں چراغاں کر دو
پھول برسا کےرخِ ارض کو داماں کر دو
” نعرہِ ِ جبریل“ نامی کتاب میں ایک اور طویل نظم ” نوید صبح “ یعنی مومن کا منشور ہی۔ ہیئت کےحوالےسےیہ نظم چھ مختلف حصوں میں منقسم ہے۔ اِ ن میں سے”کرامت والے“ حصےکو چھوڑ کر کیونکہ اس میں مطلع کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ باقی سب کو غزلِ ِ مسلسل کا نام دیا جا سکتا ہی۔ اس نظم کےپہلےحصےکو”ہوش کریں“ کا عنوان دیا گیا ہی۔ عنصر” ہوش کریں“ کی ردیف جہاں اس کو تاثر کی وحدت میں پروتی ہےوہاں نظم میں بلند آہنگی بھی پیدا کرتی ہے۔یوں لگتا
ہےجیسےعلامہ یوسف جبریل قوم کو اس کی خامیوں پر سخت انداز میں متنبہ کر رہےہوں۔ فکری حوالےسےاس نظم میں بھی جبریل کی دیگر نظموں کےمضامین کی تکرار ہی۔ وہی معاشی نا ہمواری وہی عدل و انصاف کا فقدان طبقاتی اونچ نیچ اور امراءکےغریبوں پر مظالم۔علامہ یوسف جبریل اس کشمکش کو بیان کرتےہوئےایک مقام پر کہتےہیں ۔
صبر کرتےہیں اگر خونِ جگر پی کےغریب
ان امیروں سےبھی کہہ دو کہ ذرا ہوش کریں
جو جلاتےہیں غریبوں کو سنبھل جائیں وہ
جو جلاتے ہیں غریبوں کا دیا ہوش کریں
اس نظم کےایک شعر پر میں اپنےتاثر کا اظہار کئےبغیر نہیں رہ سکتا میرےخیال کےمطابق اس ایک شعر میں دنیا بھر کا درد کوٹ کر بھرا ہوا ہی۔
کس کا کرتہ ہے یہ پیوند ہیں چودہ جس میں
درسِ عبرت ہےمرےشاہ و گدا ہوش کریں
یوں لگتا ہےجیسےہماریآنکھوں کےسامنےوہی منظر گھوم رہا ہےجب سرور ِ کائنات صلےاللہ علیہ وآلہ وسلم بان کی چٹائی پر سو کر اُ ٹھےتھےاورآپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشتِ ِ مبارک پر اُ س کےنشان دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم رو پڑےتھی۔”مومن کا منشور “ کا دوسرا حصہ ”خوابِ جبریل“ ہے۔ جو ٥٣ اشعار پر مشتمل ہےاس میں” ہوں گی“ کی ردیف اس سہانےمستقبل کی جھلک دکھائی دیتی ہی۔
مصطفے دورِ بہاراں کےپیعمبر ہوں گی
محفلآرائے جہاں ساقیئِ کوثر ہوں گی
آگےچل کر اس میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا ذکر ہےاور خلافت کی تشکیلِ ِ نو کا خواب ہے۔علامہ یوسف جبریل ایک نئےدور کیآمد کا ذکر کرتےہیں جب دنیا سےجبر اور ظلم کا خاتمہ ہو جائیگا اور جس دور میں فرعون صفت حکمرانوں کےسر نگوں ہو جائیں گے۔شاخِِ ملت پہ تازہ
پھول کھلیں گےاور ان کی خوشبو فضاوں کو معطر کر دےگی۔ یہاں پر نئےدور کےلیڈر مردِ مومن ہوں گےاور جبریل کی یہ فکر بھی اقبال کےمردِ مومن کےتصور کا تسلسل ہی۔ نظم کا تیسرا حصہ بھی ”خواب “ ہی ہی۔ اس میں مردِ مومن کےانقلابی اقدام کا ذکر ہےجب اسکی نگاہ رگِ ِ کفر پر نشتر ثابت ہو گی۔ یہاں وہ قوانینِ ِ الہی کےعملاً غلبےکا ذکر کرتےہیں جس کےبعد زندگی میں موجود افراط و تفریط ختم ہو جائےگی اور وہ اک عجب حُسنِ ِ توازن سےبرابر ہو جائےگی ۔ علامہ صاحب کا خاص موضوع سائنس ہےاور وہ اس کی جدید ترین دریافتایٹم کا ماخذ قرانِ ِ حکیم کو قرار دیتےہیں ۔ اس نظم میں اس امر کا بھی ہلکا سا اشارہ ملتا ہےکہ سائنس مذہب کےتابع ہو گی۔ نظم کےچوتھےحصےکو ”کرامت ہوں گی “ کا عنوان دیا گیا ہی۔ نو اشعار کی اس نظم کا مرکزی خیال یہ ہےکہ مردِ ِ مومن کی اذانیں ہر سو پھیل جائیں گی اور باطل منہ چھپانےکو دوڑتا پھرےگا ۔ ” نویدِ صبح “ کا پانچواں حصہ ” اثر کرنا ہے“ کےعنوان سےہےاس میں دلوں میں عشقِ صادق پیدا کرنےکا عزم ہےاور عدل و انصاف اس کا بھی موضوع ہی۔ اس نظم میں ایک انقلابی لائحہ عمل تجویز کرتےہوئےعلامہ یوسف جبریل شدید ترین جذباتیت سےکام لیتےہیں۔
