یوم حساب قریب ہے

053

tassadaqraja

زیر نظر کتاب’’ نسخہ ء انقلاب وقت‘‘ عنایت اللہ صاحب کی ساتویں کتاب ہے۔ اس سے قبل انکی شائع ہونے والی کتابوں میں درج ذیل کتب شامل ہیں:۔
۱۔آئینہ وقت۔۲۔صدائے وقت۔۳۔ندائے وقت۔۴۔آوازوقت۔۵۔ناد وقت۔ ۶ ۔ چراغ وقت
مصنف نے اس کتاب میںبہت سے سوال اٹھائے ہیں،ا ن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ جمہوری نظام حکومت نے اس خطے میں بسنے والوں کو وہ پاکستان دیا ہے جو پاکستان کا مطلب کیا! ۔لا الہٰ الا اللہ محمد الرسول لاللہ کے نام پر حاصل کیا تھا۔ عنایت اللہ صاحب اس مغربی جمہوریت کو وہ نان کرسچن جمہوریت کہتے ہیں۔ انہوںنے اس سے قبل اپنی کم و بیش ساری کتابوں میں مغربی جمہوریت اور اسکی خرابیوں کی بات کی ہے۔ لیکن نسخہ ء انقلاب وقت میں اس پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے انہوں نے کوئی گوشہ ایسا نہیںچھوڑا جس پر مدلل بات نہ کی ہو۔کتاب میں شامل دیگر موضوعات میں سودی معاشی نظام،طبقاتی تعلیمی نظام،مخلوط تعلیمی نظام،ٹیکس کلچر،ہارس ٹریڈنگ کی باطل سیاست، محتسبوں کے شاہی اخراجات، عدلیہ اور انتظامیہ میں پائی جانی والی خرابیوں کی نشان دہی اس خوبصورتی سے کی ہے کہ خود ان خرابیوںکے پیدا کرنے والے ان سے انکار کرنا چاہیں تو انکار کی گنجائش نہ نکلے اور اعتراف کے بغیر نہ بن آئے۔ نسخہ انقلاب وقت کو ادبی پیمانے پر پرکھنا اسلئے ضروری نہیں کہ یہ ادبی کتاب نہیں ہے۔مگر کہیں کہیں خوبصورت اسلوب بیان اور رواں عبارت کی دلکشی قاری کے دامن ذوق کو کھینچ لیتی ہے۔اک اقتباس ملاحظہ فرمائیے اور سر دھنیے۔
’’الفاظ کی حرمت اور انکی پاسدار خالق کونین کا عطیہ ہے،الفاظ خیال کا لباس ہے۔ خیال کی دلہن کو انہی سے سجایا اور سنوارا جاتا ہے۔دلنوازی کا پیغام انہی الفاظ سے انسانی قلب و روح تک پہنچایا جاتا ہے،خیر کی دنیا انہی الفاظ سے تابندہ و پائندہ ہوتی ہے۔خیر اور شر،نیکی اور بدی کی پہچان الفاظ کے دم سے ہی قائم ہوتی ہے۔گلستان حیات کا حسن الفاظ سے ہی جلوہ آرا ہوتا ہے۔ الفاظ جمال کی روشنی اور نوع انسانی کے دل و دماغ کا خامۂ دلنواز ہوتے ہیں۔دلنواز،دلسوزی اور دلربائی کے میخانہ کا مست،مستی کے جام ،ہمہ دم اور دمہ دم جاری کرنے والا کسی صحرا و بیا باں میں تنہائی کی چادر اوڑھے بیٹھا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ الفاظ کے میخانہ میں مستی ء کردار کی ستار خاموش کسی صاحب اعجاز کی منتظر بیٹھی ہے۔ کہ وہ آئے اور خوابیدہ ملت کو بیدار کر دے۔ چشم ملت اس منظر کو دیکھنے کے لئے بڑی دیر سے منتظر ہے‘‘۔
اس کتاب کا وہ حصہ دل میں اتر جاتا ہے جہاں عنایت اللہ صاحب نے مغربی جمہوریت کی خرابیوں پر مفصل بحث کرتے ہوئے اسلامی شورائی نظام سے اسکا تقابلی جائزہ بے حد د لنشین انداز میں کیا ہے۔ چند ایک مقامات تو ایسے بھی آتے ہیں جہاں مصنف کی بصیرت قاری کو جھنجھور کر رکھ دیتی ہے۔مسلم امہ کے ۱۶ کروڑ فرزندان کا مقدمہ بنا کر نان کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوںاور حکمرانوں کے خلاف حضو ر نبی کریم ر  کی کچہری میں آج مورخہ ۲۰۰۵۔۱۲۔۲۱ کو بوقت دو بجکربارہ منٹ پر پیش کر دیا ہے۔
زیر کتاب کے ہر باب کا اختتام دعائیہ جملوں سے ہوا ہے اور مصنف نے اپنی آواز کو ایک ایسے فقیر کی صدا کہا ہے جو صبح کے بھولے ہوئے حکمرانوں کو شام گھر واپس لوٹ آنے کی آواز دے رہا ہے۔عنایت اللہ صاحب ایک انسان دوست محب وطن پاکستانی ہیں جو اس ملک کو اس ترقی کی جانب بڑھتا دیکھتے کے آرزو مند ہیں جس میں اس ملک میں بسنے والے ہر شخص کو احترام انسانیت،عدل و انصاف بلا کسی امتیاز کے مل سکے اور حکومتی ایوانوں ،عدلیہ اور انتظامیہ کے زیر نگرانی چلنے والے اداروں کو اس کرپشن ،بد دیانتی،رشوت،لوٹ کھسوٹ سے نکالنا چاہتے ہیںجن سے مادر وطن کا پورا جسم زخمی ہو چکا ہے اور وہ کسی معالج و مسیحا کے انتظار میں ہیںکہ وہ آگے بڑھے اور مسیحائی کا فریضہ انجام دے ۔اللہ کرے عنایت اللہ صاحب جیسے لکھاریوں کی تحریروں کی قبولیت کا وقت جلد آئے اور نبی پاک کے صدقے میں پاکستان اور اہل پاکستان پر اس رب کائنات کا فضل و کرم ہو جائے جو بڑا رحیم و کریم ہے۔آمین
ڈاکٹر تصدیق حسین راجہ

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 51
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…
  • 49
    اس کتاب کا مسودہ پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ اللہ کا یہ شعر میں دیر تک زیرلب گنگناتا رہا ۔ وہی ہے بندۂ حر جس کی ضرب ہے کاری نہ وہ کہ حرب ہے جس کی تمام عیاری ۔ ۔ اس مسودہ کو پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ  اللہ کا…
  • 49
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “یوم حساب قریب ہے

Leave a Reply