رو ئف امیر چند یادیں، چند باتیں تحریر محمد عارف

{ "slotId": "9349521179", "unitType": "normal" }

رو ئف امیر چند یادیں، چند باتیں
تحریر محمد عارف
رو¿ف امیر کا نام کراچی سےلےکر خیبر تک پورےملک کےعلمی و ادبی حلقوںمیں ہی نہیں جانا پہچانا جاتا ہےبلکہ وہ بیرونِ ملک وسطِ ایشیاءکی ریاست قازقستان میں پاکستان چیئر پر سکالر کی حیثیت سےاپنی خدمات سرانجام دےرہےتھی۔ وہ ایک عمدہ غزل گو شاعر،محقق اور نقاد کےعلاوہ ماہرِ تعلیم بھی تھی۔ انہوں نےاپنی تدریسی زندگی کا باقاعد ہ آغاز ایم اےاردو کےبعد پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکی( لیکچر ر اردو) کےطور پر کیا۔ وہ گورنمنٹ ڈگری کالج سٹلائیٹ ٹاو¿ن راولپنڈی میں پڑھاتےرہی۔ اسی اثناءمیں ایم فل (اردو) مکمل کیا اور فیڈرل پبلک کمیشن کےذریعےاسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئی۔ وہ ایف جی ڈگری کالج واہ کینٹ میں متعین کئےگئی۔ پنجاب یونیورسٹی سےپی ایچ ڈی کیا اور تیسری دفعہ بھی فیڈرل پبلک سروس کمیشن کےزیر اہتمام ایسوسی ایٹ پروفیسرکی اسامی کےلئےامتحان دیا ۔ سلیکشن کےبعد واہ کینٹ میں ہی تدریسی خدمات سرانجام دینےلگےاور پانچ سال پہلےاپلائی خان یونیورسٹی الماتی ، قازقستان کےلئےسکالر پاکستان چیئر منتخب ہوئی۔ وہ ٦١ اکتوبر ٠١٠٢ کو صبح پانچ بجےاچانک حرکتِ قلب بند ہونےکی وجہ سےانتقال کر گئے۔
رو¿ف امیر اردو ادب کےافق پر تیزی سےطلوع ہوئے۔انہوں نےمسلسل محنت و کوشش کےذریعےتیزی سےدنیاوی ترقی کےمدارج و مراحل ہی طےنہیں کئےبلکہ شاعری، تحقیق، تنقید اور تعلیم کی دنیا میں بھی اپنا ایک منفرد مقام بنایا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ” درنیم وا“ ٨٨٩١ءمیں شائع ہوا۔ اردو کےمعروف شاعر احمد ندیم قاسمی نےاپنےمضمون ” امکانات سےبھری شاعری“ میں تحریر کیا کہ ” اس کی غزلوں کےموضوعات میں جو تنوع اور رنگارنگی ہی، غزل میں اس انتہاءکی بوقلمونی کسی کسی کو نصیب ہوتی ہی۔ رو¿ف امیر کی شاعری اتنےبےشمار امکانات سےچھلک رہی ہےکہ میں ابھی سےاس کےدوسرےمجموعےکلام کا انتظار کرتا ہوں۔
شہزاد احمد رو¿ف امیر کےنام ایک خط میں رقم طراز ہیں کہ ” آپ بہت ہنر مند شاعر ہیں ۔اس پتھر سےبھی پانی نکالتےہیں جس میں موجود ہی نہیں ہوتا ۔آپ نےخاصی مشکل زمینوں میں بہت رواں دواں شعر نکالےہیں“۔
رو¿ف امیر کی مطبوعہ علمی تصانیف میں سی’ اقلمِ ہنر، افتخار عارف : شخصیت و فن، ماہ ِمنور، انور مسعود: شخصیت اور فن، ادبی تنازعات (مرتبہ ) ، کلیات حافظ ظہورالحق(مرتبہ) ،محمد توفیق : اردو سفر نامےکا گلِ خود رو، دھوپ آزد ہے (شاعری) درنیم وا (شاعری) ، رو¿ف امیر کےدیباچی(مرتبہ) میاں جابر اقبال، شامل ہیں۔
رو¿ف امیر نےباقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز اس وقت کیا جب وہ گورنمنٹ اصغر مال کالج راولپنڈی میں پڑھ رہےتھی۔ ان کی غزلیں اور نظمیں احمد ندیم قاسمی نےفنون میں سال ہا سال تک درج کیں۔ جس کی وجہ سےادبی دنیا میں ان کا تعارف ہوا۔ رو¿ف امیر نےپاکستانی غزل گوو¿ں کا تعارف اور تجربہ بھی پیش کیا۔ ماہنامہ ادبیات، اسلام آباد میں ان کا ایک مضمون” پاکستانی غزل کےچند زاویئی“ شائع ہو ا جو اس موضوع پر اپنےمنفرد ادبی اسلوب ، عمیق مطالعےاور فنی تجزیئےکی وجہ سےممتاز حیثیت کا حامل ہی۔ رو¿ف امیر نےاحمد ندیم قاسمی کےتصورِ انسان پر بھی ایک وقیع علمی کام کیا ہی۔ جسےسامنےلانےکی ضرورت ہی۔ ان کی آخری علمی تصنیف ”شاہراہ ِریشم کی جان قازقستان“ ہےجو ان کےنوائےوقت میں شائع ہونےوالےکالموں پر مشتمل ہی۔ رو¿ف امیر نےاپنی اس علمی کاوش میں قازقستان کی تاریخ، زبان، ادب اور ثقافت ، تہذیب اور معاشرت کا بھرپور تجزیہ پیش کیاہے۔ رو¿ف امیر نےپاکستانی غزل و نظم کےاہم شعراکےفکر و فن کا بھی جائزہ لیا ،جن میںسےاحمد ندیم قاسمی، جلیل عالی پروفیسر، انور مسعود، محمد اظہار الحق، احمدحسین مجاہد، محمد امیر شاہد، ڈاکٹر وحید احمد جیسےلوگ شامل ہیں۔
ہم اپنےعہد کےیوسف ضرور ہیں لیکن
کنوئیں میں قید ہیں بازار تک نہیں پہنچی
رو¿ف امیر کی شخصیت و فن پر ڈاکٹریٹ کی سطح کےعلمی کام کی ضرورت ہی۔ پاکستانی جامعات کو اس طرف توجہ دینی چاہیئی۔ رو¿ف امیر کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف سرکاری سطح پر بھی ہونا چاہیئی۔

{ "slotId": "7028149061", "unitType": "normal" }

پروفیسر محمدعارف ، ترنول کالج، ترنول ، ضلع اسلام آباد

{ "slotId": "5595128509", "unitType": "normal" }
Print Friendly, PDF & Email

Share Your Thoughts

Make A comment

{ "slotId": "5870779967", "unitType": "normal" }

Leave a Reply

Subscribe By Email for Updates.