دین کی روشنی میں ملت اسلامیہ کی کردار سازی کا آغاز
عنایت اللہ
ملت اسلامیہ اس دور کے ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ جہاں مصائب اور آلام کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیر ا ہے۔ حالات و واقعات کی گھناونی بجلیاں اس پر گرجتی، گرتیں اور ہر وقت اس کے سر پر منڈلاتی رہتی ہیں۔ ان عبرت ناک اذیتوں نے پوری ملت کا انحطاط کر رکھا ہے۔ کبھی بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام ، کبھی چیچنیا میں جدید ترین اسلحہ سے انسانی زندگیوں ، بستیوں کی مکمل تباہی ، کبھی اسرائیل کے فلسطینیوں پر حملے، کبھی امریکہ کی عراق پر بمباری، کبھی ہندوستان کی سات لاکھ فوج کا کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور مسلمانوں کا قتل عام ، کبھی افغانستان پر امریکہ کے راکٹوں کے حملے ، کبھی لیبیا دہشت گرد، کبھی ایران دہشت گرد، کبھی افغانستان دہشت گرد، کبھی کشمیر دہشت گرد اور کبھی پاکستان دہشت گرد۔کبھی مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش ، کبھی انڈونیشیا کا حصہ عیسائیوں کی ملکیت، کبھی قبلہ اوّل پر یہودیوں کا قبضہ ، کبھی خانہ کعبہ پر مرحلہ وائز امریکہ کا قبضہ، اس وقت ملت اسلامیہ کمزوری ، ضعیفی ، مجبوری ، بے بسی اور بے کسی کی ذلالت کا زہر بڑی اذیتوں سے نگلنے پر مجبور ہے۔
Read more: دین کی روشنی میں ملت اسلامیہ کی کردار سازی کا آغاز
انگریز کے ۱۸۵۷ء کے قائم کردہ عدل و انصاف کے کالے ادارے اور ان کے کالے منصف
عنایت اللہ
عدل و انصاف کے ادارے کسی معاشرے کے اخلاقی، معاشی،معاشرتی اقدار اور اس کے نظام کو انصاف اور اعتدال پر قائم رکھنے کے بنیادی عنصر یا جزو ہوتے ہیں ۔ یہ عدلیہ کا ادارہ ظلم ، زیادتی ، نا انصافی اور معاشرتی زندگی کے ہر شعبہ میں تمام جرائم کو ختم کرنے اورہر قسم کے استحصال کوجڑ سے نکال پھینکنے کااہم فریضہ ادا کرتا ہے ۔ اس عدلیہ کے شعبہ کے منصف معاشرے میں ہر قسم کی برائی اور جرائم کو قانون کی تلوار سے نیست و نابود کرکے ملک کو امن و سکون کا گہوارہ بناتے ہیں ۔ جن اقوام ، ممالک یا سوسائٹیوں نے عدل و انصاف اور بنیادی حقوق کے فطرتی تقاضوں کے تمام اصول و ضوابط قائم اور مروج کر رکھے ہیں ۔ اوران کا اطلاق معاشرے کے ہر فرد پریکساں اور بلاتمیز قائم کیا ۔ وہ اقوام ، ممالک اور سوسائٹی جو ا ن معاشرتی اقدار کے تقدس کو قائم رکھتی ہیں ۔ وہ دنیا میں مہذب، اور انسانی حقوق کے تحفظ کی علمبردار یا سربراہ کہلانے کی مستحق ہوتی ہیں۔ وہی اقوام دنیا میں معاشی طور پر خوشحال اور معاشرتی طور پر پرسکون اور پر امن ہوتی ہیں ۔ اور اسی بنا پروہ ترقی کی منازل طے کر کے دنیا کی اقوام میں اعلیٰ مقام حاصل کرتی ہیں۔جس کی وہ مستحق ہوتی ہیں۔
Read more: انگریز کے ۱۸۵۷ء کے قائم کردہ عدل و انصاف کے کالے ادارے اور ان کے کالے منصف
۱۹۴۷ ء کے طلباء کو خراج عقیدت اور ان کا پیغام آج
کے دور کے طالب علموں کے نام !
عنایت اللہ
پیارے طالب علمو ! اور آنے والی نسلوں کے وارثو !
السلام علیکم !
مسلمانانِ ہندکے پروانو ! اور آزادی کی خوبصورت و دلکش اداؤں کے محورو ! حسن و جمال ،مہر و محبت ، محنت و جفاکشی کے جگمگاتے ستارو او ر جواں سال گوہر حیات کے جانبازو ! چاک و چوبند ، انتھک ، محنتی ، جوانمردوں اور سرفروشوں کے ہراول دستو ! صفات و کردار کی اصل روح کے مالکو ! اقبالؔ ؒ کی ذرا نم والی مٹی کے شاہکارو ! قائد کے جذبوں کے عکاسو ! بردباری اور جراتوں کے پیکرو ! آپ کو کس کس نام سے پکاروں ! کیا کیا نام دوں ! جناب قائد اعظم ؒ کے پیارے اور لاڈلے طالب علمو ! آپ نے ان کی قیادت اور سربراہی میں آزادی کی جنگ پاکستان کو حاصل کرنے کے لئے بڑے پر تپاک ا ور بڑے منظم انداز میں ہراول دستے کی حیثیت سے لڑی ۔ انگریز اور ہندو جیسی شاطر اور مکار اقوام سے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلمانوں کے لئے ایک الگ ریاست (پاکستان ) حاصل کرنا کوئی سہل کام نہ تھا ۔
Read more: ۱۹۴۷ء کے طلباء کو خراج عقیدت اور ان کا پیغام آجکے دور کے طالب علموں کے نام
جمہوریت کی اکیڈمی کا جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ کالے انگریز۔کالا نظام ، کالا سسٹم
عنایت اللہ
جمہو ر ی طرز حکومت، مغرب کے دانش وروں، قانون دانوں، معیشت دانوں، ماہرین سماجیات اور عدل و انصاف کے مفکرین نے اپنے اپنے ممالک میں ایسا نظام وضع کیا جس میں انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک ، معاشی اور معاشرتی اعلیٰ اقدار کو قوانین و ضوابط کی شکل میں ڈھالا۔ بہترین عدل و انصاف کے اصول وضع کئے ۔ انسانیت کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے اصولوں کو اپنایا۔ اعتدال اور مساوات کے الفاظ کی حرمت کی پاسداری کا خیال رکھا۔ قوم کو محنت اور تجسس کا شعور عطا کیا۔ملکی قوانین و ضوابط کی روشنی میں انتظامیہ اور عدلیہ نے اپنا اپنا منصفانہ کردار ادا کیا۔ ٹیکسوں کا نظام قائم کیا۔ ان کا اطلاق اس طرح منظم طور پر نافذ کیا۔ کہ کوئی شخص بھی اس توازن کو نہ توڑ سکتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی اس سے غفلت برت سکتا ہے۔ اس طرح عوام سے اکٹھی کی ہوئی دولت کا تصرف اجتماعی، فلاحی استعمال میں ایمان داری سے لانے کا بندوبست کیا۔
Read more: جمہوریت کی اکیڈمی کا جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ کالے انگریز۔کالا نظام ، کالا سسٹم
جمہوریت اور اس کا طبقاتی مروجہ تعلیمی نظام
عنایت اللہ
کسی بھی نظام حکومت کو چلانے کے لئے اس کی نظریاتی اساس کے مطابق ایک مخصوص قسم کے اعلیٰ منتظمین، لا جواب عدلیہ ا یماندار ماہرین اور دیانتدار، جفا کش، تجربہ کار بہترین ورکروں کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے ۔ جن کے تعاون ، معاونت، اور نگرانی میں ملک اور معاشرے کے تمام انتظامی اور عدل و انصاف کے امور کے اصول و ضوابط کومرتب اورمروج کیاجاتاہے۔اورانکی روشنی میںملک میںاعتدال۔ مساوات او ر عدل و انصاف ، کا میزان قائم کیا جا تا ہے۔ اور پھر انہی عمدہ اور بہترین اقدار پر مبنی ، معاشرہ تشکیل اور ترتیب پاتا ہے ۔ اگر کسی قسم کی کوئی کوتاہی، غلطی، یا کمی بیشی اس نظام کو چلانے میں پیش آ ئے اور دقت کا سبب یا رکاوٹ بنے۔ اس کو حسب ضرورت اچھے یا بہتر انداز میں بدل دیا جاتا ہے ۔ تا کہ ملک یامعاشرے میں کسی قسم کا ہیجان ، دشواری،بد نظمی ، مشکل یا انارکی نہ پھیلے ۔