Zarb e Momin

Back to Kuliyat e Gabriel

ضربِ مومن

رباعی
ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے
ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے
زمین پر ہے وجود اس کا فلک پر آشیانہ ہے
جمالِ یار کا پرتوَ جنوں کو تازیانہ ہے
ٹھکانا اس کا جنت ہے یہ دنیا قید خانہ ہے
خخ
اور اے آدم کہ پیش سنگ ہے خم تیرا سر
اور اے آدم کہ پیش سنگ ہے خم تیرا سر
آفریں تیرا تصور آفریں تیری نظر
قلب تیرا مطمئن اور روح تیری باخبر
زندگی پرامن تیری پرسکوں تیرا سفر
کس قدر پاتا ہے تو اپنی دعاؤں میں اثر
کس عقیدت مندی دل سے جبیں سا ہے مگر
خخ

قضا کے چاہنے والوں کو ہے اس جاں سے پیارا حق

قضا کے چاہنے والوں کو ہے اس جاں سے پیارا حق
ازل سے بندہء مومن کی ھستی کا سہارا حق
خدا رکھے سلامت اس صدا کو ہر زمانے میں
صدائے عاشقاں جس نے زمانے میں نکھارا حق
لٹا کر مال و دولت راہِ للہ جاں فدا کر دیں
عجب انداز میں مردانِ مومن نے اُ تارا حق
ابابکرؓ و عمرؓ فاروقؓ و عثمانؓ و علیؓ حق ہیں
ہلاکو حق نہ قیصر حق سکندر حق نہ دارا حق
اگر انصاف کی طاقت پہ قومیں زندہ رہتی ہیں
تو ثابت کیجئے اُ ٹھ کر زمانے میں ہمارا حق
رہے ہیں جو زمیں پر تیرہ صدیاں خوابِ غفلت میں
اُنہیں ہفت آسماں سے کر رہا ہے اب اشارہ حق
خدا کے نام پر ہم نے بہت ہی پوجا بازی کی
کہو اے مومنو ! اب تو خدا را حق خدا را حق
قراں حق ہے ازل سے حق یہ اول حق یہ آخر حق
کہ آیت حق ہے سورت حق ہے پارہ حق ہے سارا حق

قیامت بن کے آ جائے گی محشر سامنے اپنے
جہاں میں جس گھڑی ہو گا خدا کا آشکارا حق
قیامت بن کے آئے گی قیامت سامنے جس دن
پکاریں گے غریب اُس دن ہمارا حق ہمارا حق
لیا جائے گا اس دنیا کے مظلوموں کا بدلہ اب
کہ چادر اوڑھ کے خونِ شہیداں نے پکارا حق
غنی املاک، مفلس حرصِ دولت ترک کر ڈالیں
جہنم کی شعاؤں میں جو دکھلائے نظارہ حق
نہیں وہ کر سکیں گے بند آوازِ خدا جبریل ؔ
رہے گا رہتی دنیا تک جہاں میں آشکارا حق
خخ

نہیں کوئی جہاں میں اس کا ثانی
نہیں کوئی جہاں میں اس کا ثانی
وہی آئندہ دور دیں کا بانی
سمجھ لی جس نے تہذیب فرنگی
نظر آئے جسے اس کے معانی
مٹایا جس نے اس دورِ ہوس کو
وہی مہدی وہی صاحبِ زمانی
خخ

یہاں سوز و عمل سے شوق و مستی سے وہ ہے تاباں
یہاں سوز و عمل سے شوق و مستی سے وہ ہے تاباں
وہاں اشتیاق دید کی مستی سے وہ ہے تاباں
یہاں بھی زندگی اس کی وہاں بھی زندگی اس کی
یہاں ہے سربلندی تو وہاں ہے رخشندگی اس کی
بدل جاتی ہے قراں کی پیروی سے جو شبیری
کینہ بن کے رہ جاتی ہے محرابِ جہانگیری
خخ

تنزیلِ دلاویز کی تنویر ہے مومن

تنزیلِ دلاویز کی تنویر ہے مومن
لاریب کہ خورشید جہانگیر ہے مومن
ہے گنبد افلاک و سماوا میں وہ آہنگ
آفاق میں اٹھتی ہوئی تکبیر ہے مومن
تقدیر امم فکرت مومن کی ہے پرواز
منشائے الہی کا جو نخچیر ہے مومن
ہے رمزِ الہی کا امیں مردِ مسلماں
اور آیت اعلون کی تفسیر ہے مومن
مفتوں ہے اگر ہمت اعدا پہ یہ گردوں
کیا خوف کہ اللہ کی تقدیر ہے مومن
ہے گردنِ مغرور میں گو تندیِ افسوں
آشفتہ سرو ! ہوش کہ شمشیر ہے مومن
کہہ دو یہ ہر اک دشمن پیکار طلب سے
اے مرگِ طلب ! مرگ کی تعبیر ہے مومن
ہے کفر شکن نعرہء تکبیر کی ہیبت
باطل کے لئے موت کی تصویر ہے مومن
اے ہمت مردانہ مومن کے تقاضو!
کیا بات ہے کیوں ہمدمِ تاخیر ہے مومن

ہے گرچہ نہاں پیکرِ خاکی میں یہ خاکی
حقا کہ ملائک کی بھی توقیر ہے مومن
باطل کے دلِ سنگِ سیاہ فامِ زبوں میں
جبریلؔ یہ کہتا ہے کہ اک تیر ہے مومن
خخ

خودی میں اس کی حریت کا ہے اسرار پوشیدہ
خودی میں اس کی حریت کا ہے اسرار پوشیدہ
روایات و شجاعت میں ہیں سب اسرار پوشیدہ
اٹھا بازو تو ہیبت سے فلک کی آنکھ پتھرائی
گرا گر وہ عدو پر تو زمیں ہیبت سے تھرائی
تڑپ کر مردِ مومن جب عدو پر وار کرتے ہیں
سر راکب سے مرکب تک زمیں پر چار کرتے ہیں
تبسم ہے لبوں پر خنجر کفار کے نیچے
ھو اللہ احد کہتے ہیں وہ تلوار کے نیچے
کبھی داہر کبھی جبلہ کبھی قیصر کبھی کسریٰ
کوئی مشرق میں جا گھیرا کوئی مغرب میں جا مارا
خخ

وہاں روز و شبانہ جانبازی ہی کے چرچے ہیں
وہاں روز و شبانہ جانبازی ہی کے چرچے ہیں
سربلندی سرفرازی ہی کے چرچے ہیں
شہید و سرفروش و بطل و غازی ہی کے چرچے ہیں
جوانمردی و سرمستی و شہبازی ہی کے چرچے ہیں
خخ

وصلِ جاناں کے طلب گار سلامت جب تک

وصلِ جاناں کے طلب گار سلامت جب تک
پہلوئے عشق میں زنار سلامت جب تک
ثبت ہے آبلہ پائی کا یہ دستورِ کہن
عاشقاں ! دادئے پرخار سلامت جب تک
ہے یہی بازیگر عشق کا اک شغلِ مدام
تیشہ و حلق و سر و دار سلامت جب تک
حسنِ لیلی میں مہکتی ہے محبت لیکن
ہیں مئے عشق کے مے خوار سلامت جب تک
نور افشاں ہے مگر ماہ پریزاد کا حسن
زلف لیلائے فسوں کار سلامت جب تک
دیدہ عاشق بیتاب ہے اک عکسِ خموش
چشمہ نرگس بیمار سلامت جب تک
رنج و آلام کی شدت میں غم و حزن و ملال
محوِ گریہ ہے یہ سنسار سلامت جب تک
کہہ تو دوں ان سے مگر حالتِ دل کہہ نہ سکوں
وعدہ حسن جفا کار سلامت جب تک
کچھ تو تسکیں ہے میرے دامنِ حرماں کے لئے
تھامنے دامنِ گل خار سلامت جب تک
تو بھی فانی ہے تیرے دوست بھی فانی ٹھہرے
میں سلامت ہوں غمِ یار سلامت جب تک
رشک گردوں ہی رہیں دیدہء گرداں میرے
اپنی قسمت کے یہ اطوار سلامت جب تک
چرکے اس قلبہء نازک کے لئے عام تو ہیں
مہرباں اپنے یہ اغیار سلامت جب تک
ہم بھی کچھ اور جئے جائیں گے الفت کے طفیل
دوست دنیا میں ہیں دو چار سلامت جب تک
کچھ تو ساماں ہے مرے درد کی تسکیں کے لئے
تھامنے دامن دل خار سلامت جب تک
متلاطم ہیں خیالوں کے یہ دریا جبریلؔ
جادوئے کلک گہر بار سلامت جب تک
خخ

