وہی ہے بندۂ حر جس کی ضرب ہے کاری تحریر ڈاکٹر تصدق حسین راجہ

046

tassadaqraja
اس کتاب کا مسودہ پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ اللہ کا یہ شعر میں دیر تک زیرلب گنگناتا رہا ۔
وہی ہے بندۂ حر جس کی ضرب ہے کاری
نہ وہ کہ حرب ہے جس کی تمام عیاری
۔ ۔ اس مسودہ کو پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ  اللہ کا یہ شعرمیں دیر تک زیر لب گنگناتا رہا۔آئینہ وقت عنایت اللہ صاحب کی پہلی تصنیف تھی ۔ مصنف نے اب اس کتاب میں زندگی کے مختلف شعبوں پر گفتگو کرتے ہوئے آئینہ وقت کو بطور خاص ان لوگوں کے سامنے رکھا تھا ۔ جن پر کسی معاشرے کی معاشی، معاشرتی ، سیاسی، مذہبی، اصلاح و تبدیلی کی ذمہ داری عائید ہوتی ہے۔ کتاب پسند کی گئی ۔ اور جس محروم طبقے کا کیس مصنف نے بڑی دانش مندی دلیری اور مہارت سے لڑا تھا ۔اس سے ایک امید کی ہلکی سی کرن نظر آ ئی تھی ۔ کہ کسی نے تو پورے خلوص کے ساتھ ا ہل وطن پر ہونے والی زیادتیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ کچھ طبقے ایسے بھی تھے جن سے تعلق رکھنے وا لی بڑی بڑ ی شخصیات کی پیشانیوں پر بل بھی پڑے تھے ۔ کہ مصنف نے آئینہ وقت لاکر ان کے سامنے رکھ دیا تھا ۔ بلکہ ان بد نما داغوں کو نمایاں کرکے رکھ دیا تھا ۔ جو اب تک یا تو پوشیدہ تھے یا جن کی طرف کسی نے اشارہ نہ کیا تھا ۔
پھر تھوڑے ہی عرصے کے بعد صدائے وقت شائع ہوئی ۔جو عنایت اللہ صاحب کی دوسری کاوش تھی ۔ پہلی اور دوسری کتاب میں مضامین اور موضوعات ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے ۔ مگر اسلوب اور طرز تحریر سے صاف طور پر یہ بات مترشح ہوتی تھی ۔کہ اس بار صدائے وقت کے ذریعے ان لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ جو معاشرے میں پھیلی ہوئی ان گنت خرابیو ں کے لئے ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے تھے۔ تعلیم، صحت، انتظامیہ، عدلیہ، کسان، مزدور، ہنر مند، طالبعلم اور حکمران زیر بحث آ ئے۔ مزدور،محنت کش،ہنر مند، کسان ، ظالم و مظلوم سبھی سے متعلق بلا کسی رو و رعائت کے بات ہوئی تھی ۔ علماء اور مشائخ کرام کے کانوں تک اس صدا کو پہچانے کی پوری کوشش کی گئی۔ مصنف یہ بات رمز و ایماء یا اشارات و کنایات میں کبھی نہیں کرتے۔ کہ وہ تو اقبال رحمتہ اللہ کے ہم نوا ہیں جو فرماتے ہیں :۔
رمز و ایماء اس زمانے کے لئے موزوں نہیں
اور آتا بھی نہیں مجھ کو سخن سازی کا فن
اب کی بار مصنف کی یہ تیسری کتاب ندائے وقت کے نام سے شائع ہو رہی ہے ۔ گویا اب صدائے وقت، ندائے وقت بن کر ابھری ہے۔ یہ پکار ہے ۔ ایسی پکار جس کو سننے اور نہ سننے کو کسی کی مرضی و منشاء باقی نہیں رہ جاتی۔۔۔۔صدا تو صدا بصحرا ثابت ہو سکتی ہے ۔ مگر ندا نہیں ،پکار نہیں۔ ندائے وقت کے موضوعات میں پچھلی کتاب صدائے وقت کے کئی موضوعات کی بظاہر تکرار تو ضرور ہے۔ مگر ان موضوعات پر بحث ایک نئے زاوئیے سے سامنے آئی ہے ۔بلکہ یوں کہیئے۔ کہ بہت سا مواد تینوں کتابوں میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ جس کا سبب یہ ہے۔ کہ دراصل یہ ایک ہی کتاب کے تین حصے ہیں۔
ندائے وقت کل پانچ ابواب پر مشتمل ہے ۔ پہلے باب میں مصنف نے تیس سوال پر مشتمل ایک سوالنامہ پیش کیا ہے ۔۔۔۔جن کے جوابات میں اصلاح احوال کی امید جھلکتی ہے۔ وہ معاشرے کے مختلف طبقات میں مروجہ خرابیوں کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔ اور علاج بھی تجویز کرتے ہوئے چلتے ہیں۔ انہوں نے دعوت اسلامی کی علمبردار جماعتوں کو بھی جھنجھوڑا ہے ۔ اور قدم قدم پر انہیں حالات حاضرہ کی نزاکت اور اہمیت سے آگاہ کرنے کی سعی و کوشش کی ہے ۔ دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تعلیم اورذریعہ تعلیم زیر بحث آیا ہے۔ مصنف کی صرف ملکی حالات پر ہی نظر نہیں۔عالمی سطح پر کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے ! وہ اس کی جزویات سے اہل وطن کو اور مسلمانان عالم کو با خبر کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں ۔ امریکہ سیاسی شطرنج میں کن مہروں کو استعمال کر رہا ہے۔ اور چند اسلامی ممالک کی سرزمین کو دوسری اسلامی ملکوں پر حملوں کے لئے کس طر ح استعمال کرکے تباہی و بربادی پھیلا رہا ہے۔ اسے وہ بڑی تفصیل سے زیر بحث لائے ہیں۔
افغانستان پر امریکی حملے کے نتائج کے بارے میں یہ سوال پوچھا جاتا ہے ۔ کہ اس جنگ میں اگر مسلمان حق پر تھے تو انہیں شکست کیوں ہوئی۔ اسے افغانوں کے لئے شکست کا نام دیا جائے یا کچھ اور کہا جائے ۔ امریکہ ہو یا کوئی دوسرا ملک ۔ جہاں چھوٹے اور کمزور اسلامی ممالک کو تباہی و بربادی سے دوچارکرکے وہاں اپنے ملک کو ٹھیکے پر دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہو ۔ ایسے ملک اخلاقی مذہبی اور انسانی حوالے سے کس قدردیوالیہ ہو چکے ہیں ۔ کاش کوئی اس کا نوٹس بھی لیتا اور کوئی اقوام متحدہ ان کے خلا ف آواز بھی اٹھاتی۔ اس کتاب کے تیسرے باب میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کرکے صحیح صحیح نتیجے سے قارئین کو آگاہ کرکے ذہن میں اٹھنے والے بہت سے سوالات کا جواب فراہم کر دیا گیا ہے۔
کتاب کا چوتھا باب اکتوبر کے عام انتخاب کے بارے میں ہے۔ اس میں جمہوری طرز حکومت کے حوالے سے بڑی خوبصورت گفتگو کی گئی ہے۔ اور اس خدشے کا اظہار پورے تیقن کے ساتھ کیا گیا ہے ۔ کہ ان انتخاب سے کسی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔۔۔۔۔ چہروں اور ناموں کے بدلنے سے کسی معاشرے میں، کسی ملک میں کوئی بڑی تیدیلی کبھی رونما نہیں ہوا کرتی۔ ا س تبد یلی کی توقع صرف اور صرف کسی نظام کسی سسٹم کی تبدیلی سے ہی کی جا سکتی ہے۔پانچویں باب میںانہوں نے بڑے وا شگاف الفاظ میں ملت کو جنجھوڑا ہے۔ کہ چودہ کروڑ مسلمانوں کواسلامی نظریات،اسکے علم،عمل،کردار کی تعلیم و تربیت سے سرکاری طور پر محروم کیا جا رہا ہے۔ اہل پاکستان کے مسلمانوں کا تشخص جمہوریت کے مذہب کے نظریات کے علم،عمل،کردار میں سمویا جا رہا ہے۔اسطرح ہماری ملی زندگی دین کے خلاف جمہوریت کی تہذیب و تمدن میں ڈھلتی جا رہی ہے۔ملک کے اعلیٰ ایوانوں کے نمائندگان کے اصول و ضوابط کی اطاعت ہمارا سرکاری کافرانہ کلچر تیار کرتا چلا آرہاہے۔انکے نزدیک اس ملت کی نجات اور فلاح کا راستہ صرف نفاذ محمدی میں مضمر ہے۔
جیسا کہ پہلے بھی اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کہ جناب عنایت اللہ صاحب کی تینوں کتابوں کے مطالعہ سے ایک بات بار بار قاری کی توجہ اپنی طرف کھینچ کھینچ لاتی ہے ۔ کہ تینوں کتابوں میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ موضوعات کی یکسانیت ہے ۔ زبان و بیان میں نہ صرف یکسانیت ہے ۔ بلکہ لب و لہجے کی کرواہٹ کبھی کبھی جذباتیت کا شکار نظر آتی ہے۔ ۔ہو سکتا ہے ۔ ایسا اس لئے ہو کہ مصنف کچھ معاملات میں کسی مصالحت اور نرمی کے لئے تیار نہیں۔ اسے جو نظر آ رہا ہے ۔وہ بے حد تکلیف دہ ہے۔ جن خرابیوں اور جن مسائل میں ایک عام انسان ایک کسان، ایک محنت کش، ایک سادہ لوح، سچا اور پکا پاکستانی گھرا ہوا ہے۔ مصنف جلد از جلد انہیں دور کرنے، ان کا حل تلاش کرنے کے لئے فکر مند ہے۔ قاری اس بات کو اس طرح لیتا ہے ۔ کہ مصنف جس منصب پر کھڑا بات کر رہا ہو ۔ اسے موضوع زبان و بیان لب و لہجے اور اسلوب کے انتخاب کا حق حاصل ہے ۔
ندائے وقت دراصل ایک پکار ہے ۔ دل دردمند کی ، ایک محب وطن ، ایک محب انسانیت ، کی جو اس وطن میں تبدیلی دیکھنے کا آرزو مند ہے ۔ جس تبدیلی کے بعد یہ نظریاتی مملکت صحیح معنوں میں ایک ایسی مملکت بن کر ابھرے گی ۔جو پاکستان کا مطلب کیا ۔۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔ کے نعرے کے جواب میں وجود میں آئی تھی ۔
ندائے وقت کے مضامین سے مندرجات سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ اللہ کرے اس کتاب کے مصنف کی آواز ان حضرات تک ضرور پہنچے ۔ جن سے بجا طور پر یہ توقع کی جا سکتی ہے۔ ان کی سوچ ان کی فکر میں تبدیلی آئے گی ۔ احساس بیدار ہو گا ۔ تو اس نظام کی تبدیلی کی امید پیدا ہو گی ۔ اس کے بغیر میرے اس وطن کی خرابیاں، کبھی دور نہیں ہو سکتیں۔ جن کی تفصیل مصنف نے ندائے وقت کے صفحات میں پیش کی ہیں۔
یہ فقیر صدق دل سے دعا گو ہے ۔ کہ برادر مکرم جناب عنایت اللہ صاحب کی کوششیں ثمر آور ہوں ۔ اور ہم سب وہ پاکستان دیکھ کر اس دنیا سے رخصت ہوں ۔ جس پاکستان کو اسلام کا قلعہ بننا ہے ۔
آمین ۔
ڈاکٹر تصدق حسین راجہ اسلام آباد

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 52
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…
  • 49
    زیر نظر کتاب’’ نسخہ ء انقلاب وقت‘‘ عنایت اللہ صاحب کی ساتویں کتاب ہے۔ اس سے قبل انکی شائع ہونے والی کتابوں میں درج ذیل کتب شامل ہیں:۔ ۱۔آئینہ وقت۔۲۔صدائے وقت۔۳۔ندائے وقت۔۴۔آوازوقت۔۵۔ناد وقت۔ ۶ ۔ چراغ وقت مصنف نے اس کتاب میںبہت سے سوال اٹھائے ہیں،ا ن میں سب سے…
  • 48
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “وہی ہے بندۂ حر جس کی ضرب ہے کاری تحریر ڈاکٹر تصدق حسین راجہ

Leave a Reply