Gulha a Aqeedat

Back to Kuliyat e Gabriel

گلہائے عقیدت

علامہ اقبال ؒ مرحوم کے حضور میں

سرود رفتہ باز آید بیاید
نسیمے از جحاز آید بیاید
دو صد رحمت بجان آں فقیرے
دگر دانائے راز آید بیاید
دگر آید ہماں دانائے رازے
ندارد جز نوائے دل گدازے
دے صد چاک و چشمے خون فشانے
شہنشائے فقیرے نے نوازے
ضمیر فکر قران فاش کردہ است
فقیرے بے نوائے نے نوازے
بیاید در جہاں دارائے رازے
ندارد جز نوائے دلگدازے
(جبریل)
یہ دونوں رباعیاں حضرت علامہ اقبالؒ اناراللہ مرقدہ کی مندرجہ ذیل رباعیوں کا جواب ہیں بلکہ صدائے بازگشت ہیں۔(علامہ یوسف جبریل)
سرود رفتہ باز آید کہ ناید؟
نسیمے از جحاز آید کہ ناید؟
سر آمد روزگار ایں فقیرے
دگر دانائے راز آید کہ ناید؟
اگر مے آید آں دانائے رازے !
بدہ او را نوائے دلگدازے
ضمیر امتاں را مے کند پاک
کلیمے یا حکیمے نے نوازے
(اقبال ؒ )
خخ

نسبت بہ پیر محبوب عالم شاہ گیلانیؒ
اناراللہ برہانہ خلف شاہ شرف قلندرموضع کھبکی وادی سون سکیسر خوشاب

اے درد مندِ اُمتِ سرتاجِ انبیا
اے آرزوئے قلبہء بیدادِ اسفیا
عالی تبار و عالی نژاد و خدا پرست
ابرِ بہار جود و کرم عرشِ اسخیا
دنیا میں بھی عزیز تو عقبے میں بھی عزیز
منظورِ دو جہاں ہے تو محبوبِ دوسرا
ظاہر تیرا ہے بُقعہء انوارِ دلفروز
باطن ہے تیرا گوہرِ گنجینہء صفا
تیرِ دُعا ہے تیرِ فلک دوز و عرش رس
ہے نگہہء پاکبیں کا ہدف سینہء سما
تیرِ دعا ہے تیرِ قضا کا جو ہم سفر
آتی ہے تجھ سے چہرہء تقدیر کو حیا
رمزِ آشنا ہے سینہء جبریلؔ حق پرست
اُ ٹھی ہے قلبِ صافیِ حق بیں سے یہ صدا
جس دل میں تھا وہ صاحبِ عرفاں کا دردِ دل
جس آنکھ میں تھی صاحبِ تطہیر کی حیا
تا حشر اس پہ وا ہو درِ ربِ ذوالجلال
دائم ہو دستِ شفقتِ محبوبِ کبریا
نازاں فلک بہ جنبشِ عَلمِ ہلالیت
شاداں ملک بہ گنبدِ درگاہِ عالیت
آپ ؒ نے حالِ صحت میں اپنی وفات سے ہفتہ قبل اپنی قبر کھدوائی اور اس میں لیٹ کر جائزہ لیا۔ بارش نہ ہوتی تھی ۔ لوگوں نے کہا۔ حضرت! دعا فرمائیے ۔ آپؒ نے فرمایا بارش تو ہوگی انشاء اللہ لیکن محبوب عالم نہ رہے گا۔ بارش ہوئی اور آپؒ وفات پا گئے پیر پھل بادشاہ قلندر ۔ پیر گلزار حسین اور پیر فدا حسین ۔پیر محبوب عالم ؒ کے فرزند ہیں ۔ ذیل کے بند میں اشارہ ہے عالی جنابؒ کے موت سے ایک ہفتہ قبل حالتِ صحت میں اپنی قبر کھدوانے کا ۔ آپؒ کی وفاتِ حسرت آیات کے موقع پر آپؒ کے تینوں صاحبزادوں پُھلؒ پیر ۔ پیر گلزارؒ حسین اور پیر فدا حسینؒ میں سے کوئی بھی آپؒ کے پاس نہ تھا۔
امرِ قضائے ربی سے انکار بھی نہ تھا
پھُلؒ بھی فدا حسینؒ بھی گلزارؒ بھی نہ تھا
اک ہفتہ قبلِ مرگ کھدائی جو تُو نے قبر
چہرے پہ کوئی موت کا آثار بھی نہ تھا
اے تجھ پہ ناز کرتے ہیں اہلِ صفا و صبر
ہنگامِ مرگ بر سرِ پیکار بھی نہ تھا
اے رازدانِ رازِ حقیقت تیری ضمیر
پوشیدہ جس سے سینہء اسرار بھی نہ تھا
اے روشناسِ باطن و سّر عظیمِ جبر
پنہاں نہالِ طوبیِ انوار بھی نہ تھا
اے فرطِ غم سے ارض کی بستی بھی تھی خموش
اُفق آسماں پہ مائلِ گفتار بھی نہ تھا
چہرے پہ تھی متانت و تسکیں کی خاموشی
پر اضطراب قلبہء خوں بار بھی نہ تھا
ہے امتیاز آلِ حسنؓ عفو و صبر و حلم
آلِ نبیؓ میں شیوہء آزار بھی نہ تھا
نور است حرف و حکمتِ جبریلِؔ نوربیں
طور است و نورِ شعلہء قندیلِ طوربیں
اے پور شاہ شرفؒ توئی محبوبِ عالمے
گلزارؒ و پُھلؒ فدائےؒ تو اولاد چوں نگیں
پیدا ہے ترے روضہء انوارگوں سے ضو
ہے تیرے دم سے روئے ولائت کی آبرو
سدرہ ہے تیری چشمِ سمابیں میں منعکس
ہے عرش تیری نگہہِ خدا بیں کے روبرو
اے ذاتِ قدسِ آیہء تطہیر کی مثل
اے بوُ علی نمونہء خلقِِ عظیم تُو
آوازہء ملک ہے تیرے قلب کی صدا
دروازہء فلک ہے تیرے قلب کا رفو
سوزِ جہاں گداز تیری آہِ شعلہِ ریز
ہے لعلِ شبِ چراغ تیرے اشک کا لہو
سلکِ رواں جو تھی وہ تیرے سیلِ اشک سے
ہے سبحِ کہر با بہ نواہائے اللہ ھو
دی ہفتہ قبلِ مرگ جو رحلت کی اطلاع
پھیل گئی خبر کہ مشرق و مغرب میں چار سو
تھی آپؒ کے بدن میں علامت نہ موت کی
جبریلؔ پر کھدائی اپنی لحد اپنے روبرو
ٹھیک ہفتہ بعد آپؒ نے ہمیں الوداع کہا
رکھ لی خدا نے تیری کرامت کی آبرو
تربت میں بس رہا ہے گلِ یاسمیں کا عطر
روضے میں اُٹھ رہی ہے بہارِ ارم کی بو
ہیں قمریاں کہ محوِ تلاوت خیال میں
یا آسماں میں ہے یہ فرشتوں کی گفتگو
دودِ چراغِ ذوقِ قیامت میں بالا کش
سجدے میں اک سکوتِ منور ہے قبلہ رو
شبِ ہست و روضہء توُ منور زنورِ رب
رب ہست و ابرِ رحمت و لطفِ وفورِ رب
خخ

نذرانہ عقیدت بحضورحضرت سلطان سخی محمد خوشحال سلطان العا رفین انا راللہ مر قد ۃ مو ضع دھڈھر وادی سون سکیسر خوشاب

سوہنا سہرا تے سخی دا چہرہ سوہنی ہر ہر گل اے
سو سو صدیاں وچ جہاناں سخی دی ہر ہر پل اے
خادم تیرے در دے سخیا سُون کہون تے تھل اے
لکھے صفتاں تے لکھ نہ سکے قلم نمانی شل اے
(ب)
نور تجلی تے عرش ربانی فلک افلاک ھزاراں
لعل یاقوت زمرد موتی لسکن وانگ سنگاراں
حور قصور تے حوض بہشتی سو سو ہور بہاراں
کتھے جا کے جڑیاں سخیا عشق رمز دیاں تاراں
(ج)
ڈٹھے دیہوں تے چن اکھٹے جھرمٹ وچ آسماناں
وچ بہشتاں گاون حوراں سخی صاحب دیاں شاناں نیندر پائی غوثاں قطباں ابدالاں سلطاناں
موج بہار بنائی من وچ انواراں عرفاناں
(د)
تو سخی سلطان الہی تینوں قرب ربانی
تو سلطان ہیں در تیرے تے شینہاں دی دربانی
سو سو راز اسرار الہی تے سو سو رنگ عرفانی
وگی روز ازل دے سخیا لوح قلم دی قانی
(ر)
مدت ہوئی در تیرے تے کھلی درداں ماری
کوئل وانگ کو کیندی عرضاں کر کے آہ و زاری لج پالاں نوں پیاں لجاں لج پالن دی واری
جے منگو ارزو دلاں دی دیوے رب غفاری
(س)
چھن پرون اے سینہ میرا کیتا غم دیاں تیراں
سو سو دکھ ھزار مصیبت خالی سب تدبیراں
جے مٹی اس در دی لبھے کیوں منگاں اکسیراں
ذرہ عشق ربانی وچوں مل جاوے دلگیراں
(ص)
روح اداس تے غم گھنیرے جندڑی ڈاھڈی تنگ اے سیاہ ضمیر اسیر گناہاں روح کالی دل زنگ اے
چھوڑ گئے سب یار تے بیلی کیا ماڑے کیا چنگے
آکھ جبریلؔ جے مرشد سوہنا
وچ عشق نبی ﷺ دے رنگے
خخ

نذرانہ عقیدت بحضورحضرت سلطان سخی محمد خوشحال سلطان العا رفین انا راللہ مر قد ۃ

تو سخی تیری سخاوت کے ہیں چرچے ہر سو
نہ گیا در سے ترے کوئی سوالی خالی
تیری پر نور و خدا مست نگاہوں میں نہاں
ایک دنیا ہے کہ جس آنکھ نے مانگی پالی
دل ہے انوارِ الہی سے جو مستور تیرا
کیوں نہ ہو سبز ترے فیض سے سوکھی ڈالی
تیرے دربار میں آیا جو وہ خوشحال پھرا
ہر بلا دستِ کرامت نے جو سر سے ٹالی
نہ رہا دل میں کہیں رنج و مصیبت کا نشاں
چھٹ گئیں غم کی فضاؤں سے گھٹائیں کالی
ملکِ عرفاں کی ولائت کا تو سلطانِ جلیل معرفت تاج ہے تو اس کا مقدس والی
ارض و افلاک میں رفعت ہے علامت تیری
تو بھی عالی ہے تیرے ارض و سما ء بھی عالی ہے ثمر تیری دعاؤں کا یہ قولِ جبریلؔ
تو بھی عالی ہے ترے ارض و سما بھی عالی
خخ

نذرانہ عقیدت بحضور قدوۃ الاولیاء حضرت سائیں باوا نور خانؒ فتح جنگ

لکھی ہے عرشِ ربی پر زبانِ اولیاء اللہ
کہ ہے لوحِ خداوندی بیانِ اولیاء اللہ
اگرچہ محرمِ اسرارِ ربانی نہیں ہوں میں
ہے روشن چشمہ دل میں جہانِ اولیاء اللہ
بہت ہی کند ہے اے آسماں تیغِ نگاہ تیری
زہے قسمت جو ہاتھ آئے فسانِ اولیاء اللہ
نہیں اپنی رسائی بارگاہِ اہلِ دنیا میں
مقدر ہے مگر اپنا کرانِ اولیاء اللہ
نگاہِ اولیا تیرِ قضائے آسماں دوزے
کمین گنبدِ گردوں کمانِ اولیاء اللہ
جو سائیں نور خان ؒ ہے نامدار عشق پرور ہے
وہ جس کا نور ہے باطن میں کانِ اولیاء اللہ
کیا میں نے بلند اس دور میں جھنڈا محمد عربی کا
ہے روشن جس کی تابانی سے جانِ اولیاء اللہ
تھی اس عمرِ دو روزہ کی غرض تفسیرِ قرانی
کہ پھر پیدا ہو دنیا میں سمانِ اولیاء اللہ
کئے وہ آشکار اسرارِ ربانی زمانے پر
کہ منکر بھی ہوئے ہیں مدح خوانِ اولیاء اللہ

نکالے ڈھونڈھ کر موتی وہ قرانی سمندر سے
کہ ظاہر ہو گئی یورپ پہ شان اولیاء اللہ
بجھا ڈالا جہاں ولوں نے اے وائے چراغ آخر
کہ کیوں توڑ ڈالی ہے فسان اولیاء اللہ
کیا ہے قتل کیوں تفسیر قرانی کے خادم کو
کہ ماتم کر رہا ہے دودمان اولیاء اللہ
ترے در پہ جو آیا خالی ہرگز جا نہیں سکتا
نہ جاؤں میں بھی خالی اے کمان اولیاء اللہ
تو سائیں نور خانؒ خورشید افلاک خداوندی
وہ جس کا نور ہے باطن میں کان اولیاء اللہ
وہ جس کا صدر و باطن طور انوار علی احمد
وہ جس کے نور سے روشن ہے آنِ اولیاء اللہ
نہیں ثانی ترا اے شاہِ باطن آج دنیا میں
ہے باقی اک تیرے دم سے نشانِ اولیاء اللہ
وہ در بے بہائے سلک اقلیمِ خداوندی
وہ لعلِ شب چراغ آستانِ اولیاء اللہ
نگاہ دے آتش عشق محمد مصطفی للٰلہ
بدل دیتی ہیں تقدیریں زبانِ اولیاء اللہ
بپا ہے فتنہ دجالیِ دوران ظالم کا
الہی اب تو چل جائے سنانِ اولیا اللہ
جہاں کو پھونک ڈالے اک شرر بار آہِ درویشاں

فلک کو ماتمی کر دے فغانِ اولیاء اللہ
نگاہے انتقام افروز مستاں آسماں سوزد
شود تغیر تقدیر از زبانِ اولیاء اللہ
پریشاں حال ہوں مظلوم ہوں مجبور ہوں لیکن
دکھا دے ظالموں کو اب نشانِ اولیاء اللہ
پریشاں حالئے مظلوم بے کس کو وہی سمجھے
جسے حق نے عطا کی ہو ردانِ اولیاء اللہ
جو تو ہو مہرباں اس بندہء مظلومِ عاصی پر
تو دوں تجھ کو دعا اے رازدانِ اولیاء اللہ
بتا تیرے سوا کس در پہ جاؤں میں اس مصیبت میں
کہ تو ہی تو ہے دنیا میں نشانِ اولیاء اللہ
چھڑا اہل غرض کے پنجہء خونیں سے بندے کو
کہ سود اہل دنیا ہے زیانِ اولیاء اللہ
تو پوچھ آخر کہ اے مظلوم بے کس ماجرا کیا ہے
ترا قاتل وہ ظالم کون ہے اور خون بہا کیا ہے
زہے قسمت اگر کشتہ شود در راہِ حق جبریلؔ
کہ مولا جز بہ محبوباں بخاک و خوں نہ غلطاند
خخ

علامہ مشرقی کی وفات پر خاکساروں کے شدیدگریہ سے متاثر ہو کر لکھی گئی

یہ کس کی یاد میں یوں خاکسار روتے ہیں
بلک بلک کے یہ کیوں دلفگار روتے ہیں
غم نہاں میں دل چاک چاک بریاں ہے
سرشک خون جگر آشکار روتے ہیں
کوئی تو ہم کو بتائے یہ کس کے ماتم میں
شکیب و صبر و سکوں بے قرار روتے ہیں
ستم ہے آج وہ گلشن میں باغباں نہ رہا
کہ گل بھی روتے ہیں گلشن میں خار روتے ہیں
کسی کی دید کا شاید ہے انتظار ان کو
کھڑے کھڑے یہ سر راہگزار روتے ہیں
فلک نے تاک کے کیسا یہ تیر کھینچا ہے
کہ لخت لخت جگر زار زار روتے ہیں
وہ کیسا یارِ حقیقی کہ چھن گیا ان سے
کہ سیل ابر یہ کوہ و وقار روتے ہیں
چھپا کے چشم گہر بار آستینوں میں
وطن سے دور کہیں بے دیار روتے ہیں
کمر بھی غم میں نگوں ہے نزار روتے ہیں
بچھڑ کے یار سے گویا کہ یار روتے ہیں
یہ کاروانِ دل زار کس نے لوٹ لیا
کہ مل کے غم سے دل داغدار روتے ہیں
یہ بتا تو نے کیوں یہ رخت سفر باندھ لیا
تیرے فراق میں سب اشکبار روتے ہیں
وہ کیا ہی مصر بسایا ہے جس کو یوسف نے
اجڑ کے ہم تو غریب الدیار روتے ہیں
دم فراق بھی تجھ کو وداع جو کہہ نہ سکے
تمام عمر وہی اشکبار روتے ہیں
گراں بہا وہ متاع نگاہ نواز جو تھی
قرار درد و دوائے دل گداز جو تھی
خخ

قوم اعوان کا رجزی ترانہ

ہندوستاں میں ہم نے پیغامِ حق سنایا
اپنے لہو سے اس کو اک گلستاں بنایا
تاریکیوں کو ہم نے اس ملک سے مٹایا
قراں کی خوشبوؤں میں ہم نے اسے بسایا
اعوان ہم وہی ہیں ادلاد ہیں علیؓ کی
شیرِ ببر محمدؓ بن حنفیہؓ وغا کے
حسنینؓ کے وہ بھائی بیٹے وہ مر تضیؓ کے
بدلے لئے جنہوں نے شہدائے کربلا کے
نام و نشاں مٹائے دنیا سے اشقیا کے
اعوان ہم وہی ہیں اولاد ہیں علیؓ کی
غازی امیر ساہو سالارِ غزنوی کے
ہندوستاں کی جنگوں میں یارِ غزنوی کے
عالی گہر قطب شاہؒ سردارِ غزنوی کے
اعوان غزنوی کے انصار غزنوی کے
اعوان ہم وہی ہیں اولاد ہیں علیؓ کی
ہاں تجھ کو یاد ہوگا اے سومنات جس دن
توڑے تھے ہم نے تیرے لات و منات جس دن
باطل کی مٹ گئی تھی تاریک رات جس دن
تھی آخرت کی ہم نے چاہی حیات جس دن
اعوان ہم وہی ہیں اولاد ہیں علیؓ کی
بھڑوچ کی وغا میں سالار سترہ سالہ
برسا عدو پہ بن کر اک شعلہء جوالہ
اور اپنا خوں بکھیرا میداں میں مثلِ لالہ
سالارِ غازی مسعود اسلام کا جیالہ
روضے میں سو رہا ہے وہ اوڑھ کر دوشالہ
قبرِ شہید کیا ہے اک روشنی کا ہالہ
اعوان ہم وہی ہیں اولاد ہیں علیؓ کی
اے ارضِ پاک تو ہے اسلام کا ستارہ
تیرے لئے ہے قرباں جو کچھ بھی ہے ہمارا
اٹھیں گے ہم تڑپ کر تو نے جہاں پکارا
تیری پکار ہو گی بارود کو شرارا
ہم آج بھی وہی ہیں اولاد ہیں علیؓ کی
جبریلؔ دوربیں نے لکھا ہے یہ ترانہ
کہتا ہوں تجھ سے آخر اک حرفِ محرمانہ
نمرود نے جلائی پھر آگِ ظالمانہ
ہم پھر ادا کریں گے کردار مومنانہ
اعوان ہم وہی ہیں اولاد ہیں علیؓ کی
خخ

سہرا پیر زادہ بہاول شیر گیلانی

یہ سہرا جو پیر بہاول شیر گیلانی سبط پیر محبوب عالم گیلانی موضع کھبکی ضلع خوشاب کی شادی کے موقع پر بہ کمال خلوص و محبت لکھا گیا ۔ سہرے لکھنا اپنا شیوہ نہیں مگر یہ واقع بر قبیل استثناء ہے۔ ہم نے اس نوجوان کو اقبال کا مثالی نوجوان پایا۔
جھلملاتے ہوئے تاروں کا یہ گز بھر سہرا
ہو مبارک یہ بہاروں میں معطر سہرا
ماہ و خورشید ستاروں میں پروئے کیسے
شائید آیا ہے ثریا سے یہ بن کر سہرا
کس قدر شوق ہے پھولوں کی زیارت کا انہیں
کر دیا جھُک کے ستاروں نے منور سہرا
بن کے اُبھرا ہے اُفق تاب شعاؤں کی طرح
صبحِ روشن میں یہ اُمید کا پیکر سہرا
جذبہء شوقِ فراواں کی کرامت کہئے
حور و غلماں کو ہُوا خلد میں از بر سہرا
باغِ جنت کی فضاؤں میں جو تحریر ہُوا
کیوں نہ ہو آہوئے فردوس کا عنبر سہرا
یہ تصور میں کہیں حسنِ قمر پُھوٹ پڑا
کہ تخیل میں ہوا باز کا شاہپر سہرا
روشنائی کو محبت میں بسا کر میں نے
دل کے کاغذ پہ اُتارا ہے سراسر سہرا
تیری خوبی پہ کہوں شعر کہ سہرا لکھوں
تجھ سے بہتر ہے میرا شعر نہ بہتر سہرا
تو زمانے میں سدا خرم و شاداب رہے
تا ابد تجھ کو مبارک ہو یہ انور سہرا
منتظر آج ہیں دنیا کی نگاہیں دیکھیں
کیسے انداز میں کہتے ہیں سخن ور سہرا
ہم کو جبریلؔ کی قسمت پہ کوئی رشک نہیں
جس کی قسمت میں یہ کہنا تھا مقدر سہرا
خخ

یہ پاکستان کا ٹکڑا امانت ہے امانت ہے

یہ پاکستان کا ٹکڑا امانت ہے امانت ہے امانت ہے
مرے ایمان کا ٹکڑا، امانت ہے امانت ہے امانت ہے
ہماری جان کا ٹکڑا ، امانت ہے امانت ہے امانت ہے
یہی پیمان کا ٹکڑا، امانت ہے امانت ہے امانت ہے
دعائیں عرش پر ہوتی ہیں پاکستان کی خاطر
مسلمانوں کے اس باندھے ہوئے پیمان کی خاطر
نہیں پرواہ ہمیں دشمن اگر سارا زمانہ ہو
کہ طوفانِ حوادث میں ہمارا آشیانہ ہو
نماز اپنی اگر خنجر تلے ہو عاشقانہ ہو
جواں مردوں کی فہرستوں میں مردوں کا ٹھکانہ ہو
خخ
دعائیں عرش پر ہوتی ہیں
پاکستان کی خاطر

دعائیں عرش پر ہوتی ہیں پاکستان کی خاطر
مسلمانوں کے اس باندھے ہوئے پیماں کی خاطر
نہیں پرواہ ہمیں دشمن اگر سارا زمانہ ہو
کہ طوفانِ حوادث میں ہمارا آشیانہ ہو
نماز اپنی اگر خنجر تلے ہو عاشقانہ ہو
جواں مردوں کی فہرستوں میں مردوں کا ٹھکانہ ہو
یہ دنیا دار فانی ہے چلو کچھ کام کر جائیں
یہ دنیا آنی جانی ہے چلو کچھ نام کر جائیں
کسی آغاز کو لے کر کوئی انجام کر جائیں
بہارِ زندگانی کو سہانی شام کر جائیں
گھٹائیں آسمانوں پر اگر چھائی ہیں تو کیا غم ہے
بلائیں آسمانوں سے جو آئی ہیں تو کیا غم ہے
خخ
پاکستان کا ٹکڑا
یہ پاکستان کا ٹکڑا امانت ہے امانت ہے
یہ پاکستان کا ٹکڑا امانت ہے امانت ہے
مرے ایمان کا ٹکڑا امانت ہے امانت ہے
ہماری جان کا ٹکڑا امانت ہے امانت ہے
یہی پیمان کا ٹکڑا امانت ہے امانت ہے
خخ
دعا ہے درگہء مولی میں یہ یوسف جبریلؔ کی

دعا ہے درگہء مولی میں یہ یوسف جبریلؔ کی
سدا قائم رہے یا رب جلالِ اہلِ سرگودھا
الہیٰ جنت کشمیر کی سرسبز وادی میں
رہے طوبی نما قائم نہالِ اہلِ سرگودھا
جگر ہندوستان کا خنجر گردوں سے گر چیریں
نظر آئے دو عالم کو کمالِ اہلِ سرگودھا
ہمیں تو ہیں عقابی شہسواروں کے جگر گوشے
کہیں گے فخر سے دنیا کو آلِ اہلِ سرگودھا
فضاؤں میں عقاب ایک دوسرے پر جب بھی جھپٹیں گے
رہے گا نقشِ گردوں پہ قتالِ اہلِ سرگودھا
مثال عکس تقدیر خداوندی مقدر ہو
تیرے آئینہ دل میں خیالِ اہلِ سرگودھا
خخ

اے ار ض کشمیر

اے ارضِِ کشمیر اے ارضِ کشمیر اے ارضِ کشمیر اے ارضِ کشمیر

ارضِ کشمیرنگوں سار ہیں کہسار تیرے

غم کی تصویر ہیں خاموش ہیں گلزار تیرے
کس کے ماتم میں کفن پوش ہیں بازار تیرے
کس کی تدبیر کی تخلیق ہیں آزار تیرے
غم و آلام میں ڈوبی ہوئی تصویر تیری
کب پلٹتی ہے جگر پاش یہ تقدیر تیری
چاک ہے دستِ زمانہ سے گریباں تیرا
آستاں کب سے ہوا گورِ غریباں تیرا
جاگزیں دل میں ہوا خوفِ نقیباں تیرا
خارِ دل بن کے چُبھے رنجِِ رقیباں تیرا
قلب آغشتہء بخوں تیرِ جگر دوز کجاست
اے جگر سوختہ آں آتشِ دلسوز کجاست
چاندنی بھی تو تیرے چاند کی خاموش ہوئی
زندگی بھی تیری مانند کفن پوش ہوئی
تیری پتھرائی ہوئی آنکھ بھی مدہوش ہوئی
فکرِ فردا میں کہیں محوِ غمِ دوش ہوئی
مرگِ خاموش کا منظر ہے یہ وادی تیری
چِھن گئی تجھ سے تِری حیف وہ شادی تیری
ارضِ کشمیر کے نخچیر کی تقصیر ہے کیا ؟
دستِ تقدیر کی تحریر کی تفسیر ہے کیا ؟
صورِ تاخیر کی تاثیر کی تعبیر ہے کیا ؟
نگہء تدبیر کی تصویر کی تنویر ہے کیا ؟
طیرِ بےِ بس کی یہ فریاد و بکا سنتے ہیں

صوتِ کشمیر سے طائر کی نوا سنتے ہیں

خونِ کشمیر کی سرخی میں سیاہی آئی
حرصِ بے پیر کی موجوں میں تباہی آئی
دامِ تزویر نے جو چیز نہ چاہی آئی
سرخ تحریر یہ تقدیرِ الہی آئی
بدشگونی کی علاماتِ سیاہ فام بھی ہیں

جن کی آنکھوں میں المناک سے انجام بھی ہیں
ارضِ کشمیر تِرا حسنِ فسوں ساز نہیں ؟
ارضِ کشمیر تِرے حسن کا اعجاز نہیں ؟
ارضِ کشمیر تِری جلوت طناز نہیں ؟
ارضِ کشمیر تیرا جلوہ غماز نہیں ؟
یہ تو کہرام ہے کشمیر کے مظلوموں کا
نامرادی کی یہ تصویر کے مفہوموں کا
پریشاں ہیں کیوں نگاہوں میں یہ گلزار تیرے
ارضِ کشمیر فلک بوس یہ کہسار تیرے
فرشِ کمخواب یہ جنات یہ انہار تیرے
زعفراں زار تیرے مشک کے انبار تیرے
میں تو انصاف کو روتا ہوں جو خوں ہوتا ہے
ارض و آفاق کا برباد سکوں ہوتا ہے
ایک خاموش سی فریاد کے شرارے ہیں
ارضِ کشمیر سلگتے ہوئے انگارے ہیں
ذرے ذرے کی نگاہوں میں شرر پارے ہیں
آتش افشانیِ کوہسار کے نظارے ہیں
قلبِ بیدار کے سوئے ہوئے ہنگاموں میں
اک قیامت ہے کہ مستور ہے باداموں میں
نہ تو اب بازوئے مسلم میں توانائی ہے
نہ دلِ مسلمِ ناداں میں وہ دانائی ہے
مسلم اس دورِ خرافات کا ہر جائی ہے
ہائے ہیہات زمانے کا وہ لا لائی ہے
ورنہ کشمیر میں کیا آہ و بکا ہوتی ہے
چاک اسلام کی حرمت کی قبا ہوتی ہے
غافل اس خطہء کشمیر کو آزاد کریں
ساری دنیا کا سکوں حیف نہ برباد کریں
ہائے اس ظلم کے نخچیر پہ بیداد کریں
اپنے ہاتھوں نہ اسے جنتِ شداد کریں
کانپ جاتی ہے یہ نظر جنتِ کشمیر پہ کیوں
ناتوانی کے گناھگار کی تقصیر پہ کیوں
اے خدا مسلمِ کشمیر کو آزادی دے
ارضِ مظلوم کے نخچیر کو دلشادی دے
قومِ بے راہِ زمیں گیر کو اب ہادی دے
عزمِ کشمیریِ ناشاد کو فولادی دے
نورِ قراں کو نئے دور کا درماں کر دے
مردِ مسلم کو زمانے میں مسلماں کر دے
تُو تو کشمیر کو روتا ہے جہاں تیرا ہے
ارض و آفاق کا جتنا ہے سماں تیرا ہے
ہے جو اسرار کی دنیا میں نہاں تیرا ہے
اور پنہائے دو گیتی میں عیاں تیرا ہے
کی وفا تُو نے محمد ﷺ سے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
خخ

Back to Kuliyat e Gabriel Index

Print Friendly, PDF & Email

Related Posts

  • 91
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 86
    Back to Kuliyat e Gabriel ضربِ مومن رباعی ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے زمین پر ہے وجود اس کا فلک پر آشیانہ ہے جمالِ یار کا پرتوَ جنوں کو تازیانہ ہے ٹھکانا اس کا جنت ہے یہ دنیا قید…
  • 85
    مجھے واعظ یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف ۴ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ حضرت یوسف۴ نے اپنے ملک کو "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نھیں مرنے پایا۔ یہ تو بتاتے…
  • 85
    مجھے واعظ یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف ۴ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ حضرت یوسف۴ نے اپنے ملک کو "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نھیں مرنے پایا۔ یہ تو بتاتے…
  • 83
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 82
    آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں ابوبکر قدوسی بہت شور ہے ڈیم بنانے کا - پنجابی میں کہتے ہیں "ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں " یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں - سو دوستو…
  • 81
    عصرِ حاضر وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا تڑپتے دل کی پکاروں کی بے…
  • 81
    Back to Kuliyat e Gabriel حمد مرے اللہ مرے مولا مرے مالک مرے آقا ترے ہی واسطے ساری ثنائیں، ساری تعریفیں سدا ذکر الہی میں رہے مشغول دل میرا رہیں میری زباں پر تا قیامت جاری تعریفیں مرے اللہ مرے مولا تری تعریف کیوں کر ہو کہ میں اک بندہء…
  • 81
    محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد…
  • 79
    امیدواراورووٹر ایک امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس گیا اور ان کو ایک ہزار روپیہ پکڑواتے ہوئے کہا حاجی صاحب اس بار ووٹ مجھے دیں۔ حاجی صاحب نے کہا: مجھے پیسے نہیں چاہیےووٹ چاہیے تو ایک گدھا لادیں، امیدوار گدھا ڈھونڈنے نکلا مگر کہیں بھی…
  • 78
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 78
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 76
    غلط خاکے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینے والی تفتیش :زینب اور اس جیسی 11 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کے پیچھے چھپے خوفناک و شرمناک حقائق اس رپورٹ میں ملاحظہ کیجیے لاہور(ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی…
  • 75
    ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار اِرم بن گیا دامنِ کوہسار گُل و نرگس و سَوسن و نسترن شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن جہاں چھُپ گیا پردۂ رنگ میں لہُو کی ہے گردش رگِ سنگ میں فضا نِیلی نِیلی، ہوا میں سُرور ٹھہَرتے نہیں آشیاں میں طیُور وہ جُوئے کُہستاں اُچکتی…
  • 74
    Chinese are great because they understand it only a commerce person can understand it deeply اگر پاکستان کے 21 کروڑ لوگوں میں سے صرف 30٪ لوگ روزانہ 10 روپے کا جوس پیں تو مہینے بھر میں تقریبا "1800 کروڑ" روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ اور اگر آپ انہی پیسوں سے…
  • 73
    Back to Kuliyat e Gabriel گریہ نیم شبی خدایا شکر ہے رکھا مرا اجر اپنے ہاتھوں میں وگرنہ کس طرح ملتی مجھے محنت کی مزدوری بڑی مشکل سے سمجھائے تھے ملت کو سب اندیشے رلا کر رکھ گئی مجھ کو یہ احساسِ مجبوری خخ رلاتی ہیں مجھے ملت کی حسن…
  • 73
    *تلاش گمشدہ* ہم سے *”خلوص“* گم ہو گیا ہے۔ اس کی عمر کئی سو سال ہے۔ بڑھاپے کی وجہ سے کافی کمزور ہو گیا ہے۔ گھر میں موجود *”خودغرضی“* کے ساتھ ان بن ہو جانے پر ناراض ہو کر کہیں چلا گیا ہے۔ اُس کے بارے میں گمان ہے کہ…
  • 72
    اسے آپ کتاب زبورِ عجم کا دیباچہ سمجھ لیں یا کچھ اور، اقبال نے زبورِ عجم کے قارئین سے خطاب کیا ہے، کُل تین شعر ہیں اور کیا لاجواب شعر ہیں۔ بخوانندہء کتابِ زبور کتاب زبورِ عجم پڑھنے والوں سے می شَوَد پردہء چشم پرِ کاہے گاہے دیدہ ام ہر…
  • 71
    شیشیل کورالا فقیرانہ وزیر اعظم 2014ء میں نیپال کاوزیراعظم بن گیا۔پہلے دن جب اپنے سرکاری دفترپہنچاتو انتہائی سستی قیمت کے کپڑے پہن رکھے تھے۔۔لباس کی مجموعی قیمت دوسوروپے سے بھی کم تھی۔سرپرانتہائی پرانی ٹوپی اورپیروں میں کھردری سی چپل۔ وہاں ویٹریانائب قاصدکے کپڑے بھی شیشیل کورالاسے بہت بہتر تھے۔ منتخب…
  • 70
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…