گلہ اور افلاس کا اس کو نہیں پرواہ جاں کی

گلہ اور افلاس کا اس کو نہیں پرواہ جاں کی
کہیں کا چرچا نہ شکایت دورِ گراں کی
شہنشاہ کی نہ ہیبت کچھ نہ وقعت ذرہ سلطاں کی
اسے پرواہ بس ہے ایک اللہ ہی کے فرماں کی
اگر کہسار ٹلتا ہے جگہ اپنی سے ٹل جائے
نہیں زیبا مسلماں کو کہ عزم اپنا بدل جائے
فراست کا یہ عالم ہے باطل کے فہم روشن میں
جلا دے برق بدنیت کو خود اس کے نشیمن میں
مجاہد وجیہ اس کی ہے نورانی جبیں اس کی ہے تابندہ
حسیں تر نورِ ایمانی سے ہے قلب درخشندہ
خخ

ذرا اے ہمفسر حسرت سے مجھ کو دیکھ لینے دے

ذرا اے ہمفسر حسرت سے مجھ کو دیکھ لینے دے
یہی اجڑی ہوئی بستی کبھی تھی بزمِ گاہ اپنی
کبھی جوش بکا سے عرش تک جنبش میں آتا تھا
پہ بیزار اب تو ہوتی جا رہی ہے لب سے آہ اپنی

اسی کے حسن آتش خیز میں ہم بھی پریشاں ہیں
کہے جا داستانِ دلفگار اے درد خواہ اپنی
خخ

شہنشاہ مردِ مومن ہے زمینوں آسمانوں کا

شہنشاہ مرد مومن ہے زمیں آسمانوں کا
نہیں اس کو تفکر ان زمینی آشیانوں کا
جگر ارماں ہے سینہ جواہر کا خزینہ ہے
مثالِ عطر اس بے غرض خادم کا پسینہ ہے
مسلماں جنگ میں ہو شیر تو ہے امن میں آہو
وہ ہے گر رزم میں شمشیر تو ہے بزم میں آبرو
ذرا دل میں تفکر تو کرو کیا تم مسلماں ہو؟
رسول اللہ ﷺ کی امت ہو تم اہلِ ایماں ہو؟
مسلماں جنگ سے پہلے خدا کا نام لیتے ہیں
صلح سے آشتی سے دعوتِ اسلام دیتے ہیں
ہیں صلح پرور مگر مجبور ہو کر سونت جب صمصام لیتے ہیں
تو عزرائیل زنبیلیں لپک کر تھام لیتے ہیں
خخ

مردِ مومن، مردِْ حر ، مردِ خدا ، مردِ فقیر

مردِ مومن، مردِْ حر ، مردِ خدا ، مردِ فقیر
کھینچ دے جو قوسِ حق سے کفر کے سینے میں تیر
ختم کر دے اس نئے الحاد کی تاریک رات
اور کر دے نورِ ایمان سے منور شش جہات
دورِ حاضر کی ضرورت ہے وہ مردِ حق شناس
جو دلائے آدمی کو اس جہنم سے نجات
زلزلہ برپا جو کردے فکرِ انسانی میں آج
توڑ ڈالے سنگ خارائے حقیقت سے زجاج
لرز اٹھیں دہر جس کے نعرہ ء تکبیر سے
تجلی روشن ہو جس کے حرف کی تاثیر سے
خخ