تازہ کرنی ہےوہی اکبر و اصغر کی مثال
اپنےبچوں کو بھی اب سینہ سپر کرنا ہی
اپنےوعدوں کو وفا کرکےدکھانا ہےہمیں
ہم نےکونپل کو لہو دےکےشجر کرنا ہی
اےزمانےمیں درِ حرص پہ جھکنےوالو
اب تو سمجھو کہ تمھیں سجدہ کدھر کرنا ہی
اس نظم کا چھٹا اورآخری حصہ ” اسلام کا معا شی نظام“ ہےاس سےپہلےتینوں نظموں میں جبریل کےہاں معاشی انصاف کا ذکرجا بجا بکھرا پڑا ہےلیکن یہاں وہ معاشی نظام کےبارےمیں اپنےنظریات کھل کر بیان کرتےہیں۔ اس نظم کےما خذ قران حکیم اور احادیث ہیں ۔ وہ قران حکیم کا حوالہ دیتےہوئےکہتےہیں کہ ”ایسا نہ ہو کہ دولت تمھارےامراءکےہاتھوں میں ہی گردش کرتی رہے“۔ یہاں وہ ارتکازِ ِ زر کا عملاً سد باب کرتےہیںاور ادنی اور اعلیٰ کےدرمیان ایک وسط ِ سلیم کا ذکر کرتےہیں ۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کا حوالہ بھی دیتےہیں کہ زمین اس کی ہےجو خود کاشت کرےاور مزارعت سود ہےاور اُس کےساتھ ساتھ فرد کی ملکیت کےحق سےتشکیل پاتا ہے۔ کسی ایک شاعر یا ادیب کا اسلوب دوسرےکےاسلوب سےنہیں ملتا البتہ بعض مخصوص حالات کی بنا پر اسلوب کےکچھنہ کچھ اثرات مرتب ہوتےہیں۔مثال کےطور پر تقسیمِ ِ بر صغیر کےمرحلےپر ناصر کا ظمی نےمیر کی تقلید کی اور اس کےرنگ میں غزلیں کہیں۔ اس کی وجہ دونوں کےعہد کےسیاسی حالات کی مماثلت میں تلاش کی جاتی ہی۔ عام طور پر عظیم شاعر کا اسلوب ناقابلِ تقلید ہوتا ہی۔ اس کےلئےاردو ادب میں غالب اور اقبال کی مثال دی جا سکتی ہی۔ کچھ شعراءپر کہیں کہیں ان کا ہلکا سا عکس تو پڑتا ہےلیکن مکمل طور پر اُ ن کےرنگ کو نہ اپنایا جا سکا
۔ہمارےہاں اقبال ایک مستقل مطالعےکی حیثیت اختیار کر چکا ہی۔ اور ناقدینِ اقبال تحقیق کےنئےآفاق دریافت کر رہےہیں۔ اس وقت جبریل ایک ایسےشاعر نظر آتےہیں۔ جن کا کلام غالب حد تک اقبال کےرنگ میں رنگا ہو ا ہی۔ وہی علامات وہی بحور وہی تراکیب وہیآہنگ اور وہی توانا لہجہ اس حوالےسےبھی ناقدینِ اقبال کےلئےکلامِ جبریل کا مطالعہ دلچسپی کا باعث ہو گا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ نغمئہ ِ جبریل اس وقت فضاوں میں رس گھول رہا ہےلیکن ہم محرومِ سماعت ہو چکےہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر روف امیر
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 41
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 36
    ”میرے٢٢ اپریل کےاقراءکےمضمون کےسلسلہ میں مختلف نادیدہ دوستوں کےتاثرات پر مشتمل خطوط موصول ہو رہےہیں۔ جن میں تحسین اور مذمت و ذم دونوں کا پہلو موجود ہے۔اگرچہ ان کی حیثیت نجی ہی۔ لیکن خصوصیت سےایک پروفیسر جناب عبد الرحمن صاحب شعبہءکیمیاءکےخط کےمندرجات جستہ جستہ مقامات سےقارئین کی دلچسپی کےلئےپیش ہیں۔…
  • 36
    حطمہ کی اہمیت پر نقاط تحریر شوکت محمود اعوان 1962 ءمیں علامہ محمد یوسف جبریل کو قرآن حکیم میں حطمہ( ایٹمی سائنس اور قران حکیم )کےبارےمیں انکشاف ہوا ۔ حطمہ کےبارےمیں آقا نبی کریم اور صحابہ کرام کےارشادات موجود ہیں۔ بعد میں مفسرین کرام نےاس پر خصوصی تحقیق کی اور…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply