”محمد گل نازک کی نازک خیالیاں“تحریر محمدعارف

”محمد گل نازک کی نازک خیالیاں“
تحریر ©: محمدعارف
اردو غزل کےارتقائی مطالعےسےیہ نکتہ بالتصریح مترشح ہوتا ہےکہ محمد قلی قطب شاہ سےلےکر لمحہءموجود تک مختصراور طویل ہر دو بحور میں طبع آزمائی کی گئی۔ دبستان لکھنوءکےاہم شاعر استاد امام بخش ناسخ نےایک ہی بحر، قافیےاور ردیف میں سو سےزائد اشعار پر مشتمل ایسی غزلیں بھی تحریر کی ہیں جن میں سےکسی بھی لفظ پر کوئی نقطہ موجود نہیں ہی۔ قیام پاکستان کےبعد جدید اردو غزل کےجگمگاتےہوئےروشن ستارےناصر کاظمی نے”پہلی بارش“میں ایک ہی زمین اور قافیہ کی صورت میں طویل غزل کی تخلیق کا تجربہ کیا ہی۔
میں جب تیرےگھر پہنچا تھا

تو کہیں باہر گیا ہوا تھا
ترےگھر کےدروازےپر

سورج ننگےپاو¿ں کھڑا تھا
دیواروں سےآنچ آتی تھی

مٹکوں میں پانی جلتا تھا
رفیق سندیلوی نےبھی غزل مسلسل کا تخلیقی تجربہ کیا ہی۔
میں قرآں کی تلاوت کر رہا تھا

میرا سینہ گرجنےلگ گیا تھا
محمد گل نازک کا نام ادبی دنیا میں نیا ہی۔ ان کی طویل غزل”شکوہ نازک“ بھی اسی تسلسل فکر کا بھر پور اظہار ہی۔ جس میں انہوں نےاپنی داستان عشق کو منفرد اسلوب میں ڈھال کر پیش کیا ہی۔ روٹھنا، منانا، نازو انداز شکوہ و شکایت کےمضامین و موضوعات کو سادگی و سلاست سےصفحہءقرطاس پر منتقل کرنا ان کا ،فی نفسہ ایک اہم ادبی کارنامہ ہی۔
محمد گل نازک کی” غزل مسلسل“ ان کےقلبی جذبات و احساسات کی آئینہ دار تخلیق ہی۔ جس میں اردو شاعری کا روائتی حسن اپنی فنی لطافتوں اور سمعی و بصری پیکر تراشیوں کےقالب میں ایک ادبی شان سےسامنےآتا ہی۔ محمد گل نازک نےانتہائی کھلےاور واشگاف انداز میں محبت کےلطیف ترین جذبےکی عطر بیزساعتوں کو لفظ در لفظ اور سطر در سطر یوں سمویا ہےکہ عصری مسائل کےبوجھ سےلرزاںاور فلسفےکا عصاتھام کر چلتی ہوئی شاعری کےبوجھل مضامین میں ہمیں تازگی و شگفتگی کا احساس دامن گیر ہوتا ہی۔ اردو شاعری کےعمیق سےمندر میں غوطہ زن ہوں تو یہ حقیقت بھی آشکارا ہوتی ہےکہ مثنوئی سحرالبیان ، مثنوری زہر عشق میں سےبعض منتخب حصےمعاملات حسن و عشق کو بہ حسن و خوبی بیان کرتے ہی اردو کےنامور شاعر میر تقی میر کی غزل جذبہءعشق و محبت کی عالمگیر سچائی اور آفاقی صداقت کو بہ اتمام و کمال منصہءشہود پر لاتی ہی۔
سخت کافر تھا جس نےپہلےمیر

مذہب عشق اختیار کیا
حکیم مومن خا ن مومن اور میرزا اسداللہ غالب کےکلام میں بھی حسن و عشق کی جلوہ ریز ضوفشانیاں اپنےتمام اوصاف و کمالات سےسامنےآتی ہیں ۔ اردو غزل کےجدید شعراءمیں سےاختر شیرانی ، کی” سلمی“ اور” عذرا“ بہت مشہور ہوئیں۔ ساحر لدھیانوی کی ” تاج محل“ اردو ادب کی شاہکار نظموں میں سےایک ہی۔اگر ہم اردو نثر کےآئینےمیں دیکھیں تو میرزا ادیب کے” صحرانورد کےخطوط“ راجہ انور کی نثری تصنیف ” جھوٹےروپ کےدرشن“ اور ڈاکٹر وحیدقریشی کی” شبلی کی حیات معاشقہ“ اہم ہیں۔ محمدگل نازک اردو غزل کی کلاسیکی روایت کےحامل ان شعراءکی صف میں شمار ہوتےہیں جو خمار بارہ بنکوی اور استاد قمر جلالوی کےرنگ سخن کےآئینہ دار ہیں۔ محمد گل نازک نےابہام، تجرید یا علامت کاسہارا نہیں لیا اور نہ ہی مابعد الطبیعاتی فلسفیاتی مسائل کو اپنا مرکز و محور بنایا۔وہ قوافی و ردیف یا بحور و اوزان کےتجربوں کو بھی درخور اعتناءنہیں سمجھتا بلکہ اس نےآج کےپر آشوب عہد کو موضوع بنانےکی بجائےاعصابی کشمکش کےدور میں تفنن طبع کی خاطر رومان انگیز ماحول تخلیق کیا۔کیونکہ محبت کےانہی حسین لمحوں کو انسانی زندگی کا عطر قرار دیا گیا ہی۔
محمد گل نازک سیدھا ، سپاٹ، واضح اور راست طرز اظہار اپناتا ہےجو اس کی گہری فنی ریاضت اور فکری ژولیدگی کا آئینہ دار ہی۔ اس کا سادہ و دلکش لب و لہجہ بعض مقامات پر سہل ممتنع کا روپ دھار لیتا ہے۔ ہمیں اس کی طویل غزل پڑھتےہوئےبعض اوقات ابن انشاءکےشعری مجموعہ ” اس بستی کےاک کوچےمیں“ اور ”چاندنگر“ کی بعض نظمیں اور غزلیں بےساختہ یاد آئیں۔
یہ امر بھی ایک بدیہی اور لازمی حقیقت ہےکہ محمد گل نازک کی شاعری میں جذبےکی گہرائی ،شدت احساس، اوراچھوتا انداز فکر نظر آتا ہی۔ جومعاصر غزل کی رمزیت و آثاریت سماجی مسائل ، عصری صداقتوں سےکوسوں دور ہےمجھےتو واقعتہََ کبھی کبھی وہ اردو کےاستاد میرزا اسدااللہ غالب کا ہمنوا نظر آتا ہی۔
ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو

بنتی نہیں ہےبادہ و ساغر کےبغیر
محمد گل نازک ایک انتہائی زیرک دانشور اور بصیر ت ا فروز فکر کا حامل انسان ہی۔”شکوہءنازک“ اس کےمعصوم دل کی وہ داستان ہےکہ جس میں اس نےاپنےبطون کی اداسی دردو کرب اور رنج و ملال، شوخی و ظرافت کےدبیز پردوں میں سمو کر پیش کر دیا ہے۔وہ بیک وقت زندگی اور حاصل زندگی سےمخاطب ہوتا ہےکیونکہ اسکا محبوب ہی اس کےلئےحیات نو ، وجہ ءقرار جاں اور سکون قلب کا باعث ہی۔محمدگل ناز ک کی طویل غزل سےاس کےمحبوب نظر کی کج ادائی ، نازو انداز ، بیوفائی، کا ذکر واشگاف الفاظ میں کیا گیا ہی۔جس سےشاعر کی ہمت و جرات کا صاف پتہ چلتا ہے۔ اردو غزل میں ابتداءہی سے”محبوب“ کےلئےتانیث کی بجائےتذکیر کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہےتاکہ معاشرتی پابندیوں اور وضعداری کےاصولوں کو پیش نظر رکھا جا سکی۔ محمد گل نازک نےاپنی غزلیہ شاعری میں صیغہءتانیث کو مستعمل کیا جسےپڑھتےہوئےہمیں اس میں اپنےلاشعور میں اردو کےاہم شاعر ولی دکنی کی محولہ بالا غزل سرسراتی ہوئی محسوس ہوئی۔
المختصر محمدگل نازک کا شاعرانہ ذوق مسلسل نمو پذیر اور لائق تحسین ہی۔ وہ اگر عمیق مشاہدی، گہرےمطالعےاور وسعت نظری کو بروئےکار لا کر کلاسیکل جدید اور جدید غزل کےسفر میں ذہنی طور پر شریک ہو کر اپنےلئےمنفرد راستےکا تعین کرےتو وہ دن دور نہیں کہ جب وہ اردو غزل میں اپنامقام بنا لےگا۔
احقر
محمد عارف ایم اےاردو، بی ایڈ، ایم فل، سینئر ٹیچر ایف جی بوائزہائیر سیکنڈری سکول ترنول

 

Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 72
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 63
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…
  • 60
    حج دا سفر نامہ تحریر: محمدعارف (ٹیکسلا) ڈاکٹر سید عبداللہ ”سرزمینِ حافظ و خیام از مقبول بیگ بدخشانی “ میں رقم طراز ہیں کہ ” ایک کامیاب سفر نامہ وہ ہوتا ہےجو صرف ساکت و جامد فطرت کا عکاس نہ ہو بلکہ لمحہءرواں میں آنکھ، کان ، زبان اوراحساس سےٹکرانےوالی…
  • 56
    ایک نابغہء روزگار روحانی شخصیت حضرت علامہ محمد یوسف جبریل تحریر : محمدعارف پروفیسر سید اللطائفہ حضرت جنید بغدادی کو فقر کا منصب اس لئےعطا ہوا کہ انہوں نےاہلِ بیت کی تعظیم کی۔ فقراءاور اہل اللہ نےاپنی تعلیمات کو ساد ہ و آسان اسلوب میں ڈھال کر ہمیشہ پیش کیا…
  • 55
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 54
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 54
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…
  • 53
    بابا جی یحییٰ خان سےایک ملاقات تحریر : محمد عارف یہ جون کی ایک کڑکتی ہوئی دوپہر تھی کہ جب میرےمحترم دوست شوکت محمود اعوان (واہ کینٹ) نےمجھےبتایا کہ میرےایک دوست (سعید صاحب ) ٹریول لاج ، ٥ سڑکی پٹرول پمپ ، سکالر کالج ، پی سی ہوٹل کےنزدیک صدر…
  • 53
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 53
    Introduction of shaukat m awan gen. secretary adara tehqiqul awan pakistan President Yousuf Jibreel Foundation sarparast ala bazme afqare gabriel wah cantt editor coordinator weekly watan islamabad شوکت اعوان شخصیت اور خدمات تحریر محمد عارف ١۔ شوکت محمود اعوان گیارہ نومبر انیس سو ترپن 11-11-1953میں بمقام کھبیکی وادی سون سکیسر…
  • 52
    وادی سون سکیسر کی ایک عظیم ادبی شخصیت ۔ ملک خدابخش مسافر تحریر : ملک شوکت محمود اعوان وادی سون سکیسرنےبےشمار ادیب، شاعر، عالم، فاضل، مفسر، مقرر، دیندار،سائنس دان، فلسفی، ولی اللہ،مجاہد،فوجی افسر اور فوجی جوان، ٹیچر، زاہد، عابد اور علمائےکرام کو جنم دیا ہی، ان میں ہم جس شخصیت…
  • 52
    علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتےاور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہےمگر اس امر سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سےگہری مماثلت رکھتےہیں۔…
  • 51
    خدا بانٹ لیا ہے تحریر : محمد عارف (ٹیکسلا) آجکل تھوک کےحساب سےچھپنےوالےشعری مجموعوں میں سےشاید ہی کوئی دل کو بھا جائےاور جذبات میں ہلچل بپا کرنےکا سبب ہو ۔کاشف بٹ کا شعری مجموعہ ”خدا بانٹ لیا ہی“ بھی انہی میں سےایک ہی۔ کاشف بٹ کی شاعری پڑھتےہوئےملائمت، نرمی اور شگفتگی…
  • 50
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…
  • 50
    ”ادب دےنگینے“ تحریر: محمد عارف (ٹیکسلا) میاں محمد اعظم کا تعلق راولپنڈی سےہےجسےشاعروں اور افسانہ نگاروں کا شہر کہا جاتا ہی۔ میاں محمد اعظم نے”ادب دےنگینی“ کےعنوان سےحال ہی میں ایک خوبصورت شعری مجموعہ زیورِ اشاعت سےآراستہ کیا ہی، جس کا انتساب” پروفیسر زہیر کنجاہی صاحب “کےنام ہےجو راولپنڈی کےمعروف…
  • 49
    ”متاعِ فقیر“۔ تعارف و تجزیہ تحریر: محمد عارف ڈاکٹرتصدق حسین آبائی گاو¿ں بادشاہ پور ضلع چکوال سےتعلق رکھتےہیں۔ ایم اےانگریزی، ایم اےاردو کرنےکےبعدانہوں نےاردو میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1985ءمیں ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ نسیم حجازی اور ان کی ناول نگاری پر لکھا۔ 1960 ءسے1984 ءتک درس و تدریس…
  • 48
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 47
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 47
    علامہ محمدیوسف جبریل لمحہءموجود کےدانش ور فلسفی تحریر محمد عارف ٹیکسلا علامہ محمد یوسف جبریل لمحہ موجود کےبالغ نظر دانشور ، فلسفی، دانائےملت، شاعر اور ادیب تھی۔ آپ نےاپنےرشحاتِ قلم کےذریعے نصف صدی تک امت مسلمہ کےحساس طبقےکو علم و دانش کی روشنی سےمنور کیا۔آپ نےمسلم مفکراور ایٹمی سائنس دان…
  • 47
    واہ قدیم شہر ٹیکسلا کےسنگم پر واقع ہی۔ ازمنہءقدیم میں ٹیکسلا گندھارا تہذیب کی راجدھانی رہا ہی۔ دور دراز سےتجارتی قافلےآتی، یہاں پر پڑاوکرتےاور اہل ہنر و صاحبان سیف و قلیم کا بھی یہاں پر اجتماع رہتا۔ ایک زمانےمیں علم و ہنر کےحوالےسےٹیکسلا کا پورےعالم میں ڈنکا بجتا تھا اور…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Subscribe By Email for Updates.