رباعی
جہاں روئے زمیں پر کفر کی مومن کو بو آئی
جہاں روئے زمیں پر کفر کی مومن کو بو آئی
وہیں سے اک پلک بھر میں صدائے اللہ ھو آئی
ہے وقعت خاک کی خودی کی آب کے دم سے
کہ دانہ اگ نہیں سکتا اگر محروم ہو نم سے
خخ

دشت و دریا میں فروزاں ہے غبارِ آتشیں

دشت و دریا میں فروزاں ہے غبارِ آتشیں
جل رہی ہے آگ میں ابنائے آدم کی جبیں
کر گئی برباد بستی دین و دنیا کی تمام
جس طرف اُ ٹھی ہے مغرب کی نگاہِ آتشیں
گر رہی ہیں آسمانوں پر زمیں سے بجلیاں
یا کہ خندہ زن ہے تاریکی میں شیطانِ لعیں
منعکس ہوتا ہے برقِ شعلہِ کش میں آسماں
کوہِ باطل سے جو ٹکراتا ہے مومن کا یقیں
اے درِ خیبر تجھے معلوم ہے حیدرؓ کا زور
جس کی ھیبت سے لرز جاتی ہے خیبر کی زمیں
تھا مگر اُس بازوئے کرارؓ کی قوت کا راز
نشہء توحید میں ڈوبا ہوا نانِ جویں
اشک و آہ و سوز و ساز عاشقانِ ماضی کی بات
آج دنیا میں نہیں عاشق کی سر مستی کہیں
تیرتے پھرتے ہیں ہر سو تیرگی میں مثلِ زاغ
تھے جو کل تک آسمانوں کے نشیمن کے مکیں
دورِ گردش میں ہے انساں کوچہ گَردوں کا ھجوم
اور دیں ہے فرد کی عظمت کا مینارِ یقیں

تو نے سمجھا ہے زمیں تیری ہے اے نادانِ دہر
یہ فقط اللہ کی ہے تیری نہیں تیری نہیں
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی تعجب کی حدیث
تو میرا مولا ہے یا رب میں ترا بندہ نہیں
عالمِ عقبی پہ کر لیتا ہوں تکیہ وقتِ غم
بھیگ جب جاتی ہے اشکوں سے مرے من کی زمیں
زندہ ہو جاتا ہوں روح القدس کی برکت سے پھر
مجھ کو ڈس لیتا ہے جس دم چھپُ کے مارِ آستیں
آدمی عشقِ خدا میں اس طرح رہتا ہے خوش
جس طرح رہتا ہے خُرم رحمِ مادر میں جنیں
میں نے اے جبریلؔ اس دنیا میں دیکھی ہے یہ بات
سنگِ خارا کا دلِ سنگیں بھی ہے قلبِ حزیں
خخ

Back to Kuliyat e Gabriel

 

Print Friendly, PDF & Email

Related Posts

  • 86
    Back to Kuliyat e Gabriel گلہائے عقیدت علامہ اقبال ؒ مرحوم کے حضور میں سرود رفتہ باز آید بیاید نسیمے از جحاز آید بیاید دو صد رحمت بجان آں فقیرے دگر دانائے راز آید بیاید دگر آید ہماں دانائے رازے ندارد جز نوائے دل گدازے دے صد چاک و چشمے…
  • 80
    *تلاش گمشدہ* ہم سے *”خلوص“* گم ہو گیا ہے۔ اس کی عمر کئی سو سال ہے۔ بڑھاپے کی وجہ سے کافی کمزور ہو گیا ہے۔ گھر میں موجود *”خودغرضی“* کے ساتھ ان بن ہو جانے پر ناراض ہو کر کہیں چلا گیا ہے۔ اُس کے بارے میں گمان ہے کہ…
  • 79
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 77
    محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد…
  • 76
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 76
    Back to Kuliyat e Gabriel حمد مرے اللہ مرے مولا مرے مالک مرے آقا ترے ہی واسطے ساری ثنائیں، ساری تعریفیں سدا ذکر الہی میں رہے مشغول دل میرا رہیں میری زباں پر تا قیامت جاری تعریفیں مرے اللہ مرے مولا تری تعریف کیوں کر ہو کہ میں اک بندہء…
  • 75
    عصرِ حاضر وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا تڑپتے دل کی پکاروں کی بے…
  • 74
    ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار اِرم بن گیا دامنِ کوہسار گُل و نرگس و سَوسن و نسترن شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن جہاں چھُپ گیا پردۂ رنگ میں لہُو کی ہے گردش رگِ سنگ میں فضا نِیلی نِیلی، ہوا میں سُرور ٹھہَرتے نہیں آشیاں میں طیُور وہ جُوئے کُہستاں اُچکتی…
  • 73
    [ad name="468x60"] (۱) علامہ محمد یوسف جبریلؒ ملک کی مشہور و معروف علمی وروحانی شخصیت ہیں اور واہ کینٹ میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔اُنکا ورثہ اُمتِ مسلمہ کیلئے ایک مشعلِ راہ کی حیشیت رکھتا ہے۔اُنکے اُفکاروپیغام کو اُجاگر کرنے اور آسان وفہم انداز میں عوام الناس تک پہنچانے…
  • 73
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 73
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 72
    مجھے واعظ یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف ۴ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ حضرت یوسف۴ نے اپنے ملک کو "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نھیں مرنے پایا۔ یہ تو بتاتے…
  • 72
    مجھے واعظ یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف ۴ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ حضرت یوسف۴ نے اپنے ملک کو "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نھیں مرنے پایا۔ یہ تو بتاتے…
  • 71
    رات اور دن ٭٭٭ڈاکٹر اظہر وحید٭٭٭ رات اور دن کا آپس میں بدلنا تغیر کی علامت ہے.... لیکن ثبات کے متلاشی کیلیے اس میں ثبات نہیں۔ تغیر کو شاعری میں ثبات مل بھی جائے‘ تو انسان کو تغیر میں ثبات نہیں ملتا۔ رات چاند سے عبارت ہے اور دن سورج…
  • 70
    غلط خاکے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینے والی تفتیش :زینب اور اس جیسی 11 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کے پیچھے چھپے خوفناک و شرمناک حقائق اس رپورٹ میں ملاحظہ کیجیے لاہور(ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی…
  • 69
    Back to Kuliyat e Gabriel Index نغمہ جبریل آشوب مرے گُلو میں ہے ایک نغمہء جبریلؔ آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لامکاں کیلئے علامہ محمد اقبالؒ اشعار فلک پر آفتاب اپنا نشیمن بھول سکتا ہے ؟ شرارہ برق کا مقصودِ خرمن بھول سکتا ہے ؟ خخ بغیر قربتِ موسی…
  • 69
    *آج پیزا نہیں کھاتے* (سبق آموز) *بیوی:* آج دھونے کے لئے زیادہ کپڑے مت نکالنا۔ *شوہر:* کیوں؟ *بیوی:* کام والی ماسی دو دن نہیں آئے گی *شوہر:* کیوں؟ *بیوی:* اپنی نواسی سے ملنے بیٹی کے پاس جا رہی ہے، کہہ رہی تھی دو دن نہیں آؤں گی۔ *شوہر:* ٹھیک ہے،…
  • 69
    آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں ابوبکر قدوسی بہت شور ہے ڈیم بنانے کا - پنجابی میں کہتے ہیں "ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں " یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں - سو دوستو…
  • 66
    Back to Kuliyat e Gabriel شعلہء گردوں یعنی شہیدوں کے چراغ وہ خوں کا قطرہ زمانے میں بہایا جو گیا ہو شاہراہ سے خار اٹھانے میں صبا رفتار گھوڑوں کی صفیں انبار تیغوں کے ذخیروں کے ذخیرے جا بجا خونخوار تیغوں کے سائے میں وہ خوں کا قطرہ زمانے میں…
  • 66
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…