”تم پاگل ہو“تحریرپروفیسر محمد عارف سیمابی

028

arifseemabi

مدثر منظور نادر کا تازہ شعری مجموعہ” تم پاگل ہو“ ان کی نظموں ، غزلوں اور ریڈیائی پروگرام” شہر غزل“ کےچند منتخب نثری ابتدائیوں پر مشتمل ہی۔ مولانا الطاف حسین حالی نےاردو تنقید کی بنیاد رکھی اور” مقدمہ شعرو شاعری“ میں شعر کی تعریف ،شاعری کی ابتدائی شرائط پر تفصیلی بحث کی ہی۔جس سےنوآموز اور ثقہ بند شعراءہر دو کو فکری رہنمائی اور فنی بصیرت حاصل ہوتی ہی۔ لہذا فن شعر سےوابستہ نوجوانوں کو اس شہرہءآفاق تصنیف کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیئی۔ مدثر منظور نادر کی شاعرانہ صلاحیت اور فکر و تخیل کی جولانی کو بھی صحیح سمتِ فکر کی ضرورت ہی۔ کیونکہ اس کی موجودہ شاعری اپنےخام مواد، داخلی تجربات ،جذبات و احساسات اور قوت مشاہدہ کےاعتبار سےمرصع اسلوب بیان کےاوصاف سےابھی مکمل طور پر بہرہ یاب نہیں ہو سکی ۔ کیونکہ وہ آغازِ شعر کےمراحل میں ہے۔ا ردو کی کلاسیکل اور جدید شاعری کےعمیق مطالعےاور مروجہ ادبی تحریکوں سےدرست اکتساب فیض اس کےفکر و فن کو جلا بخشنےمیں مہمیز کا کام دےگا۔ مدثر منظور نادر کی نظموں میں فطری بہاو ،روانی ،موسیقیت ،ایجاز و اختصار کی خصوصیات اپنی ابتدائی شکل و صورت میں ضرور جلوہ گر ہوئی ہیں ۔ اس کی نظم ” تم پاگل ہو “ اور ” سب مایہ ہے“ کےمطالعہ سےیہ پتہ چلتا ہےکہ شاعر نےزندگی کی تلخ حقیقتوں ، ابدی صداقتوں اور آفاقی سچائیوں کی تلاش و جستجو کےسفر کا آغاز کردیا ہی۔ معمولی فروگذاشتوں سےقطع نظر مدثر کی قوتِ متخیلہ ، حیرت انگیز اور اچھوتےموضوعات کی طرف مائل بہ پرواز ہےجو کہ یقینا ایک لائق تحسین اقدام ہی۔ اچھا غزل گو ہی اچھی نظم کہنےپر قدرت رکھتا ہی۔ مدثر نادر کی علم عروض اور بحور و اوزان سےناواقفیت اس کےتخلیقی سفر میں سب سےبڑی رکاوٹ ہی۔ نئےلکھنےوالوں کےلئےمحمد یعقوب آسی نےاپنی تصنیف ”فاعلات“ میںعروضی مسائل پر سیر حاصل بحث کی ہی۔ امید ہےکہ مدثر منظور نادر” فاعلات“ کےمطالعے ،فنی ریاضت اور محنت و مشقت کےذریعےآئندہ شعری مجموعہ میں بہتر طور پر سامنےآ ئےگا۔ ”یہ وقت وقت کی بات ہی“ ۔” اس دل کا خدایا کیا کروں“ کو تھوڑی سی محنت اور توجہ سے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مدثر منطور نادر کی منظومات کو نثری منظومات قرار دیا جائےاور وہ غزل کی بجائےنثری نظم پر زور دےتو فاخرہ بتول اور فرحت عباس شاہ کی طرح اردو نظم کےنثری طرز اظہار میں جدت، نکھار ، تازگی اور ارتکارز توجہ کےفروغ کا باعث بن سکےگا۔ آزاد غزل اور مکالماتی غزل کےتجربوں اور آزاد نظم میں بھی پابند ہیئت کےساتھ ساتھ موسیقی آشنا لحن کی ضرورت ہوتی ہی۔ لہذا مدثر منظورنادر کو بھی شعری آہنگ سےآشنائی پیدا کرنی چاہیئی۔ اردو کےمعروف شعراءداغ دہلوی اور ناصر کاظمی کی سادگی و پرکاری نوآموز شعراءکی تربیت میں اہم کردار ادا کرسکتی ہی۔ شاعری ایک انتہائی مشکل اور اوگھٹ گھاٹی ہی۔ جہاں سےبا حفاظت گزرنےکےلئےحزم و احتیاط کی ضرورت ہی۔ ورنہ فرحت عباس شاہ جیسےشعرا ءمتعدد شعری مجموعوں کی اشاعت کےباوجود ادبی دنیا میں غیر معمولی مقام و مرتبہ اور مستند ادبی شناخت حاصل نہیں کر سکی۔ وصی شاہ” مجھےصندل کردو‘ جیسےشعری مجموعےکےبیسووں ایڈیشنوں کی اشاعت کےبعد بھی معتبر ادبی حلقوں اور معیاری ادبی پرچوں میں اپنی کوئی پہچان نہیں بنا سکےکیونکہ ان کی مشہور نظم ” کاش میں تیرےحسین ہاتھ کا کنگن ہوتا “ صرف مجید امجد کی نظم” بندا“ کےکلیشےکےسوا کچھ ادبی اہمیت نہیں رکھتی ۔ جب کہ دوسری طرف اردو غزل میں ایسےشعرا بھی ہیں جو محض اپنےایک شعر کی بنا پر اردو کی ادبی دنیا میں ابدالاباد حیثیت کےحامل ہیں ۔ جن میں واہ کینٹ کےمشہور شاعر سید سبط علی صبا کا ایک شعر اہم مثال ہی۔
دیوار کیا گری میرےخستہ مکاں کی
لوگوں نےمیرےصحن میں رستےبنا لئی
مدثرمنظور نادر الفاظ و تراکیب کےحسن استعمال کی صلاحیت سےمالا مال ہے۔قدرت کاملہ نےاسےذہن رسا اور قوت متخلیہ کی جولانگاہ سےنواز ا ہی۔ وہ بارگاہ ایزدی سےسوچنےسمجھنےکی خصوصی استعداد لےکےآیا ہی۔ شعر فہمی کےاوصاف سےبھی متصف ہے۔وہ اپنےاظہار بیان کی قوت سےکام لےکر اعلیٰ فن پاروں تک رسائی حاصل کری۔ آسان، سادہ اور مختصر بحور میںطبع آزمائی کرے۔جدید عصری حسیت کےنئےنویلےذائقوں کےرنگ رس کو محسوس کرکےقلم اٹھائےتو انشاءاللہ بہت جلد نہ صرف ہفت افلاک کو چھو لےگا۔ بلکہ ستارےاس کی گرد راہ ہوں گی۔
مدثرمنظور نادر کےنثر پاروں پر نظر ڈالنےسےپتہ چلتا ہےکہ اگر وہ اردو کی صنف نثر انشائیہ کو اپنےلئےذریعہءاظہار بنائے۔وہ اپنا تخلیقی وژن شعر گوئی کےعلاوہ نثر کےلئےبھی آلہءکار گردانےتو شاندار ادبی مستقبل اس کا منتظر ہی۔ کیونکہ وہ ماورائےعصر خوشبو سےآشنا ہے۔ رومانوی اسلوب فکر اس کی شناخت ہے۔ سجاد حیدر یلدرم ،نیاز فتح پوری، مرزا ادیب جیسےبلند پایہ رومانوی اہل قلم کی کاوشوں کےبعد اس مخصوص اسلوب بیان کو زور و شور سےنہیں اپنایا گیا ۔ راجہ انور کی” جھوٹےروپ کا درشن“ رومانوی اسلوب کی ایک شاہکار کتاب سمجھی جاتی ہی۔ مدثر منظور نادر کا نثری میلان طبع لائق تحسین اور اس کےنثری ٹکڑےواقعی دلنشین ہیں
اللہ کرےزور قلم اور زیادہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر محمد عارف سیمابی
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

  • pdf Tum Paghal ho
    Tum Paghal ho by Prof Arif
    File size: 158 KB Downloads: 48

Related Posts

  • 38
    علامہ محمد یوسف جبریل کا تازہ شعری مجموعہ ” خوابِ جبریل“ حال ہی میں منظر ِعام پر آیا ہےجس میںان کی طویل نظم ”گریہ ءنیم شبی“ خواب جبریل کےعنوان سے٤١ نظمیں ، لائحہ عمل (٢ منظومات) فرقان ( ایک نظم) معجزہ (٣نظمیں) نوید صبح (٢نظمیں) دعا ئیءنیمہ شب ، اسلامی…
  • 36
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply