واہ کا ادبی منظر نامہ

021

talibinsari


واہ قدیم شہر ٹیکسلا کےسنگم پر واقع ہی۔ ازمنہءقدیم میں ٹیکسلا گندھارا تہذیب کی راجدھانی رہا ہی۔ دور دراز سےتجارتی قافلےآتی، یہاں پر پڑاوکرتےاور اہل ہنر و صاحبان سیف و قلیم کا بھی یہاں پر اجتماع رہتا۔ ایک زمانےمیں علم و ہنر کےحوالےسےٹیکسلا کا پورےعالم میں ڈنکا بجتا تھا اور یہاں کےارباب دانش ، فلاسفہ یونان کا مقابلہ کرتےنظر آتی۔ ارتھ شاستر کےمصنف کو ٹلیہ کا تعلق بھی ٹیکسلا ہی سےتھا۔ سرور زمانہ سےٹیکسلا بار بار حملوں کی زد میں رہا اوراس کی تہذیب کےآّثار وقت کی گرد میں چلےگئےاور بالآخر مختصر سی آبادی پر مشتمل ایک غیراہم قصبہ بن کر رہ گیا۔ قیام پاکستان کےبعد وطن عزیز کی دفاعی ضروریات کےپیش نظر جب واہ کی زمین کو اسلحہ ساز فیکٹریوں کےلئےمنتخب کیا گیا تو ایک دفعہ پھر اس علاقہ میں ہنرمندوں اور صاحبان علم کااکٹھ ہونا شروع ہو گیااور یوں اس علاقہ کی عظمت رفتہ کا احیاءہونےلگا۔
واہ کئی اعتبار سےامتیازی اوصاف کا حامل ہی۔ صنعتی ترقی اور تعلیمی ترقی تو لائق تحسین ہےہی، اس کےساتھ ساتھ علم و ادب کےفروغ میں واہ کی خدمات کسی سےڈھکی چھپی نہیں۔ اس مضمون کا تعلق ان شخصیات کےمختصر سےتذکرےسےہےجن کا واہ کی علمی و ادبی ترقی میں نمایاں حصہ ہی۔ ایسےباکمال افراد واہ کا تہذیبی ورثہ ہیں ۔کیسےکیسےنابغہءروزگار نےواہ کو اپنا مسکن بنایا۔ کچھ یہیں پیوند خاک ہو گئی۔ کچھ مدت ملازمت پورےکرنےکےبعد بڑےشہروں میں جا آباد ہوئی۔ واہ میں ادب کےفروغ کےلئےان حضرات کی کوششیں ناقابل فراموش ہیں۔ میں جب واہ کےدرودیوار پر نظر ڈالتا ہوں تو طرح طرح کی آوازیں میرا گھیراوکر لیتی ہیں۔ کچھ آوازیں مدھم ہیں اور کچھ اتنی اونچی کہ اب بھی ان کی بازگشت سنائی دیتی ہی۔ اتنی توانا کہ ان کےنقوش صرف واہ کی فضاوں کےمحتاج نہ تھےبلکہ ملکی سطح پر بھی ان کی پہچان بن چکی تھی۔
شاعری کےحوالےسےواہ سےمتعلقہ شخصیات کااگر تفصیلی مطالعہ کیا جائےتو ایک ضحیم کتاب وجود میں آسکتی ہی۔ بعض شخصیات ایسی ہیں کہ فردا فرداََ تفصیلی مطالعہ کا استحقاق رکھتی ہیں۔ اگر اس مضمون میں ان تمام شخصیات کا بالتفصیل تذکرہ کیا جائےتو مضمون لیلی کی زلف کی طرح دراز ہو جائےگا۔ تاہم درج ذیل ناموں سےاندازہ ہو جائےگا کہ آسمان ادب کےکیسےکیسےنجم و کواکب نےواہ کی زمین کو منور کیا۔چند دوستوں کےنام تحریرکئےجاتےہیں۔جلیل عالی،جاوید ظفر خان،جمال لکھنوی، ظفری پاشا،ظفر ابن متین، حفیظ بادل،حسن ناصر،حلیم قریشی، نذیر احمد شیخ،نثار ناسک،نظیر اختر، نوشیروان عادل،سلمان عادل،سبط علی صبا، سید اختر،سید مبارک علی،ساجد محمود ساجد،سلمان باسط، سید اختر،سید اقبال خوارزمی، رفیق نشتر،راکب راجا، رانا سعید دوشی،راز مرادآبادی،روف امیر، الیاس صدا، اظہار الحق،ارشد علی ارشد، امجداقبال،امتیاز عارف،احمد جمیل،ایس اےعلوی، آصف منہاس، امان اللہ خان،ابن الحسن سید،اختر شاد،ایوب اختر،اکمل ارتقائی،امجد شہزاد، بشیر حسین صمصام، کمال کاسگنجوی،کمال پاشا راز ، علامہ محمد یوسف جبریل،علامہ سید قابل،عثمان خاور، عبید حبیب،عارف سیمابی، علامہ محمد روز خان، عتیق عالم، مسرور قدردان، ملک سعید اختر،محمد نسیم قریشی، محمد نسیم احمد ،مطیع الرحمن،مشتاق آثم،محمد توفیق، مبارک شاہ، محمود اختر عادل، جاوید ظفر، جمیل یوسف،یعقوب آسی، یامین انصاری، توصیف تبسم،تپش برنی، خالد قیوم تنولی، پروفیسر آفتاب اقبال شمیم، غلام رسول،ثناءاللہ کنجاہی، شجاعت حسین، شاہد ملک،شاہدمجیدرانا،شعلہ چنگیزی، شاہد انصاری،شاہد نصیر،شوکت محمود اعوان،شہزاد عادل، وائی جےانور، وصف وارثی، وحید احمد، قاضی عارف حسین،ڈاکٹر سید صابر حسین،ڈاکٹر رفیق ملک ( ہو سکتا ہےکوئی نام حافظےمیں محفوظ نہ رہا ہو ) ان میں نذیر احمد شیخ، سبط علی صبا، رفیق نشتر، ظفر ابن متین، علامہ یوسف جبریل ، سیدقابل اور حسن ناصر نہایت اہم ہیں۔
نذیر احمد شیخ کا تعلق ایکسپلوسز فیکٹری سےتھا۔ آپ مزاح نگار تھی۔ عام طور پر مزاحیہ شاعری کوکم تر درجہ کی شاعری سمجھا جاتا ہےمگر شیخ نذیر احمد نےمزاح میں ادبی چاشنی پیدا کرکےاسےاعلی درجہ کی تخلیق بنا دیا۔ نذیر صاحب کا شمار پاکستان کےصف اول کےمزاح نگاروں میں ہوتا ہی۔ ان کا ایک شعری مجموعہ حرف بشاش کےنام سےطبع ہوا۔ بزم اکبر اسلام آباد نےواہ رےشیخ نذیر کےنام سےان کی تخلیقات کو شائع کیا۔ پروفیسر عطاءاللہ عالی نے” موازنہ ضمیرونذیر“ ایک کتاب لکھی ہےجو شیخ نذیر کےمرتبہ کو سمجھنےمیں مددگار ثابت ہوتی ہی۔ واہ کی زمین ممنوناحسان رہےگی کہ اس باکمال شخص نےیہاںقیام کیا۔ واہ کا کوئی پڑھا لکھا شخص ایسا نہیں ہےجو سبط علی صبا کےنام سےواقف نہ ہو ۔کیونکہ مشرقی پاکستان پرصبا کا یہ شعر زبان زد عوام ہوا۔
دیوار کیا گری مرےکچےمکان کی لوگوں نےمیرےصحن میں رستےبنا لئی
سبط علی صبا مزدور شاعر تھی۔ ان کی شاعری میں معاشی مسائل اور محرومیوں کا ادراک نمایاں نظر آتا ہی۔ مذکورہ بالا شعر جس غزل سےلیا گیا ہےاسی غزل کا یہ شعر ملاحظہ فرمایئی۔
اوروں کی چادروں پر بناتی رہی وہ پھول پیوند اس نےاپنی قباپر سجا لئی
مزدور شاعروں کےضمن میں رفیق نشتر کا نام بھی آتا ہی۔ رفیق نشتر، بشیر حسین صمصام کےشاگرد تھی۔ استاد بھی کمال کا اور شاگرد بھی بلاکا ذہن، رفیق نشتر کےاس شعر پر اہل ذوق بہت عرصہ تک سردھنتےرہی۔
میں نےچاہا کہ کسی شاخ پہ تنکےدھر لوں آئی آواز خبردار برےلگتےہیں
رفیق نشتر کی شاعری پر ترقی پسند تحریک کےاثرات محسوس ہوتےہیں۔ پی او ایف میں مزدور کی حیثیت سےکام کیا۔ انہیں شاعر مزدور کا خطاب بھی ملا۔ مزدور کی شان میں ان کےیہ اشعار سنہری حروف میں لکھےجا نےکےقابل ہیں۔
مجھ کو تقدیر نےمیدان عمل بخشا ہے یعنی ہر مسئلہ زیست کا حل بخشا ہی
میرےہاتھوں کی کثافت پہ نہ جاولوگو میرےہاتھوں نےتمہیں تاج محل بخشا ہی
ظفر ابن متین جدید لہجےکےشاعر تھی۔ واہ واہی کےنام سےمزاحیہ شاعری بھی کی۔ اور رفیق نشتر کےمابین ادبی چشمک رہی اور دونوںایک دوسرےکےمتعلق منظوم خیالات کااظہار کرتےرہی۔ اس شاعرانہ مناقشےنےواہ کی ادبی فضا کو گرمائےرکھا۔ ظفر ابن متین کا واہ کےادبی ماحول کےارتقاءمیں بڑا حصہ ہی۔ ان کا ایک مجموعہ کلام قلم اور روشنی کےنام سےچھپا۔ علامہ یوسف جبریل نہایت صاحب علم شخصیت تھی۔ قران حکیم اور ایٹمی سائنس ان کاخاص موضوع رہا۔ اردو اور انگلش میں کئی کتابیں منظر پر آئیں اور یہ سلسلہ جاری ہی۔ شاعری کےحوالےسےنغمہ جبریل آشوب، اور سوز جبریل نہایت زور دار کتابیں ہیں ۔خواب جبریل اور نالہءجبریل اشاعت کےمرحلوں میں ہیں۔ قران حکیم ، سائنس، فلسفہ جیسےپیچیدہ مضامین پر بہت کچھ لکھا ہی۔اور تواتر سےلکھا۔ وہ ایک عظیم سکالر تھی۔ واہ سےملحقہ آبادی ملک آباد کےباسی ہیں۔اہلیان واہ ان کی روحانی اور علمی خدمات کےسلسلےمیں ان کا مزار اور مسجد اور جبریل ہال قائم کرنےمیں کوشاں ہیں۔ علامہ یوسف جبریل جیسی عظیم شخصیت پر اہلیان واہ کو ہمیشہ فخر رہےگا۔ علامہ سیدقابل بھی بہت قابل ذکر آدمی تھی۔ مشرقی پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں وائس چانسلر بھی رہی۔ کئی مضامین میں ایم اےکیا ہواتھا۔ غزلیں اور نعتیں زیادہ کہیں۔ علامہ قابل کی قابلیت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نےسو کےلگ بھگ ایسی غزلیں کہی ہیں جن کےالفاظ پر نقطہ نہیں ہی۔ یہ قدرت کلام کی انتہا ہی۔ صدافسوس کہ اس جوہر قابل کےآخری ایام انتہائی عسرت میں بسر ہوئی۔سید حسن ناصر نظم اور غزل دونوں کےشاعر تھے۔ فنون میں باقاعدگی سےچھپتےرہی۔ کم لکھا مگر ہر دو اصناف میں معیار کو ہاتھ سےنہ جانےدیا۔ جدید لہجےکےشاعر تھی۔اچانک موت سےواہ کا یہ خوبصورت لہجےکا شاعر بھی جدا ہو گیا۔آج واہ کےادبی ماحول میں وہ بات نظر نہیںآتی جوساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں تھی۔ پھر بھی واہ کا ادبستان ادب اپنی الگ پہچان رکھتا ہی۔ موجودہ عہد میں شاعری کےحوالےسےعلی مطہر اشعر بڑا نام ہی۔ علی مطہر اشعر نےویپنز فیکٹری میں مزدور کی حیثیت سےکام کیا۔ بنیادی طور پر اشعر کا مزاج کلاسیکی اور رومانوی ہےمگر ان کےہاں بھی مزدور طبقےکےمسائل کا مشاہدہ نظر آتا ہی۔ نمونےکےطور پر اشعر کا یہ شعر ملاحظہ فرمایئی۔
اک چھوٹےسےسیب کو کتنی قاشوں میں تقسیم کروں
کچھ بچوں کا باپ ہوں اشعر کچھ بچوں کا تایا ہوں
شعبہ تعلقات عامہ پی او ایف واہ نےاشعر کی ادبی خدمات کےاعتراف میں ان کا مجموعہءکلام ”تصویر بنا دی جائی“ شائع کیا۔ پروفیسر روف امیر اور واہ لازم و ملزوم ہیں۔ روف امیر آسمان ادب کا نہایت روشن ستارہ ہی۔ کمال درجےکا شاعر، بہترین نقاد، محقق، جس نےبہت کم عرصےمیں ملک کےادبی حلقوں میں اپنی پہچان بنا لی۔ اپنی محنت کےبل بوتےپر ترقی کےمدارج طےکئی۔ آنےوالوں کےلئےروف امیر ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہی۔ روف امیر کی کئی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ مرکزی دارالمطالعہ میں گوشہ آحمد فراز، گوشہ احمد ندیم قاسمی اور گوشہ ضمیر جعفری کےقیام کےضمن میں روف امیر کا کردار قابل تعریف ہی۔ واہ کےادبی منظر نامےکےحوالےسےمورخ روف امیر کی خدمات کو نظر انداز نہیں کر سکےگا۔ تبسم ریحان نظم اور غزل پر دو اصناف میں طبع آزمائی کرتےہیں۔مخصوص لہجےکی وجہ سےالگ شناخت رکھتےہیں۔ محمل کےنام سےایک شعری مجموعہ منظر عام پر آ چکا ہی۔ عثمان نائم نہایت قادرالکلام شاعر ہیں۔ عموما نعت اور غزل کہتےہیں۔نظم کم کم کہتےہیںکلاسیکی انداز کےعلمبردار ہیں۔ رانا سعید دوشی اگرچہ ٹیکسلا کی نواحی بستی میں بستےہیں۔ مگر واہ کےموجودہ ادبی ماحول میں ان کابہت اہم حصہ ہےجتنی اچھی نظم کہتےہیں ویسی ہی اچھی غزل بھی کہتےہیں۔ عصمت حنیف بھی نظم کےاچھےشاعر ہیں۔ مصروف آدمی ہیں پھر بھی شعری تخلیقات کےلئےوقت نکالتےہیں۔ ان کےعلاوہ اظہر نقوی، ندیم حیدر، طالب انصاری ، شمشیر حیدر،
بشیرآذر، شعیب ہمیش، ظفر رضوی، ناظم شاہجہانپوری، راکب راجا، علامہ روز خان، عارف قادری اور امجد شہزاد نےفکرو نظر کےچراغ جلائےہیں۔ نئےلکھنےوالوں میں مطیع الرحمان، ساجد محمود ، خالد ملتانی، طلعت محمود اور عبید حبیب نمایاں ہیں۔ واہ میں مشاعروں کی روایت بھی بہت جاندار رہی ہی۔ پاکستان کا کوئی بڑا شاعر ایسا نہیں ہےجس نےواہ میں مشاعرہ نہ پڑھا ہو۔ مشاعروں کےانعقاد کےسلسلےمیں شمیم صدیقی کابڑا حصہ ہی۔ وہ خود تو شاعر نہیں تھےمگر مشاعرےبڑےجانفشانی سےمنعقد کرواتی۔ایف جی ماڈل سکول کےرئیس مدرسہ تھی۔ سالانہ محفل مشاعرہ ترتیب دیتےاور کسی نہ کسی معروف شخصیت کو ضرور مدعو کرتی۔ ایک مشاعرےمیں تو انہوں نےحسرت موہانی جیسی معروف شخصیت کو بھی بلایا۔ راز مراد آبادی کا بھی اس سلسلےمیں کردار ناقابل فراموش ہی۔ افسر تعلقات عامہ ہونےکی وجہ سےآپ نامور شعراءسےرابطہ کرتےاور انہیں مشاعروں میں مدعو کرتےمشاعرےکی روایت کو راز مرا د آبادی نےنئی تازگی عطا کی۔جمیل یوسف نےواہ میں قیام کےدوران اپنےگھر میں ادبی محافل کو جاری رکھا۔ سرکاری سرپرستی میں ایک کل پاکستان مشاعرہ کا سہرا ان کےسر ہی۔ چیئرمین پی او ایف بورڈ میجر جنرل محمدجاوید خود بھی ایک اچھےشاعر ہیں۔ انہوں نےبھی واہ میں آمد کےبعد مشاعرےمنعقد کروائی۔ ان میں کل پاکستان نعتیہ محفل مشاعرہ قابل ذکر ہی۔ نثری تخلیقات بالخصوص افسانےکےحوالےسےبھی واہ کا دامن موتیوں سےمالامال ہی۔ڈاکٹر رشید امجد مشہور نقاد اورافسانہ نگار ہیں۔ ایف جی ڈگری کالج واہ میں پڑھاتےرہےہیں۔واہ کےادبی ماحول پر گہرےاثرات قائم کئی۔ محمود اختر عادل نےافسانےاور نثر نگاری میں وہ گل شگفتہ کھلائےکہ واہ کا سارا ادبی ماحول مہک اٹھا۔ افسوس یہ گوہر آبدار جوانی ہی میں راہی ءملک عدم ہوگیا۔ علی مطہر اشعر نےبھی افسانےلکھےمگر خال خال۔ ان کی پہچان بہر حال شاعری ہی۔ عثمان خاور اگرچہ غزل اور نظم کےشاعر ہیں مگر ایک سفر نامہ بھی قلمبند کیا ہی۔ نثر کےحوالےسےسلمان باسط کےذکر کےبغیر بات نہیں بنتی۔ سلمان باسط بلا کا ذہین آدمی ہی۔ خاکہ نگاری خاص میدان ہی۔ خاکی خانےکےنام سےان کےخاکوں کی کتاب طبع ہو چکی ہی۔ مختصر افسانےکےحوالےسےطفیل کمالزئی کا نام معرو ف ہی۔ تین افسانوی مجموعےچھپ چکےہیں۔روزنامہ اوصاف میں مستقل کالم نگار کی حیثیت سےلکھتےہیں۔ نہایت خلیق اور وضعدار آدمی ہیں۔ ایوب اختر نےبھی افسانہ نگاری کو اوڑھنا بچھونا بنایا۔ بہت عمدہ افسانےلکھتےہیں ۔ ان کےافسانوںکےمجموعےمٹی کےخواب اور پچھلی پہر کی بارش منظر عام پر آ چکےہیں ۔ان پر نمل یونیورسٹی میں آمنہ ملک ”ایوب اختر فن اور شخصیت “ پر ایم فل کر رہی ہیں۔ محمد توفیق صاحب تین سفر ناموں ” ستارےسفر کےدیکھتےہیں“، ” مدرا س براستہ بمبئی“، اور ” تری خوشبو سفر میں ہے“ کےخالق ہیں۔ محمد توفیق کےہاں تحریر کی شیفتگی ہے۔طبیعت بھی کشادہ پائی ہی۔ بلا کےذہین ہیں اور گہرا مشاہدہ رکھتےہیں۔ کثیرالجہاتی علم رکھتےہیں۔ ان کےتینوں سفر نامےسلاست اور شگفتگی کےباعث بہت پسند کئےگئی۔ امان اللہ خان کےذکر کےبغیر واہ میں افسانہ نگاری کا تذکرہ مکمل نہیں ہو سکتا۔منفرد اسلوب کےحامل افسانہ نگار ہیں۔ عصری مسائل سےآگاہی رکھتےہیں اس لئےان کےافسانوں میں حقائق کی کڑواہٹ محسوس ہوتی ہی۔ بےپناہ مصروفیت کےباوجود تخلیقی سرگرمیوں کےلئےوقت نکالتےہیں۔ مطیع الرحمان نوجوان افسانہ نگار کےطور پر سامنےآ رہےہیں۔جناب عارف سیمابی صاحب علامہ یوسف جبریل پر تحقیقی کام کررہےہیں۔ ان کا ارادہ ان کےعلم و ادب پر پی ایچ ڈی کرنےکا ہی۔جناب پروفیسر ضیاءصاحب بھی علامہ صاحب کی شخصیت پر کام کر رہےہیں۔ واہ میں علم و ادب کی
فروغ کےحوالےسےچندتنظیموں کا ذکر بھی ضروری ہی۔ یوں تو ادبی تنظیمیں ہر شہر میں قائم ہوتی ہیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہےکہ یہ تنظیمیں مختلف جھگڑوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ واہ کی ادبی تنظیموں کےساتھ ایسا نہیں ہی۔ ان تنظیموں نےبہت عرصہ تک اپنا رنگ جمایا۔ بعض تنظیمیں اس وجہ سےختم نہیں ہوئیں کہ ان میں اندرونی خلفشار تھا بلکہ ان تنظیموں کےمنتظمین ملک عدم سدھار گئی۔ بزم ادب جس کےروح رواں راز مراد آبادی تھی۔ یہ تنظیم راز صاحب نےسلیم بہادر خان ایگزیکٹو آفیسر کےایما ءپر قائم کی تھی۔ اس تنظیم کےاجلاس باقاعدگی سےکینٹ بورڈ کی عمارت میں منعقد کرتےرہی۔ ادبی تنظیم فانوس ادب کا واہ کےادبی ماحول کی ترقی میں بہت نمایاں حصہ ہی۔ واہ کی بیشتر معروف ادبی شخصیات کا تعلق فانوس سےرہا۔ ان دنوں صریر خامہ واحدادبی تنظیم ہےجس کےاجلاس باقاعدگی سےورچوئل یونیورسٹی بہبود پلازہ واہ کینٹ نزد جامع مسجد میں منعقد ہو رہےہیں۔تنقیدی اجلاس اس تنظیم کی خاص پہچان ہیں۔ سید مبارک شاہ نےاس تنظیم میں سیکرٹری کی حیثیت سےکام کیا۔ مشتاق آثم نےبھی اس تنظیم کی فعالیت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اس ضمن میں عصمت حنیف کی خدمات کا اعتراف بھی ضروری ہی۔ صریرخامہ کےاجلاس کی کاروائیاں باقاعدگی سےملکی اخبارات میں شائع ہوتی ہیں ۔ یہ تنظیم نئےلکھنےوالوں کی راہنمائی میں پیش پیش ہی۔ بزم ایوان مدحت کا ذکر بھی اس لئےضروری ہےکہ اس تنظیم کی وجہ سےنئےلکھنےوالوں میں نعت کی محفلیں سجاتےرہتےہیں۔ ان تمام باتوں کےعلی الرغم دیکھا جائےتو ہمیں واہ کاعلمی و ادبی افق نہایت روشن دکھائی دیتا ہی۔ اس افق پر کئی ستاروں نےاپنی آب و تاب دکھائی جن کی آب و تاب واہ کی علمی و ادبی تاریخ کا انمٹ حصہ ہی۔ شائید واہ کی ادبی ،ثقافتی، اور صحافتی زندگی پر مکمل کام جناب روف امیر صاحب کےنصیب میں آئےجس کا ہمیں بہت سختی سےانتظار ہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طالب انصاری
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 62
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 62
    Introduction of shaukat m awan gen. secretary adara tehqiqul awan pakistan President Yousuf Jibreel Foundation sarparast ala bazme afqare gabriel wah cantt editor coordinator weekly watan islamabad شوکت اعوان شخصیت اور خدمات تحریر محمد عارف ١۔ شوکت محمود اعوان گیارہ نومبر انیس سو ترپن 11-11-1953میں بمقام کھبیکی وادی سون سکیسر…
  • 61
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply