”متاعِ فقیر“۔ تعارف و تجزیہ تحریر: محمد عارف

”متاعِ فقیر“۔ تعارف و تجزیہ
تحریر: محمد عارف
ڈاکٹرتصدق حسین آبائی گاو¿ں بادشاہ پور ضلع چکوال سےتعلق رکھتےہیں۔ ایم اےانگریزی، ایم اےاردو کرنےکےبعدانہوں نےاردو میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1985ءمیں ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ نسیم حجازی اور ان کی ناول نگاری پر لکھا۔ 1960 ءسے1984 ءتک درس و تدریس سےوابستہ رہےاور کئی ایک اچھےتعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ 1985 ءسے1998 ءتک مقتدرہ قومی زبان میں دارالترجمہ کےسربراہ کی حیثیت سےفرائض انجام دیئی۔ تصانیف و تالیفات میں ان کی مطبوعہ کتابوں میں سےغالب حصہ انگریزی سےاردو تراجم پر مشتمل ہی۔ چند ایک کتابوں کےنام یہ ہیں :۔
١۔ داستان میری ”آپ بیتی“
٢۔ پتھر کی آنکھ ( افسانی)
٣۔ نسیم حجازی ایک مطالعہ
٤۔ نوادراتِ عرشی امرتسری
٥۔ اقبال پیام بر امید
٦۔ اقبال ایک کاسموپولیٹن شاعر ہی۔ (انگلش)
٧۔ یوسف ظفر کی بات
٨۔جیلانی بی اےکی کہانی
٩۔واصف علی واصف کی سوانح و افکار
٠١۔ علامہ محمد یوسف جبریل ۔حیات و خدمات
میرےانتہائی محترم دوست صوفی شوکت محمود اعوان نہ صرف نکتہ رس اور نکتہ سنج انسان ہیں بلکہ درویشانہ مزاج کےحامل بھی ہیں۔ لہذا اسی لئےفقراءاور اہل اللہ کی محافل میں اٹھتےبیٹھتےہیں۔ ڈاکٹر تصدق حسین سےان کی پرانی یاد اللہ ہی۔ پچھلےدنوں انہوں نےمجھےڈاکٹر تصدق حسین کی نثری تصنیف ©”©متاعِ فقیر©©©©“ مرحمت فرمائی تو مجھےبےپایاں تقویت ہوئی کہ انہوں نےتصوف اور معرفت و سلوک کےراستےپر چلنےوالےمسافرانِ حق کےلئےایک اسکول آف تھاٹ کی بنیاد رکھ دی ہی۔ اردو کےاسلامی ادب پر نظر ڈالیں تو” تذکرة الاولیا“از شیخ فرید الدین عطار اولیائےاللہ کی زندگی پر ایک مستند کتاب ہی۔ حضرت سید عبدالقادر جیلانی کی” فتوح الغیب“ اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کی ” کشف المحجوب “ بھی علم تصوف کی اہم کتب سمجھی جاتی ہیں۔ حضرت امام غزالی کی ”کیمیائےسعادت“ روحی اور فقری نظام کو سمجھنےکےلئےاہمیت کی حامل تصنیف ہی۔حضرت سلطان باہو کی ” عین الفقر“ اور ”ابیات باہو“ بھی سالک کےلئےپیغامِ ابدیت کی حامل ہیں۔ جدید ترین ادبی تاریخ پر نظر ڈالنےپر پتہ چلتا ہےکہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے”من کی دنیا “ میں قاری کی باطنی اصلاح کےلئےایک مربوط لائحہ عمل وضع کیا ہی۔ اشفاق احمد کےلیکچروں پر مشتمل کتاب ”زاویہ“ بھی اہل علم سےداد وصول کر چکی ہی۔ پروفیسر احمدرفیق اختر کےلیکچرز ”پسِ حجاب“ کی صورت میں چھپ چکےہیں۔ ڈاکٹر تصدق حسین کی نثری تصنیف ”متاع فقیر“ ستمبر 2008 ءمیں رمیل ہاو¿س آف پبلیکیشنز راولپنڈی نےشائع کی ہی۔ انتساب حضرت پیر سید مہر علی شاہ کےنام ہی۔ یہ کتاب میجر (ر) محمد صادق ، خواجہ محمد یامین، پروفیسر عبدالعزیز اور سید عبدالرشید کی زندگی کےحالات و واقعات پر مشتمل ہی۔ ڈاکٹر تصدق حسین نےپیش لفظ میں اپنےروحانی سفر پر روشنی ڈالی ہی۔
ڈاکٹر تصدق حسین بنیادی طور پر تحقیقی مزاج کےحامل انسان ہیں۔ ”متاعِ فقیر“ قارئین ادب کےلئےایک ایسا توشہءآخرت ہےجو علم حقیقت کےمتلاشیان کےلئےبعض انتہائی غیر معمولی حقائق منصہءشہود پر لاتی ہی۔ ”متاعِ فقیر“ ڈاکٹر تصدق حسین کےلئےباعث ِفخر بھی ہےاور وسیلہءنجات بھی کیونکہ وہ اولیائےاللہ کےتذکرےمیں ہمہ تن مصروف رہتےہیںجو کہ آج کی مادی کشاکش کےپرآشوب عہد میں لائقِ صد تکریم مشن ہی۔ قدرت اللہ شہاب ،اشفاق احمد ، واصف علی واصف ، علامہ محمد یوسف جبریل اور ممتاز مفتی کےبعد ڈاکٹر تصدق حسین اہل علم و دانش کی روحانی تربیت کا فریضہ انجام دینےمیں متحرک اور فعال کردار ادا کررہےہیں۔ وہ آج کےبھولےبھٹکےہوئےقافلےکو شریعت، حقیقت اور طریقت کےاسرار و رموز سےآگاہ کرنا چاہتےہیں۔ اسرارِ باطن اور اصلاحِ نفس کا موضوع دور جدید کی ضرورت بھی ہےاور وقت کی پکار بھی۔ ڈاکٹر تصدق حسین اللہ کی تلاش و جستجو کےسفر پر نکل چکےہیں۔ پروفیسر عبدالعزیز نےانہیں وہ بہت کچھ عطا بھی کر دیا ہےجو وہ کسی کو دینا چاہتےتھی۔ علم اکتسابی کےعہد ہوسناک میں آج کا قاری دنیاوی شان و شوکت ،اقتدار و جاہ و سلطنت کےخواب دیکھتا اور ہوس زر کی آرزو رکھتا ہی۔ اسےکرسیءاقتدار اور عزت کی آرزو ہےجب کہ علمِ لدنی بنی نوع انسان کو گناہ و معصیت کی تاریکیوں میں بھٹکنےسےبچا کر نیکی، تقوی اور فوز و فلاح کی منزل سےہمکنار کرتا ہی۔ عشق الہیٰ و عشق رسول کےعملی تقاضےپورےہوتےہیں اور انسانیت کامرانی کےراستےپر چل پڑتی ہی۔ ڈاکٹر تصدق حسین نےیقینا اپنےلئےدرست راستےکا تعین کر لیا ہےاور وہ عنقریب علم و ادب کی دنیا میں بلند ترین مقام کو چھونےمیں کامیاب ہو جائیں گے۔
کتاب کےبابِ اول میں میجر ریٹائرڈ محمد صادق المعروف دستِ شفا ءپانی والےمیجر کےمتعلق گراں قدر معلومات کا ذخیرہ اکٹھا کر دیا گیا ہی۔ جو ہیلنگ پاور سےفیض یاب تھےاور مریضوں کو شفا یاب کرنےمیں شہرت دوام کےحامل انسان تھی۔ میجر محمد صادق کی شخصیت بہت سحر انگیز تھی۔ ہر کوئی ان کےسامنےنہ بیٹھ سکتا تھا۔ اعلیٰ فوجی افسر، بڑےبڑےسول افسران ،مجذوب ، سالک، پڑھےلکھےمدرسوں کی تعلیم سےدور علم لدنی سےمالا مال درویش ، روحانی ذوق کےحامل لوگ تھےکہ دور دور سےملنےکےلئےآتےتھی۔ ان کی غریب پروی اور انسان دوستی میں کوئی شبہ نہ تھا۔ برادری کےلوگوں کی ہر طرح سےمدد کرتےتھی۔ میجر محمد صادق کو حضرت غوث پاک سےبےپناہ عقیدت تھی اور انہیں ان سےبڑا فیض ملا تھا۔
باب دوم میں خواجہ محمد یامین المعروف سائیں کالا خان کی سوانح حیات اور ان سےرودادِ ملاقات کی تفصیلات پر مشتمل ہی۔ سائیں کالا خان کا تکیہ سخی آباد حسن ابدال سےآٹھ دس کلومیٹر کےفاصلےپر ایک چھوٹےسےگاو¿ں نکو کےقریب ہی۔سائیں کالا خان جھامرہ سےنکو گاو¿ں منتقل ہوئےتھی۔ پانی کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ ان کی دعا سےبنجر زمین سیراب ہوگئی اور اس بیابان میں جہاں صدیوں سےخزاں کےڈیرےتھےبہار آ گئی۔ سائیں کالا خان نےایک دفعہ فرمایا۔” خدا کےساتھ میں سبھی کچھ ہوں لیکن خدا کےبغیر میں کچھ بھی نہیں“۔ ایک دن ارشاد ہوا۔” اگر آپ کو یہ خیال گزرےکہ آپ خدا کےاس قدر قریب ہو چکےہیں کہ اس کا پلو آپ کےہاتھوں میں ہےتو پھر بھی کسی گمان میں نہ رہئےگا آپ جیسا بوئیں گےویسا ہی کاٹیں گی“۔ ایک دن مریدین سےگفتگو کرتےہوئےواضح کیا کہ” سچ تو یہ ہےکہ اگر اپنےوجود پر نظر ڈالیں تو یہ بھی شرک ہو گا“۔
باب نمبر تین میں پروفیسر عبدالعزیز بار ایٹ لا کےمتعلق محیرا لعقول اور از خود رفتہ معلومات فراہم کرکےسعادت دارین حاصل کی ہی۔پروفیسر عبدالعزیز چکوال کےایک چھوٹےسےگاو¿ں بڈھیال میں رہائش پذیر تھی۔ یہ گاو¿ں سہگل آباد کےقریب چکوال سہاوہ روڈ سےچند کلو میٹر ہٹ کر واقع ہی۔ پروفیسر عبدالعزیز نےڈاکٹر تصدق حسین سےفرمایا ۔ ” آپ نےاللہ والوں کا گروپ بنانا ہےاور یہ کام آپ کریں گی“۔ انگریزی میں انہوں نےایک انڈرٹینکنگ لکھی۔ اسکےآخر میں اپنےدستخط کئےاور اسےان کی طرف بڑھاتےہوئےوصول کرنےکی ہدایت کی۔ یہ بھی فرمایا ۔ کہ اپنا جھنڈا بنوا لو ۔ دیا بھی رکھ لو اور لنگر جاری رہنا چاہیئےاور لنگر کےلئےکوئی اپنی خوشی سےدینا چاہےتو اجازت ہےلےلیا کرو۔
پروفیسر عبدالعزیز باطنی علوم میں دلچسپی رکھتےتھےاور علم ِلدنی کی نعمت سےسرفراز تھے۔ پروفیسر عبدالعزیز ان منتخب ہستیوں میں سےتھےجو قدرت کی طرف سےمنتخب شدہ ارواح میں شامل ہوتےہیں۔ پروفیسر عبدالعزیز نےسرابوں کےتعاقب میں بھاگتےہوئےلوگوں کےسفر کو رائیگاں ہونےسےبچایااور ان کےلئےبےلوث دعائیں کیں۔
باب چہارم سید عبدالرشید سےمتعلق معلومات پر مشتمل ہی۔سید عبدالرشید کونبی علیہ الصلوة والسلام نےبیعت فرمایا تھا اور عالمِ خواب میں علمِ قران و حکمت سےنوازا۔ ان کی اصل تعلیم علم لدن ہی۔ یہ وہی تعلیم ہےکہ جس کےحصول کےلئےظاہری مدرسہ و کالج کی ضرورت نہیں۔ رابندر ناتھ ٹیگور ،صوفی محمد برکت علی ، علامہ محمد حسین عرشی امرتسری ، احسان دانش، علامہ محمد یوسف جبریل ،حکیم محمد صدیق کیانی ،استاد فضل حسین قلیل جیسےفاضل اسی راہ کےمسافر تھی۔ ڈاکٹر تصدق حسین نےسید عبدالرشید کےبعض خطوط ”متاع فقر“ میں شامل کرکےقاری کی معلومات میں اضافہ فرمایا ہی۔
المختصر ڈاکٹر تصدق حسین کی مرتب شدہ تصنیف ” متاعِ فقیر“ سےپتہ چلتا ہےکہ وہ اولیاءاللہ سےدلی عقیدت رکھتےہیں اور ان کےروحانی مشن میں شریک صفِ اول کےمجاہدوں میں شامل ہونےپر فخر محسوس کرتےہیں۔ ڈاکٹر تصدق حسین نےانتہائی عمیق نظری ، غیر مختمم خزانہءمعلومات ، اور وسیع قوت مشاہدہ سےعلم تصوف کی تاریخ کو جدید تر عہد کےتناظر میں درست سمت سفر سےجانچنےاور پرکھنےکی سعی و کاوش کی۔ ان کی تحریروں سےیہ امر مترشح ہوتا ہےکہ وہ فقراءاور اہل اللہ کےقافلےکےمجاہد ہیں کہ جنہوں نےآج کی بھولی بھٹکی ہوئی انسانیت کو علم ِحقیقت سےآگاہ کرنا ہی۔
پروفیسر محمد عارف ترنول کالج، ترنول ضلع اسلام آباد

 

Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 76
    علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتےاور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہےمگر اس امر سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سےگہری مماثلت رکھتےہیں۔…
  • 75
    کیا پاکستانی ادب لمحہءموجود کی ضرورت ہے؟ تحریر محمدعارف ادب جغرافیائی حدود و قیود کا نام نہیں، بلکہ یہ ملکی سرحدوں کو عبور کرکےخطےکےجذبوں کو زبان عطا کرتا ہی۔ ادب پاکستانی نہیں ، ادب ایرانی نہیں، افغانی نہیں، انسانی ہوتا ہی۔ ہر ملک کی نظریاتی، جغرافیائی سرحدوں کو تحریروں میں…
  • 75
    اپنی موج میں ،اپنی دُھن میں ،بہتا بولتا رہتا ہے تحریر : شمشیر حیدر جب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوتو ایسےمیںاگر ایک جگنو بھی چمکتا دکھائی دےتو حوصلہ ہونےلگتا ہے،کچھ کچھ اپنےہونےکےنشاں کھلنےلگتےہیں اور وحشتوں کےفریب میں کمی آنےلگتی ہے۔ہم ایسےعہدِبےچراغ میں زندہ ہیںکہ جب ہرآدمی زندگی جبرِمسلسل کی طرح…
  • 74
    نصب العین : علامہ محمد اقبال ، علامہ یوسف جبریل ، اور دیگر مفکرین و بزرگانِ دین کےاُفکار کی عام فہم انداز میں ترویج و اشاعت اغراض و مقاصد: ٭نوجوانوں کی فکری راہنمائی اور فکری بہبود کیلئےکام کرنا۔ ٭تعلیمی اداروں میں جا کر نصب العین کا پرچار کرنا۔ ٭نصب العین…
  • 72
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…
  • 71
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…
  • 71
    خدا بانٹ لیا ہے تحریر : محمد عارف (ٹیکسلا) آجکل تھوک کےحساب سےچھپنےوالےشعری مجموعوں میں سےشاید ہی کوئی دل کو بھا جائےاور جذبات میں ہلچل بپا کرنےکا سبب ہو ۔کاشف بٹ کا شعری مجموعہ ”خدا بانٹ لیا ہی“ بھی انہی میں سےایک ہی۔ کاشف بٹ کی شاعری پڑھتےہوئےملائمت، نرمی اور شگفتگی…
  • 71
    کینسر سےشدید بیمار، مایوس اور بےبس انسانوں کی نجات کےلئےکینسر کا روحانی علاج تحریر : شوکت محمود اعوان، ایڈیٹر کوارڈینیشن ہفت روزہ وطن اسلام آباد انسان کےلئےجہاں بےپناہ بیماریاں پیدا ہوئی ہیں،وہاں ان بیماریوں کےلئےعلاج بھی مہیا کر دیا گیا ہی۔ مگر علاج کی تراکیب مختلف ہیں جیسےدوا سے، نفسیاتی…
  • 70
    حضرت واصف علی واصف کی پنجابی شاعری میں صوفیانہ روایت تحریر : محمد عارف حضرت واصف علی واصف لمحہءموجود کےان معروف و مقبول صوفی دانش وروں میں سےہیں جنہوں نےعلمی استدلال، تفکر و تدبر اور دانائی و بینائی سےآج کی بھولی بھٹکی انسانیت کےرشتہءخالق کائنات سےمضبوط بنایا۔ وہ بنی نوع…
  • 70
    وادی سون کاتعارف تحریر : شوکت محموداعوان پاکستان کی حسین و جمیل وادیوں میں وادی سون دلفریب مناظر کی حامل ایک مشہور وادی ہی۔ یہ وادی کوہستان نمک کےعلاقےکا حصہ ہےاور اپنےقدرتی مناظر ، خوش گوار ماحول، ٹھنڈےموسم اور زمین میں معدنیات کےبھر پور خزانوں سےمزین مشہور وادی ہی۔ اس…
  • 70
    ایک نابغہء روزگار روحانی شخصیت حضرت علامہ محمد یوسف جبریل تحریر : محمدعارف پروفیسر سید اللطائفہ حضرت جنید بغدادی کو فقر کا منصب اس لئےعطا ہوا کہ انہوں نےاہلِ بیت کی تعظیم کی۔ فقراءاور اہل اللہ نےاپنی تعلیمات کو ساد ہ و آسان اسلوب میں ڈھال کر ہمیشہ پیش کیا…
  • 69
    Introduction of shaukat m awan gen. secretary adara tehqiqul awan pakistan President Yousuf Jibreel Foundation sarparast ala bazme afqare gabriel wah cantt editor coordinator weekly watan islamabad شوکت اعوان شخصیت اور خدمات تحریر محمد عارف ١۔ شوکت محمود اعوان گیارہ نومبر انیس سو ترپن 11-11-1953میں بمقام کھبیکی وادی سون سکیسر…
  • 68
    اجڑ سکےگی کسی سےنہ خانقاہ مری تحریر : محمدعارف ٹیکسلا راولپنڈی سےپشاور کی طرف آئیں تو پتھروں کےشہر ٹیکسلا سےچند قدم آگےایک چھوٹی سی مضافاتی بستی نواب آباد ہےجو صنعتی شہر واہ کینٹ کا ایک جزو لاینفک ہوتےہوئےبھی دیہات کی دلفریب فضا کا دلنشین رنگ لئےہوئےہے۔اس بستی کی آبادی بھی…
  • 68
    شعبہ جات شعبہ ریسرچ اینڈپلاننگ نوٹ: اصلاحی معاشرےکیلئےفلاحی ذہن کی ،فلاحی ذہن کیلئےذہن سازی کی،ذہن سازی کیلئےدلائل کی اور دلائل کیلئےتحقیق و مطالعہ کی ضرورت ہو تی ہے۔ ا)تحقیقی ایجنڈےکےمطابق مضامین اور کتابیں تیار کرنا اور نئےتحقیقی پہلوئوں کو اجاگر کرنا۔ ب)نصب العین سےمتعلق موضوعات پر کام کرنےوالوں کو ایک…
  • 68
    ماہنامہ ”شعوب “ میری نظر میں تحریر شوکت محمود اعوان مجھےماہنامہ شعوب کراچی پر قلم اٹھاتےہوئےطمانیت کا احساس ہو رہا ہی۔ میری نگاہوں کےسامنےوہ سارا زمانہ آ گیا جب میں اور ملک محبت حسین اعوان نےاعوان قبیلےکی تاریخ مرتب کرنےکا بیڑہ اٹھایا۔ مجھےوہ وقت کبھی بھی نہیں بھول سکتا کہ…
  • 68
    ”ناد وقت سنانےوالاملنگ “بابا جی عنایت اللہ تحریر :داکٹر رشید نثار ہمارےعہد میں روحِ عصر کےنمائندہ واصف علی واصف تھی۔ ان کی دانش کےروشن چراغ بابا جی عنایت اللہ ہیں۔ جن کےپاس علم، دانش اور vision تینوں موجود ہیں۔راقم التحریر جناب واصف علی واصف کو اس عہدکاکشادہ ظرف انسان اور…
  • 67
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 66
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 65
    رو ئف امیر چند یادیں، چند باتیں تحریر محمد عارف رو¿ف امیر کا نام کراچی سےلےکر خیبر تک پورےملک کےعلمی و ادبی حلقوںمیں ہی نہیں جانا پہچانا جاتا ہےبلکہ وہ بیرونِ ملک وسطِ ایشیاءکی ریاست قازقستان میں پاکستان چیئر پر سکالر کی حیثیت سےاپنی خدمات سرانجام دےرہےتھی۔ وہ ایک عمدہ…
  • 65
    بابا جی یحییٰ خان سےایک ملاقات تحریر : محمد عارف یہ جون کی ایک کڑکتی ہوئی دوپہر تھی کہ جب میرےمحترم دوست شوکت محمود اعوان (واہ کینٹ) نےمجھےبتایا کہ میرےایک دوست (سعید صاحب ) ٹریول لاج ، ٥ سڑکی پٹرول پمپ ، سکالر کالج ، پی سی ہوٹل کےنزدیک صدر…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Subscribe By Email for Updates.